1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ كا نبی اکرم ﷺ کو خواب میں دیکھنا

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از afrozsaddam350, ‏اکتوبر 29، 2019۔

  1. ‏اکتوبر 29، 2019 #1
    afrozsaddam350

    afrozsaddam350 مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 31، 2019
    پیغامات:
    9
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    4

    سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہادت کا خواب


    کیا یہ حدیث صحیح ہے ؟

    أخبرنا عبد الرحمن بن حمدان الجلاب، بهمدان، ثنا إسحاق بن أحمد بن مهران الرازي، ثنا إسحاق بن سليمان، ثنا أبو جعفر الرازي، عن أيوب، عن نافع، عن ابن عمر رضي الله عنهما، أن عثمان أصبح فحدث، فقال: إني رأيت النبي صلى الله عليه وسلم في المنام الليلة، فقال: «يا عثمان، أفطر عندنا» فأصبح عثمان صائما فقتل من يومه رضي الله عنه »
    «هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه»
     
    Last edited by a moderator: ‏اکتوبر 29، 2019
  2. ‏اکتوبر 29، 2019 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,368
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    عثمان! افطاری ہمارے ساتھ کرنا

    سيدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک صبح سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے بیان کیا :
    «يا عثمان، أفطر عندنا» فأصبح عثمان صائما فقتل من يومه رضي الله عنه
    کہ گزشتہ رات میں نے خواب میں نبی ﷺکو دیکھا ہے. آپ نے فرمایا :
    ’’عثمان! افطاری ہمارے ساتھ کرنا‘‘
    چنانچہ اس روز سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے روزہ رکھا اور آپ کو روزے کی حالت میں شہید کر دیا گیا !!
    «هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه»
    | [صحيح المستدرك للحاكم: 4554 ]

    شہادت عثمان.jpg
     
  3. ‏اکتوبر 29، 2019 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,368
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    شہادت کے خواب سے بہت عرصہ پہلے بھی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہادت کی بشارت مل چکی تھی ؛


    امام بخاریؒ اور دیگر کئی نامور عظیم محدثین نے روایت کیا ہے کہ :
    عَنْ قَتَادَةَ : أَنَّ أَنَسًا رضي الله عنه حَدَّثَهُمْ قَالَ : صَعِدَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم أُحُدًا، وَ مَعَهُ أَبُوْبَکْرٍ وَ عُمَرُ وَ عُثْمَانُ، فَرَجَفَ، وَ قَالَ اسْکُنْ أُحُدُ، أَظُنُّهُ ضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ. فَلَيْسَ عَلَيْکَ أَحَدٌ إِلَّا نَبِيٌّ وَ صِدِّيْقٌ وَ شَهِيْدَانِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
    ’’سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوہِ اُحد پر تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنھم تھے، تو یہ پہاڑ ہلنے لگا ،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اُحد! ٹھہر جا۔ راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے قدم مبارک سے ٹھوکر بھی لگائی اور فرمایا کہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہیدوں کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔‘‘

    أخرجه البخاري في الصحيح الحديث رقم 3675، والترمذي في الجامع الصحيح، کتاب المناقب، باب في مناقب عثمان بن عفان الحديث رقم : 3697، و أبوداؤد في السنن، کتاب السنة، باب في الخلفاء، 4 / 212، الحديث رقم : 4651، و النسائي في السنن الکبري، 5 / 43، الحديث رقم : 8135.

    دوسری حدیث
    عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ أنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم کَانَ عَلٰي حِرَاءَ هُوَ وَ أَبُوْبَکْرِ وَ عُمَرُ وَ عُثْمَانُ وَ عَلِيٌّ وَ طَلْحَةُ وَ الزُّبَيْرُ فَتَحَرَّکَتِ الصَّخْرَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم إِهْدَأْ، فَمَا عَلَيْکَ إلاَّ نَبِيٌّ أَوْصِدِّيْقٌ أَوْشَهِيْدٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَ التِّرْمِذِيُّ.
    وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

    وَ فِي الْبَابِ عَنْ عُثْمَانَ، وَسَعِيْدِ بْنِ زَيْدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَأَنَسِ بْنِ مَالکٍ، وَبُرَيْدَةَ.
    ’’ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حرا پہاڑ پر تشریف فرما تھے اور آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر، جناب عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، حضرت طلحہ اور جنابِ زبیر بن عوام رضی اللہ عنھم تھے اتنے میں جس چٹان پر یہ عظیم حضرات کھڑے تھے ،اچانک ہلنے لگی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھہر جا، کیونکہ تیرے اوپر نبی، صدیق اور شہید کے سوا کوئی اور نہیں ہے۔

    اِس حدیث کو امام مسلم اور امام ترمذی 3696 نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے اور اس باب میں اسی مضمون کی احادیث سیدنا عثمان، سعید بن زید، ابن عباس، سہل بن سعد، انس بن مالک اور بریدہ اسلمیٰ رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں۔‘‘
     
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں