1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حضرت حسین کا ابن عمر کو غلام کہنا

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از ابو زہران شاہ, ‏جنوری 08، 2020۔

  1. ‏جنوری 08، 2020 #1
    ابو زہران شاہ

    ابو زہران شاہ مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 02، 2018
    پیغامات:
    69
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    22

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبراکۃ
    محترم شیوخ
    مجھے درذیل واقعہ کی تحقیق درکار ہے :

    آپس میں کھیلتے کھیلتے حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن عمر کو ’’میرے غلام‘‘ کہہ کر خطاب کیا‘ وہ بھی قریش مکہ‘ معزز ترین باپ اور امیرالمومنین حضرت عمر بن الخطاب کے صاحب زادے تھے‘ ان کو یہ بات حددرجہ ناگوار ہوئی‘ فوراً اپنے گھر آئے اور بہت ناگواری کے انداز میں اپنے والد ماجد حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے جو اس وقت خلیفہ اور امیرالمومنین تھے یہ بات بیان کی کی نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے غلام کہہ کر پکارا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرط عقیدت اور عظمت اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں بے تاب ہوگئے اوراپنے لاڈلے بیٹے سے فرمایا میرے بیٹے جاؤ‘ کاغذ قلم لے کر جاؤ‘ میرے آقا کے نواسے سے لکھوا کر دستخط کروا لاؤ اگر حسین رضی اللہ عنہ تمہیں لکھ کر دے دیتے ہیں تو تمہاری اور ہماری سب کی نجات کا وسیلہ مل جائے گا اگر حسین رضی اللہ عنہ مجھے اپنا غلام کہتے تو میں ان کے پاؤں پڑجاتا اور ان سے لکھوا کر لے لیتا‘ تو ہمارے لیے آخرت میں پیش کرنے کیلئے ایک سند بن جاتی۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں