1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حلالہ اور ہمارا معاشرہ

'طلاق' میں موضوعات آغاز کردہ از یوسف ثانی, ‏اکتوبر 31، 2012۔

  1. ‏نومبر 13، 2012 #41
    ٹائپسٹ

    ٹائپسٹ رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    186
    موصول شکریہ جات:
    987
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    میرے عزیز بھائی جمشید! آپ نے جو مثال پیش کی ہے یہ دنیا کی ہے اور میں جس معاملے کو سمجھنا چاہ رہا ہوں وہ دین سے تعلق رکھتا ہے اس لیے بہتر ہوگا کہ آپ قرآن یا حدیث سے ثابت کریں۔
    اور دوسری بات یہ کہ ایک شخص حلالہ کرنا چاہتا ہے اور اس کے لیے کسی سے بات کرتا ہے کہ تم میری بیوی سے شادی کر لو اور پھر طلاق بھی دے دینا۔ لیکن یہ شرط نکاح نامے میں تحریر نہیں کرواتا تو کیا نکاح نامہ شریعت کا تقاضہ ہے؟
    اگر کوئی نکاح نامہ پر دستخط کیے بغیر اجاب و قبول کر لیتا ہے تو کیا ان کا نکاح باطل ہوگا ، نہیں نکاح تو ہو جائے گا تو اس ہی طرح وہ شرط جو نکاح نامے میں درج نہیں کی گئی لیکن شرط موجود تو ہے نا! تو ایسی شرط کی موجودگی میں یہ نکاح کیسے ہو جائے گا؟
    میرے بھائی اگر آپ سیدھی اور صریح کوئی حدیث یا قرآن کی آیت کوٹ کر دیں تو سمجھنے میں انتہائی آسانی ہو۔ اور قرآن و حدیث کے دلائل پیش کرنے کے بعد بھی اگر کوئی ماننے سے انکار کرے تو وہ اللہ کے ہاں گناہگار ہوگا۔
     
  2. ‏نومبر 13، 2012 #42
    راجا

    راجا سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 19، 2011
    پیغامات:
    734
    موصول شکریہ جات:
    2,555
    تمغے کے پوائنٹ:
    211

    یہ تو بہت عجیب بات ہے کہ آپ نکاح سے قبل فریقین کی نیت پر تو اعتبار نہیں کرتے۔ اور وہی نیت کاغذ پر لکھ دی جائے تو اس کا اعتبار کرتے ہیں۔
    یہ نکاح نامے کا چکر تو ابھی گزشتہ صدی سے شروع ہوا ہے اس سے قبل یہ نکاح نامے کہاں تھے اور خود شریعت میں نکاح نامہ کوئی ضروری دستاویز ہی نہیں ہے۔
    جب شادی کرنے والے مرد کی نیت شادی کے وقت یہی ہے کہ وہ ایک خاص مدت ( جو کہ عموماً ایک رات ہی ہوتی ہے) کے لئے خاتون سے نکاح کر رہا ہے۔ تو یہ نکاح کیسے منعقد ہو سکتا ہے؟ جبکہ ایسے نکاح پر ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لعنت بھی فرماتے ہوں اور یہ بات آپ کو بھی تسلیم ہے۔
    باقی یہ بات کہ نکاح چاہے مذاق میں ہو یا سنجیدگی سے منعقد ہو جاتا ہے۔ اس حدیث سے اگر نکاح حلالہ کی دلیل ملتی ہے تو نکاح متعہ کی بھی ملتی ہے۔ اگر نکاح حلالہ درست تو پھر نکاح متعہ بھی درست۔ کیا آپ اسے تسلیم کرتے ہیں؟
    نکاح کی کچھ شرائط ہیں۔ ان میں باکرہ کے لئے ولی کا ہونا شرط ہے۔ گواہان کا ہونا ضروری ہے وغیرہ۔ ویسے ہی گھر بسانے کی نیت کا ہونا بھی ضروری ہے۔ دونوں ہی اگر اس نیت سے نکاح کریں کہ کل ہم نے طلاق لے دے کر فارغ ہو جانا ہے تو اس میں اور چکلوں کوٹھوں پر زنا کی وارداتوں میں کیا فرق رہا؟
    آپ ہی بتائیے اگر اس حدیث سے نکاح حلالہ جائز و درست ثابت ہوتا ہے، تو نکاح سے قبل طلاق کی شرط عائد کر لینے والے کا نکاح بھی درست ہونا چاہئے۔ احناف بھی اسے تسلیم نہیں کرتے۔

    ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ نکاح سے قبل ہی اگر شرط عائد کر دی جائے کہ نکاح کے بعد طلاق دے دی جائے گی۔ یا اگر لکھت پڑھت میں شرط عائد نہ ہو، لیکن دل سے نیت اور مصمم ارادہ ہی یہ ہو کہ ایک دن بعد طلاق دے کر جدا کر دینا ہے، تو ایسا نکاح منعقد نہیں ہوتا۔
    پھر آخر ان دونوں باتوں میں کیا جوہری فرق ہے کہ :

    ۔ نکاح سے قبل طلاق کی شرط عائد کر دی جائے تو نکاح منعقد نہیں ہوتا۔
    ۔ نکاح سے قبل فریقین طلاق کی نیت اور مصمم ارادہ ہو، گواہان، قاضی، قریب ترین رشتہ دار سب واقف ہوں کہ یہ نکاح طلاق کی نیت سے کیا جا رہا ہے۔ تو نکاح منعقد ہو جاتا ہے، اگرچہ فریقین کو گناہ ہوتا ہے۔

    حضرت عمر رضی اللہ عنہ تو نکاح حلالہ کرنے کرانے والے کے بارے میں قسم کھاتے ہیں کہ میرے پاس لائے گئے تو انہیں رجم کر دوں گا۔ اور سب جانتے ہیں کہ رجم زنا کی سزا ہے۔ اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نکاح حلالہ کے منعقد ہو جانے کا اعتقاد رکھتے تو رجم کی سزا کا کیوں اعلان کرتے؟


    اور حلالہ کو مرد کے لئے سزا قرار دینا اس سے بھی عجیب تر ہے۔ ٹھیک ہے تین طلاق سے کتاب اللہ کے ساتھ مذاق کرنے والے کو سزا ملنی چاہئے۔ لیکن خاتون کا کیا قصور؟ اسے کس جرم کی سزا دی گئی؟

    یہ آپ کی غلط فہمی ہے کہ احناف ایسے نکاح کو درست قرار دیتے ہیں جس میں طلاق کی شرط عائد کی گئی ہو۔ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ احناف کے ہاں ایسا نکاح مکروہ تحریمی ہے، کیا مکروہ تحریمی قرار دینے کے باوجود ایسا نکاح منعقد ہو جاتا ہے؟ آپ کے پاس اگر اپنے موقف کے حق میں دلائل ہوں تو پیش کیجئے۔
    دوسری بات یہ کہ اگر کوئی نکاح متعہ کرتا ہے تو بھی نکاح صحیح اور موقت کی شرط باطل قرار پائے گی؟
     
  3. ‏نومبر 14، 2012 #43
    بالاکوٹی

    بالاکوٹی رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 04، 2012
    پیغامات:
    82
    موصول شکریہ جات:
    351
    تمغے کے پوائنٹ:
    36

    ضرورت اس بات کی ہے کہ لفظ " حلالہ" پر کاری ٖضرب لگانے کے، اس کے غلط استعمال پر دعوت فکر کو عام کیا جائے۔ لوگوں میں شعور اجاگر کیا جائے،کوئی بھی صاحب بصیرت ایسے غیر شرعی حلالہ کی دعوت نہیں دے سکتا جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائے ہے۔
    بنیادی سوال یہ ہے کہ حلالہ کے غلط استعمال پر دعوت فکر کے بجائے لفظ " حلالہ" کو خوفناک اور بھیانک شکل میں کیوں پیش کیا جارہا ہے؟[/QUOTE]
    السلام علیم
    ہمارے دیوبند حضرات غیر شرعی حلالہ کی دعوت دیتے بھی ہیں اور اس کے جواز کے لیے احادیث نبوی ﷺ کے معانی کو اپنے دعوے کے مطابق استعمال بھی کرتے ہیں ۔جس حدیث میں آیا کہ حلالہ کرنے والے اور کروانے والے پر لعنت ہے ۔اس حدیث کو علماء دیو بند کراہت پر محمول کرتے ہیں جس کی وجہ سے حلالہ کا رواج عام ہو تا ہے ۔
    رہی بات کہ لفظ ،کا استعمال خوفناک اوربھیانک شکل میں پیش کرنا تو وہ اس فعل قبیح کی وجہ سے ہے۔
    دعوت فکر صرف مذمت کی صورت میں ہو سکتی ہے نہ کہ تعصب کی وجہ سے اس کے جواز کےراستے نکالیں سے ۔جو لو گ اس حدیث کو کراہت پر محمو ل کرتے ہیں وہ لی طور پر مطمئن نہیں ہوتے ۔بلکہ تعصب کی وجہ سے کرتے ہیں ۔ ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا :گناہ وہ ہے جو سینے میں کھٹکے اورتو نا پسند کرے کہ لو گ اس پر مطلع ہو ں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  4. ‏نومبر 20، 2012 #44
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    اللہ اکبراس علم وفہم کا کوئی ٹھکانہ ہے اوراس بے جاالزام تراشی کی بھی کوئی حد ہے
    یعنی اگرحدیث سے کوئی وہ مطلب نہ سمجھے جوکسی دوسرے کے خیال میں آیاہے تو وہ تعصب کی کارفرمائی ہے۔آپ کیلئے توآسان ہے کہ یہ کہہ دیں کہ جولوگ اس حدیث کو کراہت پر محمول کرتے ہیں وہ تعصب کی وجہ سے کرتے ہیں
    لیکن ہمارے لئے مشکل ہے کہ امام ابوحنیفہ اورامام شافعی رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ کہہ سکیں یہ حضرات ایساتعصب کی وجہ سے کرتے تھے؟
    اپنے موقف پر دوبارہ غورکریں۔
    ازخداخواہیم توفیق ادب
    بے ادب محروم گشت ازفضل رب​
     
  5. ‏نومبر 20، 2012 #45
    ماں کی دعا

    ماں کی دعا رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 08، 2012
    پیغامات:
    74
    موصول شکریہ جات:
    131
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    وعلیکم السلام!
    چلیں آپ نے تو تسلیم کرہی لیا کہ حلالہ کی ایک صورت شرعی بھی ہے، اور ظاہر ہے آپ کے نزدیک وہ شرعی قرآن سے یا حدیث سے ماخوذ ہوگی۔
    لیکن آپ کا ایک بھائی کھلم کھلا حلالہ کاکسی صورت میں بھی انکار کرتا ہے۔
    اپنے اس دعوی کو ثابت کریں،بصورت اپنے سینے میں چھپے تعصب کو مٹانے کی فکر کریں۔
    حقیقت چھپانے کی کوشش نہ کریں، صاف کیوں نہیں کہتے کہ" فتوی خاص حرامہ" کے نام سے بے حیائی پھیلانے کے لئے غیر مقلدین حضرات لفظ "حلالہ" کو فعل قبیح کہنے پر مجبور ہیں۔
     
  6. ‏اپریل 15، 2013 #46
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    [​IMG]

    [​IMG]

    [​IMG]

    [​IMG]

    [​IMG]

    [​IMG]

     
  7. ‏اپریل 15، 2013 #47
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    [​IMG]

    [​IMG]

    [​IMG]

    [​IMG]

     
  8. ‏اپریل 15، 2013 #48
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    [​IMG]

    [​IMG]

    [​IMG]

     
  9. ‏اپریل 15، 2013 #49
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    [​IMG]

    [​IMG]

    [​IMG]

    [​IMG]

    [​IMG]

     
  10. ‏اپریل 16، 2013 #50
    علی طارق

    علی طارق مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 01، 2013
    پیغامات:
    2
    موصول شکریہ جات:
    7
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    عرصہ دراز سے ایک سوال میرے ذھن میں تھا کہ تمام اس بات پر متفق ھیں کہ حلالہ ایک مکروہ اور غلیظ فعل ھے لیکن اگر کوی حلالہ کروالے تو کیا وہ واقع ھو جاتا ھے؟؟؟؟ ۔۔۔۔ یعنی اسے کرنے کے بعد عورت اپنے پھلے شوھر کے پاس جا سکتی ھے؟؟؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں