1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حنفیوں کی معتبر کتاب "ہدایہ" کی احادیث مخالف تعلیمات

'حنفی' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارسلان, ‏فروری 27، 2014۔

  1. ‏فروری 27، 2014 #1
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    السلام علیکم
    حنفیوں کی معتبر کتاب "ہدایہ" جسے حنفی نعوذباللہ ثم نعوذباللہ "کلقرآن" کہتے ہیں۔ اس کا احادیث کی تعلیمات سے کتنا اختلاف ہے ، وہ اس تھریڈ میں ملاحظہ کریں۔
    یہ اقتباس شیخ بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ کے مقالات راشدیہ سے لیا گیا ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏فروری 27، 2014 #2
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
    1: (عن ابي قلابة عن انس من السنة اذا تزوج الرجل البكر علي الثيب اقام عندها سبعا وقسم واذا تزوج الثيب اقام عندها ثلاثا ثم قسم قال ابوقلابة ولو شئت لقلت ان انسا رفعه الي النبي صلي الله عليه وسلم)
    "حضرت ابوقلابہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ ہے کہ دوسری شادی کرنے والا دلہن کے پاس اگر وہ کنواری ہو تو سات دن قیام کرے گا اور اگر وہ بیوہ ہے تو تین دن، پھر دونوں کے لیے باری مقرر کرے گا۔"
    تخريج: صحيح البخاري' كتاب النكاح' باب اذا تزوج الثيب علي البكر رقم الحديث : 5214' صحيح مسلم' كتاب الرضاع' باب قدر ما تستحقه البكر والثيب من اقامة الزوج عقب الزفاف ' رقم الحديث: 1461
    فقہ حنفی
    والقديمة والجديدة سواء. "یعنی اس بارے میں پہلی اور دوسری بیوی تقسیم کے اعتبار سے برابر ہیں۔" (هدايه اولين ج1' كتاب النكاح' باب القسم ص: 349)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
    2: (عن جابر ان النبي صلي الله عليه وسلم قال زكوٰة الجنين زكوٰة امة.)
    "سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مادہ جانور کو ذبح کرنے سے اس کے پیٹ میں موجود بچہ بھی ذبح ہو جاتا ہے۔"(تخريج: ابوداود' كتاب الضهايا' باب ما جاء في زكوٰة الجنين' رقم الحديث: 2868' ترمذي ' ابواب الصيد' باب زكوٰة الجنين عن ابي سعيد' رقم الحديث: 1476)
    فقہ حنفی:
    ومن نحر ناقة او ذبح بقرة فوجد في بطنها جنينا ميتا لم يوكل اشعر او لم يشعر.
    "یعنی جس نے اونٹنی نحر کی یا گائےذبح کی اور اس کے پیٹ میں مرا ہوا بچہ پایا تو وہ بچہ کھانے میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔" (هداية اخرين كتاب الذبائح' ص: 440 ج4)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
    3: (عن جابر ان النبي صلي الله عليه وسلم نهي يوم خيبر عن لحوم الحمر الاهلية واذن في لحول الخيل)
    "سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والے دن پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے روک دیا اور گھوڑے کا گوشت کھانے کی اجازت دی۔"
    تخريج: صحيح بخاري' كتاب المغازي' باب غزوة خيبر' كتاب الذبائح' والصيد' باب لحوم الخيل' رقم الحديث: 4219'552'5524.صحيح المسلم' كتاب الصيد والذبائح وما يوكل من الحيوان' باب اباحة اكل لحم الخيل' رقم الحديث: 1941 واللفظ لمسلم.
    فقہ حنفی:
    ويكره لحم الفرس عند ابي حنيفة.
    "یعنی امام ابو حنیفہ کے نزدیک گھوڑے کا گوشت مکروہ ہے۔" (هداية آخرين ج4 الذبائح ص441)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    4: (عن عائشة رضي الله عنها قالت قال رسول الله صلي الله عليه وسلم من مات وعليه صيام صان عنه وليه)
    "سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مرنے والے پر اگر روزوں کی قضا ہو تو وہ قضا اس کے وارث اس کی طرف سے پوری کریں گے۔"
    تخريج: صحيح بخاري' كتاب الصوم' باب من مار وعليه صوم' رقم الحديث: 1147. صحيح مسلم' كتاب الصيام' باب فضاء الصوم عن البيت. رقم الحديث: 1952)
    فقہ حنفی:
    من مات وعليه قضائ رمضان فاوصي به اطعم عنه وليه لكل يوم نصف صاع من برا ومن تمر او شعير ولا يصوم عنه الولي.
    "یعنی مرنے والے پر اگر رمضان کے روزوں کی قضا ہو اور وہ ان کے بارے میں وصیت کت جائے تو اس کے وارث اس کی طرف سے روزے تو نہیں رکھ سکتے البتہ ہر دن گندم یا کھجور یا جو کا آدھا صاع میت کی طرف سے (مسکینوں کو) کھلا سکتے ہیں۔"(هدايه اولين ج1 كتاب الصوم باب ما يوجب القضاء والكفارة صفحه: 23-222)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    5: (عن ام الفضل قالت ان النبي صلي الله عليه وسلم وقال لا تحرم الرضعة او الرضعتان)
    "سیدہ اُم فضل رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دودھ کی ایک چسکی یا دو چسکیوں سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔"
    تخريج: مسلم' كتاب الرضاع' باب المصة والمصتان' رقم الحديث: 3593
    فقہ حنفی:
    قليل الرضاع وكثيره سواء اذا حصل في مدة الرضاع يتعلق به التحريم.
    "دودھ تھوڑا پیا ہو یا زیادہ، جب رضاعت کی مدت ہو تو اس سے حرمت ثابت ہو جاتی ہے۔"
    هدايه اولين ج٢' كتاب الرضاع صفحه: 350
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    6: (عن عائشة رضي الله عنها عن رسول الله صلي الله عليه وسلم قال لا تقطع يد السارق الا في ربع دينار فصاعدا)
    "سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چور کا ہاتھ دینار کے چوتھے حصے (تین درہم) کے برابر چوری کرنے یا اس سے زیادہ کی چوری کرنے پر کاٹا جائے گا۔"
    تخريج: بخاري' كتاب الحدود' باب قول الله " وَٱلسَّارِ‌قُ وَٱلسَّارِ‌قَةُ فَٱقْطَعُوٓا۟ أَيْدِيَهُمَا " رقم الحديث: 6790' مسلم' كتاب الحدود' باب حد السارق و نصابها. واللفظ لمسلم رقم الحديث: 4400.
    فقہ حنفی:
    واذا سرق العاقل البالغ عشرة دراهم او ما يبلغ قيمه عشرة دراهم مضروبة من حرز لا شبهة فيه وجب عليه القطع.
    "جب عاقل اور بالغ دس درہموں کی چوری کرے گا یا ایسی چیز کی چوری کرے گا جس کی قیمت دس درہم ہے تو اس کا ہاتھ کاٹنا واجب ہے۔" (هداية اولين ج2' كتاب السرقة صفحه: 537)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    7: (عن جابر رضي الله عنه ان رسول الله صلي الله عليه وسلم قال من اعطي في صداق امراته ملا كفيه سويقا او تمرا فقد استحل)
    "سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اپنی بیوی کو حق مہر میں ستو یا کھجور کی دونوں ہتھیلیاں بھر کے دیں تو اس نے اس کو حلال کر لیا۔"
    تخريج: ابوداود' كتاب النكاح' باب قلة المهر' رقم الحديث: 2110.
    فقہ حنفی:
    واقل المهر عشرة دراهم....ولو سمي اقل من عشرة فلها العشر عندنا.
    "حق مہر کم سے کم دس درہم ہے... اور اگر کسی نے دس درہم سے کم حق مہر مقرر کیا تو ہمارے مذہب کے مطابق وہ حق مہر دس درہم ہی ہو گا۔"(هداية اولين ج٢' كتاب النكاح' باب المهر صفحه: 324)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    8: (عن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلم لا يرجع احد في هبته الا والد عن والده)
    "سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی بھی شخص ہبہ کی ہوئی چیز واپس نہیں لے سکتا، مگر والد اپنے بیٹے سے (واپس لے سکتا ہے)۔"
    تخريج: نسائي' كتاب الهبة' باب رجوع الوالد فيما يعطي ولده' ابن ماجه' ابواب الحكام' باب من اعطي ولده ثم رجع فيه' رقم الحديث: 2378
    فقہ حنفی:
    اذا وهب الهبة لاجنبي فله الرجوع منها... بخلاف هبة الوالد لولده.
    "جب ایک آدمی کوئی چیز کسی کو ہبہ کرتا ہے تو وہ واپس لے سکتا ہے مگر والد بیٹے سے نہیں لے سکتا۔"(هدايه آخرين 3' كتاب الهبة' باب ما يصح رجوعه وما لا يصح صفحه" 289)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    9: (عن زيد بن خالد رضي الله عنه قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلم (في صالة الابل) مالك ولها معها سقاءها وحذائها ترد الماء وتاكل الشجر حتي يلقاها ربها)
    "سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (گم شدہ اونٹ) کے بارے میں فرمایا کہ وہ پانی پیتا رہے گا، گھاس کھاتا رہے گا، یہاں تک کہ مالک اسے پا لے گا۔"
    تخريج: بخاري' كتاب القطة' باب اذا لم يوجد صاهب القطة بعد سنة فهي لمن جدها' رقم الحديث: 2429. مسلم' كتاب القطة' رقم الحديث: 1822.
    فقہ حنفی:
    ويجوز التقاط في الشاة وانبقرة والبعير.
    "یعنی گم شدہ بکری گائے اور اونٹ لے لینا جائز ہے۔" (هداية اولين' كتاب اللقطة' ج٢' ص615)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاجزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد ان کو غسل دینے کے ذکر میں ہے:
    10: (فضفرنا شعرها ثلاثة قرون فالقينا خلفا)
    "ہم اس نے اس کے بالوں کی تین چوٹیاں بنا کر پیچھے کی طرف ڈال دیں۔"
    تخريج: بخاري' كتاب الجنائز' باب يلقي شعر المراة خلفها ثلاثة قرون. رقم الحديث: 1263' واللفظ له' مسلم' كتاب الجنائز' باب في مشط شعر النساء ثلاثة قرون.
    فقہ حنفی:
    يجعل شعرها ضفرتين علي صدرها.
    "عورت (میت) کے بالوں کی دو چوٹیاں بنا کر سینے کی طرف ڈال دی جائیں گی۔"(هدايه اولين' ج1' كتاب الصلوة' باب الجنائز فصل التكفين صفحه 179.)
     
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  3. ‏فروری 27، 2014 #3
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
    11: (عن عبدالله بن زيد قال خرج رسول الله صلي الله عليه وسلم بالناس الي المصلي ليستقي فصلي بهم ركعتين جهر فيهما بالقراءة واستقبل والقبلة يدعوا ورفع يديه وحول رداءه حين استقبل القبلة)
    "سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز استسقاء کے لیے لوگوں کے ساتھ عید گاہ کی طرف نکلے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھائی، جس میں جہری قراءت فرمائی پھر قبلے کی طرف رخ کیا اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور چادر کو پلٹا۔"
    تخريج: صحيح البخاري' كتاب الاستسقاء' باب كيف حول النبي صلي الله عليه وسلم ظهره الي الناس رقم الحديث: 980 باختلاف يسير' مسند احمد: ج6' ص39' رقم 16484. جامع ترمذي' رقم الحديث: 556.
    فقہ حنفی:
    قال ابوحنيفة ليس في الاستسقاء صلاة مسنونة في جماعة فان صلي الناس وحدانا جاز.
    "ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ استسقاء میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا مسنون نہیں ہے، ہاں اگر لوگ اکیلے نماز پڑھ لیں تو جائز ہے۔" (هدايه اولين ج1' كتاب الصلاة' باب الاستسقاء صفحه : 176)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    12: (عن جابر قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلم وهو يخطب اذا جاء احدكم يوم الجمعة والامام يخطب فليركع ركعتين وليتجوز فيهما)
    "سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جمعہ کے دن جب امام خطبہ دے رہا ہو اور تم میں سے کوئی ایک آئے تو اس کو چاہیے کہ دو رکعتیں مختصرا پڑھ لے۔"
    تخريج: مسلم' كتاب الجمعة' باب من دخل المسجد والامام يخطب او خرج....رقم الحديث: 2024.
    فقہ حنفی:
    اذا خرج الامام يوم الجمعة ترك الناس الصلاة والكلام حتي يفرغ من خطبة.
    "جمعہ کے دن جب امام نماز جمعہ کے لیے نکلے تو لوگوں کو نماز اور کلام ترک کر دینا چاہیے۔"(هدايه اولين' ج1' كتاب الصلاة' باب الجمعة صفحه: 171)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    13: (عن ابن عمر رضي الله عنه قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلم صلوٰة الليل مثني مثني فاذا خشي احدكم الصبح صلي ركعة واحدة توتر له ما قد صلي.)
    "سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات کی نماز دو دو رکعتیں ہیں جب صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت نماز پڑھ لے (یہ ایک رکعت) اس کی پوری نماز کے لیے وتر ہو جائے گی۔"
    تخريج: بخاري' ابواب الوتر' باب ما جاء في الوتر صفحه: 135' رقم الحديث: 990.
    فقہ حنفی:
    الوتر ثلاث ركعات.
    "وتر تین رکعتیں ہی ہے۔" (هدايه اولين ج1' كتاب الصلوة الوتر صفحه: 144)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    14: (عن عائشه رضي الله عنها قالت ان الشمس خسفت علي عهد رسول الله صلي الله عليه وسلم فبعث مناديا الصلاة جامعة فتقدم وصلي اربع ركعات في ركعتين و اربع سجدات)
    "سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں جب سورج گرہن ہوا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کرا کے دو رکعتیں نماز پڑھائی۔ ہر ایک رکعت میں دو دو رکوع کیے۔"
    تخريج: بخاري' ابواب الكسوف' باب الجهر بالقراءة في الكسوف' رقم الحديث: 1066. مسلم' كتاب الكسوف' فصل صلوة الكسوف ركعتان باربع ركعات' رقم الحديث: 2089 واللفظ للبخاري.
    فقہ حنفی:
    اذا تكسف الشمس صلي الامام بالناس ركعتين كهئية النافله في كل ركعةركوع واحد.
    "جب سورج گرہن ہو جائے تو امام لوگوں کو عام نفلی نماز کی طرح دو رکعتیں پڑھائے، وہ ہر رکعت میں ایک رکوع کرے۔" (هدايه اولين ج1' كتاب الصلوة' باب صلوة الكسوف ص: 175)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    15: (عن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه ان النبي صلي الله عليه وسلم قال ليس في حب وال تمر صدقة حتي يبلغ خمسة او سق)
    "سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دانے اور کھجور جب تک پانچ وسق تک نہیں پہنچ جاتے تب تک ان میں زکوٰة نہیں۔"
    تخريج: نسائي' كتاب الزكوة' باب زكوة لحبوب' رقم الحديث: 2487.
    فقہ حنفی:
    قال ابوحنيفة في قليل ما اخرجته الارض وكثيره العشر سواء سقي سيحا او سقته السماء الا القصب والحطب والحشيش.
    "امام ابو حنیفہ نے فرمایا سر کنڈے اور گھاس کے علاوہ زمین کی ہر پیداوار پر وہ کم ہو یا زیادہ زکوٰة ہے۔" (هدايه اولين ج1' كتاب الزكاة' باب زكوة الزروع والثمار صفحه: 201.)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    16: (عن مالك بن الحويرث الليثي انه راي النبي صلي الله عليه وسلم يصلي فاذا كان في وتر من صلوته لم ينهض حتي يستوي قاعدا)
    "سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم طاق رکعت میں ہوتے تو سیدھے بیٹھ جانے کے بعد کھڑے ہوتے، یعنی پہلی اور تیسری رکعت کے بعد سیدھے ہو کر بیٹھتے، پھر دوسری اور چوتھی رکعت کے لیے کھڑے ہوتے۔"
    تخريج: بخاري' كتاب الاذان' باب من استوي قاعدا في وتر من صلوته ثم نهض' رقم الحديث: 823.
    فقہ حنفی:
    واستوي قائما علي صدر قدميه ولا يقعد ولا يعتمد بيده علي الارض.
    "اور اپنے پاؤں پر سیدھا کھڑا ہو جائے نہ بیٹھے اور نہ اپنے ہاتھ زمین پر ٹپکے۔"(هدايه اولين' ج1' كتاب الصلوة' باب صفة الصلوٰة صفحه: 110)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    17: (عن ابي محذورة رضي الله عنه قال القي علي رسول الله صلي الله عليه وسلم التاذين هو بنفسه (وفيه) ثم تعود فتقول الخ)
    "سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ترجیع والی (دوہری) اذان سکھلائی۔"
    نوٹ... اذان میں شھادتین کے کلمات پہلے دو دو مرتبہ دھیمی (آہستہ) آواز سے کہنا پھر دوبارہ دو دو مرتبہ بلند آواز سے کہنا ترجیع کہلاتا ہے۔
    تخريج: سنن ابي داود' كتاب الصلوة' باب كيف الاذان' رقم الحديث: 503 وسنن نسائي ' كتاب الاذان' باب كيف الاذان' رقم الحديث: 633' وسنن ابن ماجه' باب الترجيح في الاذان' رقم الحديث: 708.
    فقہ حنفی:
    الاذان سنة للصلوة الخمس والجمعة لا سواها ولا ترجيع فيه.
    "اذان پانچ نمازوں اور جمعہ کے لیے سنت ہے اور اس میں ترجیح (دوہری اذان) نہیں ہے۔" (هدايه اولين ج1' كتاب الصلاة' باب الاذان صفحه: 87)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    18: (عن مغيرة بن شعبة رضي الله عنه ان النبي صلي الله عليه وسلم توضا فسمح بناصيته وعلي العمامة والخفين)
    "سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرتے وقت اپنی پیشانی، پگڑی اور موزوں پر مسح کیا۔"
    تخريج: مسلم' كتاب الطهارة' باب مسح علي الخفين' رقم الحديث: 626.
    فقہ حنفی
    ولا يجوز المسح علي العمامة.
    "پگڑی پر مسح کرنا جائز نہیں ہے۔" (هدايه اولين' كتاب الطهارة' باب المسح علي الخفين صفحه: 61)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
    19: (عن عمر رضي الله عنه في حديثه ضرب النبي صلي الله عليه وسلم بكفيه الارض ونفخ فيهما ثم مسح بهما وجهه وكفيه)
    "سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو زمین پر مارا پھر ان دونوں میں پھونک ماری، پھر ان دونوں کے ذریعے سے اپنے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں پر مسح کیا۔"
    تخريج: بخاري' كتاب التيمم' باب هل يفخ في يديه بعدما يضرب بهما الصعيد للتيمم' رقم الحديث: 338. مسلم' كتاب الحيض' باب التيمم' رقم الحديث: 368. واللفظ للبخاري
    فقہ حنفی:
    (والتيمم صربتان يمسح باحداهما وجهه وبالاخري يديه الي المرفقين)
    "تیمم کے لیے دو ضربیں ہیں (یعنی اپنے ہاتھوں کو زمین پر دو بار مارنا) ایک بار چہرے پر مسح کرنے کے لیے اور دوسری بار دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک کے لیے۔" (هدايه ج1' اولين' كتاب الطهارة' باب التيمم' صفحه: 50)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    20: (عن عبدالله بن المغفل رضي الله عنه قال قال النبي صلي الله عليه وسلم صلوا قبل المغرب ركعتين صلوا قبل المغرب ركعتين ثم قال في الثالثة لمن شاء كراهية ان يتخذها الناس سنة.)
    "سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا: "مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھا کرو، تیسری بار فرمایا: "جس کا دل چاہے"، یہ اس لیے فرمایا کہ کہیں لوگ اسے سنت (موکدہ) نہ بنا لیں۔"
    تخريج: صحيح بخاري' كتاب التهجد' باب الصلاة قبل المغرب' رقم الحديث نمبر 1183. صحيح مسلم ' كتاب فضائل القرآن. باب بين كل اذانين صلاة حديث نمبر: 838.
    فقہ حنفی
    ولا يتنفل بعد الحروب قبل الفرض.
    "سورج کے غروب ہو جانے کے بعد فرض نماز سے پہلے نفلی نماز نہیں پڑھی جا سکتی۔"(هدايه اولين ج1' كتاب الصلوة' باب المواقيت فضل في الاوقات التي تكره فيها الصلاة صفحه: 86)
     
    • پسند پسند x 2
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  4. ‏فروری 27، 2014 #4
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    21: (عن ابي هريرة رضي الله عنه ان رسول الله صلي الله عليه وسلم نعي النجاشي في اليوم الذي مات فيه وخرج بهم الي المصلي فصف بهم وكبر عليه اربع تكبيرات)
    "سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس دن نجاشی کا انتقال ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی موت کی خبر سنائی اور عید گاہ کی طرف نکلے، صفیں بنائی گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار تکبیرات کہیں۔"
    تخريج: بخاري' كتاب الجنائز' باب التكبير علي الجنازة اربعا' رقم الحديث: 1333' ايضا' باب الرجل ينعي الي اهل الميت بنفسه. مسلم' كتاب الجنائز' باب في التكبير علي الجنازة' رقم الحديث: 2204' واللفظ للبخاري.
    فقہ حنفی:
    فلا تصح علي غائب. "غائبانہ نماز جنازہ پڑھنا صحیح نہیں ہے۔"(الدرالمختار ' باب صلاة الجنائز ج2' ص209' طبع دارالفكر بيروت.)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    22: (امر بلال رضي الله عنه ان يشفع الاذان ويوتر الاقامة)
    "سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا تھا کہ اذان کے کلمات دو د مرتبہ کہیں اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہیں۔"
    تخريج: بخاري' كتاب الاذان' باب الاذان مثني مثني' رقم الحديث: 605'606'مسلم' كتاب الصلوة' باب الامر' يشفع الاذان' الخ' رقم الحديث: 838.
    فقہ حنفی:
    "والاقامة مثل الاذان انه يزيد فيها بعد الفلاح قد قامت الصلاة مرتين."
    "اقامت اذان ہی کی طرح ہے، یہ فرق ہے کہ اقامت میں "حی علی الفلاح" کے بعد دو مرتبہ "قد قامت الصلاة" کہتے ہیں۔" (هدايه اولين ج1' كتاب الصلوة' باب الاذان' صفحه: 87)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    23: عن انس رضي الله عنه ان النبي صلي الله عليه وسلم سئل عن الخمر تتخذ خلا فقال لا)
    "سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب کے بارے میں پوچھا گیا کہ اس سے سرکہ بنایا جا سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔"
    تخريج: مسلم ج٢' كتاب الاشربة' باب تحريم تخليل الخصر الخ صفحه: 163' رقم الحديث: 5140.
    فقہ حنفی:
    "واذا تخللت الخمر حلت سواء صارت خلا بنفسها او شئي ء يطرح فيها ولا يكره تخليلها.
    "شراب کا سرکہ بنایا جا سکتا ہے، برابر ہے وہ سرکہ نفس شراب سے بنایا جائے یا اس کی کوئی چیز ڈال کر سرکہ بنایا جائے، اس میں کراہت نہیں۔" (هداية خيرين ج4' كتاب الاشربة' صفحه: 499)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    24: (عن ابن عمر رضي الله عنه قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلم اذا استاذنت امراة احدكم الي المسجد فلا يمنعها.)
    "ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کی بیوی مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت طلب کرے تو اسے منع نہ کرو۔"
    تخريج: صحيح بخاري' كتاب الاذان' باب استئذان المراة زوجها في الخروج الي المسجد' رقم الحديث: 873' صحيح مسلم' كتاب الصلوة' باب خروج النساء الي المساجد رقم الحديث: 183.
    فقہ حنفی:
    يكره لهن حضور الجماعات ولا باس للعجوز ان تخرج في الفجر والمغرب والعشاء.
    "یعنی عورتوں کا جماعت ساتھ نماز پڑھنے کے لیے مسجد جانا مکروہ ہے، مگر بوڑھی عورت فجر، مغرب اور عشاء پڑھنے کے لیے جائے تو کوئی حرج نہیں۔" (هدايه اولين ج1' كتاب الصلوة' باب الامامة' صفحه: 126)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    25: (عن ابن عباس رضي الله عنه ان رسول الله صلي الله عليه وسلم قال ان الله تجاوز عن امتي الخطا والنسيان وما استكرهوا عليه)
    "سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت سے خطا بھول اور وہ کام جو اس سے زبردستی کروایا گیا ہو معاف کر دیے ہیں۔"
    تخريج: سنن ابن ماجه' كتاب الطلاق' باب طلاق المكره والناسي رقم الحديث: 2043' 2045. رواه البيهقي في كتاب الاقرار' باب من لا يجوز اقراره' رقم الحديث: 11232.
    فقہ حنفی:
    ومن تكلم في صلوة عامدا او ساهيا بطلت صلوته.
    "جس نے دوران نماز جان بوجھ کر یا بھول کر بات چیت کر لی، اس کی نماز باطل ہو گئی۔" (هدايه اولين ج1' كتاب الصلوة' باب ما يفسد الصلوة' صفحه: 134)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    26: (عن سمرة بن جندب رضي الله عنه قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلم من قتلل عبده قتلناه ومن جدع عبده جدعناه)
    "سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اپنے غلام کو قتل کیا، ہم اس کو قتل کریں گے اور جس نے اپنے غلام کا کوئی عضو کاٹا، ہم اس کا عضو کاٹیں گے۔"
    تخريج: ترمذي' ابواب الديات' باب ماجاء في الرجل يقتل عبده' رقم الحديث: 1414' ابوداود' كتاب الديات' باب من قتل عبده او مثل به ايقاد منه' رقم الحديث: 4515. ابن ماجه ابواب اليات' باب هل يقتل الحر بالعبد' رقم الحديث: 2663. سنن النسائي' كتاب القسامُ والقعود والديات باب القود من السيد للمولي' رقم الحديث: 4742'4757.
    فقہ حنفی:
    ولا يقتل الرجل بعبده. "کسی آدمی کو اس کے غلام کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا۔" (هدايه آخرين ج4' كتاب الجنايات' باب ما يوجب القصاص ' صفحه: 563)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    27: (عن ابي مسعود الانصاري رضي الله عنه ان رسول الله صلي الله عليه وسلم نهي عن ثمن الكلب ومهر البغي وحلوان الكاهن)
    "سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت اور زنا کی اجرت اور نجومی کا منہ میٹھا کرانے سے منع فرمایا۔"
    تخريج: بخاري' كتاب البيوع' باب ثمن الكلب' رقم الحديث: 2237' مسلم' كتاب المساقاة والمزارعة' باب تحريم ثمن الكلب وحلوان الكاهن ومهر البغي والنهي عن بيع السنور رقم الحديث: 4009.
    فقہ حنفی:
    يجوز بيع الكلب والفهد والسباع. "کتے، چیتے اور دوسرے درندوں کی تجارت کرنا جائز ہے۔" (هدايه آخرين ج3' كتاب البيوع مسائل منثورة ص101)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    28: (عن ابي سلمة بن عبدالرحمن ان عائشة لما توفي سعد بن ابي الوقاص قالت ادخلوا به المسجد حتي اصلي عليه فانكر ذلك عليها فقالت والله لقد صلي رسول الله صلي الله عليه وسلم علي ابني بيضاء في المسجد سهيل و اخيه)
    "سیدنا ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا اس (کی میت) کو مسجد میں لے آؤ، تاکہ میں بھی اس کی نماز جنازہ پڑھ سکوں تو ان کی اس بات کا انکار کیا یا، تب انہوں نے کہا اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیضاء کے دونوں بیٹوں سہیل اور اس کے بھائی کی نماز جنازہ مسجد میں پڑھائی تھی۔"
    تخريج: مسلم' كتاب الجنائز' فصل في جواز الصلاة علي الميت في المسجد' رقم الحديث: 2254.
    فقہ حنفی
    ولا يصلي علي ميت في مسجد جماعة. "میت پر مسجد میں نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔"
    (هدايه اولين ج1' كتاب الصلاة' باب الجنائز' فضل في الصلاة علي الميت صفحه: 180)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    29: (عن علي عن النبي صلي الله عليه وسلم قال الا لا يقتل مسلم بكافر)
    سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کافر کے عوض مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا۔"
    تخريج: ابوداود' كتاب الديات' باب ايقاد المسلم من الكافر' رقم الحديث: 4530' نسائي' كتاب القسامة والقود والديات' باب سقوط القود من المسلم للكافر' رقم الحديث: 4739-4738 واللفظ لابي داود.
    فقہ حنفی:
    والمسلم بالذمي...الخ "مسلمان اور ذمی کافر کی دیت برابر ہے۔" (هدايه آخرين ج4' كتاب الديات' صفحه: 562)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    30: (عن ام عطية رضي الله عنها امرنا ان نخرج الحيض يوم العيدين والذوات الخدور فيشهدن جماعة المسلمين ودعوتهم ويعتزل الحيض عن مصلاهن)
    "سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم عورتوں کو بھی نماز عید پڑھنے کے لیے عید گاہ کی طرف جانے کا حکم دیا۔ حائضہ عورتوں کے لیے یہ حکم تھا کہ وہ عید گاہ سے دور رہ کر مسلمانوں کی دعاؤں میں شریک رہیں۔"
    تخريج: رواه البخاري' في كتاب الصلوة' باب وجوب الصلوة في التياب رقم الحديث: 351' رواه المسلم في كتاب صرحاة العيدين' باب ذكر اباحة خروج النساء في العيدين رقم الحديث: 2054.
    فقہ حنفی:
    ويكره لهن حضور الجماعات.
    "عورتوں کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں جانا مکروہ ہے۔" (هدايه اولين ج1' كتاب الصلاة' باب الامامة ' صفحه: 126)
     
    • پسند پسند x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  5. ‏فروری 27، 2014 #5
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    31: (عن انس رضي الله عنه ان يهوديا رض راس جارية بين حجرين فقيل لها من فعل بك هذا افلان افلان؟ حتي سمي اليهودي فاومت براسها فجي ء باليهودي فاعترف فامر به رسول الله صلي الله عليه وسلم فرض راسه بالحجارة)
    "سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ایک بچی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا تو اس بچی کو کہا گیا، تیرا یہ حال کس نے کیا، کیا فلاں نے؟ کیا فلاں نے؟ یہاں تک کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے سر کے اشارے سے ہاں کہا، پھر اس یہودی کو لایا گیا تو اس نے اعتراف بھی کر لیا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سر کو بھی پتھر کے ساتھ کچلنے کا حکم دیا۔"
    تخريج: بخاري' كتاب الديات' باب اذا اقربا بالقتل مرة قتل به واللفظ له' رقم لحديث: 4886. مسلم' كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات' باب ثبوت القصاص في القتل بالحجر' رقم الحديث: 4361.
    فقہ حنفی:
    ولا يستو في القصاص الا بالسيف.
    یعنی "قصاص تلوار ہی سے لیا جائے گا، کسی دوسری چیز سے نہیں لیا جائے گا۔" (هدايه آخرين ج4' كتاب الجنايات' باب ما يوجب القصاص ' صفحه 563)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    32: (عن كثيرا ابن عبدالله عن ابيه عن جده ان النبي صلي الله عليه وسلم كبر في العيدين في الاولي سبعا قبل القراءة وفي الاخرة خمسا قبل القراءة)
    "بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں پہلی رکعت میں قراءت سے پہلے سات تکبیرات اور دوسری رکعت میں قراءت سے پہلے پانچ تکبیرات کہتے تھے۔"
    تخريج: ترمذي' اباب العيدين' باب في التكبير في العيدين' رقم الحديث: 536' وابن ماجه' ما جاء في صلوة العيدين' باب ماجاء في كم يكبر الامام في صلوة العيدين' رقم الحديث: 1279.
    فقہ حنفی:
    يكبر في الاولي للافتتاح وثلاثا بعدها ثم يقرا الفاتحة وسورة ويكبر تكبيرة يركع بها ثم يبتدي في الركعة الثانية بالقراءة ثم يكبر ثلاثا بعدها ويكبر رابعة يركع بها.
    "پہلی رکعت میں نماز کے لیے آغاز کے لیے تکبیر کہی جائے گی اور اس کے بعد تین تکبیریں کہی جائیں گی، پھر سورہ فاتحہ اور دوسری کوئی سورت پڑھی جائے گی، پھر رکوع کے لیے تکبیر کہی جائے گی، پھر دوسری رکعت کا قراءت سے آغاز کیا جائے گا، پھر اس کے بعد تین تکبیریں کہی جائیں گی اور چوتھی تکبیر رکوع کے لیے کہی جائے گی۔" (جدايه اولين ج1' كتاب الصلاة' باب العيدين' صفحه 173)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    33: (عن ابي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلم عامة عذاب القبر من البول)
    "سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عام طور پر قبر کا عذاب پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔"
    تخريج: رواه الحاكم في مشتدرك عن ابن عباس رفعه الي النبي صلي الله عليه وسلم قال عامة عذاب القبر من البول رقم الحديث: 654' جلد 1 صفحه 293 طبع دار الكتب العلميه بيروت' سنن الدارقطني عن ابي هريرة ج١1 صفحه: 128' رقم 8 طبع دار المعرفة بيروت.
    فقہ حنفی:
    فان انتضح عليه البول مثل روس الابر فذالك ليس بشئي ءوقدر الدرهم وما دونه من النجس المغلظ كالدم والبول والخصر وحزء الدجاج وبول الحمار جازت الصلوٰة معه.
    "سوئی کے سر کے برابر اگر پیشاب کے قطرے لگے ہوئے ہیں تو کوئی حرج نہیں... اگر درہم کے برابر سخت نجاست مثلا پیشاب ، شراب، مرغ کی بِیٹ یا گدھے کا پیشاب لگا ہوا ہو تو نماز درست ہے۔" (هدايه اولين ج1' كتاب الطهارات' باب الانجاس وتطهيرها ' صفحه: 74'77)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    34: (عن جبير بن معطم رضي الله عنه قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلم ايام التشريق كلها ايام ذبح)
    "سیدنا جبیر بن معطم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تشریق کے تمام دن (یعنی 11،12،13 ذوالحجہ) قربانی کے دن ہیں۔"
    تخريج: مسند احمد: ج4' صفحه: 82 رقم الحديث: 6797'16798' صحيح ابن حبان مع الاحسان 3843' سنن دار قطني 4671 تا 4673' سنن الكبري للبيهقي ج9 صفحه: 295'296 رقم الحديث: 24'25'19026' سلسلة الاحاديث الصحيحة للالباني ج5 ص617 رقم الحديث: 2476 وثق رجاله الحافظ في فتح الباري ج10ص8.
    فقہ حنفی:
    وهي جائزة في ثلاثة ايام يوم النحر ويومان بعده.
    "اور یہ (قربانی) جائز ہے تین دنوں میں دس تاریخ کو اور اس کے بعد دو دن۔"
    (یعنی دس، گیارہ اور بارہ ذوالحجہ) (هدايه آخرين ج4' كتاب الاضحية' صفحه: 446)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    35: (عن عبدالله بن عمران رضي الله عنه ان رسول الله صلي الله عليه وسلم دفع الي يهود نخل خيبر وارضها علي ان يعتملوها من اموالهم ولرسول الله صلي الله عليه وسلم شطر ثمرها)
    "سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہود کو خیبر کی کھجور اور اس کی زمین آدھی بٹائی پر آباد کرنے کے لیے دی اس شرط پر کہ وہ اس کو اپنے مال سے آباد کریں گے۔"
    فقہ حنفی:
    قال ابوحنيفة المزارعة بالثلث والربع باطلة.
    "امام ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ تہائی یا چوتھائی پر کھیتی بٹائی پر دینا باطل ہے۔" (هدايه آخرين ج4' كتاب المزارعه ص: 424)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    36: (عن انس رضي الله عنه قال استخلف رسول الله صلي الله عليه وسلم ابن ام مكتوم يؤم الناس وهو اعمي)
    "سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی عدم موجودگی میں) ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا تھا وہ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے اور وہ نابینا تھے۔"
    تخريج: ابوداود' كتاب الصلوة' باب امامة الاعمي' رقم الحديث: 595.
    فقہ حنفی:
    فيكره تقديم العبا والاعرابي والفاسق والاعمي وولد الزنا.
    "غلام، دیہاتی، فاسق، نابینے اور ولد الزنا کو امامت کے لیے آگے کھڑا کرنا مکروہ ہے۔"
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    37: (عن ابن عمر رضي الله عنه قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلم كل مسكر خمر وكل مسكر حرام)
    "سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نشہ دینے والی چیز شراب ہے اور ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے۔"
    تخريج: مسلم ' كتاب الاسربه' باب بيان ان كل و مسكر خمر الخ' رقم الحديث: 5219
    ایک دوسری حدیث میں ہے:
    (قال رسول الله صلي الله عليه وسلم ان من الحنطة خمرا او من الشعير خمرا ومن التمر خمرا ومن الزنيب خمرا ومن العسل خمرا)
    "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گندم، جو، کھجور، انگور اور شہد سے کشید کی گئی چیز شراب ہی ہے۔"
    تخريج: ترمذي ' كتاب الاشربه' باب ما جاء في الحبوب التي يتخذ منها الخمر' رقم الحديث: 1872 واللفظ له' ابوداود' كتاب الاشربه' باب الخمر من ما هي' رقم الحديث: 3676.
    فقہ حنفی:
    ان ما يتخذ من الحنطة والشعير والعسل والذرة حلال عند ابي حنيفة ولا يحد شاربه وان سكر منه.
    "گندم، جو شہد، اور جوار سے شراب بنانا ابوحنیفہ کے نزدیک حلال ہے اور اس کے پینے والے پر اگرچہ اس کو نشہ ہی کیوں نہ ہو کوئی حد نہیں قائم کی جائے گی۔" (هدايه آخرين ج4' كتاب الاشربة ' صفحه : 496)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    38: (عن ابي المليح بن اسامه عن ابيه عن النبي صلي الله عليه وسلم نهي عن جلود السباع)
    "سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کے چمڑے استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔"
    تخريج: ابوداود' كتاب اللباس' باب في جلود النمور والسباع ' رقم الحديث: 4132' نسائي' كتاب الفرع والعتيرة' باب النهي عن الانتفاع بجلود السباع' رقم الحديث: 4258' مسند احمد' رقم الحديث: 20725'20731.
    فقہ حنفی:
    كل اهاب زبغت فقد طهر وجازت الصلوة فيه والوضوء منه الا جلد الخنزير والادمي.
    "ہر چمڑا دباغت کے بعد پاک ہو جاتا ہے، اس میں نماز پڑھنا یا اس سے وضو کرنا جائز ہے مگر خنزیر اور انسان کا چمڑا پاک نہیں ہوتا۔" (هداية اولين كتاب الطهارة' باب الماء الذي يجوز به الوضوء وما لا يجوز به' صفحه: 40)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    39: (عن جابر رضي الله عنه قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلم ما اسكر كثيرة فقليله حرام)
    "سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو چیز زیادہ مقدار میں نشہ آور ہو اس کی کم مقدار بھی حرام ہے۔"
    تخريج: ترمذي' ابواب الاشربة' باب ماجاء ما اسكر كثيرة فقليله حرام' رقم الحديث: 1565' ابن ماجه' كتاب الاشربه' باب ما اسكر كثيره فقليله حرام' رقم الحديث: 92'93'3394.
    فقہ حنفی:
    ولان المفسد هو القدح المسكر وهو حرام عندنا.
    "ہمارے (احناف) کے نزدیک وہ شراب کا پیالہ حرام ہے، جس سے نشہ ہوتا ہے۔" (هدايه آخرين 4' كتاب الاشربة' صفحه: 497)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    40: (عن ابي موسي عن النبي صلي الله عليه وسلم قال لا نكاح الا بولي)
    "سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔"
    تخريج: ابوداود' كتاب النكاح' باب في الولي صفحه: 291' رقم الحديث: 2085' ترمذي ج1' كتاب النكاح' باب ما جاء "لا نكاح الا بولي" رقم الحديث: 1101' ابن ماجه' كتاب النكاح' باب لا نكاح الا بولي' رقم الحديث: 1881.
    فقہ حنفی:
    وينعقد نكاح الحرة العاقلة البالغة برضاءها وان لم يعقد عليها ولي بكرا او ثيبا.
    "آزاد، عاقلہ، بالغہ عورت کا نکاح اس کی رضا مندی سے ولی کے بغیر ہو جائے گا وہ کنواری یا بیوہ۔" (هدايه اولين ج2' كتاب النكاح' باب في الاولياء والاكفاء' صفحه: 313)
     
    • پسند پسند x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  6. ‏فروری 27، 2014 #6
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    41: (عن ابي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلم اذا شرب الكلب في اناء احدكم فليغسله سبع مرات)
    "سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تم میں سے کسی ایک کے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو آدمی کو چاہیے کہ برتن کو سات بار دھوئے۔"
    تخريج: بخاري' كتاب الوضوء' باب اذا شرب الكلب في الاناء' رقم الحديث: 182' مسلم' كتاب الطهارة' باب حكم الولوغ الكلب' رقم الحديث: 650.
    فقہ حنفی:
    يغسل الاناء من ولغه ثلاثا.
    "کتے کے منہ ڈالنے کی وجہ سے برتن کو تین بار دھویا جائے گا۔" (هدايه اولين ج1' كتاب الطهارة' باب الماء الذي يجوز به الوضوء وما لا يجوز به' صفحه: 48)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    (انما الاعمال بالنيات) "اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔"
    تخريج: بخاري' كتاب العلم' باب كيف كان بد الوحي الي رسول الله صلي الله عليه وسلم' حديث نمبر 1' مسلم' كتاب الامارة' باب قوله انما الاعمال بالنية' رقم الحديث: 1907.
    فقہ حنفی:
    ولا يشترط نية التيمم للحدث او لجنابة هو الصحيح من المذهب.
    "حنفی مذہب کے مطابق صحیح فیصلہ یہ ہے کہ تیمم کے لیے نیت شرط نہیں ہے۔ وہ تیمم بے وضو ہونے کی وجہ سے ہو یا جنابت کی وجہ سے۔" (هدايه اولين ج1' كتاب الطهارة' باب التيمم' ص51)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    43: (عن جابر رضي الله عنه قال قال صلي الله عليه وسلم الغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء الزرع.)
    "سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موسیقی دل میں اس طرح نفاق پیدا کرتی ہے، جس طرح پانی کھیتی کو اگاتا ہے۔"
    تخريج: السنن الكبري للبيهقي ج10 ص223' رقم الحديث: 20796' طبع مكتبه دارالباز مكة المكرمة عن ابن مسعود' في شعب الايمان' رقم الحديث: 5101'4/279' طبع دار الكتب العلميه بيروت' ابوداود: 4927 باختصار.
    اور دوسری حدیث میں یہ تصریح ہے کہ جس موقع پر گانا بجانا ہو تو وہ دعوت قبول نہ کی جائے ارشاد ہے:
    (واجب دعوة من دعاك من المسلمين ما لم يظهر والمعازف فاذا اظهر واالمعازف فلا تجبهم)
    "جو بھی مسلمان تمہیں دعوت دے اگر وہاں گانا بجانا نہ ہو تو دعوت قبول کرو اور اگر گانا بجانا (موسیقی) ہو تو اس کی دعوت قبول نہ کرو۔" (رواه الدارقطني من حديث ابن مسعود' مجمع الزوائد' ج4 ص417)
    فقہ حنفی:
    من دعا الي وليمة او طوام فوجد ثمة لعبا او غناء فلا باس يقعد و ياكل وقال ابوحنيفة ابتليت بهذا مرة فصبرت.
    "کسی شخص کو ولیمے یا کھانے کی دعوت دی جائے اور وہاں موسیقی اور گانا بجانا ہو تو اس شخص کے وہاں بیٹھنے اور کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ ابوحنیفہ نے کہا، ایک بار مجھ پر یہ آزمائش آئی تھی تو میں نے صبر کیا۔" (هدايه آخرين ج4' كتاب الكراهيه' فصل في الاكل والشرب' صفحه: 455)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    44: (عن ابي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلي الله عليه وسلم الا لا يحج بعد العام مشرك ولا يطوف بالبيت عريان)
    "سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، خبردار اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کر سکے گا اور نہ برہنہ حالت میں بیت اللہ کا طواف ہی کر سکے گا۔"
    قرآن پاک میں بھی ہے:
    يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِنَّمَا ٱلْمُشْرِ‌كُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَ‌بُوا۟ ٱلْمَسْجِدَ ٱلْحَرَ‌امَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَـٰذَا ۚ (التوبة: 28)
    "بے شک مشرک نجس ہیں، سو وہ مسجد حرام کے قریب بھی نہ جائیں۔"
    تخريج: بخاري' كتاب الحج' باب لا يطوف بالبيت عريان ولا يحج مشرك' رقم الحديث: 1622 واللفظ له' مسلم' كتاب الحج' باب لا يحج البيت مشرك ولا يطوف بالبيت عريان الخ' رقم الحديث: 1347.
    فقہ حنفی:
    لا باس بان يدخل اهل ذلذمة المسجد الحرام.
    "ذمی کافر کے بیت اللہ میں داخل ہونے میں کوئی حرج نہیں۔" (هدايه آخرين ج4' كتاب الكراهيه مسائل متفرقه' صفحه: 474)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    45: (عن ابن عمر رضي الله عنه قال نهي رسول الله صلي الله عليه وسلم ان يصلي فوق ظهر بيت الله)
    "سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کی چھت پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔"
    تخريج: ترمذي' ابواب الصلوة' باب ما جاء في كراهية ما يصلي اليه وفيه' رقم الحديث: 346 واللفظ له' ابن ماجه' باب مواضع التي تكره فيها الصلاة' رقم الحديث: 746'747.
    فقہ حنفی:
    من صلي علي ظهر الكعبة جازت فصلوته.
    "جس آدمی نے بیت اللہ کی چھت پر نماز پڑھی تو اس کی نماز جائز ہے۔" (هدايه اولين ج1' كتاب الصلوة' باب الصلاة في الكعبة' صفحه: 185)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    46: (عن ابن عباس رضي الله عنه ان رسول الله صلي الله عليه وسلم قضي بيمين و شاهد)
    "سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی کے ایک گواہ اور قسم پر فیصلہ کیا۔ (یعنی دوسرے گواہ کے عوض اس سے قسم لی)
    تخريج: مسلم' كتاب الاقضية' باب وجوب الحكم بشاهد ويمين' رقم الحديث: 4472.
    فقہ حنفی
    ولا ترد اليمين علي المدعي. "مدعی پر قسم ہے ہی نہیں۔" (هدايه آخرين ج3' كتاب الدعوي' باب اليمين' صفحه: 203)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    47: (عن ام ورقة رضي الله عنه ان رسول الله صلي الله عليه وسلم امرها ان تؤم اهل دارها)
    "ام ورقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اپنے گھر کی عورتوں کی نماز میں امامت کرائیں۔"
    تخريج: ابو داود' كتاب الصلوة' باب امامة النساء' رقم الحديث: 592.
    ایک دوسری حدیث میں ہے:
    (عن عائشة انها كانت تؤم النساء وتقوم وسطهن)
    "سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا امام بن کر عورتوں کو نماز پڑھاتیں اور صف کے بیچ میں کھڑی ہوتی تھیں۔"
    تخريج: مستدرك حاكم ج1' ص220' رقم الحديث: 731 طبع دار الكتب العلميه بيروت' السنن الكبري للبيقهي ج1 ص408' ج 2 ص131 رقم الحديث: 178'5139' مصنف عبدالرزاق ج3 ص141' رقم الحديث: 5087.
    فقہ حنفی:
    يكره للنساء ان يصلن وحدهن جماعة.
    "عورتوں کا آپس میں جماعت کر کے نماز پڑھنا مکروہ ہے۔" (هدايه اولين ج1' كتاب الصلاة' باب الامامة ' صفحه: 123)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    48: (عن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده ان رسول الله صلي الله عليه وسلم قال البيعان بالخيار مالم يتفرقا)
    "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "دو خرید و فروخت کرنے والوں کو اختیار ہوتا ہے جب تک دونوں (ایک دوسرے سے) جدا نہ ہوں۔"
    تخريج: ترمذي' ابواب البيوع' باب ماجاء البيعان بالخيار مالم يتفرقا' رقم الحديث: 1247' نسائي' كتاب البيوع'باب وجوب الخيار للمتبابعين الخ عن حكيم بن حزام' رقم الحديث: 4469' ابن ماجه' ابواب التجارات' باب البيعان بالخبار ما لم يتفرقا عن ابي برزه اسلمي' رقم الحديث: 2181.
    فقہ حنفی:
    واذا حصل الايجاب والقبول لزم البيع ولا خيار لو احد منهما الا من عيب او عدم رويت.
    "جب کسی بیع کے بارے میں ایجاب و قبول ہو جائے تو بیع لازم ہو گئی، اب ان دونوں میں سے کسی کو اختیار نہیں الا یہ کہ کوئی عیب وغیرہ ظاہر ہو جائے۔" (هدايه آخرين ج3' كتاب البيوع' صفحه 20)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    49: (عن عمرو بن سلمة رضي الله عنها.... قال فقدموني بين ايديهم وانا ابن سبع سنين)
    "عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے مجھے نماز پڑھانے کے لیے آگے کیا (امام بنایا) جب کہ میری عمر سات سال تھی۔"
    تخريج: بخاري' كتاب المغازي' حديث: 4302' ابوداود' كتاب الصلاة' باب من احق بالامامة' رقم الحديث: 585.
    فقہ حنفی:
    (ولا يجوز للرجال ان يقتدوا بامراة او صبي)
    "امامت کے لیے مرد کسی عورت یا بچے کو آگے کھڑا کریں یہ جائز نہیں۔" (هدايه اولين ج1' كياب الصلاة' باب الامامة' صفحه: 123)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    50: (عن ابي حميد الساعدي انه قال في نفر من اصحاب رسول الله صلي الله عليه وسلم انا احفظكم بصلوة رسول الله صلي الله عليه وسلم فاذا جلس في الركعة الاخرية قدم رجله اليسري و نصب الاخري وقعد علي مقعدته)
    "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے آخری تشہد (جس میں سلام پھیرنا ہوتا ہے) میں زمین پر بیٹھتے تو دایاں پاؤں کھڑا کر کے بایاں پاؤں اس کے نیچے سے نکال دیتے تھے اور تورک کرتے تھے۔"
    تخريج: بخاري' كتاب الاذان' باب سنة الجلوس في التشهد' رقم الحديث: 828 اور ابوداود' كتاب الصلوة' رقم الحديث: 730 میں ہے کہ (حتي اذا كانت السجدة التي فيها التسليم اخر رجله اليسري وقعد متؤكا علي شقه الايس)
    فقہ حنفی:
    وجلس في الاخيرة كما جلس في الاولي.
    "نماز کے آخری تشہد میں بھی اسی طرح بیٹھا جائے گا جس طرح پہلے تشہد میں بیٹھا جاتا ہے۔" (هداية اولين ج1' كتاب الصلاة' باب صفة الصلوة ص111)
     
    • پسند پسند x 2
    • مفید مفید x 2
    • لسٹ
  7. ‏فروری 27، 2014 #7
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    51: (عن عبادة بن الصامت رضي الله عنه قال ان رسول الله صلي الله عليه وسلم قال الا صلوة لمن لم يقراء بفاتحة الكتاب)
    "سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس آدمی نے (نماز میں) سورہ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز نہیں ہوتی۔"
    تخريج: بخاري' كتاب الاذان' باب وجوب القراءة للامام والمئموم في الصلوت كلها في الحجر والسفر وما يجهر فيها وما يخافت' رقم الحديث: 756' مسلم' كتاب الصلاة' باب وجوب قراءة الفاتحة في كل ركعة الخ' رقم الحديث: 874.
    فقہ حنفی:
    وهو مخير في الاخيرين معناه ان شاء سكت وان شاء قراء وان شاء سبح كذا روي عن ابي حنيفة.
    "آخری دو رکعتوں میں نمازی کو اختیار ہے، یعنی چاہے تو خاموش رہے، اگر چاہے تو قراءت کر لے اگر چاہے تو سبحان اللہ کہے ابوحنیفہ سے اسی طرح مروی ہے۔" (هدايه اولين ج1' كتاب الصلوة' باب النوافل' فصل القراءة' ص148)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    52: (عن سعيد بن هشام (في وتره صلي الله عليه وسلم) يصلي تسع ركعات لا يجلس الا في الثامنة فيذكر الله ويحمده ويدعو ينهض ولا يسلم فيصلي التاسعة ثم يقعد فيذكرالله ويحمده ويدعوه ثم يسلم تسليما)
    "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں سیدنا سعید بن ہشام روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نو (9) رکعات پڑھتے، مسلسل آٹھ رکعت بغیر قعدہ کے پڑھتے پھر (آٹھوین رکعت پڑھ کر) قعدہ کرتے، التحیات پڑھتے اور پھر (کھڑے ہو کر) نویں رکعت پڑھتے اور سلام پھیرتے۔"
    تخريج: مسلم' كتاب صلوة المسافرين وقصرها' باب صلاة اللل وعدد ركعات النبي صلي الله عليه وسلم في الليل وان الوتر ركعة وان الركعة صلوة صحيحة' رقم الحديث: 1739.
    فقہ حنفی:
    فاما نافلة الليل قال ابوحنيفة ان صلي ثمان ركعات بتسليمة جاز وتكره الزيادة علي ذلك وقالا لا يزيد بالليل علي ركعتين بتسليمة.
    "رات کی نماز کے بارے میں ابوحنیفہ نے کہا، اگر آٹھ رکعات ایک سلام کے ساتھ پڑھے تو جائز ہے، اس سے زیادہ رکعات (ایک سلام کے ساتھ) پڑھنا مکروہ ہے اور صاحبین نے کہا، رات کی نماز میں دو رکعتیں ایک سلام کے ساتھ جائز ہیں، اس سے زیادہ (رکعات ایک سلام کے ساتھ) جائز نہیں۔" (هدايه اولين ج1' كتاب الصلاة' باب النوافل ' صفحه: 147)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    53: (عن ابي هريرة عن النبي صلي الله عليه وسلم انه قال اذا اقيمت الصلوة الا المكتوبة)
    "سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کی اقامت کہہ دی جائے تو فرض نماز کے علاوہ دوسری کوئی نماز نہیں (پڑھنی چاہیے)۔"
    تخريج: مسلم' كتاب صلاة المسافرين وقصرها باب كراهية الشروع في نافلة بعد شروع المؤذن في اقامة الصلاة الخ' رقم الحديث: 1644.
    فقہ حنفی:
    ان تفوته الركعة ويدرك الاخري يصلي ركعتي الفجر عند باب المسجد.
    "(فجر نماز) کی ایک رکعت فوت ہو چکی ہو اور دوسری رکعت مل سکتی ہو تو مسجد کے دروازے کے پاس فجر کی سنتیں پڑھ سکتا ہے۔" (هدايه اولين ج1' كتاب الصلاة' باب ادرك الفريضة ' صفحه: 153)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    54: (عن ابي هريرة قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلم الربا سبعون جزء ايسرها ان ينكح الرجل امه)
    "سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سود کے (گناہ) کے ستر درجے ہیں ان میں سے ہلکا یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے صحبت کرے۔"
    تخريج: ابن ماجه' ابواب التجارات' باب التغليظ في الربوا' رقم الحديث: 2274.
    فقہ حنفی:
    ولا بين المسلم والحربي في دار الحرب.
    یعنی "دارالحرب میں مسلمان اور کافر کے مابین جو بھی (لین دین) ہو وہ سود نہیں ہے۔" (هدايه آخرين ج3' كتاب البيوع' باب الرباص 86)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    55: (عن قيس بن عمرو رضي الله عنه قال راي النبي صلي الله عليه وسلم رجلا يصلي بعد صلوة الصبح ركعتين فقال رسول الله صلي الله عليه وسلم الصبح ركعتين ركعتين فقال الرجل اني لم اكن صليت الركعتين اللتين قبلها فصليتهما الان فسكت رسول الله صلي الله عليه وسلم.
    "سیدنا قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا، وہ فجر کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھ رہا تھا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فجر کی نماز دو دو رکعتیں ہیں؟ تو اس آدمی نے جواب دیا، میں نے پہلے دو رکعتیں (سنتیں) نہیں پڑھی تھیں، اب پڑھی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خاموش ہو گئے۔
    تخريج: ابوداود' كتاب الصلوة' باب من فاتته متي يقضيها' رقم الحديث: 1267.
    فقہ حنفی:
    اذا فاتته الركعتا الفجر لا يقضيهما قبل طلوع الشمس.
    "اگر فجر کی دو رکعتیں (سنتیں) فوت ہو جائیں تو ان کو طلوع آفتاب سے قبل ادا نہیں کر سکتے۔" (هدايه اولين ج1' كتاب الصلوة' باب ادراك الصلوة' ص: 152)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    56: (عن ابن عباس رضي الله عنه لعن رسول الله صلي الله عليه وسلم المحلل والمحلل له)
    "سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے (حلالہ) کرایا جائے دونوں پر لعنت کی ہے۔"
    تخريج: ابن ماجه' ابواب النكاح' باب المحل والمحلل له' رقم الحديث: 1934.
    فقہ حنفی:
    فان طلقها بعد وطيها حلت للاول.
    "اگر دوسرا شوہر وطی کرنے کے بعد طلاق دے دے تو وہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے گی۔" (هدايه اولين ج1' كتاب الاطلاق' باب الرجعة' ص: 400)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    57: (عن عقبة بن حارث رضي الله عنه انه تزوج البنة لابي اهاب عزيز قاتت امراة فقالت قد ارضعت عقبة والتي تزوج بها فقال لها عقبة ما اعلم انكل ارضعتني ولا اخبرتني فارسل الي ال ابي اهاب فسالهم ما علمنا ارضعت صاهبتا فركب الي النبي صلي الله عليه وسلم بالمدينة فساله فقال رسول الله صلي الله عليه وسلم كيف وقد قيل ففارقها عقبة ونكحت زوجها غيره)
    "سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اس نے ابو اہاب کی بیٹی سے نکاح کیا، پھر اس کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے کہا میں نے تم دونوں میاں بیوی کو دودھ پلایا ہے، عقبہ رضی اللہ عنہ نے اس عورت سے کہا مجھے معلوم نہیں ہے کہ تو نے مجھے دودھ پلایا اور نہ ہی تو نے مجھے پہلے بھی خبر دی، چنانچہ عقبہ رضی اللہ عنہ نے سسرال کی طرف یہ معلوم کرنے کے لیے پیغام بھیجا لیکن انہوں نے بھی کہا کہ ہمیں معلوم نہیں ہے بعد ازاں عقبہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مدینہ آئے اور آپ سے اس کے بارے میں سوال کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب کیسے تم اکٹھے رہ سکتے ہو؟
    جب کہ تمہارے متعلق یہ بات کہی گئی ہے، پس عقبہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اپنی بیوی کو الگ کر دیا اور اس نے دوسرے شوہر سے شادی کر لی۔"
    تخريج: رواه البخاري' في كتاب الشهادات' باب اذا شهد شاهد او شهود بشئي ء ' رقم الحديث: 2640' صحيح ابن حبان 10' رقم الحديث: 4218 طبع موسة الرسالة بيروت.
    فقہ حنفی:
    ولا يقبل في الرضاع شهادة النساء منفرداة انما يثبت بشهادة رجلين او رجل و امراتين.
    "صرف عورتوں کی گواہی رضاعت کے بارے میں قبول نہیں کی جائے گی، رضاعت ثابت ہو گی دو مردوں کی گواہی سے یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی سے۔" (هدايه اولين ج1' كتاب الرضاع ' صفحه: 354)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    58: (ان ابا الصهباء قال لابن عباس اتعلم انما كانت الثلاث تجعل واحدة علي عهد رسول الله صلي الله عليه وسلم وابي بكر وثلاثا من امارة عمر فقال ابن عباس نعم)
    "ابوالصہباء نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کیا آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اورابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں اور عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے تین سال تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی تھیں؟ انہوں نے جواب دیا ہاں۔"
    تخريج: مسلم' كتاب الطلاق' باب الطلاق الثلاث' رقم الحديث: 3674.
    فقہ حنفی:
    وطلاق البدعة ان يطلقها ثلاث بكلمة واحد او ثلاث في طهر واحد فاذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيا.
    "اور طلاق بدعی یہ ہے کہ ایک ہی طہر میں تین طلاقیں ایک کلمے یا تین کلمات کے ساتھ دی جائیں اگر (طلاق) اسی طریقے پر دی جائے گی تو وہ تینوں واقع تو ہو جائیں گی لیکن طلاق دینے والا گنہگار ہو گا۔" (هدايه اولين ج1' كتاب الطلاق' باب طلاق السنه' ص: 355)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    59: (عن نعيم المجمر قال صليت ورائ ابي هريرة رضي الله عنه فقراء بسم الله الرحمن الرحيم ثم قراء بام القرآن حتي اذا بلغ غير المغضوب عليهم ولا الضالين فقال: آمين فقال الناس آمين ويقول كلما سجد: الله اكبر واذا قام من الجلوس في الاثنتين قال: الله اكبر واذا سلم قال: والذي نفسي بيده اني لا شبهكم صلاة برسول الله صلي الله عليه وسلم)
    "نعیم المجمر کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھی، پھر سورہ فاتحہ کی قراءت کی، جب غير المغضوب عليهم ولا الضالين پر پہنچے تو آمین کہا، لوگوں نے بھی آمین کہا، جب سجدہ کرتے تھے تو اللہ اکبر کہتے تھے اور جب دوسری رکعت سے (تیسری کے لیے) اٹھے تو اللہ اکبر کہا پھر سلام پھیر کر کہا کہ قسم ہے اس ذات کی، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہہ نماز پڑھتا ہوں۔ (یعنی میری یہ نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے بالکل مشابہہ ہے)" (بديع التفاسير ج1' ص: 123)
    تخريج: سنن النسائي' كتاب الافتتاح' باب قراءة ' بسم الله الرحمن الرحيم' رقم الحديث: 906
    فقہ حنفی:
    جہری نماز میں بسم اللہ جہرا (بلند آواز) سے پڑھنے کے متعلق خود صاحب ہدایہ لکھتے ہیں:
    قال الشافعي يجهر بالتسمية عند الجهر بالقراءة لما روي ان النبي جهر في صلوته بالتسميه.
    "امام شافعی کہتے ہیں کہ جہری نماز میں بسم اللہ جہری پڑھی جائے گی اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسم اللہ جہر سے پڑھی ہے۔ (هدايه اولين ج1' كتاب الصلوة' باب صفة الصلوة ص:103)
    لیکن باوجود یہ حدیث ذکر کرنے کے اسی صفحہ پر ایک لائن پہلے لکھا ہے:
    يسر بهما (التسمية والتعوذ) "تعوذ اور بسم اللہ آہستہ پڑھی جائے گی۔"
    (هدايه اولين ج1' كتاب الصلوة' باب صفة الصلوة' ص: 103)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    60: (عن جندب بن سفيان قال شهدت الاضحي يوم النحر مع رسول الله صلي الله عليه وسلم فلم يعدان صلي وفرغ من صلاته وسلم فاذا هو يري لحم اضاحي قد ذبحت قبل ان يفرغ من صلوته فقال من كان ذبح قبل ان يصلي او نصلي فليذبح مكانه الاخري)
    "سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں عید الاضحیٰ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا گوشت دیکھا (جو نماز سے قبل ذبح کی گئی تھی) تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے نماز سے پہلے قربانی (ذبح) کی ہے وہ اس کی جگہ دوسری قربانی کرے۔"
    تخريج: بخاري' كتاب الاضاحي' باب من ذبح قبل الصلوة اعاده' رقم الحديث: 5562' مسلم ج2' كتاب الاضاحي وقتها' واللفظ له' رقم الحديث: 5064.
    فقہ حنفی:
    (فاما اهل السواء فيذبحون بعد الفجر...وحيلة المصري اذا اراد التعجيل ان يبعث بها الي خارج مصر فيضحي بها لما طلع الفجر)
    "دیہات والے فجر کے بعد قربانی کر سکتے ہیں... اور شہریوں کے لیے یہ حیلہ ہے کہ اگر وہ جلد قربانی کا ارادہ رکھتے ہیں تو وہ شہر کے باہر جانور بھیج دیں تاکہ دیہات والے اس کو فجر طلوع ہوتے ہی ذبح کر لیں۔" (هدايه آخرين ج4' كتاب الاسحيه ص: 445-446)
     
    • پسند پسند x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  8. ‏فروری 28، 2014 #8
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    61: (عن ابن عمر رضي الله عنه انه قال اذا قدم يوم العبد ويوم الاضحي جهر بالتكبير)
    "سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے لیے جاتے ہوئے جہری تکبیریں کہتے تھے۔"
    تخريج: سنن الدارقطني ج2' ص: 175' كتاب العيدين' رقم الحديث: 1698/18' سنن البيهقي مرفوعا عن النبي صلي الله عليه وسلم ' كتاب العيدين' باب التكبير عيد الفطر ويوم الفطر واذا غدا الي صلاة العيدين' ج3 ص279 طبع نشر السنه.
    اس بارے میں قرآن مجید میں بھی ہے کہ (وَلِتُكَبِّرُ‌وا۟ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَىٰكُمْ) ... (الحج: 185)
    "تاکہ تم اللہ تعالیٰ کے لیے تکبیر بیان کرو۔"
    فقہ حنفی:
    ولا يكبر عند ابي حنيفة في طريق المصلي.
    "عید گاہ کی طرف جاتے ہوئے راستے میں تکبیرات نہیں کہی جا سکتیں۔ ابوحنیفہ کا یہی مذہب ہے۔" (هدايه اولين ج1' كتاب الصلوة' باب العيدين' ص: 173)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    62: (عن ابن عمر رضي الله عنه ان عمر سال النبي صلي الله عليه وسلم قال كنت نذرت في الجاهلية ان اعتكف ليلة في المسجد الحرام قال اوف بنذرك)
    "سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میں نے دور جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ ایک رات بیت اللہ میں اعتکاف کروں گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی نذر پوری کرو۔ (اس حدیث سے یہ بات واضح ہوئی کہ اعتکاف کے لیے روزہ شرط نہیں ہے)
    تخريج: بخاري' كتاب الايمان والنذور' باب اذا نذر او حلف الايكلم انسانا في الجاهلية ثم اسلم' رقم الحديث: 6697' مسلم' كتاب الايمان وانذور' باب نذر الكافر وما يفعل فيه اذا اسلم' رقم الحديث: 4292.
    فقہ حنفی:
    الاعتكاف مستحب وهو اللبث في المسجد مع الصوم ونية الاعتكاف...والصوم من شرطه عندنا.
    "اعتکاف مستحب ہے یعنی مسجد میں روزہ رکھ کر ٹھہرنا اور اعتکاف کی نیت کرنا... اور ہمارے نزدیک روزہ (اعتکاف کی) شرائط میں سے ہے۔" (هداية اولين ج1' كتاب الصوم' باب الاعتكاف ص: 229)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    63: (عن ابن عباس رضي الله عنه قال صلي رسول الله صلي الله عليه وسلم الظهر بذي الحليفة ثم دعا بناقته فاشعرها في صفحة سنامها الايمن)
    "سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں ظہر کی نماز پڑھائی، پھر اپنی اونٹنی کا اشعار کیا یعنی اس کی کوہان کے دائیں طرف کو نشان کے لیے چیرا۔"
    تخريج: مسلم' كتاب الحج' باب اشعار البدن وتقليد عند الاحرام' رقم الحديث: 3016.
    فقہ حنفی:
    واشعر البدنة عند ابي يوسف ومحمد ولا يشعر عند ابي حنيفة ويكره.
    "ابویوسف اور محمد کے نزدیک اونٹنی کو اشعار کیا جا سکتا ہے جبکہ ابوحنیفہ کے نزدیک اشعار نہیں کیا جا سکتا بلکہ مکروہ ہے۔" (هدايه اولين ج1' كتاب الحج' باب التمتع ص: 262)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    جس طرح نماز جنازہ میں چار تکبیرات کہنے کا ذکر ہے اسی طرح پانچ تکبیرات کا بھی ذکر ہے:
    64: (عن عبدالرحمن بن ابي ليلي قال كان زيد يكبر علي جنائزنا اربعا وانه كبر علي جنازة خمس فسالناه فقال كان رسول الله صلي الله عليه وسلم يكبرها)
    "عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ ہمارے جنازوں پر چار تکبیرات کہتے تھے اور ایک جنازے پر انہوں نے پانچ تکبیرات کہہ دیں، ہم نے وجہ پوچھی، کہنے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پانچ تکبیرات بھی) کہی ہیں۔"
    تخريج: مسلم' كتاب الجنائز' فصل في التكبير علي الجنازة خمسا' رقم الحديث: 2216.
    فقہ حنفی:
    لو كبر الامام خمسا لم يتابعه المؤتم.
    "اگر امام پانچ تکبیرات کہے تو مقتدی اس کی اتباع نہ کریں۔" (هدايه اولين ج1' كتاب الصلاة' باب الجنائز' فصل الصلوة علي الميت ص180)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    65: (عن طلحة بن عبدالله بن عوف قال صليت خلف ابن عباس علي جنازة فقراء بفاتحة الكتاب وقال لتعلموا انها سنة)
    "سیدنا طلحہ بن عبید اللہ بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پیچھے جنازہ کی نماز پڑھی انہوں نے سورہ فاتحہ پڑھی اور کہا (یہ میں نے اس لیے پڑھی ہے) تاکہ تم جان لو یہ سنت ہے۔"
    تخريج:بخاري' كتاب الجنائز' باب قرائه فاتحة الكتاب علي الجنازة' رقم الحديث: 1335
    فقہ حنفی:
    والبداية بالثناء ثم بالصلوة.
    "نماز جنازہ کی ابتدا ثنا سے کرنی ہو گی اور اس کے بعد درود پڑھنا ہو گا۔" (هدايه اولين ج1' كتاب الصلوة' باب الجنائز في الصلوة علي الميت' ص: 180)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    66: (عن سمرة بن جندب رضي الله عنه قال صليت وراء رسول الله صلي الله عليه وسلم علي امراة ماتت في نفاسها فقام عليها وسطاه)
    "سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت اپنے نفاس (کے ایام) میں فوت ہو گئی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں اس کی نماز جنازہ پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے (جنازہ) کے درمیان میں کھڑے ہوئے۔"
    تخريج: بخاري' كتاب الجنائز' باب الصلوة علي النفساء اذا ماتت في نفاسها' رقم الحديث: 1331 واللفظ له' مسلم ج1' كتاب الجنائز' باب اين يكون الامام من الميت للصلاة عليها ص311' رقم الحديث: 2235
    فقہ حنفی:
    ويقوم الذي يصلي علي الرجل والمراة بحذاء الصدر.
    "جو آدمی کسی مرد یا عورت کا جنازہ پڑھا رہا ہے اس کو چاہیے کہ وہ (میت) کے سینے کے برابر کھڑا ہوا۔" (هدايه اولين ج1' كتاب الصلوة' باب الجنائز' فصل في الصلوة علي الميت ص: 181.)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    67: (عن المغيرة بن شعبة ان النبي صلي الله عليه وسلم قال والسقط يصلي عليه ويدعي لوالديه بالمغفرة والرحمة)
    "سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو بچہ دوران مدت حمل گر جائے (حمل ضائع ہو جائے تو) اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اس کے والدین کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کی جائے گی۔"
    تخريج: ابوداود' كتاب الجنائز' باب المشي امام الجنازة' رقم الحديث: 3180.
    فقہ حنفی:
    ومن لم يستهل ادرج في خرقة كرامة لبني آدم ولم يصل عليه.
    "اور جو بچہ مردہ پیدا ہوا اس کی آواز نہ آئی ہو اس کو بنی آدم کے احترام کی وجہ سے صاف ستھرے کپڑے میں لپیٹا جائے گا اور اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔" (هدايه اولين ج1' كتاب الصلاة' باب الجنائز' فصل في الصلوة علي الميت ص: 181)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    68: (عن علي ان يهودية كانت تشتم النبي صلي الله عليه وسلم وتقع فيه فخنقها رجل حتي ماتت فابطل النبي صلي الله عليه وسلم دمها)
    "ایک یہودی عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتی تھی۔ ایک آدمی نے اس کو گلا گھونٹ کر مار دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خون باطل قرار دے دیا۔"
    تخريج: ابوداود' كتاب الحدود' باب الحكم فيمن سب النبي صلي الله عليه وسلم' رقم الحديث: 4362.
    فقہ حنفی:
    ومن امتنع من الجزية او قتل مسلما او سب النبي صلي الله عليه وسلم او زني بمسلمة لم ينتقص عهده.
    "جس (کافر) نے ٹیکس دینے سے انکار کر دیا یا کسی مسلمان کو قتل کر دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب و شتم کیا یس کسی مسلمان عروت سے زنا کیا اس کا ذمہ نہیں ٹوٹے گا۔" (هدايه اولين ج2' كتاب السيرة' باب الجزية' فصل فيما ينبغي للذمي ص: 598)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    69: (عن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده قال خطب رسول الله صلي الله عليه وسلم عام الفتح ثم قال دية الكافر نصف دية المسلم)
    "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے سال خطبہ دیا، پھر فرمایا کافر کی دیت مسلمان کی نصف دیت کے برابر ہے۔"
    تخريج: ابوداود' كتاب الديات' باب دية الذمي رقم الحديث: 4583' باختلاف الفاظ' مسند احمد ج2' ص: 180' رقم الحديث: 6692.
    فقہ حنفی:
    دية المسلم والذمي سواء. "مسلمان اور کافر کی دیت برابر ہے۔" (هداية اخيرين ج4' كتاب الديات ص: 585)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    70: (عن عائشة قالت كل ذالك قد فعل رسول الله صلي الله عليه وسلم قصر الصلاة واتم)
    "سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں ہر طرح سے نماز پڑھتے تھے قصر (2 رکعتیں) بھی کرتے تھے اور اتمام (4 رکعتیں) بھی کرتے تھے۔"
    تخريج; شرح السنة للبغوي ج4' ص 166 رقم الحديث: 1023' ابواب صلاة السفر' باب قصر الصلاة طبع المكتب الاسلامي بيروت' سنن دارقطني ج2/407' رقم الحديث: 2265-2266 طبع دار المعرفه بيروت' سنن الكبري للبيهقي ج3 ص142 طبع نشر السنه ملتان.
    فقہ حنفی:
    فرض المسافر في الرباعية ركعتان لا يزيد عليهما. "مسافر دو رکعت سے زیادہ چار رکعات نہیں پڑھ سکتا۔" (هدايه اولين ج1' كتاب الصلاة' باب صلاة المسافر' ص: 165)
     
    • پسند پسند x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  9. ‏فروری 28، 2014 #9
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    71: (عن انس قال كان رسول الله صلي الله عليه وسلم اذا خرج مسيرة ثلاثة اميال او فراسخ شعبة الشاك صلي ركعتين)
    "سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین میلوں یا فرسخوں کے فاصلے پر نکلتے تھے تب بھی قصر کرتے تھے۔"
    تخريج: مسلم ج1' كتاب صلاة المسافرين وقصرها' باب صلاة المسافرين وقصرها' ص: 424' رقم الحديث: 1583.
    سنن سعید بن منصور میں ثلاثہ امیال یعنی تین میل کی صراحت موجود ہے۔ (التلخيص الحبير' ج: 2' ص: 47 تحت حديث: 610)
    فقہ حنفی:
    السفر الذي يتغير به الاحكام ان يقصد مسيرة ثلاثة ايام ولياليها بسير الابل مشي الاقدام. "وہ سفر جس سے احکام تبدیل ہو جائیں تین دن اور تین راتیں چلنا ہے۔" (هداية اولين ج1' كتاب الصلاة' باب صلاة المسافر' ص: 165)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    72: (عن ابن عباس رضي الله عنه قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلم امني جبريل عند البيت مرتين فصلي بي الظهر حين زالت الشمس وكانت قد الشراك وصلي بي العصر حين صار ظل كل شئي مثله)
    "سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام نے دو مرتبہ مجھے امامت کرائی، ظہر سورج ڈھلنے کے وقت اور عصر ہر چیز کا سایہ برابر ہو جانے کے وقت پڑھائی۔"
    تخريج: ابوداود' كتاب الصلاة' باب المواقيت' واللفظ له' رقم الحدیث: 393' ترمذي ج1' ابواب الصلاة' باب ماجاء في مواقيت الصلاة عن النبي صلي الله عليه وسلم ' صفحه: 38 ' رقم الحديث: 149.
    فقہ حنفی:
    واخر وقتها (اي الظهر) عند ابي حنيفة اذا صار ظل كل شئي ء مثليه... و اول وقت العصر اذا خرج وقت الظهر.
    "امام ابوحنیفہ کے نزدیک ظہر کا آخری وقت یہ ہے کہ ہر چیز کا سایہ اس کے ڈبل ہو جائے اور عصر کا وقت اسی وقت سے شروع ہوتا ہے۔" (هدايه اولين ج1' كتاب الصلاة' باب المواقيت ص: 81)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    73: (عن لبابة بنت الحارث انه صلي الله عليه وسلم قال انما يغسل من بول الانثي وينضح من بول الذكر)
    "سیدہ لبابہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بچی کے پیشاب کی وجہ سے کپڑے کو دھویا جائے گا اور بچے کے پیشاب کی وجہ سے کپڑے پر چھینٹے مار لینا کافی ہے۔"
    تخريج: ابوداود' كتاب الطهارة' بول الصبي يصيب الثوب' صفحه: 60' رقم الحديث: 375' ابن ماجه ج1' ابواب الطهارة وسننها' باب ماجاء في بول الصبي الذي لم يطعم ' ص39 رقم الحديث: 527.
    فقہ حنفی:
    ببول الصبي الذي لم يطعم.
    "وہ بچہ جو ابھی کھاتا نہیں ہے اگر اس کا بھی پیشاب لگ جائے تو دھونے کا حکم ہے۔" (هدايه ج1' ص: 74 حاشيه كتاب الطهارات' باب الانجاس وتطهيرها مطبوع مكتبه شركيه علميه)
    74: (عن ابي هريرة رضي الله عنه قال كان النبي صلي الله عليه وسلم يقراء في الفجر يوم الجمعة بالم تنزيل السجده في الركعة الاوليٰ وفي الثانيه هل اتي علي الانسان.)
    "سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز کی پہلی رکعت میں الم تنزیل السجدة پڑھتے تھے اور دوسری رکعت میں (هل اتي علي الانسان) پڑھتے تھے۔"
    تخريج: بخاري' كتاب الجمعة' باب يقراء في صلاة الفجر' يوم الجمعة' رقم الحديث: 891.
    (عن عبيدالله ابن ابي رافع قال استخلف مروان ابا هريرة علي المدينة وخرج الي مكة وصلي لنا ابوهريرة الجمعة فقراء سورة الجمعة في السجدة الاولي وفي الاخرة اذا جاءك المنافقون فقال سمعت رسول الله صلي الله عليه وسلم يقرا بهما يوم الجمعة.)
    "عبید اللہ ن ابی رافع کہتے ہیں کہ مروان نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ پر اپنا نائب مقرر کر کے مکہ کی طرف نکلا، پھر ابوہریرہ نے جمعہ کی نماز میں پہلی رکعت میں سورة الجمعة اور دوسری میں (اذا جاءك المنافقون) پڑھی، پھر کہنے لگے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا جمعہ کے دن یہی دونوں سورتیں پڑھتے تھے۔"
    تخريج: مسلم ج1' ص: 287' رقم الحديث: 877.
    فقہ حنفی:
    ويكره ان يوقت بشئي ء من القران لشي ء من الصلوات.
    "کسی نماز کے لیے قرآن میں سے کوئی سورت مقرر کرنا مکروہ ہے۔" (هايه اولين ج1' كتاب الصلاةم باب صفة الصلاة فصل في القراة ' صفحه: 120)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    75: (عن عقبه بن عامر قال قلت يا رسول الله صلي الله عليه وسلم في سورة الحج سجدتان قال نعم ومن لم يسجد هما فلا يقرا هما)
    "سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! سورة حج میں دو سجدے ہیں؟ فرمایا ہاں۔ جو یہ دونون سجدے نہیں کرتا وہ یہ نہ پڑھے۔"
    تخريج: ابوداود' ج1' كتاب الصلاةم باب كم سجدة في القرآن' ص206' رقم الحديث: 1402.
    فقہ حنفی:
    سجود التلاوة في القران اربعة عشر في اخر الاعراف وفي الرعد والنحل وبني اسرائيل ومريم والاوليٰ من الحج.
    "قرآن میں سجدہ تلاوت چودہ ہیں، سورہ اعراف میں اور رعد میں اور نحل ، بنی اسرائیل، مریم اور سورہ حج کا پہلا سجدہ (یعنی سورہ حج میں صرف ایک سجدہ ہے)" (هدايه اولين ج1' كتاب الصلاة' باب سجدة التلاوة' ص163)
    76: (عن زيد بن ثابت قال قرات علي رسول الله صلي الله عليه وسلم والنجم فلم يسجد فيه.)
    "سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورہ نجم پڑھی تو آپ نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔"
    تخريج: بخاري' ج1' ابواب ماجاء في سجود القرآن وسنتها ' باب من قرا سجدة ولم يسجد فيه ص 146 واللفظ له' رقم الحديث: 73-1072' مسلم' ج1' كتاب المساجد' باب سجود التلاوة' ص 215' رقم الحديث: 1298.
    فقہ حنفی:
    والسجدة واجبة في هذه المواضع علي التالي والسامع قصد سماع القرآن اولم يقصد.
    "صاحب پدایہ سجود کے مقامات کا (جن میں سورة نجم بھی آجاتی ہے) ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ ان مقامات پر سجدہ کرنا واجب ہے، تلاوت کرنے والے پر بھی اور سننے والے پر بھی۔ جس نے سننے کا ارادہ کیا ہو یا نہ کیا ہو۔" (هدايه اولين' ج1' كتاب الصلاة' باب سجدة التلاوة ص 163)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    77: (فمضمض واستنشق من كف واحد.)
    "سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ وضو کے بارے میں مروی ہے کہ آپ نے کلی اور ناک میں پانی ایک ہی چلو سے ڈالا۔"
    تخريج: مشكاة ج1' كتاب الطهارة' باب سنن الوضوء' الفصل الاول ص: 45' صحيح بخاري' كتاب الوضوء' باب من مضمض واستنشق من غرفة واحدة ج1' ص31' رقم الحديث: 191.
    فقہ حنفی:
    وكيفيتها ان يمضمض ثلاثا ياخذ لكل مرة ماء جديدا ثم يستنشق.
    "تین بار کلی کی جائے گی، ہر بار نیا پانی لیا جائے گا پھر اسی طرح ناک مین پانی ڈالا جائے گا۔" (هدايه اولين ج1' كتاب الطهارة ص: 18)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    78: (وفي البعير عشرة)
    "سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ اونٹ دس آدمیوں (کی طرف سے قربانی کے لیے) کافی ہے۔"
    تخريج: ترمذي' ابواب الاضاحي' باب في الاشتراك في الاضحيه' رقم الحديث: 1501' مشكوة' باب الاضحية فصل الشاني' نسائي' كتاب الضحايا' باب ما تجزي عند البدنة في الضحايا' رقم الحديث: 4397' ابن ماجه' ابواب الاضاحي' باب عن كم تجزي البدنة والبقرة' رقم الحديث: 3031.
    فقہ حنفی:
    او بدنة عن سبعة.
    "اونٹ کی قربانی صرف سات آدمیوں کی طرف سے ہو سکتی ہے۔" (هدايه آخرينج 4' كتاب الاضحية' صفحه: 444)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    79: (عن عطاء بن يسار قال سالت ابا ايوب الانصاري كيف كانت الضحايا فيكم علي عهد رسول الله صلي الله عليه وسلم قال كان الرجل في عهد النبي صلي الله عليه وسلم يضحي بشاة عنه وعن اهل بيته فياكلون ويطعمون ثم تباهي الناس فصار كما تري.)
    "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں آدمی اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری قربان کرتا تھا۔"
    تخريج: ابن ماجه' ابواب الاضاحي' باب من صحي بشاة عن اهله' رقم الحديث: 3147.
    فقہ حنفی:
    ويذبح عن كل واحد منهم شاة. "ہر ایک کی طرف سے علیحدہ بکری ذبح کی جائے گی۔" (هدايه آخرين ج4' كتاب الاضحية' ص: 444)
    80: (عن ابن عباس قال كان رسول الله صلي الله عليه وسلم يجمع بين صلوة الظهر والعصر اذا كان علي ظهير سير و يجمع بين المغرب والعشاء.)
    "سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر کی تیاری کے وقت ظہر اور عصر ایک وقت میں، مغرب اور عشاء ایک وقت میں جمع کرتے تھے۔"
    تخريج: بخاري' ابواب تقصير الصلاة' باب الجمع في السفع بين المغرب والعشاء' رقم الحديث: 1107.
    فقہ حنفی:
    ولا يجمع فرضان في وقت بلاحج.
    "دو فرض نمازیں ایک ہی وقت میں جمع کرنا حج کے علاوہ باقی ایام میں جائز نہیں۔"
    (شرح الوقاية مع عمدة العراية ' كتاب ارحصلاة' باب المواقيت جلد1' ص132' طبع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)
     
    • پسند پسند x 3
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  10. ‏فروری 28، 2014 #10
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    81: (ثلاث ھن علی فرائض وھن لکم تطوع الوتر والنحر والاضحی)
    "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تین کام مجھ پر فرض ہیں اور تمہارے لیے نفقل ہیں: (1) وتر (2) قربانی اور (3) ضحیٰ۔
    تخریج: رواہ الامام احمد فی مسنده ج1، ص231، رقم الحدیث: 2050، طبع مؤسة قرطبه مصر ورواہ الحاکم فی کتاب الوتر ج1، ص300، رقم الحدیث: 1119، السنن الکبري للبیہقی ج2، ص: 468، رقم الحدیث: 3248.
    فقہ حنفی:
    الاضحية واجبه علي كل مسلم. "قربانی ہر مسلمان پر واجب ہے۔" (هدايه آخرين ج4' كتاب الاضحية'ص: 443)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    82: (عبدالله بن عمر قال كان النبي صلي الله عليه وسلم يفصل بين الشفع والوتر بتسليم يسمعنا)
    "سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے اندر دو کعتیں اور تیسری رکعت کے درمیان سلام سے فاصلہ کرتے تھے۔"
    تخريج: صحيح ابن حبان' كتاب الوتر' ذكر الخبر المصرح بالمفصل بين الشفع والوتر رقم الحديث: 2434' طبع موسه الرساله بيروت ' موارد الظمان ' باب الفصل بين الشفع والوتر' رقم الحديث: 678 طبع دار الكتب العلميه بيروت.
    فقہ حنفی:
    الوتر ثلاث ركعات لا يفصل بينهن بسلام.
    "وتر تین رکعتیں ہیں، درمیان میں سلام بھی نہیں پھیرا جائے گا۔" (هدايه اولين ج1' كتاب الصلاةم باب صلاة الوتر' صفحه: 144)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    83: (عن علي قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلم (يعني في الصلاة) تحريمها التكبير و تحليلها التسليم)
    "سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز میں تکبیر ہی سے داخل اور سلام ہی سے خارج ہوا جا سکتا ہے۔"
    تخريج: ترمذي' ج1' ابواب الطهارةم باب ماجاء مفتاح الصلاة الطهور' ص3' رقم الحديث: 3.
    فقہ حنفی:
    وان تعمد الحدث في هذه الحالة او تكلم او عمل عملا ينافي الصلاة تمت صلاته.
    "سلام کے عوض کوئی بھی کام کیا جو نماز کے منافی تھا یا بات چیت کی یہاں تک کہ جان بوجھ کر وضو توڑ دیا تو اس کی نماز مکمل ہو گئی۔" (هدايه اولين ج1' كتاب الصلاةم باب الحدث في الصلاة' ص: 130)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    84: (عن عائشة قالت سمعت رسول الله صلي الله عليه وسلم يقول لا طلاق ولا عتاق في اغلاق.)
    "سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ زبردستی نہ طلاق واقع ہو گی اور نہ غلام آزاد ہو گا۔"
    تخريج: ابوداود' ج1' كتاب الطلاق' باب في الطلاق علي غلط' ص: 305 رقم الحديث: 2193' ابن ماجه' ابواب الطلاق' باب طلاق المكروه والناسي' ص: 147' رقم الحديث: 2046.
    فقہ حنفی:
    وان اكره علي طلاق امراته او عتق عبده ففعل وقع ما اكره عليه. "زبردستی طلاق بھی واقع ہو جائے گی اور غلام بھی آزاد ہو جائے گا۔" (هدايه آخرين 3' كتاب الاكراه' ص: 350)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    85: (عن حذيفة قال نهانا رسول الله صلي الله عليه وسلم...... عن لبس الحرير والديباج وان نجلس عليه)
    "سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ریشم اور دیباج کا لباس پہننے اور اس پر بیٹھنے سے منع فرمایا۔"
    تخريج: بخاري' كتاب اللباس' باب فراش الحرير واللفظ له ' رقم الحديث: 5837. مسلم' كتاب اللباس والزينة' باب تحريم استعمال اناء الذهب...الخ' رقم الحديث: 5394.
    اور ابو داؤد میں ہے:
    " لا تركبوا الخز" "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ریشم کے کپڑے پر نہ بیٹھو۔"
    تخريج: كتاب اللباس' باب في جلود النمور' كتاب اللباس' ص: 216' عن معاويه' رقم الحديث: 4129.
    فقہ حنفی:
    ولا باس بتوسده والنوم عليه عند ابي حنيفة.
    "ابوحںیفہ کے نزدیک ریشمی تکیہ پر ٹیک لگانے اور ریشمی بستر پر سونے میں کوئی حرج نہیں۔" (هدايه آخرين ج4' كتاب الكراهيه في اللبس: 456)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    86: (عن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده ان النبي صلي الله عليه وسلم بعث مناديا في فجاج مكة الا ان صدقة الفطر واجبة علي كل مسلم ذكر او انثي حر او عبد صغير او كبير)
    " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکے کی گلیوں میں ندا کروائی کہ صدقہ فطر ہر مسلمان مرد و عورت، آزاد و غلام چھوٹے اور بڑے پر واجب ہے۔"
    تخريج: ترمذي' باب ما جاء في صدقة الفطر' رقم الحديث: 674.
    (عن ابن عمر رضي الله عنه قال فرض رسول الله صلي الله عليه وسلم زكاة الفطر صاعا من تمر او صاعا من شعير علي العبد والحر والذكر والانثي والصغير والكبير من المسلمين)
    "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا جو کا مقرر کیا ہر مسلمان پر وہ غلام ہو یا آزاد مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا۔"
    تخريج: بخاري' كتاب الزكاة' باب فرض صدقة الفطر' واللفظ له' رقم الحديث: 1503' مسلم' كتاب الزكاة' باب صلاة الفطر' رقم الحديث: 2278.
    فقہ حنفی:
    يودي المسلم الفطرة عن عبده الكافر.
    "مسلمان صدقہ فطر ادا کرے گا اپنے کافر غلام کی طرف سے بھی۔" (هدايه اولين ج1' كتاب الزكاة' باب صدقة الفطر' ص: 209)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    87: (عن عبدالله بن مسعود ان رسول الله صلي الله عليه وسلم صلي الظهر خمسا فقيل له ازيد في الصلاة قال وما ذاك قالوا صليت خمسا فسجد سجدتين)
    "سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پانچ رکعتیں پڑھائیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا گیا کہ کیا نماز زیادہ ہو گئی ہے۔ فرمایا کیوں؟ بتایا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کیے۔"
    تخريج: بخاري' ج1' كتاب التهجد' باب اذا صلي خمسا' رقم الحديث: 1226' مسلم' كتاب المساجد' باب السهور في الصلاة والسجود' رقم الحديث: 1281.
    فقہ حنفی:
    وان قيد الخامسة بسجدة بطل فرضه عندنا.
    "پانچویں رکعت پڑھ لی تو ہم (احناف) کے نزدیک اس کی پوری فرض نماز باطل ہو گی۔" (هدايه اولين ج1' ص: 159' كتاب الصلاة' باب سجود السهر)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    88: (عن جابر رضي الله عنه قال كان معاذ يصلي مع النبي صلي الله عليه وسلم ثم ياتي قومه فيصلي بهم)
    "سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ معاذ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرتے، پھر اپنی قوم میں جاتے اور ان کو نماز پڑھاتے، (یعنی دوسری نماز معاذ رضی اللہ عنہ کے لیے نفلی ہوتی اور دوسری جماعت کے لیے فرض)۔"
    تخريج: بخاري' ج1' كتاب الاذان' باب اذا صلي ثم ام قوما' ص: 98' رقم الحديث: 711' مسلم' ج1' كتاب الصلاة' باب القراة في العشاء' ص: 187' رقم الحديث: 1040.
    فقہ حنفی:
    ولا يصلي المفترض خلف المتنفل.
    "فرض نماز پڑھنے والا نفل نماز پڑھنے والے کے پیچھے (نماز) نہیں پڑھ سکتا۔" (هدايه اولين' ج1' كتاب الصلاة' باب الامامة' ص:127)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    89: (عن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلم اذا شك احدكم في صلاته ولم يدرككم صلي ثلاثا ام اربعا فليطرح الشك وليبن علي ما استقين ثم ليسجد سجدتين قبل ان يسلم.)
    "سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی ایک کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو اور اس کو پتہ نہ طلے کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار تو اس کو چاہیے کہ شک کو دور کرے اور یقین کا بنا کرتے ہوئے سلام سے قبل سجدہ سہو کرے۔"
    تخريج: مسلم' كتاب المساجد' باب السهورفي الصلوة' رقم الحديث: 1282.
    فقہ حنفی:
    (ومن شك في صلوته فلم يدرا ثلاثا صلي ام اربعا و ذالك اول ما عرض استانف)
    "یعنی جس کو اپنی نماز میں شک ہو اور اس کو پتہ نہ چل سکے کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار اور یہ کیفیت نماز کے شروع میں ہو تو اس کو چاہیے کہ نماز توڑ دے اور نئے سرے سے نماز شروع کرے۔" (هدايه اولين ج1' كتاب الصلاة' باب السجود' ص: 160)
    ۔۔۔
    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
    سیدنا ابوحمید الساعدی رضی اللہ عنہ کی صفة الصلوة النبويه والی حدیث میں ہے کہ:
    90: (ثم سجد فامكن انفه وجبتهه الارض)
    "پھر آپ نے سجدہ کیا اور سجدہ میں اپنی ناک اور اپنی پیشانی کو زمین پر ٹکایا۔"
    تخريج: ابوداود' كتاب الصلوة' باب افتتاح الصلوة' رقم الحديث: 734.
    نیز فرمایا:
    (لا صلاة لمن لم يمس انفه للارض)
    "جس نے سجدہ میں اپنی ناک کو زمین پر نہ لگایا تو اس کی نماز نہیں ہے۔"
    تخريج: مستدرك حاكم' كتاب الصلوة' رقم الحديث: 997' طبع دارالفكر بيروت.
    فقہ حنفی:
    (فان اقتصر علي احدهما جاز عند ابي حنيفة)
    "جس نے ان دونوں (ناک اور پیشانی) میں سے کسی ایک کو زمین پر رکھا تو ابوحنیفہ کے نزدیک جائز ہے۔" (هدايه اولين ج1' كتاب الصلوة' باب صفة الصلوة' ص: 108)
     
    • پسند پسند x 3
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں