1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی سماعِ موتٰی کے منکر تھے !

'مسائل قبور' میں موضوعات آغاز کردہ از طاہر رمضان, ‏دسمبر 26، 2012۔

  1. ‏جولائی 26، 2013 #141
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قلیب بدر کے کفار سے اس طرح کلام کیا
    فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يلقيهم ‏"‏ هل وجدتم ما وعدكم ربكم حقا ‏"‏‏
    جب (بدر کے) کفار مقتولین کنویں میں ڈالے جانے لگے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا تم نے اس چیز کو پا لیا جس کا تم سے تمہارے رب نے وعدہ کیا تھا؟

    اس پر صحابہ نے سوال کیا
    قال ناس من أصحابه يا رسول الله تنادي ناسا أمواتا
    چند صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! آپ ایسے لوگوں کو آواز دے رہے ہیں جو مرچکے ہیں؟

    اس سوال کا جواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح ارشاد فرمایا

    قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ما أنتم بأسمع لما قلت منهم ‏"‏‏
    حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو کچھ میں نے ان سے کہا ہے اسے خود تم نے بھی ان سے زیادہ بہتر طریقہ پر نہیں سنا ہو گا۔



    ترجمہ از داؤد راز
    صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 4026
    اس ارشاد میں کہیں ذکر نہیں کہ یہ معجزہ ہے
    اگر آپ یہ ثابت کرنا چاہتی ہیں کہ یہ معجزہ ہے تو اس کے لئے دلیل رسول اللہ کے ارشاد سے عنایت فرمادیں
    کیونکہ
    نبی کریمﷺ کے علاوہ ہر ایک کی بات صحیح بھی ہو سکتی ہے اور غلط بھی
     
  2. ‏جولائی 26، 2013 #142
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    کیا سیدنا عیسیٰ﷤ اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کرنے سے رک گئے تھے
    ہائی لائٹ کردہ آپ ہی کے الفاظ پر آپ خود ہی غور فرمالیتے تو ایسا بے تکا سوال نہیں فرماتے !
     
  3. ‏جولائی 26، 2013 #143
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    تقیہ کی بحث میں نے شروع نہیں کی اس لئے یہ مشورہ ان لوگوں کو دیا جائے جنھوں نے اس دھاگہ میں یہ بحث شروع کی ہے شکریہ
     
  4. ‏جولائی 26، 2013 #144
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    آپ نے جو حدیث پیش کی اس کا ترجمہ داؤد راز صاحب نے اس طرح کیا ہے
    یہاں ترجمہ میں اب بھی کہا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے جس طرح یہ جب زندہ تھے سنا کرتے تھے اب مرنے کے بعد بھی سن رہیں ہیں
    یہ تو ہوا گھر کے بھیدی کا انکشاف
    اور یہ ہیں قلیب بدر کے کفار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطاب سے متعلق صحیح بخاری کی حدیث جس میں الآن نہیں آیا

    فقال رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم وهو يُلْقيهُم : هل وجدْتم ما وعدَكم ربُّكم حقًا ؟,قال موسى: قال نافعُ: قال عبدُ اللهِ: قال ناسٌ من أصحابِه: يا رسولَ اللهِ تنادي ناسًا أمواتًا! قال رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: ما أنتم بأسمعَ لما قلتُ منهم.
    الراوي: عبدالله بن عمر المحدث:البخاري - المصدر: صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 4026
    خلاصة حكم المحدث: [صحيح]
    ترجمہ از داؤد راز
    جب (بدر کے) کفار مقتولین کنویں میں ڈالے جانے لگے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا تم نے اس چیز کو پا لیا جس کا تم سے تمہارے رب نے وعدہ کیا تھا؟ موسیٰ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! آپ ایسے لوگوں کو آواز دے رہے ہیں جو مرچکے ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو کچھ میں نے ان سے کہا ہے اسے خود تم نے بھی ان سے زیادہ بہتر طریقہ پر نہیں سنا ہو گا۔
     
  5. ‏جولائی 26، 2013 #145
    shizz

    shizz رکن
    جگہ:
    karachi pakistan
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2012
    پیغامات:
    48
    موصول شکریہ جات:
    165
    تمغے کے پوائنٹ:
    31

    کیا تمام معجزات میں لفظ معجزہ کا ہونا لازمی ہے ورنہ وہ معجزہ نہیں ہے؟؟؟
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  6. ‏جولائی 26، 2013 #146
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,176
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    احادیث ایک دوسرے کی وضاحت کرتی ہیں، اگر ایک حدیث میں الآن کا لفظ نہیں اور دوسری میں ہے تو اس سے الآن کا انکار نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک بدیہی بات ہے۔ قرآن کریم میں بہت سے قصے کئی مرتبہ آئے ہیں اور ان میں الفاظ کا اختلاف ہے، ہم ان الفاظ میں سے کسی لفظ کو صرف اس بنا پر ردّ نہیں کر سکتے کہ یہ لفظ ایک جگہ موجود ہے دوسری جگہ موجود نہیں۔ کیا خیال ہے؟؟

    جہاں تک لفظ الآن کے معنیٰ کا تعلق ہے تو ہم عجمیوں کی نسبت وہ عرب جن کے محاورہ میں قرآن اُترا اور جن کے محاورہ میں نبی کریمﷺ کلام فرمایا کرتے تھے - خصوصاً ’مؤمنوں‘ کی ماں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا - ہم سے بہتر عربی جانتے تھے۔ آج کون مائی کا لال ہے کہ جو نبی کریمﷺ کی حدیث مبارکہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اخذ کردہ فہم کا انکار کرے؟؟! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے الآن کا مفہوم یہی بیان کیا ہے کہ وہ اسے ’اس وقت‘ سن رہے ہیں اور یہ کوئی دائمی اصول نہیں ہے۔ دائمی اور قرآنی اصول تو إنك لا تسمع الموتى والا ہی ہے۔
     
    • زبردست زبردست x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏جولائی 27، 2013 #147
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    یہ داؤد راز کا کیا گیا ترجمہ تھا جس پر آپ اعتراض فرمارہیں ہیں اور داؤد راز صاحب کو آپ سلف صالحین میں شمار کرتے ہیں اور ان کے منہج سے آپ حضرات استدلال کرتے ہیں یہ آپ ہی کے سلف کا منہج ہے غور کریں
    اور جہاں تک بات ہے إنك لا تسمع الموتى کی تو ایسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے حضرت عمر نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مردوں سے کلام کرنے سے روکنا چاہا تھا لیکن آپ نے اس استدلال کو رد کرتے ہوئے مردوں سے کلام فرمایا اور ایسی آیت سے حضرت عائشہ بھی استدلال کرتے ہوئے مردوں کے سنے کی نفی فرمارہی ہیں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے ہی استدلال کو رد فرماچکے ہیں
    آپ کے مذکورہ عقیدے کے مطابق نبی کریمﷺ کے علاوہ ہر ایک کی بات صحیح بھی ہوسکتی ہے اور غلط بھی تو پھر کس طرح امی عائشہ کا یہ قول صحیح ہوسکتا جس کو کہ پہلے ہی نبی کریمﷺ رد فرماچکے ہیں ؟؟؟
    اسلئے اب یہ دیکھنا پڑے گا کہ اس آیت قرآنی کا اصل مفہوم کیا ہے
    اس لئے کہ تم مُردوں کو نہیں سناتے اور نہ بہروں کو پکارنا سناؤ جب وہ پیٹھ دے کر پھریں
    اور نہ تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے راہ پر لاؤ تم تو اسی کو سناتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے تو وہ گردن رکھے ہوئے ہیں
    الروم : 52 ۔53
    ( مترجم : امام احمد رضا بریلوی )
    ان دونوں آیت قرآنی پر غور کرنے سے معلوم ہوا کہ اللہ کا یہ ارشاد کافروں کے لئے ہے کہ کافروں کے دل مر چکے اور ان سے کسی طرح قبولِ حق کی توقع نہیں رہی کیونکہ اگلی آیت میں جن لوگوں کا سن کر ایمان لانے کا ذکر ان کو اللہ نے مُّسْلِمُوْنَؒ کہا ہے اور گرامر کے قاعدے کے مطابق مردے کی ضد زندہ ہوتی ہے نہ کہ مسلمان ہاں مگر مسلمان کی ضد کافر ہی ہوتی ہے یہاں ایک بات یاد رہے کہ کافروں کے مطلق سماع کی نفی نہیں بلکہ ایسے سنے کی نفی ہے جو ان کو فائدہ دے سکے
    کیونکہ اہلسنت والجماعت کے عالم جناب نعیم الدین مرادآبادی نے ان آیت کی تفسیر ایسی مفہوم کے ساتھ کی ہے
    اس لنک پر
    http://dawateislami.net/quran/tafseer#section:surah_30.53
     
  8. ‏جولائی 27، 2013 #148
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    پھر ہمیں کیسا پتہ چلے گا کہ قلیب بدر کے کفار سے کلام کرنا معجزہ تھا کیونکہ آپ یہ مانتی ہیں کہ
    نبی کریمﷺ کے علاوہ ہر ایک کی بات صحیح بھی ہو سکتی ہے اور غلط بھی
    پھر نبی کریمﷺ کے علاہ کسی اور کی بات ہمارے لئے کس طرح حجت ہوسکتی ہے کہ اس میں غلطی کا امکان بھی ہے
     
  9. ‏جولائی 27، 2013 #149
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,176
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    اب آپ نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، لہٰذا مزید گفتگو کا فائدہ نہیں۔

    عقل سلیم رکھنے والوں کیلئے اوپر موجود دلائل کافی ہیں، جن سے ان شاء اللہ حق وباطل کا فیصلہ ہو جائے گا۔

    اللهم أرنا الحق حقا وارزقنا اتباعه وأرنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه ولا تجعله ملتبسا علينا فنضل واجعلنا للمتقين إماما
     
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  10. ‏جولائی 27، 2013 #150
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,977
    موصول شکریہ جات:
    1,494
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ نبی کریم صل الله علیہ وسلم نے اور کتنے مواقع پر قبر کے مردوں سے خطاب فرمایا تھا ؟؟؟ اگر نہیں تو مان لیں کہ یہ ایک معجزہ تھا - اور اگر یہ عام روٹین تھی تو نبی کی اسوہ آپ کے سامنے ہے -ثابت کیجیے کہ اپنی زندگی میں نبی کریم صل الله علیہ وسلم اکثر و بیشتر مرنے والے یا شہید ہونے والے صحابہ کرام رضوان الله اجمعین سے یا کفار و مشرکین سے خطاب کرتے رہے؟؟؟ -
     
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. محمد طلحہ اہل حدیث
    جوابات:
    2
    مناظر:
    50
  2. saeedimranx2
    جوابات:
    0
    مناظر:
    509
  3. نسیم احمد
    جوابات:
    1
    مناظر:
    403
  4. khalil
    جوابات:
    5
    مناظر:
    1,440
  5. عبدالحسیب07
    جوابات:
    1
    مناظر:
    1,130

اس صفحے کو مشتہر کریں