1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حمادؒ بن ابی سلیمان کا موقف امام ابو حنیفہ کے بارے میں

'فقہاء' میں موضوعات آغاز کردہ از معین, ‏اگست 12، 2012۔

  1. ‏اگست 12، 2012 #1
    معین

    معین مبتدی
    جگہ:
    هند
    شمولیت:
    ‏اپریل 26، 2011
    پیغامات:
    28
    موصول شکریہ جات:
    151
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    السلام عليكم

    حال ہی مے ahnafexpose.com کے کچہ مقالے پڑھے- دیکھ کر افسوس ہوا اور غصہ بھی آیا- عام طور پر میں یہاں پوسٹ نہیں کرتا کیونکہ اردو ٹائپ کرنے میں ابھی کافی کمزور ہوں- اب ارادہ کر لیا ہے تو ایک موضوع دھیرے دھیرے شروع کرونگا انشاء اللھ-

    بقول استاذ ابو حنيفة، حماد بن ابي سليلمان : ابو حنيفہ کافر

    اس سند میں، جیسا کی عربی عبارت سے واضح ہے، عبد الله بن عون کسی نامعلوم شخص سے روایت کر رہے ہیں جیسا کی تحدیث کے الفاظ سے واضح ہے- ابن عون کہتے ہیں "بیان کیا ہم سے اہل کوفہ میں سے ایک شیخ نے"- تو یہ کوفی شیخ مجہول رہے- یہی بات کتاب السنھ کے محقق شیخ محمد بن سعید القحطانی نے بھی کہی ہے، جس پر تنقید کرتے ہوۓ ahnafexpose کے محدث صاحب کہتے ہیں "یہ محقق کی صریح خطا ہے، ابو الجھم کا ثقہ ہونا ہم نقل کرتے ہیں"- اس کے جواب یہ ہے:

    ١۔ پہلے یہ تو ثابت کریں کہ کیا واقعی ابن عون ان ابو الجھم سے ہی روایت کر رہے ہیں؟؟ محقق نے تو اس لۓ اس کو مشکوک سمجھا کیونکہ ان کے نزدیک یہ ورایت کرنے والا کوئی نامعلوم شخص ہے جس کو ابن عون نے "شیخ من اہل الکوفھ" کہ کر ذکر کیا ہے- اب کسی راوی کے شک سے ان کا ابو الجھم سے روایت کرنا ثابت تو نہیں ہو جاتا- راوی خود یقینی طور پر نہیں کہ رہا کہ ابن عون نے ابو الجھم سے روایت کا اقرار کیا- راوی کے الفاظ اس طرح ہیں "قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْنٍ: هُو أَبُو الْجَهْمِ فَكَأَنَّهُ أَقَرَّ أَنَّهُ" یعنی "عبد الله بن عون سے پوچھا گیا: کیا وہ شخص ابو الجھم ہے؟ (راوی کہتا ہے) تو گویا انہونے اس کا اقرار کیا ہو"- "كأنه" کے لفظ سے اس کا غیر یقینی ہونا ظاہر ہوتا ہے-

    ٢- یہاں جس ابو الجھم کی بات چل رہی ہے وہ العلاء بن موسي نہیں ہے- یہاں کسی کوفی شیخ کی بات چل رہی ہے نہ کہ العلاء البغدادي كي جن کا ترجمہ ہمارے "محدث" صاحب نے پیش کیا ہے-

    یہاں کچھ اور روایتیں اس سلسلے کی پیش ہیں- خطیب بغدادی کہتے ہیں:

    أخبرنا الحسين بن شجاع أخبرنا عمر بن جعفر بن سلم حدثنا احمد بن علي الأبار حدثنا عبد الأعلى بن واصل حدثنا أبو نعيم ضرار بن صرد قال سمعت سليم بن عيسى المقرئ قال سمعت سفيان بن سعيد الثوري يقول سمعت حماد بن أبي سليمان يقول أبلغوا أبا حنيف المشرك أني من دينه بريء إلى أن يتوب قال سليم كان يزعم أن القرآن مخلوق

    أخبرني عبد الباقي بن عبد الكريم قال أخبرنا عبد الرحمن بن عمر الخلال حدثنا محمد بن احمد بن يعقوب حدثني جدي قال حدثني علي بن ياسر حدثني عبد الرحمن بن الحكم بن شتر بن سلمان عن أبيه أو غيره وأكبر ظني أنه عن غير أبيه قال كنت عند حماد بن أبي سليمان إذ أقبل أبو حنيفة فلما رآه حماد قال لا مرحبا ولا أهلا إن سلم فلا تردوا عليه وإن جلس فلا توسعوا له قال فجاء أبو حنيفة فجلس فتكلم حماد بشيء فرده عليه أبو حنيفة فأخذ حماد كفا من حصى فرمى به


    ان دو روایتوں میں ضرار بن صرد ہے جو کی سخت ضعیف تھا- دیکھۓ "تحرير تقريب التهذيب" (٢:١٥٠)
    سليم بن عيسي المقرئ بھی ناقابل اعتماد تھے-

    أخبرنا إبراهيم بن عمر البرمكي أخبرنا محمد بن عبد الله بن خلف الدقاق حدثنا عمر بن محمد بن عيسى الجوهري حدثنا أبو بكر الأثرم قال حدثني هارون بن إسحاق قال سمعت إسماعيل بن أبي الحكم يذكر عن عمر بن عبيد الطنافسي عن أبيه أن حماد بن أبي سليمان بعث إلى أبي حنيفة إني بريء مما تقول إلا أن تتوب قال وكان عنده بن عيينة فقال أخبرني جار لي أن أبا حنيفة دعاه إلى ما استتيب منه بعد ما استتيب

    ابن ابی غنیہ کا پڑوسی نامعلوم ہے-

    آخر میں ایک اور بات، سب سے پہلے خلق قرآن کا دعوہ جعد بن درہم نے کیا تھا، اور یہ مسئلہ حماد بن ابی سلیمان کی وفات کے بعد ظاہر ہوا تھا- و الله تعالي اعلم
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • پسند پسند x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  2. ‏جنوری 10، 2017 #2
    ابوتراب

    ابوتراب مبتدی
    شمولیت:
    ‏جنوری 10، 2017
    پیغامات:
    7
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    10

    حدثني عبد الله بن أحمد، حدثني عبد الله بن عون الخراز، وأظن أني قد سمعته أنا من ابن عون قال: نا شيخ، من أهل الكوفة قال أبو عبد الرحمن: قيل لابن عون: هو أبو الجهم عبد القدوس بن بكر، فكأنه أقر به قال: سمعت سفيان الثوري يقول: قال لي حماد بن أبي سليمان: " اذهب إلى هذا الكافر يعني أبا حنيفة فقل له: إن كنت تقول القرآن مخلوق؛ فلا تقربنا " (مسند ابن الجعد:354)

    (1)آپ نے جس راوی کو غیر یقینی کہا ہے اس کی وجاہت "مسند ابن الجعد" میں موجود ہے (حوالہ اوپر دیکھئے )۔جب راوی کا نام صراحت کے ساتھ موجود ہے تو پھر اس سند پر جرح مضر نہیں۔
    (2) دوسری بات یہ ہے کہ جب ابن عون سے پوچھا گیا تو انہو نے اقرار کر کے صراحت کردیا کے یہ "أبو الجهم عبد القدوس بن بكر" ہے اگر اب بھی اس پر جرح کیا جائے تو اس سے ابن عون کی عدالت مجروح ہوتی ہے جو کہ یقینی طور پر ایک غلطی ہے۔
    (3)"أبو الجهم عبد القدوس بن بكر" ثقہ راوی ہے۔(الجرح والتعدیل: ترجمة:298، الثقات لابن حبان:14185 وغيره) لہذااس کی سند حسن سے نہیں گرتی۔ واللہ اعلم بالصواب
     
  3. ‏جنوری 10، 2017 #3
    رحمانی

    رحمانی رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 13، 2015
    پیغامات:
    382
    موصول شکریہ جات:
    102
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    اصل سوال خط کشیدہ الفاظ کاہے،ابن عون سے جب پوچھاگیاکہ کیاوہ کوفی شیخ ابوالجہم عبدالقدوس بن بکر ہے توایسالگاگویاانہوں نے اقرارکیاکہ ہاں وہی ہے،سوال یہ ہے کہ اس اقرار کی اصل حیثیت کیاہے، جوراوی ہے اس کو خود صحیح صورت حال معلوم نہیں ہے اس کو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ ابن عون نے صاف لفظوں میں انکار کیا،یاصاف لفظوں میں اقرار کیا، ایک گول مول سی بات کہی جارہی ہے ان کےطرزعمل سے ایسالگاکہ گویاانہوں نے اقرارکیا، اس سے پتہ چلتاہے کہ ابن عون نے اس موقع پر کچھ کہانہیں تھا، بلکہ انہوں نے شاید کوئی ایسااشارہ کیاجس سے راوی نے اقرارسمجھا، اب یہ راوی کی سمجھ کس حد تک معتبر یاغیرمعتبر ہے،اس کا فیصلہ کرناچاہئے، جرح وتعدیل میں صاف الفاظ میں بات ہونی چاہئے، گول مال اوراشاروں سے یہاں کام نہیں چلتا۔
    ویسے چلتے چلتے ذرا صاحب تنکیل کے کوچے سے بھی گزرتے چلیں کہ دیکھیں وہ اس بارے میں کیاکہتے ہیں، لیجئے،پڑھئے اورسمجھنے کی کوشش کیجئے۔
    إنما حكى عن ابن الجنيد قال: «سئل يحيى بن معين وأنا أسمع عن مؤمل بن إهاب فكأنه ضعفه» وقد وثقه جماعة فقال الأستاذ في (الترحيب) ص 45: «فقول القائل - كأنه ضعفه - لا يفرق كثيراً من قوله: ضعفه لكون الحكم على الأحاديث بالصحة والضعف، وعلى الرجال بالثقة والضعف، في أخبار الآحاد مبنيا على ما يبدو للناظر، لا على ما في نفس الأمر، فظهر أن ذلك عبارة عن غلبة الظن فيما لا يقين فيه، وسبق أن نقلنا عن أحمد في الرمادي: كأنه يغير الألفاظ - وقد بني الذم الشديد باعتبار أن ظن الناظر ملزم» .
    أقول: ابن الجنيد هنا راو لا ناظر وباب الرواية اليقين، فإن كان قد يكفي الظن فذاك الظن الجازم وآيته أن يجزم الراوي الثقة. فأما قوله: «أظن» مثلا، فإنه يصدق بظن ما وقد قال الله تعالى: «إن بعض الظن إثم» فما بالك بقوله: «فكأنه ضعفه» وأصل كلمة «كأن» للتشبيه، والتشبيه يستلزم كون المشبه غير المشبه به. فأما معناها الثاني فعبر عنه في مغنى اللبيب بقوله: «الشك والظن» فدل ذلك على أنها دون «أظنه» . وفي ترجمة الحسن بن موسى الأشيب من (مقدمة الفتح) مثل هذه الكلمة «كأنه ضعيف» فدفعها الحافظ ابن حجر بقوله: «هذا ظن لا تقوم به حجة» .

    التنکیل ۲؍۷۲۳
     

    منسلک کردہ فائلیں:

  4. ‏جنوری 11، 2017 #4
    ابوتراب

    ابوتراب مبتدی
    شمولیت:
    ‏جنوری 10، 2017
    پیغامات:
    7
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    10

    زیادہ طویل بحث سے اجتناب کرتے ہوئے میں کہنا چاہونگا:

    (۱) اس ظن والی بات کو اب اتنا طول کیوں دیا جارہا ہے اللّٰه اعلم یہاں تو صاف ہے کی یہ ظن ختم ہوکر یقین میں تبدیل ہوچکاتھا کیونکہ یہ ظن ابن عوان کا نہیں بلکہ عبد اللّٰه کا تھا- ان کو یہ ظن ہوا کہ ابن عون نے کہا "شیخ من اھل الکوفہ" لیکن جب ابن عوان سے عبد اللّٰه نے پوچھا کی اس سے مراد کیا "ابو الجھم عبد القدوس بن بکر" ہے تو انہوں نے اس کا اقرار کیا-

    (۲) آپ نے لکھا:

    "سوال یہ ہے کہ اس اقرار کی اصل حیثیت کیاہے، جوراوی ہے اس کو خود صحیح صورت حال معلوم نہیں ہے اس کو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ ابن عون نے صاف لفظوں میں انکار کیا،یاصاف لفظوں میں اقرار کیا"

    یہ آپ کی عجیب بحث ہے- روای کہتا ہے "گویا انہوں نے اس کا اقرار (تصدیق) کیا" اور آپ اسے اقرار اور انکار کے بیچ شبہ تھا بتا رہے ہیں-

    (۳) پھر آپ نے لکھا:

    "اس سے پتہ چلتاہے کہ ابن عون نے اس موقع پر کچھ کہانہیں تھا، بلکہ انہوں نے شاید کوئی ایسااشارہ کیاجس سے راوی نے اقرارسمجھا"


    ابن عون نے کچھ کہا یا اشارہ کیا تھا یہ ایک قیاسی بحث ہے جس کی علمی میدان میں کوئی حثییت نہیں-


    لہٰذا ظن والی بات کو عبد اللّٰه بن احمد نے سوال پوچھ کر اسی وقت ختم کردیا تھا-

    [رحمھم اللّٰه اجمعین]
     
  5. ‏جنوری 11، 2017 #5
    رحمانی

    رحمانی رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 13، 2015
    پیغامات:
    382
    موصول شکریہ جات:
    102
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    سبحان اللہ ،کیاترجمہ کیاہے، گویاانہوں نے اقرار کیااورانہوں نے اقرار کیاکہ درمیان بڑی کھائی کو آپ نے بڑی صفائی سے پاٹ دیاہے،اگریہ صاف سیدھا اقرار تھاکہ ہاں وہی شخص ہے تو اس کا صاف لفظ میں اقرار ہونا چاہئے کہ اقربہ ،فکانہ اقربہ اوراقربہ میں بہت فرق ہے لیکن آپ کو شاید یہ فرق سمجھ نہیں آرہاہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. خواجہ خرم
    جوابات:
    2
    مناظر:
    46
  2. محمد طلحہ اہل حدیث
    جوابات:
    3
    مناظر:
    38
  3. اسحاق سلفی
    جوابات:
    4
    مناظر:
    62
  4. عامر عدنان
    جوابات:
    2
    مناظر:
    82
  5. علی عمران
    جوابات:
    1
    مناظر:
    218

اس صفحے کو مشتہر کریں