1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

*حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ کے امتیازات: احادیث کی روشنی میں*

'سیرت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین' میں موضوعات آغاز کردہ از afrozgulri, ‏اپریل 13، 2020۔

  1. ‏اپریل 13، 2020 #1
    afrozgulri

    afrozgulri مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 23، 2019
    پیغامات:
    32
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    *(قسط:03)*
    *تحریر: افروز عالم ذکر اللہ سلفی،گلری،ممبئی*
    *(جاری)*

    *اہل السنہ والجماعۃ بالاتفاق یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سب سے افضل صحابی ہیں اور وہی مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد تھے۔*

    *آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یکے بعد دیگرے اپنی ٢/دو صاحبزادیوں کا نکاح ان سے کیا تھا اس لیے آپ کو "ذو النورین" دو نور والے کہا جاتا تھا۔*

    *احادیث کے اندر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے جنت کی بشارت،ان کی شہادت کی خبر ،ان کی حیاداری،سخاوت،جمع قرآن اور متعدد فضائل مذکور ہیں مثلاً:*

    *(1) حضرت ابوموسی' اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں داخل ہوئے اور مجھے اس کے دروازے پر رہنے کا حکم دیا،چنانچہ ایک شخص آئے اور انہوں نے اندر داخل ہونے کی اجازت طلب کی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اجازت دے دو اور انہیں جنت کی بشارت بھی سنادو،میں نے دیکھا تو وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔*
    *پھر ایک اور شخص آئے اور انہوں نے اندر داخل ہونے کی اجازت طلب کی،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اجازت دے دو اور انہیں جنت کی خوشخبری سنادو،میں نے دیکھا تو وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے۔*
    *پھر ایک اور شخص آئے اور انہوں نے اندر داخل ہونے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" ائذَنْ له و بشِّرْه بالجنةِ معها بلاءٌ يٌصيبُه"(43)*

    *اجازت دے دو اور انہیں جنت کی خوشخبری بھی سنادو"اور انہیں آگاہ کرو کہ ان پر ایک مصیبت نازل ہوگی،میں نے دیکھا تو وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔*

    *(2) "عن عبدالله بن عمر رضي الله عنهما قال" " كنا في زمنِ النبيِّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ لا نعدلُ بأبي بكرٍ أحدًا، ثم عمرُ، ثم عثمانُ، ثم نترك أصحابَ النبيِّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ لا نفاضلُ بينهم."(44)*

    *حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ہم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے برابر کسی کو نہیں قرار دیتے تھے،پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو،پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر ہم کوئی بحث نہیں کرتے تھے اور کسی کو ایک دوسرے پر فضیلت نہیں دیتے تھے۔*
    *امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے کثرت نماز اور تلاوت قرآن کی وجہ سے یہ بات کہی تھی،یہاں تک کہ بسا اوقات آپ پوری قرآن کریم ایک ہی رکعت میں پڑھ لیتے تھے۔(45)*

    *(3) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : "صَعِدَ النبيُّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ أُحُدًا ومعهُ أبو بَكْرٍ، وعُمَرُ، وعُثْمانُ، فَرَجَفَ، وقالَ: اسْكُنْ أُحُدُ - أظُنُّهُ ضَرَبَهُ برِجْلِهِ -، فليسَ عَلَيْكَ إلَّا نَبِيٌّ، وصِدِّيقٌ، وشَهِيدانِ.کہ ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ پر چڑھے،آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ،حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی تھے،تو پہاڑ کانپنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: احد تھم جاؤ تمہارے اوپر نبی،صدیق اور دو شہید ہیں۔ (46)*

    *(4) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ عَلَى جَبَلِ حِرَاءٍ فَتَحَرَّكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ اسْكُنْ حِرَاءُ فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ وَعَلَيْهِ النَّبِيُّ ﷺ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ. " (47)*

    *حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: کہ ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم حراء پہاڑ پر تھے ،آپ کے ساتھ ابوبکر ، عمر، عثمان ،علی ، طلحہ اور زبیر رضوی اللہ عنہم بھی تھے ،اتنے میں چٹان حرکت کرنے لگی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"حرا تھم جاؤ ،کیونکہ تمہارے اوپر ایک نبی،صدیق اور شہید ہیں ۔*
    *یہاں یہ بات واضح کردوں کہ عمر ،عثمان،علی،طلحۃ اور زبیر رضی اللہ عنہم سب بعد میں شہادت سے سرفراز ہوئے۔*

    *(5) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بڑے باحیا تھے حتی کہ فرشتے بھی ان سے حیا کرتے تھے۔*
    *نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ ہی کے متعلق ارشاد فرمایا تھا:*
    "* *أَلَا أَسْتَحِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ.(2401/36)" (48)*

    *اے عائشہ ! کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔*

    *(6) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "أرحَمُ أمَّتي بأمَّتي أبو بَكْرٍ ، وأشدُّهم في دينِ اللَّهِ عُمرُ وأصدقُهُم حياءً عُثمانُ" (49)*

    *میری امت کے ساتھ سب سے زیادہ رحم دلی کرنے والے امتی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں اور اللہ کے دین کے معاملے میں سب سے سخت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں اور ان میں سب سے سچے حیادار عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں۔*

    *(7) حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ہی بئر رومہ کو خرید کر وقف اور جیش العسرۃ کو تیار کیا۔*
    *: «مَنْ يَشْتَرِي بِئْرَ رُومَةَ، فَيَجْعَلُ دَلْوَهُ مَعَ دِلَاءِ الْمُسْلِمِينَ بِخَيْرٍ لَهُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ؟» اور ایک روایت میں ہے۔*
    *"قال صلى الله عليه وسلم: «مَنْ يَحْفِرْ بِئْرَ رُومَةَ فَلَهُ الْجَنَّةُ»*
    *فحفرها عثمان، وقال :من جهز جيش العسرة فله الجنة" فجهزه عثمان ,"(50)*

    *اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جو شخص بئر رومہ کو خرید کر سب کے لیے عام کردے اس کے لیے جنت ہے، تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اسے خرید کر سب کے لیے عام کردیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جو شخص جیش عسرۃ "غزوۂ تبوک کے لشکر" کو سامان سے لیس کرے اس کے لیے جنت ہے تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا تھا۔*

    *(8)عن عبدالرحمان بن سمرة قال :" جاء عثمانُ إلى النبيِّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ بألفِ دينارٍ في كُمِّه – حينَ جهز جيشَ العسرةِ – فنثَرها في حِجرِه فرأيت النبيَّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ يُقلِّبُها في حِجرِه ويقولُ ما ضَرَّ عثمانُ ما عمل بعدَ اليومِ "(51)*

    *عبدالرحمن بن سمرۃ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ایک ہزار دینار لے کر آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کردیا ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ دینار خوشی کی وجہ سے اپنے ہاتھ میں اچھال کر کہتے جارہے تھے: "«مَا ضَرَّ ابْنُ عَفَّانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ» يُرَدِّدُهَا مِرَارًا (مسند أحمد؛ برقم: [20961])*
    *آج کے بعد عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا کوئی بہی عمل ان کو نقصان نہیں پہونچائے گا،بار بار ایسا کہہ رہے تھے۔*

    *(9) "عن قيس قال : "سَمِعْتُ سَعِيدَ بنَ زَيْدِ بنِ عَمْرِو بنِ نُفَيْلٍ، في مَسْجِدِ الكُوفَةِ يقولُ: لو أنَّ أُحُدًا ارْفَضَّ لِلَّذِي صَنَعْتُمْ بعُثْمَانَ لَكَانَ"(53)*

    *قیس نے بیان کیا کہ میں نے سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے کوفہ کی مسجد میں سنا،کہ اگر أحد پہاڑ بھی اپنی جگہ سے سرک (کھسک) جائے جو کچھ تم لوگوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا تو اسے ایسا ہی کرنا چاہیے۔*

    *حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت تاریخ اسلام کا ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ اس پر اظہارِ تأسف (افسوس)فرما ر ہے ہیں ۔*

    *فی الواقع یہ واقعہ ایسا ہی ہے کہ اس پر احد پہاڑ کو اپنی جگہ سے سرک (کھسک)جانا چاہیے۔*

    *(10)چند صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ حاضر ہوئے اور عرض کیا ایے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں جنتی شخص دکھلائیے ،اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "((أبو بكر في الجنة، وعمر في الجنة، وعثمان في الجنة، "(54)*
    *نبی جنتی ہیں،ابوبکر و عمر جنتی ہیں،عثمان جنتی ہیں۔*

    *(11) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کہ ان کے پاس اہل مصر میں سے ایک شخص آیا اور کہنے لگا : کیا تمہیں معلوم ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ احد کے دن میدان احد سے بھاگ نکلے تھے؟*
    *انہوں نے کہا: ہاں بے شک،*
    *پہر اس نے کہا: کیا تمہیں علم ہے کہ وہ جنگ بدر سے غائب تھے اور اس میں شریک نہیں ہوئے تھے،؟*
    *انہوں نے کہا : ہاں جانتا ہوں،*
    *پھر اس نے کہا : کہ کیا تم جانتے ہو کہ وہ بیعتِ رضوان سے بھی غائب تھے اور اس میں شریک نہیں ہوئے تھے ؟*
    *حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہاں جانتا ہوں،*

    *پہر اس شخص نے نعرۂ تکبیر بلند کیا اس پر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ادھر آؤ میں تم سے بیان کرتا ہوں،*
    *احد سے بھاگ جانے کی بابت تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا اور بخش دیا ۔*
    *رہا بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہونا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے حبالہ عقد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر تھیں وہ بیمار ہوئیں تو ان سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " روى البخاري في صحيحه من حديث ابن عمر قال: وأما تغيبه عن بدر فإنه كانت تحته بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم وكانت مريضة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((«إِنَّ لَكَ أَجْرَ رَجُلٍ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمَهُ»(55)*

    *کہ تمہیں جنگ بدر میں شریک ہونے والوں کے برابر حصہ اور ثواب ملے گا۔ اور ان کا بیعتِ رضوان سے غائب رہنا تو اگر کوئی شخص مکہ میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے زیادہ باعزت ہوتا تو آپ اسے روانہ کردیتے۔*
    *لھذا ان کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا تو آپ چلے گئے اور جب بیعتِ رضوان ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے داہنے ہاتھ کو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ قرار دے کر "«هَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ»،*(56)

    *اسے اپنے بائیں ہاتھ کے اوپر رکھ کر فرمایا: "هذه لعثمان" یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت ہے۔*
    *پھر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس شخص سے فرمایا کہ اب ان باتوں کو بھی اپنے ساتھ لے جاؤ ،اسے ہمیشہ یاد رکھنا ۔*

    *اللہ تعالیٰ آپ کو اسلام اور محب اسلام کی طرف سے بہترین بدلہ عطا فرمائے،اور ہمیں جنت الفردوس میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمع کردے (آمین یارب العالمین)*

    *afrozgulri@gmail.com*
    *Friday,10/04/2020*
    *حوالہ جات :*
    *____________________________________________*
    *(43) صحیح بخاری،کتاب الفتن،باب الفتن التی تموج کموج البحر،حدیث نمبر:7097,وفی ،کتاب فضائل أصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم (المناقب)حدیث نمبر: 3674,/ و فی مناقب عمر بن خطاب أبی حفص القرشی،حدیث: 3693,/و فی باب مناقب عثمان بن عفان ابی عمرو القرشی،حدیث: 3695,/ وفی کتاب الادب،باب نکت العود فی الماء والطین،حدیث : 6216,/ ومسلم ،کتاب فضائل الصحابہ،باب فضائل عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ،حدیث نمبر : 2403/ وراہ الترمذی،کتاب المناقب عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،باب فی مناقب عثمان رضی اللہ عنہ حدیث: 3701, و رواہ أحمد فی مسندہ 414/32, حدیث: 19644,19643, عن محمد بن جعفر و ابوبکر البزار 60/08 حدیث : 3553,عن عمروبن علی، والطبرانی فی المعجم الاوسط،61/03, حدیث: 2616,/ عن عمروبن علی، صحيح الأدب المفرد حديث نمبر : 878 صححه الالباني رحمه الله*

    *(44) صحیح بخاری ،کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم،باب فی مناقب عثمان بن عفان ابی عمرو القرشی رضی اللہ عنہ،حدیث : 3698,/*

    *(45) البدایہ والنہایہ لابن کثیر،ج : 12,ص:116,*

    *(46) صحیح بخاری ،کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم،باب فی مناقب عثمان بن عفان ابی عمرو القرشی رضی اللہ عنہ،حدیث :3699,/ صحیح مسلم،کتاب فضائل الصحابہ،باب فضائل طلحۃ والزبیر رضی اللہ عنہما،حدیث: 1417, والنسائی فی کتاب الأحباس ،حدیث : 3699, وفی الکبریٰ ،حدیث: 6438, والترمذی بلفظ "اثبت" فی کتاب المناقب عن رسول صلی اللہ علیہ وسلم باب مناقب عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ:3696,/ صحیح موارد الظمآن،حدیث: 1844,*

    *(47)رواہ الترمذی،کتاب المناقب عن رسول صلی اللہ علیہ وسلم ،باب فی مناقب عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ،حدیث: 3696, والبزار،حدیث: 398, وابن حبان, حدیث: 6916, والآجری فی کتاب الشریعۃ،حدیث: 1508, وعلقہ البخاری رحمہ اللہ فی کتاب الوصایا،حدیث : 2778, وصححہ الالبانی رحمہ اللہ، ورواہ ابوداود،کتاب السنۃ،باب فی الخلفاء،حدیث: 4648,اسنادہ حسن*

    *(48)رواہ مسلم ،کتاب فضائل الصحابہ،باب من فضائل عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ،حدیث نمبر : 2401, و فضائل الصحابہ لأحمد،حدیث: 749, صحیح ابن حبان،حدیث:6906, مسند اسحاق بن راھویہ،:136,و ابو نعیم فی فضائل الصحابہ،ص:43, حدیث:16,و روی الامام احمد عن مروان،273/09, حدیث: 24330,و ابو یعلیٰ حدیث: 7038,/*

    *(49)رواہ الترمذی،کتاب المناقب،حدیث:3790,والنسائی فی فضائل الصحابہ،ص:183-182,والطحاوی فی مشکل الآثار،حدیث:808, وابن ماجہ فی فضائل صحابۃ آخرین،حدیث: 154, وصححہ الالبانی رحمہ اللہ*

    *(50)صحیح بخاری ،کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم،باب فی مناقب عثمان بن عفان ابی عمرو القرشی رضی اللہ عنہ،حدیث :3694،3556])./ وفی کتاب الوصایا،باب اذا وقف أرضا أو بئرا أو اشتری' لنفسہ مثل دلاء المسلمین،حدیث: 2778,/ ارواء الغلیل،حدیث : 1594,/(جامع الترمذي؛ برقم: [3703])، الحكمة في الدعوة إلى الله، ص: 231.*

    *(51)رواہ الترمذی،کتاب المناقب،باب فی مناقب عثمان بن عفان حدیث:3701,/وحسنہ الالبانی رحمہ اللہ*

    *(52)رواہ عاصم فی السنۃ،حدیث:1314,ورواہ الآجری فی الشریعۃ،باب ذکر مؤاساۃ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ وتجھیزہ لجیش العسرۃ بمالہ،حدیث: 1411, وابو عبداللہ احمد بن محمد بن حنبل فی فضائل الصحابہ،حدیث:738, والطبرانی فی الاوسط،حدیث: 9222,وابو نعیم فی الحلیۃ،59/01 وحسنہ الألبانی رحمہ اللہ ،والمعرفۃ والتاریخ للفسوی،283/01,/*

    *(53)رواہ البخاری،کتاب الاکراہ،باب من اختار الضرب والقتل والھوان علی الکفر،حدیث: 3863,/*

    *(54)فضائل الصحابہ للامام احمد بن حنبل،حدیث: 557,باسناد حسن*

    *(55) (صحيح البخاري؛ کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ورضی عنہم ومن صحب النبی صلی اللہ علیہ وسلم او راہ من المسلمین فھو من اصحابہ،باب مناقب عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ،حدیث: [3698])"*

    *(56) رواہ البخاری،کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ورضی عنہم ومن صحب النبی صلی اللہ علیہ وسلم او راہ من المسلمین فھو من اصحابہ،باب مناقب عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ،حدیث:3699, ورواہ البخاری،کتاب فرض الخمس،باب اذا بعث الامام رسولا فی حاجۃ أو أمر بالمقام ھل یسھم لہ،271/06,حدیث نمبر:3130,* *والترمذی فی کتاب المناقب،باب فی مناقب عثمان،587/05, حدیث نمبر:3706, عن ابی صالح بن عبداللہ، والامام احمد 506/01,حدیث نمبر:826,/عن ابی عوانۃ و 210/11،حدیث نمبر:6011,/عن ھاشم ،** *والطیالسی فی مسندہ،ص:264,عن ابی عوانۃ و ابوداود،فی کتاب الجھاد،باب فیمن جاء بعد لا سھم لہ،168/03،حدیث نمبر: 2726,/عن محبوب بن موسیٰ*
    *و رواہ الطبرانی فی الاوسط،224/09, حدیث نمبر: 8489,/عن معاذ* *الروض الأنف ,3/ 137، الطبقات لابن سعد ,2/ 34-35"*

    Sent from my Redmi Note 7S using Tapatalk
     
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. afrozgulri
    جوابات:
    0
    مناظر:
    51
  2. afrozgulri
    جوابات:
    0
    مناظر:
    83
  3. afrozgulri
    جوابات:
    0
    مناظر:
    140
  4. اسد الطحاوی الحنفی
    جوابات:
    0
    مناظر:
    181
  5. محمد طلحہ اہل حدیث
    جوابات:
    1
    مناظر:
    565

اس صفحے کو مشتہر کریں