1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

حقيقت اجماع

'مصادر شریعت' میں موضوعات آغاز کردہ از sufi, ‏اگست 07، 2012۔

  1. ‏اگست 07، 2012 #1
    sufi

    sufi رکن
    شمولیت:
    ‏جون 25، 2012
    پیغامات:
    201
    موصول شکریہ جات:
    310
    تمغے کے پوائنٹ:
    63

    جزاك الله

    • شکریہ شکریہ x 3
  2. ‏اگست 08، 2012 #2
    رفیق طاھر

    رفیق طاھر رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2011
    پیغامات:
    751
    موصول شکریہ جات:
    3,891
    تمغے کے پوائنٹ:
    309

    ۱۔ اجماع امت دین میں حجت ودلیل نہیں ہے ۔
    ۲۔ اجماع کہتے ہیں کہ کسی مسئلہ کا حل قرآن وحدیث سے تلاش کیا جائے اور جب اس مسئلہ کا حل کتاب وسنت سے مل جائے اور پھر ایسا اتفاق ہو کہ ساری امت اس پر متفق ہو جائے ۔ تو اجماع کی یہ تعریف ہی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مجمع علیہ مسئلہ کی کتاب وسنت سے دلیل ہونا ضروری ہے ۔
    ۳۔ دلیل کی بنیاد اجماع کا رد بھی کیا جاسکتا ہے اور دلیل کی بنیاد پر اسے تسلیم بھی کیا جاسکتا ہے ۔ یعنی اجماع کی اپنی ذاتی کوئی حیثیت نہیں إلا یہ کہ اجماع اگر ہو جائے کبھی تو اس میں خطأ کا امکان کم ہوتا ہے ۔ لیکن بہر حال باقی ضرور رہتا ہے۔
    • شکریہ شکریہ x 4
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
  3. ‏اگست 08، 2012 #3
    ھارون عبداللہ

    ھارون عبداللہ رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 08، 2012
    پیغامات:
    116
    موصول شکریہ جات:
    510
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    اسلام علیکم
    یہ صحیح ہے کہ اجماع کی بنیاد قران اور حدیث ہی ہے لیکن اجماع کو حجت نہ کہنا درست نہین ہے - جیسے صحابہ کرام کا اجماع- مثلا زکوہ نہ دینے والون کے خلا ف جھاد۔ کبھی اجماع کی بنیاد قران وحدیث نہین بھی ہوتی۔ جیسے صحابہ کرام کا مصحف عثمان پر اجماع۔ مگر اس قسم کا اجماع صحابہ کے ساتھ خاص ہے- واللہ اعلم
    ھارون عبداللہ
    • شکریہ شکریہ x 4
  4. ‏اگست 08، 2012 #4
    Abdulallam

    Abdulallam مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2012
    پیغامات:
    32
    موصول شکریہ جات:
    62
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    fa in tanazaatum se kya ye sabit nahi hota ke jis mamle me tanaza na ho wo yaqinan sahi hai? Kya ye ayat ijmaa ki dalil nahi ban sakty?
    • شکریہ شکریہ x 1
  5. ‏اگست 09، 2012 #5
    رفیق طاھر

    رفیق طاھر رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2011
    پیغامات:
    751
    موصول شکریہ جات:
    3,891
    تمغے کے پوائنٹ:
    309

    زکاۃ نہ دینے والوں کے خلاف جہاد کا حکم اللہ نے قرآن میں اور نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرمان میں دیا ہے ۔ لہذا اسے اجماع کہنا اجماع کی معروف تعریف کے خلاف ہے ۔
    مصحف عثمان پر اجماع سے اگر مراد یہ ہے کہ صرف یہ ہی پڑھا جائے اور باقی قراءت ترک کر دی جائیں تو یہ اجماع کا دعوى ہی باطل ہے ۔
    اور اگر اس سے مراد یہ ہے کہ اس بھی پڑھنا جائز ہے اور زیادہ بہتر ہے تو وہ نصوص شرعیہ سے ثابت ہے ۔ لہذا اجماع غیر مبنى على الکتاب والسنہ والی بات مردود ہے ۔
    • شکریہ شکریہ x 3
  6. ‏اگست 09، 2012 #6
    رفیق طاھر

    رفیق طاھر رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2011
    پیغامات:
    751
    موصول شکریہ جات:
    3,891
    تمغے کے پوائنٹ:
    309

    • شکریہ شکریہ x 3
  7. ‏اگست 09، 2012 #7
    sufi

    sufi رکن
    شمولیت:
    ‏جون 25، 2012
    پیغامات:
    201
    موصول شکریہ جات:
    310
    تمغے کے پوائنٹ:
    63

    جزاك الله شيخ صاحب
    اجماع كى تعلق سى عبدالعلام صاحب كو فراهم كرده لنك مى آنجناب مفيد نكات زير بحث لائى هين
    عموما سوره نساء آيت 115 اجماع كى حجيت مى سامنى لائي جاتى هئ. استدلال 4 طرح كياجاتا هئ. عبارة النص, اشارةالنص , دلالةالنص اور اقتضاءالنص سى
    همين سمجهان كى غرض سى ان 4 اصطلاحات كى مختصر تشريح كرين اور ساته ساته ان اصطلاحات كى روشنى مى متذكره بالا آيت سى حجيت اجماع كيونكر ثابت نهي كى ؟ رهنمائ فرمايىن.
    • شکریہ شکریہ x 1
  8. ‏اگست 09، 2012 #8
    ھارون عبداللہ

    ھارون عبداللہ رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 08، 2012
    پیغامات:
    116
    موصول شکریہ جات:
    510
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    (("رفیق طاھر ----زکاۃ نہ دینے والوں کے خلاف جہاد کا حکم اللہ نے قرآن میں اور نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرمان میں دیا ہے ۔ لہذا اسے اجماع کہنا اجماع کی معروف تعریف کے خلاف ہے ۔
    مصحف عثمان پر اجماع سے اگر مراد یہ ہے کہ صرف یہ ہی پڑھا جائے اور باقی قراءت ترک کر دی جائیں تو یہ اجماع کا دعوى ہی باطل ہے ۔
    اور اگر اس سے مراد یہ ہے کہ اس بھی پڑھنا جائز ہے اور زیادہ بہتر ہے تو وہ نصوص شرعیہ سے ثابت ہے ۔ لہذا اجماع غیر مبنى على الکتاب والسنہ والی بات مردود ہے "۔-------))


    واضح ہو کہ صحا بہ کرام مسمانون کے زکوہ نہ دینے پر ، انکے خلاف جھاد پر خود بھی یقینی نہ تھے۔ جیسا کہ صحیح بخاری مین حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کی گفتگو سے ثابت ہوتا ہے -(دیکھیے حدیث نمبر ١٣٩٩)۔ معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کا اجماع قران کریم اور حدیث کے معنی پر تھا۔ یعنی مسلمانون کے زکوہ ادا نہ کرنے پر جھاد ہوسکتا ہے۔ یہی صحابہ کا اجماع تھا- صحابہ کرام کا قرآن کریم کی کسی آیت یا حدیث کے مطلب یا معنی پر اتفاق ہوجاے یعنی اجماع ہوجاے تو اسکی مخالفت درست نہین ہے ۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ کسی صحابی کی دلیل کی بنیاد پر یعنی قرآن و حدیث کی بنیاد پر مخالفت کی جا سکتی ہے - مگر جس مسلہ مین صحابہ متفق ہون ،انکی مخالفت دلیل کی بنییاد پر بھی نہین کی جا سکتی- کیونکہ صحا بہ ہی حق پر ہین ۔ معلوم ہوا کہ اجماع صحابہ حجت ہے- دوسری بات یہ کہ قرآن کریم کیلیے ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ رسم عثمانی کے مطابق ہو۔ رسم عثمانی پر صحابہ کا اجماع کرنا اور اختلافی قراءتون کو ختم کرنا ، اور قرآن کو مصاحف عثمانی مین محصور سمجھنا صحابہ کے ساتھ خاص ہے۔ کیو نکہ قرآن کو مصف عثمانی مین محصور سمجھنا ، اسکی کوی نص نہین ہے بلکہ یہ اجماع صحابہ سے ثابت ہے - واللہ اعلم والسلام
    • شکریہ شکریہ x 6
  9. ‏اگست 09، 2012 #9
    Abdulallam

    Abdulallam مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2012
    پیغامات:
    32
    موصول شکریہ جات:
    62
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    Jazakallahu khairan. Lekin us mazmun me mere sawal ka jawab nahi k allah ne ikhtelaf hone ki surat me kitab wa sunnat ki taraf lotne ka hukm diya hai jis se maalum hota hai ke jis masle me ikhtelaf na ho us me kitab wa sunnat ki taraf lotne ki zarurat nahi yani wo sahi hai. Wallahu aalam
    • شکریہ شکریہ x 1
  10. ‏اگست 09، 2012 #10
    Abdulallam

    Abdulallam مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2012
    پیغامات:
    32
    موصول شکریہ جات:
    62
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    Mohtaram aap ne lan tajtameo ummaty se istidlal karte huwe ye bat kahi ke is se maalum hota hai ke ijmaa hoga hi nahi. Hala ke is ke baad alazzalalah bhi to hai ke gumrahi par ijmaa nahi hoga. Ab kisi ijmaai masaale ki mukhalefat kya is bat ki dalil nahi ke mukhalefat karne wala use ijmaa alazzalalah qarar de raha hai.
    • شکریہ شکریہ x 1

اس صفحے کو مشتہر کریں