1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی حیا پر کیا یہ واقعہ درست ہے؟؟

'تاریخی روایات' میں موضوعات آغاز کردہ از Dua, ‏مئی 03، 2014۔

  1. ‏مئی 03، 2014 #1
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ،

    حضرت فاطہ رضی اللہ عنہا کی حیا کے متعلق تاریخ میں کچھ ثبوت بیان ہوئے ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:

    ایک ثبوت تو یہی ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کہا کرتیں تھیں کہ مجھے حیا آتی ہے کہ جب میرا انتقال ہو تو لوگ مردوں کی تخت پر لٹا کر اور ایک کپڑا اوڑھا کر مجھے کندھے پر اٹھا لیں۔اس لیے اندیشہ ہے کہ کپڑے کے اوپر سے میرا جسم ظاہر ہو۔
    یہی بات انھوں نے ایک دفعہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے کہی ، تو حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا:
    جگر گوشہ رسولﷺ ! کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ دکھاؤں جو میں نے ’’ حبشہ ‘‘ میں دیکھی تھی۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا ، کیوں نہیں ضرور۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے کھجور کی تازہ ٹہنیاں منگوائیں ، کمان کی شکل میں ان کو موڑ موڑ کر رکھا ، اور ان کے اوپر کپڑا ڈال دیا ، حضرت فاطمہ رضہ اللہ عنہا نے فرمایا ، یہ تو بڑی اچھی چیز ہے ، اس سے مرد و عورت کے جنازہ میں امتیاز ہو جائے گا اور عورت کا جسم بھی چھپ جائے گا۔دیکھو اسماء ! جب میرا انتقال ہو تو تم اور علی میرے غسل میں شریک ہوں، کوئی اور میرے قریب نہ آئے ، اور میری چارپائی پر اسی طرح چھڑیاں رکھ دینا۔
    جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے دلہن کے ڈولے کی طرح کی ایک پردہ پوش چادر چارپائی تیار کی ، اور کہا : فاطمہ نے مجھے اس کی وصیت کی تھی۔
    (تاریخ مدینہ منورہ1، 105، حلیۃ الاولیاء 2، 43) اسد الغابہ 6 ، 662)

    حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اسلام میں سب سے پہلی عورت ہیں جن کا جنازہ کسی پردہ پوش چارپائی پر اٹھایا گیا،
    حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بعد ام لمؤمنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کا جنازہ بھی اسی طرح پردہ کے ساتھ لے جایا گیا، اور ان کے بعد تو یہی طریقہ رائج ہو گیا۔

    (الاستیعاب 4، 1898)

    کیا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی حیا کے متعلق یہ بیان درست ہیں؟
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  2. ‏مئی 03، 2014 #2
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    310

    ابن عبد البر نے اس اثر کو تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے۔۔۔۔
    قَالَ: وَأَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عون ابن مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ جَعْفَرِ بِنْتِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ أُمِّ جَعْفَرٍ- أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ: يَا أَسْمَاءَ، إِنِّي قَدِ اسْتَقْبَحْتُ مَا يُصْنَعُ بِالنِّسَاءِ، إِنَّهُ يُطْرَحُ عَلَى الْمَرْأَةِ الثَّوْبُ فَيَصِفُهَا. فَقَالَتْ أَسْمَاءُ: يَا بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ، أَلا أُرِيكِ شَيْئًا رَأَيْتُهُ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ! فَدَعَتْ بِجَرَائِدَ رَطِبَةٍ فَحَنَّتْهَا ثُمَّ طَرَحَتْ عَلَيْهَا ثَوْبًا، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: مَا أَحْسن هَذا وَأَجملَهُ! تعْرَف بِهِ المَرْأة من الرجال، فإذا أنا مِتّ فاغْسلينِي أنتِ وعلِيٌّ، وَلا تُدْخِلِي عَلَيَّ أَحَدًا. فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ جَاءَتْ عَائَشَةُ تَدْخُلُ، فَقَالَتْ أَسْمَاءُ: لا تَدْخُلِي. فَشَكَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَتْ: إِنَّ هَذِهِ الْخَثْعَمِيَّةَ تَحُولُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم، رقد جَعَلَتْ لَهَا مِثْلَ هَوْدَجِ الْعَرُوسِ- فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ، فَوَقَفَ عَلَى الْبَابِ، فَقَالَ: يَا أَسْمَاءُ، ما حملك على أن منعت أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَدْخُلْنَ عَلَى بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَعَلْتِ لَهَا مِثْلَ هَوْدَجِ الْعَرُوسِ؟ فَقَالَتْ: أَمَرَتْنِي أَلا يَدْخُلَ عَلَيْهَا أَحَدٌ، وَأَرَيْتُهَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتُ، وَهِيَ حَيَّةٌ، فَأَمَرَتْنِي أَنْ أَصْنَعَ ذَلِكَ لَهَا. قَالَ أَبُو بَكْرٌ:
    فَاصْنَعِي مَا أَمَرَتْكِ. ثُمَّ انْصَرَفَ، فَغَسَّلَهَا عَلِيٌّ وَأَسْمَاءُ.
    قَالَ أَبُو عُمَرَ: فاطمة رضي اللَّه عنها أول من غطي نعشها من النساء فِي الإسلام عَلَى الصفة المذكورة فِي هَذَا الخبر، ثم بعدها زينب بنت جحش رضي اللَّه عنها، صنع ذلك بها أَيْضًا.
    وماتت فاطمة رضي اللَّه عنها بنت رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وكانت أول أهله لحوقًا به، وصلى عليها عَلِيّ بْن أَبِي طَالِبٍ. وَهُوَ الَّذِي غسلها مَعَ أسماء بنت عميس، ولم يخلف رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ من بنيه غيرها.
    (الاستیعاب ج4 ص1897)

    اس اثر کے بارے میں کافی اختلاف پایا جاتا ہے البتہ اسکے حوالے سے ابن ملقن لکھتے ہیں۔۔
    أَن عليَّا غسل فَاطِمَة رَضِيَ اللَّهُ عَنْهما» .
    وَهَذَا الْأَثر رَوَاهُ الشَّافِعِي، عَن إِبْرَاهِيم، (عَن) عمَارَة، عَن أم مُحَمَّد بنت مُحَمَّد بن جَعْفَر بن أبي طَالب، عَن جدَّتهَا أَسمَاء بنت عُمَيْس «أَن فَاطِمَة بنت رَسُول الله - صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم - أوصت أَن تغسلها إِذا مَاتَت هِيَ وَعلي رَضِيَ اللَّهُ عَنْه فغسلتها هِيَ وَعلي» .
    وَرَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيّ وَالْبَيْهَقِيّ فِي «سُنَنهمَا» من حَدِيث عبد الله بن نَافِع الْمدنِي، عَن مُحَمَّد بن مُوسَى، عَن عون بن مُحَمَّد، عَن [أمه] ، عَن أَسمَاء بنت عُمَيْس «أَن فَاطِمَة رَضِيَ اللَّهُ عَنْها أوصت أَن يغسلهَا زَوجهَا عَلّي وَأَسْمَاء، فغسلاها» .
    وَإِبْرَاهِيم الْمَذْكُور فِي الْإِسْنَاد الأول هُوَ ابْن أبي يَحْيَى، وَقد ضعفه الْأَكْثَرُونَ، كَمَا سلف فِي الطَّهَارَة. وَعبد الله بن نَافِع الْمَذْكُور فِي الثَّانِي من فرسَان مُسلم، وَوَثَّقَهُ ابْن معِين. وَقَالَ البُخَارِيّ: فِي حفظه شَيْء.
    وَرَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ من حَدِيث قُتَيْبَة بن سعيد (ثَنَا مُحَمَّد بن مُوسَى المَخْزُومِي) نَا عون بن مُحَمَّد بن عَلّي بن أبي طَالب، عَن أمه أم جَعْفَر بنت مُحَمَّد بن جَعْفَر - أَظُنهُ: وَعَن عمَارَة بن المُهَاجر عَن أم جَعْفَر - «أَن فَاطِمَة بنت رَسُول الله - صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم - قَالَت: يَا أَسمَاء، إِذا أَنا مت فاغسليني أَنْت وَعلي بن أبي طَالب. فغسلها عَلّي وَأَسْمَاء رَضِيَ اللَّهُ عَنْهما» .
    (وَرَوَاهُ أَيْضا) من حَدِيث عبد الْعَزِيز بن مُحَمَّد الدَّرَاورْدِي، عَن مُحَمَّد بن مُوسَى، عَن عون بن مُحَمَّد بن عَلّي، عَن عمَارَة بن المُهَاجر، عَن أم جَعْفَر بنت مُحَمَّد بن عَلّي، (عَن بنت رَسُول الله - صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم -) .
    وَهَذَا وَالَّذِي قبله متابع للأولين.
    وَعَن الْبَيْهَقِيّ أَنه قَالَ: هَذَا (الْأَثر) عَجِيب؛ فَإِن أَسمَاء كَانَت فِي ذَلِك الْوَقْت عِنْد أبي بكر، وَقد ثَبت أَنه لم يعلم بوفاة فَاطِمَة، لما فِي «الصَّحِيح» «أَن عليا دَفنهَا لَيْلًا، وَلم يعلم أَبَا بكر» . فَكيف يُمكن أَن تغسلها زَوجته وَلَا يعلم؟ ! وورع أَسمَاء يمْنَعهَا أَن تفعل ذَلِك وَلَا تستأذن زَوجهَا، إِلَّا أَن يُقَال: إِنَّه يحْتَمل أَن يكون علم واحب أَن لَا يرد غَرَض عَلّي فِي كِتْمَانه مِنْهُ، لَكِن الْأَشْبَه أَنه يحمل عَلَى أَن أَسمَاء ستعلمه، وَأَنه علم أَنه علم وَنَوَى حُضُوره، وَالْأولَى لمن يثبت هَذَا أَن يُقَال: يحْتَمل - وَالله أعلم - أَن أَبَا بكر علم، وَأَن عليا علم بِعِلْمِهِ بذلك، وَظن أَنه (يحضر) من غير استدعاء مِنْهُ لَهُ، وَظن أَبُو بكر أَنه سيدعوه، أَو أَنه لَا يُؤثر حُضُوره. هَذَا آخر كَلَامه.
    (البدر المنیر ج5 ص375،376)

    امام البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔۔۔
    (701) - (حديث: " غسل على فاطمة رضى الله عنها "
    حسن.
    أخرجه الحاكم (3/163 ـ 164) وعنه البيهقى (3/396 ـ 397) من طريق محمد بن موسى عن عوف بن محمد بن على وعمارة بن المهاجر عن أم جعفر زوجة محمد بن على قالت: حدثتنى أسماء بنت عميس قالت: " غسلت أنا وعلى فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم ".
    قلت: ورجاله ثقات معروفون غير أم جعفر هذه ويقال لها أم عوف لم يرو عنها غير ابنها عوف وأم عيسى الجزار ويقال لها الخزاعية , ولم يوثقها أحد , وفى " التقريب ": " مقبولة ".
    وقال الحافظ فى " التلخيص " (170) بعدما عزاه للبيهقى: " وإسناده حسن , وقد احتج به أحمد وابن المنذر , وفى جزمهما بذلك دليل على صحته عندهما۔

    (ارواء الغلیل ج3 ص162)
     
    • علمی علمی x 4
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏مئی 03، 2014 #3
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    310

    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  4. ‏مئی 03، 2014 #4
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    310

    سنن کبری میں بھی تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔۔
    6930 - أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَوْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ جَعْفَرِ بِنْتِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَعَنْ عُمَارَةَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ أُمِّ جَعْفَرٍ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: " يَا أَسْمَاءُ إِنِّي قَدِ اسْتَقْبَحْتُ مَا يُصْنَعُ بِالنِّسَاءِ، إِنَّهُ يُطْرَحُ عَلَى الْمَرْأَةِ الثَّوْبُ فَيَصِفُهَا "، فَقَالَتْ أَسْمَاءُ: يَا بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُرِيكِ شَيْئًا رَأَيْتُهُ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ فَدَعَتْ بِجَرَائِدَ رَطْبَةٍ فَحَنَّتْهَا، ثُمَّ طَرَحَتْ عَلَيْهَا ثَوْبًا، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " مَا أَحْسَنَ هَذَا وَأَجْمَلَهُ يُعْرَفُ بِهِ الرَّجُلُ مِنَ الْمَرْأَةِ فَإِذَا أَنَا مِتُّ فَاغْسِلِينِي أَنْتِ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَلَا تُدْخِلِي عَلَيَّ أَحَدًا "، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا جَاءَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَدْخُلُ، فَقَالَتْ أَسْمَاءُ: لَا تَدْخُلِي فَشَكَتْ أَبَا بَكْرٍ، فَقَالَتْ: إِنَّ هَذِهِ الْخَثْعَمِيَّةَ تَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ ابْنَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ جَعَلَتْ لَهَا مِثْلَ هَوْدَجِ الْعَرُوسِ , فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَوَقَفَ عَلَى الْبَابِ، وَقَالَ: يَا أَسْمَاءُ مَا حَمَلَكِ أَنْ مَنَعْتِ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلْنَ عَلَى ابْنَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعَلْتِ لَهَا مِثْلَ هَوْدَجِ الْعَرُوسِ، فَقَالَتْ: أَمَرَتْنِي أَنْ لَا تُدْخِلِي عَلَيَّ أَحَدًا وَأَرَيْتُهَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتُ وَهِيَ حَيَّةٌ فَأَمَرَتْنِي أَنْ أَصْنَعَ ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَاصْنَعِي مَا أَمَرَتْكِ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَغَسَّلَهَا عَلِيٌّ، وَأَسْمَاءُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا۔
    (السنن الکبری ج4 ص56)

    اور حلیۃ الاولیاء کی سند اور متن یہ ہے۔۔۔
    حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ السَّرَّاجُ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ جَعْفَرٍ بِنْتِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَعَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ أُمِّ جَعْفَرٍ: أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: " يَا أَسْمَاءُ، إِنِّي قَدِ اسْتَقْبَحْتُ مَا يُصْنَعُ بِالنِّسَاءِ أَنْ يُطْرَحَ عَلَى الْمَرْأَةِ الثَّوْبُ فَيَصِفُهَا فَقَالَتْ أَسْمَاءُ: يَا ابْنَةَ رَسُولِ اللهِ أَلَا أُرِيكِ شَيْئًا رَأَيْتُهُ بِالْحَبَشَةِ فَدَعَتْ بِجَرَائِدَ رَطِبَةٍ فَحَنَتْهَا، ثُمَّ طَرَحَتْ عَلَيْهَا ثَوْبًا فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: مَا أَحْسَنَ هَذَا وَأَجْمَلَهُ تُعْرَفُ بِهِ الْمَرْأَةُ مِنَ الرَّجُلِ فَإِذَا مِتُّ أَنَا فَاغْسِلِينِي أَنْتِ وَعَلِيٌّ وَلَا يَدْخُلْ عَلَيَّ أَحَدٌ فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ غَسَّلَهَا عَلِيٌّ وَأَسْمَاءُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا۔
    (حلیۃ الاولیاء ج2 ص43)
     
    • علمی علمی x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏مئی 03، 2014 #5
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    اردو متن درکار ہے۔
     
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏مئی 03، 2014 #6
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    310

    جو آپ نے ذکر کیا ہے تقریبا قریب قریب ہی ہے متن۔۔۔۔۔
    باقی سند کے حوالے سے ابھی کچھ مصروفیت ہے ان شاء اللہ جلد شیئر کرونگا ،،،، ابھی پہلے بھی آپ کی پوچھی گیئ ایک روایت ادھار ہے۔۔ وہ بھی تیار ہے تھوڑی ترتیب باقی ہے۔
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  7. ‏مئی 03، 2014 #7
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    کونسی روایت ادھار ہے ؟
    اور جیسے ہی متعلقہ موضوع پر سند کے حوالے سے تحقیق پیش کریں گے۔
    تو مزید اس حوالے سے لکھوں گی۔باذن اللہ
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  8. ‏مئی 04، 2014 #8
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    310


    ذو البجادین کا قصہ ثابت ہے یا نہیں۔۔۔۔ ؟؟؟

    یہ اثر جیسا کہ اوپر بھی ذکر کیا ہے کہ کافی اختلاف ہے کیونکہ بعض میں تفصیل ہے اور بعض میں صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ اور آسماء رضی اللہ عنہا کا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو غسل دینے کا ذکر ہے جس کو علماء نے اوپر حسن بھی کہا ہے۔۔اور جو فی الوقت ہمارے زیر بحث نہیں ہے۔۔۔۔۔
    اصل مسئلہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا لمبا قصہ ہے جسکی سند درج ذیل ہے۔۔۔
    قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ جَعْفَرٍ بِنْتِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَعَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ أُمِّ جَعْفَرٍ

    قتیبۃ بن سعید:ثقة ثبت (تقریب:5522)
    مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْمَخْزُومِيُّ: صدوق رمى بالتشيع (تقریب:6535)
    عَوْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: انکا ترجمہ نہیں مل سکا سوائے اسکے کہ امام بخاری نے تاریخ الکبیر میں ذکر کیا ہے اور کوئی تعدیل اور جرح مذکور نہیں وہاں۔(تاریخ الکبیر ج7 ص16)
    باقی اسکے علاوہ انکی حدیث کو امام البانی نے اوپر حسن کہا ہے (امام البانی نے عون کو عوف سے بدل دیا ہے جو شائد کاتب کی غلطی ہے) اور مزید حافظ ابن حجر کا قول ذکر کیا ۔۔
    "وقال الحافظ فى " التلخيص " (170) بعدما عزاه للبيهقى: " وإسناده حسن , وقد احتج به أحمد وابن المنذر , وفى جزمهما بذلك دليل على صحته عندهما۔"
    (ارواء الغلیل ج3 ص162)
    أُمِّ جَعْفَرٍ بِنْتِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ: انکو ام عون بھی کہا جاتا ہے جو مقبولۃ ہیں۔(تقریب:8750)
    عُمَارَةَ بْنِ الْمُهَاجِرِ: انکو بھی امام بخاری کے علاوہ کسی نے ذکر نہیں کیا اور امام بخاری نے بھی کوئی کلام نہیں کیا۔(تاریخ ج4 ص504)


    خلاصہ: میری ناقص تحقیق کے مطابق یہ اثر ضعیف ہے کیونکہ اس میں 3 راوی ایسے ہیں جنکی تعدیل مطلوب ہے۔
    باقی علماء نے اس کو کس دلیل کی بنیاد پر حسن کہا اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا بظاہر سند ضعیف ہے۔واللہ اعلم
     
    • پسند پسند x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  9. ‏مئی 04، 2014 #9
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    310

    اسکے حوالے سے میں نے ابھی شیخ اسلام منصور سے سوال کیا جنہوں نے سنن کبری بیہقی کی تحقیق کی ہے تو انہوں نے کہا۔۔
    وللہ الحمد
     
    • پسند پسند x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  10. ‏مئی 04، 2014 #10
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    جزاک اللہ خیرا۔۔۔
    تو پھر کچھ علماء نے حسن کیوں بیان کیا ہے؟
    اور قصہ ذولبجادین کونسا ہے ؟ مجھے یاد نہیں یا معلوم نہیں !
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں