1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حلال و حرام جانور

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از اویس تبسم, ‏اگست 23، 2015۔

  1. ‏اگست 23، 2015 #1
    اویس تبسم

    اویس تبسم رکن
    جگہ:
    گجرات،پاکستان
    شمولیت:
    ‏جنوری 27، 2015
    پیغامات:
    369
    موصول شکریہ جات:
    133
    تمغے کے پوائنٹ:
    80

    حلال و حرام جانور
    عن جابر قال : حرم رسول الله صلى الله عليه و سلم يعني يوم خيبر الحمر ولحوم البغال وكل ذي ناب من السباع وذي مخلب من الطير۔( سنن الترمذي : 1478 ) .
    ترجمہ : حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقعہ پر پالتو گدھا اور کھچر کا گوشت ، ہر کچلی دانت والا جانور اور ہر پنجے سے شکار کرنے والے پرندے کو حرام قرار دیا ۔ { سنن ترمذی }

    تشریح : اللہ تعالی نے اس دنیا کی ہر چیز کو انسان کے فائدے کے لئے پیدا کیا ہے ، چنانچہ بنی نوع انسان پر بطور احسان فرماتا ہے : هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ( البقرة: 29)وہی تو ہے جس نے زمین میں موجود ساری چیزیں تمہارے لئے پیدا کیں ۔ اس قاعدہ کے تحت کھانے پینے کی ہر وہ چیز جو اللہ تعالی نے پیدا کی ہے وہ حلال ہے ۔

    البتہ بعض وہ چیزیں جن میں خبث و گندگی پائی جاتی ہے شریعت نے انہیں انسانوں پر حرام قرار دیا ہے ،چنانچہ بہت سی حدیثوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی ممنوع چیزوں کو بیان کردیا ہے اور اس کے ذریعہ امت کو ایک اصول دیا ہے جس سے وہ غیر مذکور چیزوں کو معلوم کرسکتے ہیں ۔ ان حدیثوں پر نظر کرکے علماء نے کچھ اصول بیان کئے ہیں ۔

    [۱]سمندر کے سارے جانور حلال ہیں خواہ زندہ پکڑے جائیں یا مردہ ملیں ، اس میں کسی چیز کا استثناء نہیں ہے : أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ ( المائدة : 96 )تمہارے لئے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کیا گیا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سمندر کاپانی پاک ہے اورا س کا مردہ جانور حلال ہے ۔
    { سنن ابو داود : 83 – سنن الترمذی : 69 } ۔

    [۲] خشکی کے جانوروں میں پالتو گدھا حرام ہے، جیسا کہ اس حدیث سے واضح ہے ، البتہ جنگلی گدھا حلال ہے اور اس کا شکار جائز ہے ۔
    { صحیح بخاری : 1844 – صحیح مسلم : 1196 }

    [۳] ہر وہ درندہ جو کچلی دانت والا ہے { کچلی اس دانت کو کہتے ہیں جو سامنے کے دو دانتوں اور ان کے بعد کے دو دانتوں کے بعد بھالے کی شکل میں نوکیلا ہوتا ہے }، جیسے شیر ، کتا ،بلی اوربھیڑیا وغیرہ ، گویا ہرد رندہ اور پھاڑ کھانے والا جانور ۔
    [۴] ہر وہ پرندہ جو پنجوں سے شکار کرتا ہے جیسے باز ، شاہین ، چیل اور اس طرح کے دوسرے پرندے ، جیسا کہ زیر بحث حدیث میں ان کا ذکر ہے ۔
    [۵] ہر وہ جانور جن کے مارنے اور قتل کرنے کا اسلام نے حکم دیا ہے ، جیسے سانپ بچھو ، چھپکلی ، کوا ، چوہا اور اس قسم کے موذی جانور، ان تمام جانوروں کے ایذاء کی وجہ سے انہیں قتل کا حکم ہے ۔
    [۶] ہر وہ جانور جس کے قتل کرنے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے، جیسے : چیونٹی ، شہد کی مکھی ، ہد ہد اور صرد [ لتوار ] وغیرہ ۔
    { سنن ابو داود : 5267 - سنن ابن ماجہ : 3224 } ۔
    [۷] وہ جانور جو مر دار کھاتے ہیں ، جیسے گدھ اور سفید گدھ وغیرہ ۔
    یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے گندگی کھانے والے جانور کے گوشت اور دودھ سے منع فرمایا ہے ۔
    { سنن ابو داود : 3785 } ۔
    [۸] ہر وہ جانور جو حرام و حلال جانور سے پیدا ہوا ہے ، جیسے کھچر جو گھوڑی اور گدھا کے ملاپ سے پیدا ہوتا ہے ،یہی حکم دیگر ایسے جانوروں کا ہے، کیونکہ جہاں حرام و حلال اکٹھا ہوں وہاں جانب حرام کو ترجیح حاصل ہوتی ہے ۔
    [۹] بعض علماء نے ایک اور چیز کا اضافہ کیا ہے کہ فطری اور طبعی طور پر انسان جن جانوروں سے کراہت محسوس کرتا ہے وہ بھی حرام ہیں جیسے کیڑے مکوڑے ، لیکن یہ کوئی ایسا قاعدہ نہیں ہے جسے کسی ضابطہ میں لایا جاسکے ۔
    [۱۰] گھوڑا حلال جانور ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے گوشت کو حلال کیا ہے ۔ کیونکہ خیبرکے سال جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھے اور کھچر کے گوشت سے منع فرمایا تو اسی وقت گھوڑے کا حکم بھی بیان کردیا کہ وہ حلال ہے ۔
    { صحیح بخاری : 4219 – صحیح مسلم : 1941 } ۔
    [۱۱] مذکورہ جانوروں کے علاوہ ہر وہ جانور جو شریعت کے بتلانے ، تجربے یا طب سے اس کا باعث ضرر ہونا ثابت ہوجائے وہ بھی حرام ہے ، اللہ تعالی کا فرمان ہے : وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ ( الأعراف : 157 )
    [وہ رسول] ان کے لئے پاکیزہ چیزوں کو حلال اور گندی چیزوں کو حرام کرتا ہے ۔
    ان کے علاوہ باقی تمام جانور حلال ہیں خواہ وہ پالتو ہوں یا جنگلی وہ چرندے ہوں یا پرندے ۔
    فوائد :
    1)اسلام انسان کی رہنمائی زندگی کے ہر شعبے میں کرتا ہے ۔
    2)جن جانورں کو اللہ تعالی نے حلال کیا ہے وہ حرام سے بہت زیادہ ہے ۔
    3)یہ انسان کی غلطی اور شیطان کی چال ہے کہ وہ زیادہ حلال چیزوں کو چھوڑ کر تھوڑی حرام چیزوں کے پیچھے پڑا رہتا ہے ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں