1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حلالہ اور ہمارا معاشرہ

'طلاق' میں موضوعات آغاز کردہ از یوسف ثانی, ‏اکتوبر 31، 2012۔

  1. ‏نومبر 09، 2012 #31
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    میں نہیں سمجھاکہ آپ کیاکہناچاہ رہے ہیں۔تمام گواہوں اورثبوتوں کو مد نظررکھ کر فیصلہ کیاجائے گاکہ طلاق ہوئی یانہیں ہوئی ۔
    اگریہی آپ کاموقف ہے تواس کی دلیل پیش کیجئے جب کہ حدیث کہتی ہے کہ کوئی آدمی کیسے بھی طلاق دے اس کی طلاق معتبر ہوگی۔ ثلاث جدھن جد وہزلہن ہزل
     
  2. ‏نومبر 10، 2012 #32
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ، وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ: النِّكَاحُ، وَالطَّلَاقُ، وَالرَّجْعَةُ " رواه ابن ماجة في السنن برقم ٢٠٣٩
     
  3. ‏نومبر 10، 2012 #33
    راجا

    راجا سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 19، 2011
    پیغامات:
    734
    موصول شکریہ جات:
    2,555
    تمغے کے پوائنٹ:
    211

    اگر مغالطہ مقصود نہیں ، تو غلط فہمی ہی ہے۔
    کسی دوسرے کی ترغیب و تحریص کے بعد طلاق دینے والے شخص کے بارے میں یہ کیونکر کہا جا سکتا ہے کہ اس کا اپنا ارادہ نہیں؟
    یہ کہہ سکتے ہیں کہ طلاق کے ارادے کی وجہ ترغیب و تحریص تھی۔
    کیونکہ طلاق تو اس نے ترغیب سے متاثر ہونے کے بعد اپنے بھرپور ارادے کے ساتھ ہی دی ہے۔
    ہاں جبر و اکراہ کا معاملہ ہو تو سوال بنتا ہے۔ کہ گن پوائنٹ پر کسی شخص نے طلاق دی تو اس نے اپنے ارادہ سے نہیں دی۔

    اتنی ساری پوسٹس کے ساتھ اگر پوسٹ 23 کا بھی جواب عنایت کر دیتے تو اچھا تھا۔ خصوصاً یہ:

    اور یہ:
     
  4. ‏نومبر 11، 2012 #34
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    تصحیح کا شکریہ!
     
  5. ‏نومبر 12، 2012 #35
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    حقیقت یہ ہے کہ جوبات آپ جبرواکراہ کے معاملے میں کہہ رہے ہیں اس میں بھی کہاجاسکتاہے کہ اس نے اپنے ارادے سے طلاق دی ہے۔کسی کو گن پوائنٹ پر رکھ کر طلاق کیلئے کہاجاتاہے تواس کے سامنے بھی چوائس ہوتاہے کہ وہ اپنی جان بچائے یاپھر طلاق دے۔ اوروہ پہلی صورت اختیار کرتاہے؟
    اس بحث سے قطع نظر
    میرسوال صرف اس قدر ہے
    اگرکوئی شخص ترغیب وتحریص کی وجہ سے طلاق دیتاہے تواس کی طلاق واقع ہوجائے گی یانہیں آپ کہتے ہیں کہ ہوجائے گی اورحدیث اس پر دال ہے ثلاث جدھن جد وہزلہن جد
    کہ تین چیزیں چاہے سنجیدگی سے یامذاق سے وہ واقع ہوجاتی ہیں۔
    اب اسی اصول پر غورکریں کہ
    جوشخص نکاح حلالہ کرتاہے اورکراتاہے آپ کہتے ہیں کہ اس کانکاح نہیں ہوا
    جب کہ حدیث کہتی ہے کہ نکاح چاہے ترغیب وتحریص سے ہویاکسی اورمقصد سے ۔نکاح ہوجائے گا۔جدھن جد وہزلہن جد
    ہاں چونکہ نکاح حلالہ کی حدیث میں مذمت اورلعنت وارد ہوئی ہے لہذا ہم کہتے ہیں وہ شدید گنہگار ہوگا اوراگراسلامی حکومت ہوتو تفتیش کے بعد اس کو تعزیر بھی ہوسکتی ہے۔
    اس طرح دونوں حدیثوں میں پر عمل آوری ہوجاتی ہے۔
    اصل موقف احناف کایہ ہے کہ نکاح درست ہے کراہت کے ساتھ
    یہی موقف امام شافعی علیہ الرحمہ کابھی ہے
    ہاں اگرنکاح میں کوئی شرط لگاتاہے کہ اس کو طلاق دیناہوگایاایساویساتووہ نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ حنفیہ اورشافعیہ کے بھی نزدیک
    أما نكاح التحليل المؤقت: وهو الذي يقصد به تحليل المرأة لزوجها الأول بشرط أو اتفاق في العقد أو غيره بالنية، فهو زواج باطل غير صحيح، ولا تحل به المرأة للأول الذي طلقها، وهو معصية لعن الشرع فاعلها، سواء علم الزوج المطلّق أو جهل بذلك وهو رأي مالك وأحمد والثوري والظاهرية. وقال الحنفية والشافعية: هو صحيح مع الكراهة ما لم يشترط التحليل في العقد.
     
  6. ‏نومبر 12، 2012 #36
    ماں کی دعا

    ماں کی دعا رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 08، 2012
    پیغامات:
    74
    موصول شکریہ جات:
    131
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    حرامہ کا فتوی جو فتوی فروش مولوی اپنی جیب مین چھپائے حنفی بستیوں میں منڈلائے، جن کی عید ہی اسی دن ہو جب کسی مسلمان کا گھر اجڑ جائے، بھلا کیا وہ " اہل حدیث" ہوسکتا ہے؟؟؟
     
  7. ‏نومبر 12، 2012 #37
    ٹائپسٹ

    ٹائپسٹ رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    186
    موصول شکریہ جات:
    987
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    بھائی میرے خیال سے اختلاف اس ہی بات پر ہے کہ اگر نکاح میں یہ شرط موجود ہو کہ نکاح کے بعد طلاق دینا ہوگی تو یہ نکاح باطل ہے۔ اور حلالہ میں یہی شرط ہوتی ہے۔
     
  8. ‏نومبر 12، 2012 #38
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    شایدکتب فقہ وغیرہ آپ نے پڑھی نہیں ہے۔
    اگرکوئی نکاح میں یہ شرط لگاتاہے کہ طلاق دینی ہوگی تویہ نکاح باطل ہے
    نکاح سے قبل آپ ہونے والے شوہر سے عرض ومعروض کرلیں۔ ڈرادھمکاکرمنظورکرالیں وہ الگ چیز ہے۔
    یہی وجہ ہے بعض دفعہ نکاح حلالہ کرنے والے شوہر طلاق دینے کیلئے راضی نہیں ہوتے اوروہ نہیں دیتے ہیں۔
    اگرطلاق کی شرط نکاح میں رکھنامعتبر ہوتاتوپھرحلالہ کرنے والے شوہر کویہ اختیارہی نہیں ہوتاکہ وہچاہے تواپنی بیوی کو ہمیشہ اپنے پاس رکھے۔نکاح اگلی صبح ہوتے ہی ختم ہوجاتالیکن ایسانہیں ہے۔
    امید ہے کہ یہ نقطہ آنجناب کی سمجھ میں آگیاہوگا۔
     
  9. ‏نومبر 12، 2012 #39
    ٹائپسٹ

    ٹائپسٹ رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    186
    موصول شکریہ جات:
    987
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    سب سے پہلے تو میں یہ چاہوں گا کہ مجھے کوئی بھی جواب کسی بھی مسلک کا طرفدار سمجھ کر نہ دیا جائے۔
    اور رہی بات یہ کہ میں آپ کی بات سمجھ گیا ہوں یا نہیں تو عرض ہے!
    میں اس تھریڈ کو شروع سے پڑھتا ہوا آ رہا ہوں اور میں جس نتیجے پر پہنچا ہوں وہ یہ کہ اس تھریڈ میں یہ بحث ہو رہی ہے کہ جو شخص حلالہ میں نکاح کرتا ہے اس کا نکاح نہیں ہوتا اور نکاح نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس نکاح میں پہلے ہی یہ شرط موجود ہوتی ہے کہ تم حقوق زوجیت کی ادائیگی کے بعد طلاق دے دو گے۔ اور جس نکاح میں یہ شرط موجود ہو وہ نکاح باطل ہے یہی وجہ ہے کہ متعہ بھی حرام ہے۔
    آپ نے جو بات لکھی کہ نکاح کرنے والا بعد میں طلاق دینے کے لیے راضی نہیں ہوتا ، تو بات یہی ہے کہ اس سے طلاق کا مطالبہ ہی کیوں کیا جاتا ہے؟ کیا اس سے نکاح اس لیے کیا گیا تھا کہ وہ اس عورت کے ساتھ ہمیشہ زندگی گزارے یا یہ کہ اس شخص کو جلد ہی اسے طلاق دینا ہوگی جس کا اس سے فورا ہی مطالبہ بھی کیا جاتا ہے اور ایسے میں بعض لوگ راضی نہیں ہوتے ۔ تو بات تو یہی ہوئی کہ طلاق دینا تو طے تھا لیکن یہ شخص مکر گیا طلاق دینے سے۔
    تو میں تو یہی سمجھا ہوں کہ جس نکاح میں پہلے ہی یہ بات طے کر لی جائے کہ تم نکاح بعد طلاق بھی دو گے تو وہ نکاح باطل ہے اور حلالہ میں میں نے جو کچھ پڑھا اور سنا ہے وہ یہی کچھ ہے۔
     
  10. ‏نومبر 13، 2012 #40
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    شاید میری بات آپ کو سمجھ میں نہیں آئی
    آپ قانونی داؤپیج سے پھنسنے کیلئے اپنی کچھ جائیداد کسی عزیز وقریبی رشتہ دارکے نام کردیتے ہیں اوراس سے پہلے یہ طے کرلیتے ہیں کہ یہ جائیدادہوگی توتمہارے نام لیکن سارااختیاراورسارامنافع میراہوگا۔
    اگراس جائیدادکی دستاویز پر آپ کابھی نام ہوتو قانون فوراگرفت میں لے لے گااورسوال ہوگاکہ اس جائیدادکیلئے روپئے کہاں سے آئے۔
    قانونی پھندے سے بچنے کیلئے آپ جس جائیداد کو اپنے رشتہ دارکے نام منتقل کررہے ہیں اسمیں آپ کبھی ایسانہیں کریں گے کہ جائیداد کی دستاویز پر اپنانام لکھیں گے۔ہاں اس کو الگ سے کچھ اس طرح مجبور کریں گے کہ وہ بعد میں آپ سے مکرنہ سکے۔یاجائیداد میں اپناتصرف نہ شروع کردے یااس کیلئے کچھ بھی لالچ دیں گے لیکن جائیداد کی جوڈاکیومنٹ ہوگی وہ پوری طرح قانونی اوراس میں صرف آپ کے رشتہ دارکاہی نام ہوگا۔
    بعینہ یہی حال سمجھیں
    ایک شخص غصہ میں آکر اپنی بیوی کو تین طلاق دے دیتاہے اب اسے پچھتاواہوتاہے کہ یہ تومیں نے بہت براکیا
    حنفیہ شافعیہ مالکیہ حنابلہ کہتے ہیں کہ تم نے ایک ساتھ تین طلاق دے کر کتاب اللہ کو مذاق بنایاہے اب اس کی سنگین سزابھگتو
    اب وہ شخص حلالہ کا طریقہ ڈھونڈتاہے اورکسی دوسرے مرد کے ساتھ اپنی بیوی کی شادی کراتاہے
    وہ اس دوسرے شخص سے کسی اورطریقہ سے عرض ومعروض کرسکتاہے کہ تمہیں اگلی صبح کو تین طلاق دیناہوگا۔نہیں کروگے توایساایساہوگا
    لیکن نکاح نامے میں وہ ایسی کوئی شرط نہیں رکھ سکتاکہ اس نکاح کی شرط یہ ہے کہ تمہیں اگلی صبح کو طلاق دیناہوگا۔
    حنفیہ کاکہناہے کہ اگرکوئی ایسی شرط لگاتابھی ہے تونکاح صحیح اورشرط باطل ہوگی!
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں