1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حمل ضائع کرنا کبیرہ گناہ ہے :

'نکاح' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جنوری 26، 2014۔

  1. ‏جنوری 26، 2014 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    حمل ضائع کرنا کبیرہ گناہ ہے !!!
    1535475_820720814609077_1945128312_n.jpg
     
  2. ‏جنوری 26، 2014 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    بيوى كو اسقاط حمل پر مجبور كرنا !!!

    ايك خاوند نے بيوى كو طلاق دينے كى غرض سے دوسرے ماہ كا حمل ضائع كرنے كى كوشش كى اور اس كے ليے دوائى بھى دى ليكن حمل ضائع نہ ہوا، آيا ايسا كرنا حلال ہے يا حرام، اور اس عمل كا كفارہ كيا ہے ؟

    الحمد للہ:

    حمل ضائع كرنا جائز نہيں چاہے حمل ميں روح پڑ چكى ہو يا نہ پڑى ہو، ليكن روح پڑنے كے بعد اس كا ضائع كرنے كى حرمت تو اور بھى زيادہ شديد ہو جاتى ہے، اور اگر بيوى كو خاوند حمل ضائع كرنے كا حكم بھى دے تو بيوى كے ليے اس كى اطاعت كرنى حلال نہيں.

    شيخ محمد بن ابراہيم رحمہ اللہ كہتے ہيں:

    " اسقاط حمل كى كوشش كرنى جائز نہيں، جب تك كہ اس كى موت كا يقين نہ ہو چكا ہو، اور جب حمل كى موت كا يقين ہو چكا ہو تو پھر اسقاط حمل جائز ہے.

    ديكھيں: مجموع فتاوى الشيخ ابن ابراہيم ( 11 / 151 ).

    اور شيخ صالح الفوزان حفظہ اللہ كہتے ہيں:

    اول:

    حمل ضائع كرانا جائز نہيں، اس ليے اگر حمل ہو چكا ہو تو اس كى حفاظت اور خيال ركھنا واجب ہے، اور ماں كے ليے اس حمل كو نقصان اور ضرر دينا، اور اسے كسى بھى طرح سے تنگ كرنا حرام ہے، كيونكہ اللہ تعالى نے اس كے رحم ميں يہ امانت ركھى ہے، اور اس حمل كا بھى حق اس ليے اس كے ساتھ ناروا سلوك اختيار كرنا، يا اسے نقصان اور ضرر دينا، يا اسے ضائع و تلف كرنا جائز نہيں.

    اور پھر حمل كے ضائع اور اسقاط كى حرمت پر شرعى دلائل بھى دلالت كرتے ہيں:

    اور آپريشن كے بغير ولادت كوئى ايسا سبب نہيں جو اسقاط حمل كے جواز كا باعث ہو، بلكہ بہت سى عورتوں كے ہاں ولادت تو آپريشن كے ذريعہ ہى ہوتى ہے، تو اسقاط حمل كے ليے يہ عذر نہيں ہو سكتا.

    دوم:

    اگر اس حمل ميں روح پھونكى جا چكى ہو، اور اس ميں حركت ہونے كے بعد اسقاط حمل كيا جائے اور بچہ مر جائے تو يہ ايك جان كو قتل كرنا شمار كيا جائيگا، اور اسقاط حمل كرانے والى عورت كے ذمہ كفارہ ہو گا جو كہ يہ ہے:

    ايك غلام آزاد كرنا ہے، اگر وہ غلام نہ پائے تو مسلسل دو ماہ كے روزے ركھنا اس كى توبہ شمار ہو گى، اور يہ اس وقت ہے جب حمل چار ماہ كا ہو چكا ہو، كيونكہ اس ميں اس وقت روح پھونكى جا چكى ہوتى ہے، اس ليے اگر اس مدت كے بعد اسقاط حمل كرائے تو اس پر كفارہ لازم آئيگا، جيسا كہ ہم نے بيان كيا ہے، اور يہ معاملہ بہت عظيم ہے اس ميں تساہل اور سستى كرنى جائز نہيں.

    اور اگر بيمارى كى بنا پر وہ حمل برداشت نہيں كر سكتى تو وہ حمل سے قبل ہى مانع حمل ادويات كا استعمال كرے، مثلا وہ ايسى گولياں استعمال كر لے جو كچھ مدت تك حمل كے ليے مانع ہوتى ہيں، تا كہ اس عرصہ كے دوران اس كى صحت اور قوت بحال ہو جائے.

    ديكھيں: المنتقى ( 5 / 301 - 302 ) اختصار كے ساتھ.

    شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

    ايك شخص نے اپنى بيوى كو كہا: اپنا حمل گرا دو اس كا گناہ ميرے ذمہ، تو اگر وہ اس كى بات سن كر اس پر عمل كر لے تو ان دونوں پر كيا كفارہ واجب ہو گا ؟

    شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

    اگر بيوى ايسا كر لے تو ان دونوں پر كفارہ يہ ہے كہ وہ ايك مومن غلام آزاد كريں، اور اگر غلام نہ ملے تو دو ماہ كے مسلسل روزے ركھيں، اور ان دونوں كے ذمہ اس كے وارثوں كو ايك غلام يا لونڈى كى ديت دينا ہو گى جس نے اسے قتل نہ كيا ہو، باپ كو نہيں، كيونكہ باپ نے تو قتل كرنے كا حكم ديا ہے، اس ليے وہ كسى بھى چيز كا مستحق نہيں. اھـ
    اور ان كى يہ عبارت:
    " غرۃ عبد او امۃ "

    يہ ايك غلام يا لونڈى كى قيمت كى شكل ميں بچے كى ديت ہے، اور اس كا اندازہ ماں كى ديت كے عشر كے مطابق علماء كرام لگائينگے.
    ؎
    اور رہا اس كا كفارہ تو اس ليے كہ ابھى حمل دوسرے ماہ ميں تھا يعنى اس ميں ابھى روح نہيں پھونكى گئى تھى، اور يہ حمل ساقط بھى نہيں ہوا تو اس سے كفارہ واجب نہيں ہوا، بلكہ اس حرام فعل كے مرتكب ہونے كى بنا پر اسے اللہ تعالى سے توبہ و استغفار كرنى چاہيے.

    واللہ اعلم .
    الاسلام سوال و جواب
     
  3. ‏جنوری 26، 2014 #3
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    مجرمانہ حملے کی نتیجہ میں ہونے والا حمل ساقط کروانا

    وہ مسلمان عورتیں کیا کریں جن پرمجرمانہ حملے ہوئے اوراس کے نتیجہ میں وہ حاملہ ہوگئيں ، کیاان کےلیے اسقاط حمل جائز ہے کہ نہيں ؟

    الحمدللہ :

    مسلمانوں پرذلت ورسوائي کے جوحالات گزررہے ہیں انہيں دیکھیں تویہ نظرآتا کہ اس وقت مسلمان ہرلالچی کا مطمع نظر ہے ان کی زمینوں پرناجائز قبضہ جمالیا گيا ہے ، ان کی عزت پامال کی جارہی ہیں ، اورہرجانب سے کفار قوتیں ان پر ٹوٹ پڑی ہیں ، اوربہت سی آزاد مسلمان عورتیں اکثراوقات انسانی بھیڑیوں کا ھدف بنی ہوئي ہیں ، جنہیں اللہ تعالی کا کوئي خوف نہيں اورنہ ہی یہ کسی باز رکھنے والی قوت سے ڈرتے ہیں ۔

    جیسا کہ آج کل عالم اسلامی کے بہت سے ممالک میں حالت بنی ہوئي ہے ، جیسا کہ بوسنیا ، یا فلپائن اورشیشان میں ہورہا ہے یا پھر اریٹیریا میں یا عرب دنیا کے کمزورنظاموں کے ماتحت جیلوں میں ہورہا ہے ۔

    ذیل میں ہم اس عورت کی حالت کی اہم نقاط کی نشاندھی کرتے ہیں جس پرغاصبانہ حملہ کیا گیا :

    1 - جس عورت پرغاصبانہ حملہ ہوا اوراس نے ان مجرموں سے بچنے کے لیے اپنے دفاع میں پوری قوت صرف کی اس پر کوئي گناہ نہيں ، کیونکہ اس پرجبر ہوا ہے ، اورمکرہ یعنی جبرکیے جانے والے توکفر میں بھی گناہ گار نہيں ہوتا جوکہ زنا سے بھی بڑا گناہ ہے-

    بلکہ وہ عورت جوغاصبانہ حملے کا شکار ہوئي ہے جب وہ اس پہنچنے والی مصیبت پراجروثواب کی نیت کرے تووہ اس مصیبت پرصبرکرنے کی وجہ سے عنداللہ ماجور ہے ۔

    2 - مسلمان نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان تکلیف دہ لڑکیوں سے شادی کرنے کے لیے تیار ہوں تا کہ ان لڑکیوں کی تکلیف میں کمی ہوسکے اوران کی غمخواری ہو ، اوران کی چھینی گئي عصمت کا نعم البدل مل سکے ۔

    3 - اب رہا ان کا اسقاط حمل کا معاملہ :

    تواصل بات تویہی ہے کہ حمل کی ابتداء سے ہی اسقاط حمل منع اورحرام ہے ، جب کہ ایک نئي زندگی میں آنے والا رحم میں مستقر ہوتا ہے ، اوراگرچہ یہ نیا آنے والا حرام تعلقات یعنی زنا کے نتیجے میں ہی کیوں نہ ہواس کا اسقاط حرام ہے ۔

    اس کی دلیل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غامدیہ عورت کوجس نے زنا کا اقرار کیا اوررجم کی سزا کی مستحق ٹھری کوحکم دیا کہ وہ اپنے جنین کے ساتھ ہی واپس جائے اوربچے کی ولادت کے بعد آئے اورپھرولادت کے بعد اسے حکم دیا کہ وہ بچے کودودھ پلانے کی مدت پوری کرکے دودھ چھڑانے کے بعد آئے اوراس کے بعد اس پرحد نافذکی ۔

    4 - کچھ فقھاء کرام ایسے بھی ہيں جوحمل کے ابتدائي چالیس ایام میں اسقاط حمل کوجائزقراردیتے ہیں ، اوربعض روح ڈالے جانے سے قبل تک اسقاط کی اجازت دیتے ہیں ، اورجتنا بھی عذر قوی ہوگا اسقاط کی رخصت بھی زیادہ ظاہر ہوگي ، اورپھر جتنا بھی چالیس یوم سے قبل ہوگا اتنا ہی رخصت کے زيادہ قریب ہوگا ۔

    5 - اس میں کوئي شک وشبہ نہيں کہ مسلمان آزاد عورت پرفاجر وفاسق دشمن کی جانب سے غاصبانہ حملہ مسلمان عورت کے لیے بہت ہی زيادہ قوی عذر ہے ، اوراسی طرح اس کے خاندان والوں کے لیے بھی قوی عذر کی حیثیت رکھتا ہے ، وہ عورت اس مجرمانہ حملہ کے نتیجہ میں ہونے والے اس حمل کوناپسند کرتی اوراس سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی ہے ، تویہ رخصت ہے اورضرورت کی بنا پراس کا فتوی دیا جاسکتا ہے اورخاص کرحمل کے ابتدائي ایام میں اسقاط حمل کا فتوی ۔

    6 - اوریہ بھی ہے کہ اس مصیبت میں مبتلا ہونے والی مسلمان عورت کے لیے کوئي حرج نہیں کہ وہ اس بچے کی حفاظت کرے لیکن اس پرجبرنہيں کیا جاسکتا کہ وہ لازما اسقاط حمل کروائے ، اوراگروہ حمل باقی رہے اورمدت پوری کرنے کے بعد ولادت بھی ہوتویہ بچہ مسلمان ہوگا-

    اورفطرت سےمراد دین توحید اوروہ اسلام ہے ، اورفقہ میں مقرر ہے کہ جب والدین کا مختلف ہوتوبچہ اس کے تابع ہوگا جودینی طور پربہتر ہو ، یہ تواس کے بارہ میں ہے جس کا باپ معروف ہو اورپھر جس کا والد ہی نہ ہووہ کس طرح مسلمان نہيں ہوگا ؟ وہ بلاشبہ مسلمان بچہ ہوگا ۔

    اورمسلمان معاشرے کےلیے ضروری ہے کہ وہ اس بچے کی دیکھ بھال کرے اوراس کا خرچہ برداشت کرے اوراس کی حسن تربیت کا بھی انتظام کرے ، اوراسے مسکین اورمصیبت میں مبتلا ماں کے لیے بوجھ نہ بناکررکھ دیں ۔

    اورجب اسلام کے قواعد اوراصول میں رفع الحرج اورعدم مشقت وتکلیف پایا جاتا ہے ، اوراس میں کوئي شک نہيں کہ اپنی عفت وعصمت پرحریص مسلمان لڑکی جب وحشی اورمجرمانہ حملے کا شکار ہوتی ہے تواس کے نتیجہ میں وہ اپنی عزت وشرف اورنیک نامی کے بارہ میں ڈرتی ہے کہ اس کے بعد اسے کوئي نہیں پوچھے گا اوروہ پیھنک دی جائے گي یا پھروہ اذیت وتکلیف میں پڑ جائے گي مثلا قتل وغیرہ میں ۔

    یا پھر وہ نفسیاتی اورعصبی مریضہ بن جائے گی یا وہ دماغی مریضہ ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے یا پھر اس کے خاندان میں عار اوربدنامی ہوگی اوروہ بھی ایسے معاملہ میں جس میں اس کاکوئي گناہ نہيں تھا ، یا یہ کہ یہ پیدا ہونے والا بچہ کوئي ایسی امن والی جگہ حاصل نہيں کرسکےگا جہاں وہ پل سکے ، تواس حالت میں میں کہوں گا :

    اگرتوواقعی معاملہ ایسا ہی ہے توروح ڈلنے سے قبل اسقاط حمل جائز ہے ، اورخاص کراب توآسانی ہوچکی ہے کہ جدید میڈیکل وسائل کی بنا پر شروع یعنی پہلے ہفتہ میں ہی حمل کا علم ہوجاتا ہے ، اوراسقاط حمل میں جتنی جلدی ہواتنا ہی رخصت پرعمل کرنا وسعت رکھتا ہے اوراس پرعمل پیرا ہونا آسان ہے ، واللہ تعالی اعلم ۔ .

    دیکھیں : کتاب : احکام الجنین فی الفقہ الاسلامی تالیف : عمربن ابراھیم غانم ۔
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  4. ‏جنوری 26، 2014 #4
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    ابتدائي مہینوں میں اسقاط حمل کروانا


    ابتدائي ( ایک سے تین ماہ ) مہینوں اوربچے میں روح ڈالے جانے سے قبل اسقاط حمل کا حکم کیا ہے ؟

    الحمد للہ :

    کبارعلماء کمیٹی نے مندرجہ ذيل فیصلہ کیا :

    1 - مختلف مراحل میں اسقاط حمل جائز نہيں لیکن کسی شرعی سبب اوروہ بھی بہت ہی تنگ حدود میں رہتے ہوئے ۔

    2 - جب حمل پہلے مرحلہ میں ہوجوکہ چالیس یوم ہے اوراسقاط حمل میں کوئي شرعی مصلحت ہویا پھر کسی ضررکودورکرنا مقصود ہوتواسقاط حمل جائز ہے ، لیکن اس مدت میں تربیت اولاد میں مشقت یا ان کے معیشت اورخرچہ پورا نہ کرسکنے کےخدشہ کے پیش نظر یا ان کے مستقبل کی وجہ سے یا پھر خاوند بیوی کے پاس جواولاد موجود ہے اسی پراکتفا کرنے کی بنا پراسقاط حمل کروانا جائز نہيں ۔

    3 - جب مضغہ اورعلقہ ( یعنی دوسرے اورتیسرے چالیس یوم ) ہوتواسقاط حمل جائز نہيں لیکن اگر میڈیکل بورڈ یہ فیصلہ کرے کہ حمل کی موجودگي ماں کے لیے جان لیوا ہے اوراس کی سلامتی کے لیے خطرہ کا باعث ہے توپھر بھی اس وقت اسقاط حمل جائز ہوگا جب ان خطرات سے نپٹنے کے لیے سارے وسائل بروے کارلائيں جائيں لیکن وہ کارآمد نہ ہوں

    4 - حمل کے تیسرے مرحلے اورچارماہ مکمل ہوجانے کے بعد اسقاط حمل حلال نہیں ہے لیکن اگر تجربہ کاراورماہر ڈاکٹر یہ فیصلہ کریں کہ ماں کے پیٹ میں بچے کی موجودگی ماں کی موت کا سبب بن سکتی ہے ، اوراس کی سلامتی اورجان بچانے کے لیے سارے وسائل بروئے کارلائے جاچکے ہوں ، تواس حالت میں اسقاط حمل جائز ہوگا ۔
    ان شروط کے ساتھ اسقاط حمل کی اجازت اس لیے دی گئي ہے کہ بڑے نقصان سے بچا جاسکے اورعظیم مصلحت کوپایا جاسکے .

    دیکھیں : فتاوی الجامعۃ ( 3 / 1056 ) ۔
     
  5. ‏جنوری 26، 2014 #5
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    عمدا اسقاط حمل کرانے والے پرکیا واجب ہوتا ہے

    آپ سے میری گزارش ہے کہ میرے سوال کا جواب ضروردیں ، میں اللہ تعالی کے سامنے توبہ کے ساتھ ساتھ یہ بھی جاننا چاہتاہوں کہ :

    کیا جس عورت نے حمل سے چھٹکارا پانے کے لیے اسقاط کرادیا ہو اس پرکوئي محدد سزا پائي جاتی ہے ؟

    اگر جواب اثبات میں ہو تویہ بتائيں کہ اس پر وہ سزا کون لاگو کرے گا ؟

    الحمدللہ :

    بچے کی شکل وصورت بننے کے بعد عمدا اسقاط حمل کروانے پرلازم ہے کہ وہ اس سے توبہ کرے ، کیونکہ اسقاط حمل جائز نہيں بلکہ حرام ہے ، اورحمل جب اورجیسے بھی ہواس کی حفاظت کرنا واجب اورضروری ہے ، اورجنین کی ماں پرحرام ہے کہ وہ جنین کوتکلیف دے یا کسی بھی چيز کے ساتھ اس پرتنگی کرے کیونکہ یہ ایک امانت ہے جسے اللہ تعالی نے اس کے رحم میں رکھا ہے اوراس جنین کا بھی حق ہے ، لھذا اس کا اسقاط اوراس سےبرا سلوک کرنا جائز نہيں ہے ۔

    شیخ فوزان حفظہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

    اگرحمل میں روح پڑ چکی ہو اوراس میں حرکت پیدا ہوچکی ہو تواس کے بعد عورت سے اس کا اسقاط کروادیا اوروہ مرگيا تواسے قتل شمار کیا جائے گا کہ اس عورت نے ایک جان کوقتل کیا ہے ، لھذا اس پر کفارہ لازم آئے گا جوایک غلام کی آزادی ہے ، اگر غلام نہ ملے تودوماہ کے مسلسل روزے رکھے گی جوکہ اس کی توبہ ہے ۔

    یہ اس وقت جب حمل کوچارماہ گزر چکے ہوں ،کیونکہ اس میں روح ڈالی جاچکی ہے ، اورجب اس کے بعد اسقاط کروائے گی جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے کہ اس پرکفارہ لازم آتا ہے ، لھذا یہ مماملہ بہت عظیم ہے اس میں کوئي سستی اورتساہل سے کام نہيں لینا چاہیے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔

    دیکھیں : کتاب : الفتاوی الجامعۃ للمراۃ المسلمۃ ( 3 / 1052 ) ۔

    واللہ اعلم .
    الشیخ محمد صالح المنجد
     
  6. ‏اگست 22، 2015 #6
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    ؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛'(گونگی چیخ) ؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛



    11892117_474993775995741_6869585382947838921_n.jpg

    براہ مہربانی اس مضمون کو ضرور پڑھیں اور اگر اسے پڑھ کر آپ کے دل کی دھڑکن بڑھ جائے
    تو شیئر
    ضرور کریں |

    امریکہ میں سن 1984 میں ایک کانفرنس ہوئی تھی -

    'نیشنل رائٹس ٹو لايپھ كنوینشن '.

    اس کانفرنس کے ایک نمائندے نے ڈاکٹر برنارڈ نےتھینسن کےکی طرف سے اسقاط حمل کی بنائی گئی ایک الٹراساڈ فلم 'سالٹ سكريم '(گونگی چیخ) کی جو تفصیلات دیں ، وہ اس طرح ہے-

    'بچہ دانی کی وہ معصوم بچی اب 15 ہفتے کی تھی اور کافی چست تھی. ہم اسے اپنی ماں کی پیٹ میں کھیلتے، کروٹ بدلتے اور انگوٹھا چوستے ہوئے دیکھ رہے تھے. اس کے دل کی دھڑكنوں کو بھی ہم دیکھ پا رہے تھے اور وہ اس وقت 120 کی رفتار سے دھڑک رہا تھا. سب کچھ بالکل نارمل تھا؛ لیکن جیسے ہی پہلے اوزار (سكسن پمپ) نے بچہ دانی کی دیوار کو چھو لیا، وہ معصوم بچی ڈر سے ایک دم گھوم کر سکڑگئی اور اس کےدل کی دھڑکن بہت بڑھ گئی. اگرچہ ابھی تک کسی اوزار نےبچی کو چھوا تکبھی نہیں تھا، لیکن اسے تجربہ ہو گیا تھا کہ کوئی چیز اس کے ارامگاه، محفوظ علاقے پر حملہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے. ہم دہشت سے بھرے یہ دیکھ رہے تھے کہ کس طرح وہ اوزار اس ننھی-منی معصوم گڑيا- سی بچی کے ٹکڑے ٹکڑے کر رہی تھا. پہلے کمر، پھر پیر وغیرہ کے ٹکڑے ایسے کاٹے جا رہے تھے جیسے وہ زندہ مخلوق نہ ہوکر کوئی گاجر-مولی ہو اور وہ بچی درد سے چھٹپٹاتی ہوئی، سکڑ کر گھوم گھوم کر تڑپتی ہوئی اس قاتل اوزار سے بچنے کی کوشش کر رہی تھی. وہ اس بری طرح ڈر گئی تھی کہ ایک وقت اس کے دل کی دھڑکن 200 تک پہنچ گئی! میں نےخود اپنی آنکھوں سے اس کو اپنا سر پیچھے جھٹكتے اور منہ کھول کر چیخنے کوشش کرتے ہوئے دیکھا، جسےڈاکٹرنےتھینسن نے مناسب ہی 'گونگی چیخ' یا 'خاموش پکار' کہا ہے. آخر میں ہم نے وہ دلدوزناک منظر بھی دیکھا، جب سڈسی اس کھوپڑی کو توڑنے کے لئے تلاش رہی تھی اور پھر دبانے سے اس سخت کھوپڑی کو توڑ رہی تھی کیونکہ سر کا وہ حصہ بغیر توڑے سکشن ٹیوب کے ذریعے باہر نہیں نکالا جا سکتا تھا. ' قتل کے اس اندوہناک کھیل کو خوشحال کرنے میں قریب پندرہ منٹ کا وقت لگا اور اس دردناک منظر کا اندازہ اس سے زیادہ اور کس طرح لگایا جا سکتا ہے کہ جس ڈاکٹر نے یہ اسقاط حمل کیا تھا اور جس نے محض كوتوهلوش فلم بنوا لی تھی، اس نے جب خود اس فلم کو دیکھا تو وہ اپنا کلینک چھوڑ کر چلا گیا اور پھر واپس نہیں آیا! -

    آپ کا ایک شیئر کسی معصوم کی جان بچا سکتا ہے
     
  7. ‏جنوری 11، 2016 #7
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    پڑھیے......مگر دل تھام کر دَھپ۔۔۔۔

    "اُف" ۔ ۔ ۔ ۔ یا اللہ۔۔۔ یہ کس نے مجھے اتنی بےدردی سے پھینکا، وہ پتھریلی زمین پر گرا ہوا سوچ رہا تھا، نہ جانے کون اس قدر بے رحم ہو سکتا ہے....! اس نے اپنے ہاتھوں کو ہلانے جُلانے کی کوشش کی، مگر بے سود......
    اس نے چینخنے چلانے کی کوشش کی مگر اس کے منہ سے صرف اوں آں ہی نکل سکا، کیا میری قوتِ گویائی بھی سلب ہوچکی ہے اس نے سوچا، وہ رونے لگا، اس کی آنکھوں سے بھل بھل آنسو گِر رہے تھے.....

    کچھ دیر قبل میں کس قدر آرام میں تھا، نرم گرم ماحول میں خواب اور پُرسکون نیند کے مزے لوٹ رہا تھا، میرے اطراف میں چھاء کس قدر مہربان سی تھی، مگر اچانک ہی کیا ایسا ہوا، کیوں اتنا محبت بھرا رویہ اس قدرر نفرت مین تبدیل ہوگیا، میں کچھ سوچ نہ سکا سمجھ نہ سکا، نہ جانے کیوں ۔ ۔۔

    سو سو سو ۔۔ خر خر ۔۔ بھئو بھئو

    یہ کیا، لگتا ہے کوئی موذی جانور ہے، میں نہ تو ہل سکتا ہوں نہ مزاحمت کر سکتا ہوں، نہ پکار سکتا ہوں، اور نہ ہی مدد کیلئے کسی کو بلا سکتا ہوں، اور اب یہ موذی بلا، نہ جانے کون سا جانور ہے،

    "اف ۔۔۔۔۔ ہائے، کس قدر تکلیف ہورہی ہے، نہ جانے کیوں اس بےرحم جانور نے مجھے یوں بھنبوڑنا شروع کردیا،،، یا اللہ ۔۔۔ میری مدد فرما، تو مجھے اس تکلیف سے نکال لے، یا اللہ

    تکلیف بڑھتی جارہی تھی" وہ سوچنے لگا۔۔۔، شاید اس جانور نے جسم کا کچھ حصہ کاٹ کھایا تھا، خون بھی بہہ رہا ہوگا مگر وہ دیکھ بھی کہاں سکتا تھا، اس پر غنودگی چھانے لگی ۔۔

    "یہ اتنے بہت سے لوگ کہاں سے آگئے، کیا اس میں میری ماں بھی ہوگی؟ کیا وہ بھی دیکھ رہی ہوگی کہ میں کس تکلیف میں ہوں ، یا وہ بےخبر ہوگی"، وہ سوچنے لگا

    کسی نے ایمبولینس کو کال کی، اس کو گاڑی میں ڈالا گیا، ایمبولینس ہسپتال کی جانب دوڑنے لگی ۔۔۔

    "اتنا وقت نہیں ہے میرے پاس، میں جارہا ہوں اے دنیا، میں بدلہ نہ لے سکا، میں ہل نہ سکا، میں مجبور تھا، لاچار تھا، مگر میرا اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے، وہ تمہارے ظلم پر تمہیں پکڑے گا، تمہارے گناہوں کا پورا پورا بدلہ تمہیں دے گا، ہر لمحہ کا حساب۔۔۔ ان شاءاللہ"


    یہ کہانی کس کی ہے؟ نہیں سمجھ آئی؟ دوبارہ پڑھ لیں ۔۔ لیکن رکیں پہلے اخبار کی یہ خبر پڑھ لیں اور پھر کہانی شروع کریں.......!

    "خبر: کراچی کے ایک علاقے میں عقب کی گلی میں ایک نومولد بچے کو گھر کی کسی اوپر کی منزل سے پھینک دیا گیا جہاں ایک کتا اس کو گھسیٹ کر گلی کے کونے پر لایا۔ اہل علاقہ نے یہ منظر دیکھا اور اس بچے کو ہسپتال لے جایا کیا، جانور کے ناخن مارنے اور بالائی منزل سے پھینکے جانے کی وجہ سے حالت نازک تھی ہسپتال لےجاتے لےجاتے وہ بچہ دم توڑ گیا، اس کو کسی قبرستان میں لاوارث کے طور پر دفنا دیا گیا"

    یہ غربت نہ تھی، یہ لاچاری نہ تھی، یہ کسی جھونپڑی کی داستان نہ تھی، یہ گناہ تھا، یہ پارٹی تھی، یا پھر شاید آفٹر پارٹی، ایک روشن خیال مرد اور ایک آزاد خیال عورت کے چند لمحوں کے لطف کا نتیجہ، جس گناہ کو دنیا کی نظر سے چھپانے کیلئے اس نومولود کو یوں تکلیف دے کر مار دیا گیا!

    یہ بتانے کی بھی چنداں ضرورت نہیں کہ یہی وہ طبقہ تھا جو اسلامی سزاؤں کو ظالمانہ کہتا ہے، مگر جو ظلم انہوں نے کیا ، اس کا کیا ؟؟؟
     
  8. ‏ستمبر 10، 2019 #8
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اسقاطِ حمل، زنانہ مجبوری کے تناظر میں

    عورت کی خوبصورتی متاثر ہوتی ہے، مرد کی معیشت کمزور ہے، ہمیں ابھی بچے نہیں چاہییں، وغیرہ حالات میں بلا ضرورت منع حمل یا اسقاط تو ایک فیشن کی صورت اختیار کرچکا ہے، جو ایک کبیرہ گناہ ہے، لیکن بہرصورت اس موضوع کا ایک ایسا پہلو بھی ہے، کہ جہاں واقعتا کئی ایک لوگ متذبذب نظر آتے ہیں، زیر نظر تحریر میں اسی صورتِ حال کو زیر بحث لانے کی کوشش کی گئی ہے، پہلے ایک سوال اور اس کا جواب ملاحظہ کرلیجیے:
    ’’علماء کرام ایک بھائی کا سوال ہے کہ اس کی بیوی بچے کی پیدائش میں دو سال کے وقفہ کی خواہش مند تھی لیکن چند ماہ بعد وہ امید سے ہوگئی اب وہ اپنے خاوند سے جھگڑتی ہے جس کی وجہ سے گھر کا ماحول کافی خراب ہونے کا اندیشہ رہتا ہے، کیا اس صورتحال میں وہ اسقاط حمل کروا سکتے ہیں؟ جبکہ حمل ابھی دو تین ہفتوں کا ہے۔‘‘
    اب اس سوال کا ایک جواب عنایت فرمالیں:
    ’’قطعا نہیں۔۔۔!اور وقفے بھی کوئی مشروع ومحمود شے نہیں بلکہ إني مكاثرٌ بكم الأمم كے خلاف ہے۔۔۔زیادہ سے زیادہ جواز مع الكراهة كہا ہے بعض نے۔۔تو لڑنے جھگڑنے کی کیا عجيب بات ہے اللہ رب العزت كى تخليق پر اعتراض؟!
    اللہ سے ڈرنا چاہئے اور توبه واستغفار كرکے اللہ کے امر کے سامنے سر تسليم خم كرنا چاہئے ۔۔۔ كجا اسقاط جيسے كبيره گناہ کی سوچ سوچنا۔۔اللہ رب العزت هدايت وتوفيق سے نوازیں آمين‘‘
    اس جواب میں کتنی متانت وبصیرت ہے یہ بعد کی بات ہے، پہلے کچھ بنیادی باتوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالی نے انسانوں کی پیدائش کا یہی طریقہ اختیار کیا ہے کہ مرد اور عورت دو انسانوں کے ملاپ سے ایک تیسرا انسان مرد یا عورت اس دنیا میں آتا ہے۔ مرد کے نطفہ میں کوئی کمزوری ہو، یا عورت کا رحم زرخیز نہ ہو تو پھر بھی یہ عمل ممکن نہیں۔ لہذا مرد یا عورت چاہتے ہوئے بھی اپنی ان صلاحتیوں کو ضائع و معطل کرنے کی اجازت نہیں، جو نسلِ انسانی کی بقا کا واحد ذریعہ ہے۔
    یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کثرتِ اولاد کی طرف ترغیب دلائی ہے۔
    لیکن یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ اللہ تعالی کسی بھی مرد یا عورت پر اس کی استطاعت سے بڑھ کر ذمہ داری کا مطالبہ نہیں کرتے، اگر کوئی انسان کوئی ذمہ داری ادا کرنے کے قابل نہیں، تو اس سے ڈنڈے کے زور پر اس کا مطالبہ نہیں ہے، مثلا کسی مرد یا عورت میں حقوقِ زوجیت ادا کرنے کی صلاحیت ہی نہ ہو، تو انہیں مجبور نہیں کیا جائے گا کہ تم ضرور بالضرور یہ کام کرو۔
    کم وبیش نو ماہ تک بچے کو حمل کی حالت میں رکھنا، پھر اسے شدید تکلیف کے بعد جنم دینا، یہ ایسا مشکل مرحلہ ہے، جس کی مشقت، ناگواری ومشکل کو قرآن کریم نے بھی بالخصوص ذکر کیا ہے۔ اور یہ معاملہ چونکہ سراسر عورت کی ذمہ داری ہے، اس لیے اس میں عورت کی طبیعت و مزاج کا خیال رکھنا ہر صورت میں ضروری ہے۔
    اب صورتِ حال یہ ہے کہ جس طرح دن بہ دن مرد کی جسمانی ساخت اور اس کے قُوی کمزور ہورہے ہیں، عورت بھی اس زوال کا شکار ہے، آج سے ہزار سال پہلے مرد جتنی مشقت برداشت کرتے تھے، آج کے مردوں سے ہم بالکل وہی تقاضا کرسکتے ہیں؟ جس طرح مردوں نے اپنی کمزوری کی تلافی کے لیے آلات وسہولیات ایجاد کی ہیں، پیدائش اور حمل کے باب میں عورت کے لیے کسی قسم کی کوئی سہولت موجود نہیں، سوائے اس کے کہ اب ولادت کے لیے آپریشن کی سہولت موجود ہے، یعنی کوئی عورت طبعی طریقہ سے بچہ جننے کے قابل نہیں، تو آپریشن کے ذریعے اس کا حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اسی طرح دورانِ حمل عورت کی جسمانی ساخت میں جو تبدیلیاں اور مشکلات اسے آتی ہیں، اس کے حل کے لیے بعض ادویات موجود ہیں، لیکن بہرصورت عورت کو بچہ ایک محدود مدت کے لیے اپنے پیٹ میں رکھنا ہی رکھنا ہے۔ اس دوران اس کے مزاج کی برہمی، وزن کی مشقت، جسم کا غیر معمولی بگڑنا اس کا کوئی حل کسی کے پاس موجود نہیں ہے۔
    عموما گھروں میں ایسے حالات بھی نہیں ہیں کہ عورت کو حمل ٹھہرگیا تو اب ہر وقت نوکرانی اس کے خیال کے لیے تیار ہے، کسی قسم کا مشقت والا کام، اس کو کرنے کو نہیں کہا جائے گا، اس کےبچے سنبھالنے کے لیے آیا موجود ہے، ایسی کوئی سہولت عمومی طرز معاشرت میں عورتوں کے لیے میسر نہیں ہے، اس صورتِ حال کو سامنے رکھتے ہوئے کئی ایک عورتیں مسلسل حمل سے گھبراتی ہیں، بلکہ بعض تو نفسیاتی طور پر اچھی خاصی متاثر ہوجاتی ہیں، جو بچے پہلے موجود ہیں، وہ الگ متاثر ہوتے ہیں، اور خاص طور پر اگر بچے بالکل بالکل چھوٹے چھوٹے اور دودھ پیتے ہوں، تو پھر نیا حمل ایک بہت بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ اور جس کی وجہ سے میاں بیوی میں آپس میں لڑائیاں جھگڑے بھی ہوتے ہیں، گھر کے دیگر افراد بھی اس تناؤ سے متاثر ہوتے ہیں، نہ میاں بیوی ایک دوسرے کی پرواہ کرتے ہیں، اور دیگر افرادِ خانہ تو ان مسائل اور مشکلات کو سمجھنے کے لیے عموما تیار ہی نہیں ہوتے، جس وجہ سے نیا حمل بعض دفعہ ایک زحمت محسوس ہونا شروع ہوجاتا ہے، جیسا کہ اوپر سوال میں اس قسم کی صورتِ حال کا ذکر ہے۔
    حمل کی وجہ سے پیدا ہونے والی مشکلات کی نوعیت چاہے مختلف ہو، لیکن بہرصورت یہ مسئلہ دورِ نبوت میں بھی موجود تھا، اور اسی وجہ سے صحابہ کے ہاں’عزل‘ کی بحث موجود تھی، اور اس میں راجح موقف یہی ہے کہ ’عزل‘ کرنا، یعنی دورانِ جماع مادہ منویہ کو عورت کی شرمگاہ کے علاوہ کسی اور جگہ خارج کرنا جائز ہے۔
    یہ مسئلہ بہت اہم ہے، کوئی بھی بات کرنا ایک بہت بڑی ذمہ داری اٹھانے کے مترادف ہے، کتبِ فقہ میں اس پر طویل بحثیں ہیں، عصر حاضر میں اس پر مستقل کتب و مقالات اور ریسرچ پیپرز موجود ہیں، لیکن میری نظر میں جب عورت کے لیے اپنی معمول کی زندگی گزارنا بہت مشکل ہوجائے، اور حمل کو برقرار رکھنے میں اس کے لیے شدید مشقت ہو، تو حمل کو شروع میں ہی خارج کروانا جائز ہے، اس میں ان شاءاللہ کوئی حرج نہیں، کیونکہ نیا حمل صرف ایک نطفہ ہے، جس میں روح نہیں ہے، اور نہ ہی وہ انسانی جان کے حکم میں ہے، لہذا اسے قتل وغیرہ سمجھنا بھی درست نہیں ہے۔
    اور اس پر تو علما کے باقاعدہ فتاوی موجود ہیں کہ اگر عورت کی جان کو خطرہ ہو، تو پھر حمل چاہے کتنے بھی ماہ کاکیوں نہ ہو، یہاں کی جان بچانا مقدم ہے، کیونکہ ایک عورت کی جان کا خیال رکھنا، اس کے پیٹ میں موجود حمل کی جان سے بہرصورت ضروری ہے۔
    الضرر یزال، درء المفاسد أولی من جلب المصالح وغیرہ قواعدِ فقہیہ سے بھی اس باب میں استیناس کیا جاتا ہے۔
    ہمارے نزدیک یہ مسئلہ چونکہ مشقت وتکليف سے جڑا ہوا ہے، اس لیے اس ضمن میں عورت کی رائے سب سے زیادہ اہم ہے، جو ان مشکل مراحل کا بذاتِ خود سامنا کرتی ہے، ایسی عورت کو اللہ کا ڈر خوف، تقوی پرہیزگاری سب باتیں معلوم ہونی چاہییں، اور ساتھ اسے یہ مسئلہ بھی سمجھانا چاہیے کہ شریعت میں تکلیف مالایطاق کا تصور موجود نہیں ہے، اور یہ بھی کہ بلا ضرورت اس قسم کا کام بہت بڑے گناہ کے زمرے میں آتا ہے، پھر وہ جو فیصلہ کرے، اس کے خاوند، یا دیگر لوگوں کو اس کا احترام کرنا چاہیے۔ عموما دیکھا یہ گیا ہے کہ عورتوں کے اس قسم کے خاص مسائل میں بھی رائے زنی عموما مرد حضرات ہی کر رہے ہوتے ہیں، حالانکہ اس مشقت و تکلیف یا صورتِ حال کا اندازہ کوئی مرد کرسکتا ہے؟ چاہے وہ اس کا خاوند یا قابل قدر مفتی صاحب ہی کیوں نہ ہوں؟ کیا خاوند یا مفتی صاحب نے کبھی نو ماہ کا حمل اٹھا کر دیکھا ہے؟ کبھی کوئی بندہ دیکھا ہے جو دو کلو کا تھیلا نو ماہ تک اپنے پیٹ پر باندھ کر چلتا بھی ہو، سوتا بھی ہو، لوگوں کے سامنے بھی ویسے ہی جاتا ہو؟ حالانکہ ہر عاقل و بالغ شخص یہ سمجھتا ہے کہ حمل کی تکلیف و مشقت اس سے بھی کئی درجے زیادہ ہے۔
    حمل سے بچنے کی احتیاطی تدابیر:
    اس میں کوئی شک نہیں کہ جب عورت کی حالت اجازت نہ دیتی ہو تو حتی الوسع احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہییں تاکہ اسقاط حمل وغیرہ کا مرحلہ در پیش ہی نہ ہو۔ مثلا مرد کو کنڈوم استعمال کرنا چاہیے، یا پھر عزل کرنا چاہیے، یا ماہواری کے ایام ختم ہوتے ہی چند دن جماع نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ عموما حمل ٹھہرنے کی مدت ماہواری کے فورا بعد کے کچھ دن ہوتے ہیں، وظیفہ زوجیت اس طرح ادا کرنے کی کوشش کریں کہ جس سے عموما حمل نہیں ٹھہرتا، اسی طرح عورتوں کو بعض ادویات بھی دی جاتی ہیں کہ جن سے حمل نہیں ٹھہرتا وغیرہ وغیرہ۔
    لیکن کئی ایک شادی شدہ حضرات یہ بات جانتے ہیں کہ ان میں سے کسی بھی احتیاطی تدبیر کے نتائج سوفیصد نہیں ہیں، اور پھر یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر مرد یا عورت کے لیے ان احتیاطی تدابیر کو اختیار کرنا ممکن و آسان بھی ہو۔ بعض حکیم اور ڈاکٹر حضرات ایسی تدابیر بتاتے ہیں کہ وظیفہ زوجیت جو ایک راحت و سکون کا ذریعہ ہے، وہ ایک مشقت و عذاب نظر آتا ہے۔ اور پھر معاملہ ایسا بھی نہیں جیسا کہ بعض جاہل عوام میں زبان زدِ عام ہوتا ہے کہ بھئی حمل سے ڈرتے ہو، تو ایک دوسرے کے قریب کیوں جاتے ہو؟ اور پھر بعض لوگ اپنی یا دوسروں کی مثالیں بھی دینا شروع کردیتے ہیں، حالانکہ اس بات کی ایک طعنہ زنی سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں۔ کیونکہ مرد وعورت کا وظیفہ زوجیت ادا کرنا بھی مطلوب و محمود ہے، کوئی بھی صحت مند مرد وعورت اس کے بغیر نہیں رہ سکتے، اور پھر وہ لوگ جن کے ساری ساری عمر گزار کر دو تین بچے ہیں، اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہوں نے اپنی پوری ازدواجی زندگی میں صرف دو یا تین بار یہ کام کیا تھا، یا وہ ساری عمر احتیاطی تدابیر کی جیل میں ہی گزارتے رہے ہیں، بلکہ یہ تو اللہ کی مرضی اور فیصلہ ہے، کہ بعض لوگ بوند بوند کو ترستے ہیں، جبکہ بعض کے ہاں اللہ تعالی بارش ہی برسا دیتا ہے۔ لہذا یہ ایک لایعنی اور فضول طعنہ ہے کہ کسی کو ان مسائل میں یہی کہنا شروع کردیا جائے کہ بھئی تم ایسے کام کرتے ہی کیوں ہو؟
    اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ ایک طرف حلال طریقے سے زندگی گزارنے والے زوجین کو اس قسم کے طعنے مارے جاتے ہیں، جبکہ دوسری طرف حرام کاری کرنے والوں کے لیے راستے کھلے ہیں، جو شادی، گھر، معاشی بہتری وغیرہ کچھ بھی ضروری نہیں سمجھتے، اور بلا کسی احتیاطی تدبیر چند کوڑیوں کے عوض حرام تعلقات قائم کرکے چلتے بنتے ہیں۔
    ہمارے معاشرے میں ودود ولود عورتوں کے لیے یہ بھی مصیبت ہے کہ پہلے تو ان کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا، پھر جب مسلسل مشقِ ستم کے باعث ان کی جسمانی ساخت زوال کا شکار ہونے لگتی ہے، تو پھر بھی ان کے لیے نت نئی ذہنی و عملی اذیتیں اور مشقتیں رکھی ہوتی ہیں، ایسی صورتِ حال میں عورت کو جو طعنہ زنی اور جغت بازی کی جاتی ہے، اس پر بعض لوگوں کی مستقل تحاریر بھی نظر سے گزری ہیں۔ خیر آمد بر سرِمطلب کہ ہم عورت کی آزادی اور حقوق کے مغربی تصور پر لعنت بھیجتے ہیں، لیکن بہرصورت ہمیں عورت کے جائز حقوق ، خواہشات، اور ترجیحات کا تحفظ کرنا چاہیے، بالکل ایسے ہی جیسے ہر مرد اپنی پسند ناپسند اور طبیعت ومزاج کی نازکیوں کا خیال رکھتا ہے۔
    خود خواتین کو جو ماں اور ساس کے درجہ میں ہیں، اپنی بیٹی اور بہو کی زبان بننا چاہیے، جس طرح ایک ماں اپنے بیٹے کا خیال رکھتی ہے، کبھی آپ نے سنا ہے کسی ماں نے کہا ہو کہ دیکھو تمہارا باپ تواتنی محنت و مشقت کرتا تھا، تو تم اتنی جلدی کیوں تھک جاتے ہو؟ ہمارے زمانے میں بجلی کا نام نشان نہیں تھا، اور تم تو بجلی کے بغیر ایک منٹ نہیں رہتے ہو؟ وغیرہ لیکن ہر دوسری ساس بہو کو یہ طعنہ ضرور مارتی ہے کہ تم کوئی انوکھے بچے پیدا تو نہیں کررہی یا کام تو نہیں کررہی ، ہم نے بھی تو یہ سارا کچھ کیا ہے، اور اس سب میں حالات ، خوراک اور غذا کا وہ فرق بالکل محو ہوجاتا ہے، جوایک ماں اور بیٹی یا ساس اور بہو کے زمانے میں ہوتا ہے۔
    خیر یہ ایک سوچ ہے، جو ازدواجی زندگی اور ارد گرد کے حالات کو دیکھ کر، موضوع سے متعلق کچھ مطالعہ کرکے اپنے الفاظ میں بیان کردی، جو بہرصورت معاشرے میں رائج فتوی اور سوچ سے مختلف ہے، اس کو لکھنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اس موضوع پر مزید لکھا جائے، اس کی تفصیلات کو دیکھا جائے، مردوں کی طرح عورتوں کے مسائل کو بھی سمجھنے کی کوشش کی جائے، اگر ہم نے کوئی فتوی یا بات نافذ کرنی بھی ہے، تو سائل کی تشفی وقناعت کا خاطرخواہ سامان اس میں موجود ہونا چاہیے۔
    یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے موضوعات پر لکھنا ہمیشہ ایک بڑا مسئلہ رہتا ہے، ہر بندے میں ان موضوعات پر لب کشائی کرنے کی ہمت نہیں ہوتی، کیونکہ یہ قوی خدشہ ہوتا ہے کہ آپ کی تحریر کو زینہ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے لوگ آپ کی ذاتی اور گھریلو زندگی میں جھانکنے کی کوشش کریں گے۔ آزاد انصاری کو کہنا پڑا تھا:
    افسوس بے شمار سخن ہائے گفتنی
    خوف فساد خلق سے نا گفتہ رہ گئے
    لیکن بہرصورت بعض موضوعات پر کسی نہ کسی کو تو ہمت کرنا ہی ہوتی ہے۔ اوپر جو سوال کیا گیا ہے، اور اس کا جواب دیا گیا ہے، اپنے مطالعہ وسوچ کی روشنی میں میں اس جواب سے اختلاف کرتا ہوں، اور یہ عرض کرتا ہوں کہ ایسی صورتِ حال میں روایتی انداز میں اس قسم کی فتوی بازی کی بجائے عورت کے جذبات کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے، کہ آخر کیوں وہ بچہ نہیں لینا چاہتی؟ اور وہ حمل سے اس قدر بد دل کیوں ہورہی ہے؟ اور اگر واقعتا معاملہ عورت کے لیے مشقت و تکلیف مالایطاق کی حد تک ہو، تو پھر عورت کی بات کو ماننا چاہیے، اور مرد کو اپنے دائرہ کار سے باہر کسی پر اپنی سوچ اور فکر کا تسلط ہرگز نہیں کرنا چاہیے، وکما قیل:الحکم علی الشیء فرع عن تصورہ۔ واللہ أعلم بالصواب وإلیہ المرجع والمآب۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں