1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حلالہ کے بارے میں سوال

'فقہ اہل الرائے' میں موضوعات آغاز کردہ از salfisalfi123456, ‏نومبر 15، 2015۔

  1. ‏نومبر 15، 2015 #1
    salfisalfi123456

    salfisalfi123456 مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 13، 2015
    پیغامات:
    84
    موصول شکریہ جات:
    39
    تمغے کے پوائنٹ:
    6

    فقہ حنفی کی کس کتاب میں حلالہ کے جواز تراشا گیا ہے مکمل حوالہ چاہیے.
    جزاک اللہ خیرا
     
  2. ‏نومبر 16، 2015 #2
    salfisalfi123456

    salfisalfi123456 مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 13، 2015
    پیغامات:
    84
    موصول شکریہ جات:
    39
    تمغے کے پوائنٹ:
    6

    اسحاق سلفی بھائی
    خضر حیات بھائی
    ابن داؤد بھائی
     
  3. ‏نومبر 16، 2015 #3
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    860
    موصول شکریہ جات:
    240
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

  4. ‏نومبر 16، 2015 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    حلالہ کے جواز پر حنفی کتب فقہ سے کچھ حوالے درج ہیں :
    بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 187)
    وَمِنْهَا أَنْ يَكُونَ النِّكَاحُ الثَّانِي صَحِيحًا حَتَّى لَوْ تَزَوَّجَتْ رَجُلًا نِكَاحًا فَاسِدًا وَدَخَلَ بِهَا لَا تَحِلُّ لِلْأَوَّلِ؛ لِأَنَّ النِّكَاحَ الْفَاسِدَ لَيْسَ بِنِكَاحٍ حَقِيقَةً، وَمُطْلَقُ النِّكَاحِ يَنْصَرِفُ إلَى مَا هُوَ نِكَاحٌ حَقِيقَةً وَلَوْ كَانَ النِّكَاحُ الثَّانِي مُخْتَلِفًا فِي فَسَادِهِ، وَدَخَلَ بِهَا لَا تَحِلُّ لِلْأَوَّلِ عِنْدَ مَنْ يَقُولُ بِفَسَادِهِ لِمَا قُلْنَا، فَإِنْ تَزَوَّجْت بِزَوْجٍ آخَرَ وَمِنْ نِيَّتِهَا التَّحْلِيلُ فَإِنْ لَمْ يَشْرُطَا ذَلِكَ بِالْقَوْلِ، وَإِنَّمَا نَوَيَا، وَدَخَلَ بِهَا عَلَى هَذِهِ النِّيَّةِ حَلَّتْ لِلْأَوَّلِ فِي قَوْلِهِمْ جَمِيعًا؛ لِأَنَّ مُجَرَّدَ النِّيَّةِ فِي الْمُعَامَلَاتِ غَيْرُ مُعْتَبَرٍ فَوَقَعَ النِّكَاحُ صَحِيحًا لِاسْتِجْمَاعِ شَرَائِطِ الصِّحَّةِ فَتَحِلُّ لِلْأَوَّلِ كَمَا لَوْ نَوَيَا التَّوْقِيتَ، وَسَائِرَ الْمَعَانِي الْمُفْسِدَةِ.
    وَإِنْ شَرَطَ الْإِحْلَالَ بِالْقَوْلِ، وَأَنَّهُ يَتَزَوَّجُهَا لِذَلِكَ، وَكَانَ الشَّرْطُ مِنْهَا فَهُوَ نِكَاحٌ صَحِيحٌ عَنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ، وَزُفَرَ، وَتَحِلُّ لِلْأَوَّلِ، وَيُكْرَهُ لِلثَّانِي، وَالْأَوَّلِ.
    وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ: النِّكَاحُ الثَّانِي فَاسِدٌ، وَإِنْ وَطِئَهَا لَمْ تَحِلَّ لِلْأَوَّلِ وَقَالَ مُحَمَّدٌ: النِّكَاحُ الثَّانِي صَحِيحٌ وَلَا تَحِلُّ لِلْأَوَّلِ.

    الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 258)
    وإذا تزوجها بشرط التحليل فالنكاح مكروه " لقوله عليه الصلاة والسلام " لعن الله المحلل والمحلل له " وهذا هو محمله " فإن طلقها بعد ما وطئها حلت للأول " لوجود الدخول في نكاح صحيح إذ النكاح لا يبطل بالشرط وعن أبي يوسف رحمه الله أنه يفسد النكاح لأنه في معنى الموقت فيه ولا يحلها على الأول لفساده وعن محمد رحمه الله أنه يصح النكاح لما بينا ولا يحلها على الأول لأنه استعجل ما أخره الشرع فيجازى بمنع مقصوده
    تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (2/ 259)
    قَالَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - (وَكُرِهَ بِشَرْطِ التَّحْلِيلِ لِلْأَوَّلِ) أَيْ يُكْرَهُ التَّزَوُّجُ بِشَرْطِ أَنْ يُحِلَّهَا لَهُ يُرِيدُ بِهِ بِشَرْطِ التَّحْلِيلِ بِالْقَوْلِ بِأَنْ قَالَ تَزَوَّجْتُك عَلَى أَنْ أُحِلَّك لَهُ أَوْ قَالَتْ الْمَرْأَةُ ذَلِكَ. وَأَمَّا لَوْ نَوَيَا ذَلِكَ فِي قَلْبِهِمَا وَلَمْ يَشْتَرِطَاهُ بِالْقَوْلِ فَلَا عِبْرَةَ بِهِ وَيَكُونُ الرَّجُلُ مَأْجُورًا بِذَلِكَ لِقَصْدِهِ الْإِصْلَاحَ، وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ لَا يَنْعَقِدُ النِّكَاحُ بِشَرْطِ التَّحْلِيلِ لِلْأَوَّلِ وَلَا تَحِلُّ لَهُ؛ لِأَنَّ هَذَا فِي مَعْنَى شَرْطِ التَّوْقِيتِ فَيَكُونُ فِي مَعْنَى الْمُتْعَةِ فَيَبْطُلُ، وَلِهَذَا قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - لَا أُوتَى بِمُحَلِّلٍ وَلَا مُحَلَّلَةً إلَّا رَجَمْتُهُمَا، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَزَالَانِ زَانِيَيْنِ، وَلَوْ مَكَثَا عِشْرِينَ سَنَةً، وَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ذَلِكَ السِّفَاحُ، وَلِهَذَا لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -
    وَقَالَ مُحَمَّدٌ يَصِحُّ النِّكَاحُ وَلَا تَحِلُّ لِلْأَوَّلِ؛ لِأَنَّهُ لَيْسَ بِتَوْقِيتٍ لِلنِّكَاحِ وَلَكِنَّهُ اسْتَعْجَلَ بِالْمَحْظُورِ مَا هُوَ مُؤَخَّرٌ شَرْعًا فَيُعَاقَبُ بِالْحِرْمَانِ كَقَتْلِ الْمُوَرِّثِ وَلِأَبِي حَنِيفَةَ قَوْلُهُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - «لَعَنَ اللَّهُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ»، وَهَذَا الْحَدِيثُ يَقْتَضِي صِحَّةَ النِّكَاحِ وَالْحِلَّ لِلْأَوَّلِ وَالْكَرَاهِيَةَ، وَلِأَنَّ النِّكَاحَ لَا يَبْطُلُ بِالشُّرُوطِ الْفَاسِدَةِ فَيَصِحُّ وَتُحَلَّلُ لِلْأَوَّلِ ضَرُورَةَ صِحَّتَهُ وَلَا مَعْنَى لِمَا ذَكَرَهُ مُحَمَّدٌ ثُمَّ قِيلَ إنَّمَا لُعِنَ مَعَ حُصُولِ الْحِلِّ؛ لِأَنَّ الْتِمَاسَ ذَلِكَ وَاشْتِرَاطَهُ فِي الْعَقْدِ هَتْكٌ لِلْمُرُوءَةِ وَإِعَارَةُ النَّفْسِ فِي الْوَطْءِ لِغَرَضِ الْغَيْرِ فَإِنَّهُ إنَّمَا يَطَؤُهَا لِيَعْرِضَهَا لِوَطْءِ الْغَيْرِ وَهُوَ قِلَّةُ حَمِيَّةٍ، وَلِهَذَا قَالَ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - «هُوَ التَّيْسُ الْمُسْتَعَارُ» وَإِنَّمَا كَانَ مُسْتَعَارًا إذَا سَبَقَ الْتِمَاسٌ مِنْ الْمُطَلِّقِ وَهُوَ مَحْمَلُ الْحَدِيثِ وَقِيلَ أَرَادَ بِهِ طَالِبَ الْحِلِّ مِنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ وَالْمُؤَقَّتِ وَسَمَّاهُ مُحَلِّلًا وَإِنْ لَمْ يُحَلِّلْ؛ لِأَنَّهُ يَعْقِدُهُ وَيَطْلُبُ الْحِلَّ مِنْهُ.
    وَأَمَّا طَالِبُ الْحِلِّ مِنْ طَرِيقِهِ لَا يَسْتَوْجِبُ اللَّعْنَ وَلَوْ ادَّعَتْ الْمَرْأَةُ دُخُولَ الْمُحَلِّلِ صُدِّقَتْ وَإِنْ أَنْكَرَ هُوَ، وَكَذَلِكَ عَلَى الْعَكْسِ، وَلَوْ خَافَتْ الْمَرْأَةُ أَنْ لَا يُطَلِّقَهَا الْمُحَلِّلُ فَقَالَتْ زَوَّجْتُك نَفْسِي عَلَى أَنَّ أَمْرِي بِيَدِي أُطَلِّقُ نَفْسِي كُلَّمَا أَرَدْت فَقَبِلَ جَازَ النِّكَاحُ وَصَارَ الْأَمْرُ بِيَدِهَا.

    ان تین حوالوں سے تین باتیں معلوم ہوئیں :
    1۔ حلالے کی شرط لگا کر نکاح کرنا جائز ہے ۔
    2۔ یہ عمل نا پسندیدہ ہے ۔
    3۔ احناف میں سے ابو یوسف ان کو ناجائز قرار دیتے ہیں ۔
     
    Last edited: ‏نومبر 17، 2015
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  5. ‏نومبر 17، 2015 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    ایک حنفی عالم دین مفتی محمد صدیق ہزاروی کے نام سے کتاب نشر ہوئی ہے ’’ تحقیق حلالہ ‘‘ اس میں انہوں نے تفصیل کے ساتھ حلالہ کی اقسام بتائی ہیں ، جو قسم معاشرے میں مشہور ہے ، اور لوگ اس بنیاد پر حلالہ کو ’’ حرامہ ‘‘ کہتے ہیں ، اس کے بارے میں لکھتے ہیں کہ حلالہ کی یہ صورت بالاتفاق حرام اور ناجائز ہے ، اور اس کا حصہ بننے والے ملعون لوگ ہیں ، اس سے پرہیز کرنا چاہیے ، لیکن اس سب کے باوجود اگر کوئی ایسا کرلیتا ہے تو حلالہ ہو جائے گا ۔ دیکھیئے کتاب مذکور کا ص نمبر 10 ۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 3
    • علمی علمی x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  6. ‏نومبر 17، 2015 #6
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    حلالہ باعث لعنت و حرام کام :
    حلالہ باعث لعنت.png
    لیکن اگر کسی نے کر لیا تو حلالہ ہو جائے گا :
    حلالہ باعث لعنت لیکن کام ہوجائے گا.png
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  7. ‏نومبر 17، 2015 #7
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں