1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حمل ضائع کرنا کبیرہ گناہ ہے :

'نکاح' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جنوری 26، 2014۔

  1. ‏جنوری 26، 2014 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,955
    موصول شکریہ جات:
    6,503
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    حمل ضائع کرنا کبیرہ گناہ ہے !!!
    1535475_820720814609077_1945128312_n.jpg
     
  2. ‏جنوری 26، 2014 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,955
    موصول شکریہ جات:
    6,503
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    بيوى كو اسقاط حمل پر مجبور كرنا !!!

    ايك خاوند نے بيوى كو طلاق دينے كى غرض سے دوسرے ماہ كا حمل ضائع كرنے كى كوشش كى اور اس كے ليے دوائى بھى دى ليكن حمل ضائع نہ ہوا، آيا ايسا كرنا حلال ہے يا حرام، اور اس عمل كا كفارہ كيا ہے ؟

    الحمد للہ:

    حمل ضائع كرنا جائز نہيں چاہے حمل ميں روح پڑ چكى ہو يا نہ پڑى ہو، ليكن روح پڑنے كے بعد اس كا ضائع كرنے كى حرمت تو اور بھى زيادہ شديد ہو جاتى ہے، اور اگر بيوى كو خاوند حمل ضائع كرنے كا حكم بھى دے تو بيوى كے ليے اس كى اطاعت كرنى حلال نہيں.

    شيخ محمد بن ابراہيم رحمہ اللہ كہتے ہيں:

    " اسقاط حمل كى كوشش كرنى جائز نہيں، جب تك كہ اس كى موت كا يقين نہ ہو چكا ہو، اور جب حمل كى موت كا يقين ہو چكا ہو تو پھر اسقاط حمل جائز ہے.

    ديكھيں: مجموع فتاوى الشيخ ابن ابراہيم ( 11 / 151 ).

    اور شيخ صالح الفوزان حفظہ اللہ كہتے ہيں:

    اول:

    حمل ضائع كرانا جائز نہيں، اس ليے اگر حمل ہو چكا ہو تو اس كى حفاظت اور خيال ركھنا واجب ہے، اور ماں كے ليے اس حمل كو نقصان اور ضرر دينا، اور اسے كسى بھى طرح سے تنگ كرنا حرام ہے، كيونكہ اللہ تعالى نے اس كے رحم ميں يہ امانت ركھى ہے، اور اس حمل كا بھى حق اس ليے اس كے ساتھ ناروا سلوك اختيار كرنا، يا اسے نقصان اور ضرر دينا، يا اسے ضائع و تلف كرنا جائز نہيں.

    اور پھر حمل كے ضائع اور اسقاط كى حرمت پر شرعى دلائل بھى دلالت كرتے ہيں:

    اور آپريشن كے بغير ولادت كوئى ايسا سبب نہيں جو اسقاط حمل كے جواز كا باعث ہو، بلكہ بہت سى عورتوں كے ہاں ولادت تو آپريشن كے ذريعہ ہى ہوتى ہے، تو اسقاط حمل كے ليے يہ عذر نہيں ہو سكتا.

    دوم:

    اگر اس حمل ميں روح پھونكى جا چكى ہو، اور اس ميں حركت ہونے كے بعد اسقاط حمل كيا جائے اور بچہ مر جائے تو يہ ايك جان كو قتل كرنا شمار كيا جائيگا، اور اسقاط حمل كرانے والى عورت كے ذمہ كفارہ ہو گا جو كہ يہ ہے:

    ايك غلام آزاد كرنا ہے، اگر وہ غلام نہ پائے تو مسلسل دو ماہ كے روزے ركھنا اس كى توبہ شمار ہو گى، اور يہ اس وقت ہے جب حمل چار ماہ كا ہو چكا ہو، كيونكہ اس ميں اس وقت روح پھونكى جا چكى ہوتى ہے، اس ليے اگر اس مدت كے بعد اسقاط حمل كرائے تو اس پر كفارہ لازم آئيگا، جيسا كہ ہم نے بيان كيا ہے، اور يہ معاملہ بہت عظيم ہے اس ميں تساہل اور سستى كرنى جائز نہيں.

    اور اگر بيمارى كى بنا پر وہ حمل برداشت نہيں كر سكتى تو وہ حمل سے قبل ہى مانع حمل ادويات كا استعمال كرے، مثلا وہ ايسى گولياں استعمال كر لے جو كچھ مدت تك حمل كے ليے مانع ہوتى ہيں، تا كہ اس عرصہ كے دوران اس كى صحت اور قوت بحال ہو جائے.

    ديكھيں: المنتقى ( 5 / 301 - 302 ) اختصار كے ساتھ.

    شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

    ايك شخص نے اپنى بيوى كو كہا: اپنا حمل گرا دو اس كا گناہ ميرے ذمہ، تو اگر وہ اس كى بات سن كر اس پر عمل كر لے تو ان دونوں پر كيا كفارہ واجب ہو گا ؟

    شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

    اگر بيوى ايسا كر لے تو ان دونوں پر كفارہ يہ ہے كہ وہ ايك مومن غلام آزاد كريں، اور اگر غلام نہ ملے تو دو ماہ كے مسلسل روزے ركھيں، اور ان دونوں كے ذمہ اس كے وارثوں كو ايك غلام يا لونڈى كى ديت دينا ہو گى جس نے اسے قتل نہ كيا ہو، باپ كو نہيں، كيونكہ باپ نے تو قتل كرنے كا حكم ديا ہے، اس ليے وہ كسى بھى چيز كا مستحق نہيں. اھـ
    اور ان كى يہ عبارت:
    " غرۃ عبد او امۃ "

    يہ ايك غلام يا لونڈى كى قيمت كى شكل ميں بچے كى ديت ہے، اور اس كا اندازہ ماں كى ديت كے عشر كے مطابق علماء كرام لگائينگے.
    ؎
    اور رہا اس كا كفارہ تو اس ليے كہ ابھى حمل دوسرے ماہ ميں تھا يعنى اس ميں ابھى روح نہيں پھونكى گئى تھى، اور يہ حمل ساقط بھى نہيں ہوا تو اس سے كفارہ واجب نہيں ہوا، بلكہ اس حرام فعل كے مرتكب ہونے كى بنا پر اسے اللہ تعالى سے توبہ و استغفار كرنى چاہيے.

    واللہ اعلم .
    الاسلام سوال و جواب
     
  3. ‏جنوری 26، 2014 #3
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,955
    موصول شکریہ جات:
    6,503
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    مجرمانہ حملے کی نتیجہ میں ہونے والا حمل ساقط کروانا

    وہ مسلمان عورتیں کیا کریں جن پرمجرمانہ حملے ہوئے اوراس کے نتیجہ میں وہ حاملہ ہوگئيں ، کیاان کےلیے اسقاط حمل جائز ہے کہ نہيں ؟

    الحمدللہ :

    مسلمانوں پرذلت ورسوائي کے جوحالات گزررہے ہیں انہيں دیکھیں تویہ نظرآتا کہ اس وقت مسلمان ہرلالچی کا مطمع نظر ہے ان کی زمینوں پرناجائز قبضہ جمالیا گيا ہے ، ان کی عزت پامال کی جارہی ہیں ، اورہرجانب سے کفار قوتیں ان پر ٹوٹ پڑی ہیں ، اوربہت سی آزاد مسلمان عورتیں اکثراوقات انسانی بھیڑیوں کا ھدف بنی ہوئي ہیں ، جنہیں اللہ تعالی کا کوئي خوف نہيں اورنہ ہی یہ کسی باز رکھنے والی قوت سے ڈرتے ہیں ۔

    جیسا کہ آج کل عالم اسلامی کے بہت سے ممالک میں حالت بنی ہوئي ہے ، جیسا کہ بوسنیا ، یا فلپائن اورشیشان میں ہورہا ہے یا پھر اریٹیریا میں یا عرب دنیا کے کمزورنظاموں کے ماتحت جیلوں میں ہورہا ہے ۔

    ذیل میں ہم اس عورت کی حالت کی اہم نقاط کی نشاندھی کرتے ہیں جس پرغاصبانہ حملہ کیا گیا :

    1 - جس عورت پرغاصبانہ حملہ ہوا اوراس نے ان مجرموں سے بچنے کے لیے اپنے دفاع میں پوری قوت صرف کی اس پر کوئي گناہ نہيں ، کیونکہ اس پرجبر ہوا ہے ، اورمکرہ یعنی جبرکیے جانے والے توکفر میں بھی گناہ گار نہيں ہوتا جوکہ زنا سے بھی بڑا گناہ ہے-

    بلکہ وہ عورت جوغاصبانہ حملے کا شکار ہوئي ہے جب وہ اس پہنچنے والی مصیبت پراجروثواب کی نیت کرے تووہ اس مصیبت پرصبرکرنے کی وجہ سے عنداللہ ماجور ہے ۔

    2 - مسلمان نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان تکلیف دہ لڑکیوں سے شادی کرنے کے لیے تیار ہوں تا کہ ان لڑکیوں کی تکلیف میں کمی ہوسکے اوران کی غمخواری ہو ، اوران کی چھینی گئي عصمت کا نعم البدل مل سکے ۔

    3 - اب رہا ان کا اسقاط حمل کا معاملہ :

    تواصل بات تویہی ہے کہ حمل کی ابتداء سے ہی اسقاط حمل منع اورحرام ہے ، جب کہ ایک نئي زندگی میں آنے والا رحم میں مستقر ہوتا ہے ، اوراگرچہ یہ نیا آنے والا حرام تعلقات یعنی زنا کے نتیجے میں ہی کیوں نہ ہواس کا اسقاط حرام ہے ۔

    اس کی دلیل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غامدیہ عورت کوجس نے زنا کا اقرار کیا اوررجم کی سزا کی مستحق ٹھری کوحکم دیا کہ وہ اپنے جنین کے ساتھ ہی واپس جائے اوربچے کی ولادت کے بعد آئے اورپھرولادت کے بعد اسے حکم دیا کہ وہ بچے کودودھ پلانے کی مدت پوری کرکے دودھ چھڑانے کے بعد آئے اوراس کے بعد اس پرحد نافذکی ۔

    4 - کچھ فقھاء کرام ایسے بھی ہيں جوحمل کے ابتدائي چالیس ایام میں اسقاط حمل کوجائزقراردیتے ہیں ، اوربعض روح ڈالے جانے سے قبل تک اسقاط کی اجازت دیتے ہیں ، اورجتنا بھی عذر قوی ہوگا اسقاط کی رخصت بھی زیادہ ظاہر ہوگي ، اورپھر جتنا بھی چالیس یوم سے قبل ہوگا اتنا ہی رخصت کے زيادہ قریب ہوگا ۔

    5 - اس میں کوئي شک وشبہ نہيں کہ مسلمان آزاد عورت پرفاجر وفاسق دشمن کی جانب سے غاصبانہ حملہ مسلمان عورت کے لیے بہت ہی زيادہ قوی عذر ہے ، اوراسی طرح اس کے خاندان والوں کے لیے بھی قوی عذر کی حیثیت رکھتا ہے ، وہ عورت اس مجرمانہ حملہ کے نتیجہ میں ہونے والے اس حمل کوناپسند کرتی اوراس سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی ہے ، تویہ رخصت ہے اورضرورت کی بنا پراس کا فتوی دیا جاسکتا ہے اورخاص کرحمل کے ابتدائي ایام میں اسقاط حمل کا فتوی ۔

    6 - اوریہ بھی ہے کہ اس مصیبت میں مبتلا ہونے والی مسلمان عورت کے لیے کوئي حرج نہیں کہ وہ اس بچے کی حفاظت کرے لیکن اس پرجبرنہيں کیا جاسکتا کہ وہ لازما اسقاط حمل کروائے ، اوراگروہ حمل باقی رہے اورمدت پوری کرنے کے بعد ولادت بھی ہوتویہ بچہ مسلمان ہوگا-

    اورفطرت سےمراد دین توحید اوروہ اسلام ہے ، اورفقہ میں مقرر ہے کہ جب والدین کا مختلف ہوتوبچہ اس کے تابع ہوگا جودینی طور پربہتر ہو ، یہ تواس کے بارہ میں ہے جس کا باپ معروف ہو اورپھر جس کا والد ہی نہ ہووہ کس طرح مسلمان نہيں ہوگا ؟ وہ بلاشبہ مسلمان بچہ ہوگا ۔

    اورمسلمان معاشرے کےلیے ضروری ہے کہ وہ اس بچے کی دیکھ بھال کرے اوراس کا خرچہ برداشت کرے اوراس کی حسن تربیت کا بھی انتظام کرے ، اوراسے مسکین اورمصیبت میں مبتلا ماں کے لیے بوجھ نہ بناکررکھ دیں ۔

    اورجب اسلام کے قواعد اوراصول میں رفع الحرج اورعدم مشقت وتکلیف پایا جاتا ہے ، اوراس میں کوئي شک نہيں کہ اپنی عفت وعصمت پرحریص مسلمان لڑکی جب وحشی اورمجرمانہ حملے کا شکار ہوتی ہے تواس کے نتیجہ میں وہ اپنی عزت وشرف اورنیک نامی کے بارہ میں ڈرتی ہے کہ اس کے بعد اسے کوئي نہیں پوچھے گا اوروہ پیھنک دی جائے گي یا پھروہ اذیت وتکلیف میں پڑ جائے گي مثلا قتل وغیرہ میں ۔

    یا پھر وہ نفسیاتی اورعصبی مریضہ بن جائے گی یا وہ دماغی مریضہ ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے یا پھر اس کے خاندان میں عار اوربدنامی ہوگی اوروہ بھی ایسے معاملہ میں جس میں اس کاکوئي گناہ نہيں تھا ، یا یہ کہ یہ پیدا ہونے والا بچہ کوئي ایسی امن والی جگہ حاصل نہيں کرسکےگا جہاں وہ پل سکے ، تواس حالت میں میں کہوں گا :

    اگرتوواقعی معاملہ ایسا ہی ہے توروح ڈلنے سے قبل اسقاط حمل جائز ہے ، اورخاص کراب توآسانی ہوچکی ہے کہ جدید میڈیکل وسائل کی بنا پر شروع یعنی پہلے ہفتہ میں ہی حمل کا علم ہوجاتا ہے ، اوراسقاط حمل میں جتنی جلدی ہواتنا ہی رخصت پرعمل کرنا وسعت رکھتا ہے اوراس پرعمل پیرا ہونا آسان ہے ، واللہ تعالی اعلم ۔ .

    دیکھیں : کتاب : احکام الجنین فی الفقہ الاسلامی تالیف : عمربن ابراھیم غانم ۔
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  4. ‏جنوری 26، 2014 #4
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,955
    موصول شکریہ جات:
    6,503
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    ابتدائي مہینوں میں اسقاط حمل کروانا


    ابتدائي ( ایک سے تین ماہ ) مہینوں اوربچے میں روح ڈالے جانے سے قبل اسقاط حمل کا حکم کیا ہے ؟

    الحمد للہ :

    کبارعلماء کمیٹی نے مندرجہ ذيل فیصلہ کیا :

    1 - مختلف مراحل میں اسقاط حمل جائز نہيں لیکن کسی شرعی سبب اوروہ بھی بہت ہی تنگ حدود میں رہتے ہوئے ۔

    2 - جب حمل پہلے مرحلہ میں ہوجوکہ چالیس یوم ہے اوراسقاط حمل میں کوئي شرعی مصلحت ہویا پھر کسی ضررکودورکرنا مقصود ہوتواسقاط حمل جائز ہے ، لیکن اس مدت میں تربیت اولاد میں مشقت یا ان کے معیشت اورخرچہ پورا نہ کرسکنے کےخدشہ کے پیش نظر یا ان کے مستقبل کی وجہ سے یا پھر خاوند بیوی کے پاس جواولاد موجود ہے اسی پراکتفا کرنے کی بنا پراسقاط حمل کروانا جائز نہيں ۔

    3 - جب مضغہ اورعلقہ ( یعنی دوسرے اورتیسرے چالیس یوم ) ہوتواسقاط حمل جائز نہيں لیکن اگر میڈیکل بورڈ یہ فیصلہ کرے کہ حمل کی موجودگي ماں کے لیے جان لیوا ہے اوراس کی سلامتی کے لیے خطرہ کا باعث ہے توپھر بھی اس وقت اسقاط حمل جائز ہوگا جب ان خطرات سے نپٹنے کے لیے سارے وسائل بروے کارلائيں جائيں لیکن وہ کارآمد نہ ہوں

    4 - حمل کے تیسرے مرحلے اورچارماہ مکمل ہوجانے کے بعد اسقاط حمل حلال نہیں ہے لیکن اگر تجربہ کاراورماہر ڈاکٹر یہ فیصلہ کریں کہ ماں کے پیٹ میں بچے کی موجودگی ماں کی موت کا سبب بن سکتی ہے ، اوراس کی سلامتی اورجان بچانے کے لیے سارے وسائل بروئے کارلائے جاچکے ہوں ، تواس حالت میں اسقاط حمل جائز ہوگا ۔
    ان شروط کے ساتھ اسقاط حمل کی اجازت اس لیے دی گئي ہے کہ بڑے نقصان سے بچا جاسکے اورعظیم مصلحت کوپایا جاسکے .

    دیکھیں : فتاوی الجامعۃ ( 3 / 1056 ) ۔
     
  5. ‏جنوری 26، 2014 #5
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,955
    موصول شکریہ جات:
    6,503
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    عمدا اسقاط حمل کرانے والے پرکیا واجب ہوتا ہے

    آپ سے میری گزارش ہے کہ میرے سوال کا جواب ضروردیں ، میں اللہ تعالی کے سامنے توبہ کے ساتھ ساتھ یہ بھی جاننا چاہتاہوں کہ :

    کیا جس عورت نے حمل سے چھٹکارا پانے کے لیے اسقاط کرادیا ہو اس پرکوئي محدد سزا پائي جاتی ہے ؟

    اگر جواب اثبات میں ہو تویہ بتائيں کہ اس پر وہ سزا کون لاگو کرے گا ؟

    الحمدللہ :

    بچے کی شکل وصورت بننے کے بعد عمدا اسقاط حمل کروانے پرلازم ہے کہ وہ اس سے توبہ کرے ، کیونکہ اسقاط حمل جائز نہيں بلکہ حرام ہے ، اورحمل جب اورجیسے بھی ہواس کی حفاظت کرنا واجب اورضروری ہے ، اورجنین کی ماں پرحرام ہے کہ وہ جنین کوتکلیف دے یا کسی بھی چيز کے ساتھ اس پرتنگی کرے کیونکہ یہ ایک امانت ہے جسے اللہ تعالی نے اس کے رحم میں رکھا ہے اوراس جنین کا بھی حق ہے ، لھذا اس کا اسقاط اوراس سےبرا سلوک کرنا جائز نہيں ہے ۔

    شیخ فوزان حفظہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

    اگرحمل میں روح پڑ چکی ہو اوراس میں حرکت پیدا ہوچکی ہو تواس کے بعد عورت سے اس کا اسقاط کروادیا اوروہ مرگيا تواسے قتل شمار کیا جائے گا کہ اس عورت نے ایک جان کوقتل کیا ہے ، لھذا اس پر کفارہ لازم آئے گا جوایک غلام کی آزادی ہے ، اگر غلام نہ ملے تودوماہ کے مسلسل روزے رکھے گی جوکہ اس کی توبہ ہے ۔

    یہ اس وقت جب حمل کوچارماہ گزر چکے ہوں ،کیونکہ اس میں روح ڈالی جاچکی ہے ، اورجب اس کے بعد اسقاط کروائے گی جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے کہ اس پرکفارہ لازم آتا ہے ، لھذا یہ مماملہ بہت عظیم ہے اس میں کوئي سستی اورتساہل سے کام نہيں لینا چاہیے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔

    دیکھیں : کتاب : الفتاوی الجامعۃ للمراۃ المسلمۃ ( 3 / 1052 ) ۔

    واللہ اعلم .
    الشیخ محمد صالح المنجد
     
  6. ‏اگست 22، 2015 #6
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,955
    موصول شکریہ جات:
    6,503
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    ؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛'(گونگی چیخ) ؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛



    11892117_474993775995741_6869585382947838921_n.jpg

    براہ مہربانی اس مضمون کو ضرور پڑھیں اور اگر اسے پڑھ کر آپ کے دل کی دھڑکن بڑھ جائے
    تو شیئر
    ضرور کریں |

    امریکہ میں سن 1984 میں ایک کانفرنس ہوئی تھی -

    'نیشنل رائٹس ٹو لايپھ كنوینشن '.

    اس کانفرنس کے ایک نمائندے نے ڈاکٹر برنارڈ نےتھینسن کےکی طرف سے اسقاط حمل کی بنائی گئی ایک الٹراساڈ فلم 'سالٹ سكريم '(گونگی چیخ) کی جو تفصیلات دیں ، وہ اس طرح ہے-

    'بچہ دانی کی وہ معصوم بچی اب 15 ہفتے کی تھی اور کافی چست تھی. ہم اسے اپنی ماں کی پیٹ میں کھیلتے، کروٹ بدلتے اور انگوٹھا چوستے ہوئے دیکھ رہے تھے. اس کے دل کی دھڑكنوں کو بھی ہم دیکھ پا رہے تھے اور وہ اس وقت 120 کی رفتار سے دھڑک رہا تھا. سب کچھ بالکل نارمل تھا؛ لیکن جیسے ہی پہلے اوزار (سكسن پمپ) نے بچہ دانی کی دیوار کو چھو لیا، وہ معصوم بچی ڈر سے ایک دم گھوم کر سکڑگئی اور اس کےدل کی دھڑکن بہت بڑھ گئی. اگرچہ ابھی تک کسی اوزار نےبچی کو چھوا تکبھی نہیں تھا، لیکن اسے تجربہ ہو گیا تھا کہ کوئی چیز اس کے ارامگاه، محفوظ علاقے پر حملہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے. ہم دہشت سے بھرے یہ دیکھ رہے تھے کہ کس طرح وہ اوزار اس ننھی-منی معصوم گڑيا- سی بچی کے ٹکڑے ٹکڑے کر رہی تھا. پہلے کمر، پھر پیر وغیرہ کے ٹکڑے ایسے کاٹے جا رہے تھے جیسے وہ زندہ مخلوق نہ ہوکر کوئی گاجر-مولی ہو اور وہ بچی درد سے چھٹپٹاتی ہوئی، سکڑ کر گھوم گھوم کر تڑپتی ہوئی اس قاتل اوزار سے بچنے کی کوشش کر رہی تھی. وہ اس بری طرح ڈر گئی تھی کہ ایک وقت اس کے دل کی دھڑکن 200 تک پہنچ گئی! میں نےخود اپنی آنکھوں سے اس کو اپنا سر پیچھے جھٹكتے اور منہ کھول کر چیخنے کوشش کرتے ہوئے دیکھا، جسےڈاکٹرنےتھینسن نے مناسب ہی 'گونگی چیخ' یا 'خاموش پکار' کہا ہے. آخر میں ہم نے وہ دلدوزناک منظر بھی دیکھا، جب سڈسی اس کھوپڑی کو توڑنے کے لئے تلاش رہی تھی اور پھر دبانے سے اس سخت کھوپڑی کو توڑ رہی تھی کیونکہ سر کا وہ حصہ بغیر توڑے سکشن ٹیوب کے ذریعے باہر نہیں نکالا جا سکتا تھا. ' قتل کے اس اندوہناک کھیل کو خوشحال کرنے میں قریب پندرہ منٹ کا وقت لگا اور اس دردناک منظر کا اندازہ اس سے زیادہ اور کس طرح لگایا جا سکتا ہے کہ جس ڈاکٹر نے یہ اسقاط حمل کیا تھا اور جس نے محض كوتوهلوش فلم بنوا لی تھی، اس نے جب خود اس فلم کو دیکھا تو وہ اپنا کلینک چھوڑ کر چلا گیا اور پھر واپس نہیں آیا! -

    آپ کا ایک شیئر کسی معصوم کی جان بچا سکتا ہے
     
  7. ‏جنوری 11، 2016 #7
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,955
    موصول شکریہ جات:
    6,503
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    پڑھیے......مگر دل تھام کر دَھپ۔۔۔۔

    "اُف" ۔ ۔ ۔ ۔ یا اللہ۔۔۔ یہ کس نے مجھے اتنی بےدردی سے پھینکا، وہ پتھریلی زمین پر گرا ہوا سوچ رہا تھا، نہ جانے کون اس قدر بے رحم ہو سکتا ہے....! اس نے اپنے ہاتھوں کو ہلانے جُلانے کی کوشش کی، مگر بے سود......
    اس نے چینخنے چلانے کی کوشش کی مگر اس کے منہ سے صرف اوں آں ہی نکل سکا، کیا میری قوتِ گویائی بھی سلب ہوچکی ہے اس نے سوچا، وہ رونے لگا، اس کی آنکھوں سے بھل بھل آنسو گِر رہے تھے.....

    کچھ دیر قبل میں کس قدر آرام میں تھا، نرم گرم ماحول میں خواب اور پُرسکون نیند کے مزے لوٹ رہا تھا، میرے اطراف میں چھاء کس قدر مہربان سی تھی، مگر اچانک ہی کیا ایسا ہوا، کیوں اتنا محبت بھرا رویہ اس قدرر نفرت مین تبدیل ہوگیا، میں کچھ سوچ نہ سکا سمجھ نہ سکا، نہ جانے کیوں ۔ ۔۔

    سو سو سو ۔۔ خر خر ۔۔ بھئو بھئو

    یہ کیا، لگتا ہے کوئی موذی جانور ہے، میں نہ تو ہل سکتا ہوں نہ مزاحمت کر سکتا ہوں، نہ پکار سکتا ہوں، اور نہ ہی مدد کیلئے کسی کو بلا سکتا ہوں، اور اب یہ موذی بلا، نہ جانے کون سا جانور ہے،

    "اف ۔۔۔۔۔ ہائے، کس قدر تکلیف ہورہی ہے، نہ جانے کیوں اس بےرحم جانور نے مجھے یوں بھنبوڑنا شروع کردیا،،، یا اللہ ۔۔۔ میری مدد فرما، تو مجھے اس تکلیف سے نکال لے، یا اللہ

    تکلیف بڑھتی جارہی تھی" وہ سوچنے لگا۔۔۔، شاید اس جانور نے جسم کا کچھ حصہ کاٹ کھایا تھا، خون بھی بہہ رہا ہوگا مگر وہ دیکھ بھی کہاں سکتا تھا، اس پر غنودگی چھانے لگی ۔۔

    "یہ اتنے بہت سے لوگ کہاں سے آگئے، کیا اس میں میری ماں بھی ہوگی؟ کیا وہ بھی دیکھ رہی ہوگی کہ میں کس تکلیف میں ہوں ، یا وہ بےخبر ہوگی"، وہ سوچنے لگا

    کسی نے ایمبولینس کو کال کی، اس کو گاڑی میں ڈالا گیا، ایمبولینس ہسپتال کی جانب دوڑنے لگی ۔۔۔

    "اتنا وقت نہیں ہے میرے پاس، میں جارہا ہوں اے دنیا، میں بدلہ نہ لے سکا، میں ہل نہ سکا، میں مجبور تھا، لاچار تھا، مگر میرا اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے، وہ تمہارے ظلم پر تمہیں پکڑے گا، تمہارے گناہوں کا پورا پورا بدلہ تمہیں دے گا، ہر لمحہ کا حساب۔۔۔ ان شاءاللہ"


    یہ کہانی کس کی ہے؟ نہیں سمجھ آئی؟ دوبارہ پڑھ لیں ۔۔ لیکن رکیں پہلے اخبار کی یہ خبر پڑھ لیں اور پھر کہانی شروع کریں.......!

    "خبر: کراچی کے ایک علاقے میں عقب کی گلی میں ایک نومولد بچے کو گھر کی کسی اوپر کی منزل سے پھینک دیا گیا جہاں ایک کتا اس کو گھسیٹ کر گلی کے کونے پر لایا۔ اہل علاقہ نے یہ منظر دیکھا اور اس بچے کو ہسپتال لے جایا کیا، جانور کے ناخن مارنے اور بالائی منزل سے پھینکے جانے کی وجہ سے حالت نازک تھی ہسپتال لےجاتے لےجاتے وہ بچہ دم توڑ گیا، اس کو کسی قبرستان میں لاوارث کے طور پر دفنا دیا گیا"

    یہ غربت نہ تھی، یہ لاچاری نہ تھی، یہ کسی جھونپڑی کی داستان نہ تھی، یہ گناہ تھا، یہ پارٹی تھی، یا پھر شاید آفٹر پارٹی، ایک روشن خیال مرد اور ایک آزاد خیال عورت کے چند لمحوں کے لطف کا نتیجہ، جس گناہ کو دنیا کی نظر سے چھپانے کیلئے اس نومولود کو یوں تکلیف دے کر مار دیا گیا!

    یہ بتانے کی بھی چنداں ضرورت نہیں کہ یہی وہ طبقہ تھا جو اسلامی سزاؤں کو ظالمانہ کہتا ہے، مگر جو ظلم انہوں نے کیا ، اس کا کیا ؟؟؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں