1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حکم استفاضہ از قبور (قبروں سے فیض اٹھانے کا حکم؟)

'مسائل قبور' میں موضوعات آغاز کردہ از سعد عيسي, ‏دسمبر 01، 2011۔

  1. ‏دسمبر 01، 2011 #1
    سعد عيسي

    سعد عيسي رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    39
    موصول شکریہ جات:
    109
    تمغے کے پوائنٹ:
    35

    قپرون سی فیض حاصل کرنا کیاهی اور کیا حکم هی اور اس مسئله ديونپدی کون سا کتاپون مین ذکر هواهی؟
     
  2. ‏دسمبر 01، 2011 #2
    سعد عيسي

    سعد عيسي رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    39
    موصول شکریہ جات:
    109
    تمغے کے پوائنٹ:
    35

    ما معنی الاستفاضة من القپور وما حکمها وفی ای کتاپ ذکر من کتپ الدیوپندیه؟
     
  3. ‏دسمبر 02، 2011 #3
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,482
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    قریب قریب تمام سلاسل صوفیا قبور سے استفاضہ کے قائل ہیں لیکن دیوبندیوں میں نقشبندیہ اویسیہ سلسلہ اس بارے ایک خاص نام رکھتا ہے اور ان کے ہاں کشف قبور اور قبور سے استفاضہ کے بارے کافی کچھ مواد اور مشقیں موجود ہیں۔ پاکستان میں اس سلسلہ کے مرشد مولانا اکرم اعوان صاحب ہیں جو مولانا اللہ یار خان صاحب کے شاگرد تھے جو دیوبند کے بڑے علماء میں شمار ہوتے ہیں، انہوں نے قبر پر کافی مراقبوں کے ذریعے فیض حاصل کیا ہے بلکہ اس سلسلہ میں صوفیا سے قبروں سے ان سے فیض حاصل کر کے اپنے سلسلہ تصوف یا سند تصوف کو عالی بھی کیا جاتا ہے اور بعض اوقات ایک شیخ اور اس کے شیخ میں کئی سو سال کا فرق ہوتا ہے لیکن اس کی وجہ وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ شیخ صاحب نے ان کی قبر سے فیض حاصل کر کے ان کی روح روحانی تعلق قائم کیا ہے اور اس طرح سلسلہ سند تصوف بحال ہوا ہے۔ مولانا نے اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے ایک تنظیم بھی 'الاخوان' کے نام سے بنا رکھی ہے۔ ان کی کئی ایک ویب سائیٹس پر ان کی پی۔ڈی۔ایف کتب موجود ہیں۔ ان کا مطالعہ کریں۔ عام افراد کو ان کا مطالعہ نہیں کرنا چاہیے لیکن اہل علم کو ان سلاسل اور ان کے لٹریچر کا خوب مطالعہ کرنا چاہیے تا کہ اصل سائنس کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ پاکستان میں سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کہ جس کا مرکز منارہ، چکوال میں ہے اور دوسرا سلسلہ قادریہ عظیمیہ کا لٹریچر قابل مطالعہ ہے۔ قادریہ عظیمیہ کے بانی خواجہ شمس الدین عظیمی ہیں اور ان کا امتیاز مراقبہ یعنی میڈی ٹیشن ہے اور کراچی میں ان کا مرکز ہے۔ ان کی کتاب مراقبہ اہل علم کے پڑھنے کے لائق ہے۔ تصوف درحقیقت ایک پوری دنیا ہے اور اس دنیا کی سیر کیے بغیر اس پر کوئی قابل قدر نقد ممکن نہیں ہے اور نظری اور عملی تصوف پر علمی نقد وقت کی ایک اہم ضرورت ہے بلکہ اس سے بڑی ضرورت، مغرب اور پڑھے لکھے طبقے کے تناظر میں، اس وقت یہ ہے کہ سلفی فکر کو تھیورائز کر دیا جائے اور اسے ایک مکمل ڈسکورس کے طور پر پیش کیا جائے۔
     
  4. ‏دسمبر 27، 2011 #4
    سعد عيسي

    سعد عيسي رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    39
    موصول شکریہ جات:
    109
    تمغے کے پوائنٹ:
    35

    جزاكم الله خيرا
     
  5. ‏دسمبر 27، 2011 #5
    makki pakistani

    makki pakistani سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 25، 2011
    پیغامات:
    1,323
    موصول شکریہ جات:
    3,028
    تمغے کے پوائنٹ:
    282

    اسلام علیکم۔
    صوفی ازم یا صوفیت اس وقت قریبا قریبا پورے عالم اسلام میں اپنے پنجے گاڑ رھا ھے۔

    زیادہ تر یہ پرو سرکار ھیں ۔
    انہوں نے ایک عالمی صوفی فیڈریشن بھنائ ھوئی ھے۔
    سلفیت کے خلاف سب سے زیادہ یہی لوگ سرگرم ھیں ۔
    کیا ھی اچھا ھو کہ محدث فورم پر اس کا باقاعدہ رد شروع کیا جائے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  6. ‏مئی 23، 2012 #6
    qureshi

    qureshi رکن
    جگہ:
    نہ تو زمیں کیلئے نہ آسماں کیلئے
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2012
    پیغامات:
    233
    موصول شکریہ جات:
    392
    تمغے کے پوائنٹ:
    74

    حضرت امیر محمد اکرم عوان مدظلہ العالی سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے شیخ تنظیم الاخوان کے امیر ہیں،آپ صیح معنوں میں ہمہ جہت شخصیت ہیں۔آپ نے قران کی تفاسیر اسرار اتنزیل کے نام سے لکھی، آپ کی ایک اور اکرام تراجم کے نام سے بھی تفاسیر زیر طبع ہے۔آپ نے قران پاک کا ترجمعہ اکرام اتراجم کے نام سے کیا ،جس کو بہت زیادہ سرایا گیا ہے،آپ ایک بلند پایا خطیب اور،شاعر بھی ہیں ،تصوف کے آپ کے ارشادات جاننے کے لیئے ماہانامہ المرشد کا مطالعہ کرنا بے حد ضروری ہے،سکے علاوہ آپ کی ایک کتابوں کے مصنف ہیں
    قبور سے فیض حاصل کرنا اہلسنت ولجماعت کا اجتماعی عقیدہ ہے۔یاد رکھیں اس سے مراد جہلا کیطرح پکارنا یا مدد مانگنا ہر گز مراد نہیں آپ اس بک کا مطالعہ فرما لیں گس سے آپ کو اس مسلئے کی سمجھ آ جائے گی،یاد رہے کہ علمائے اہلحدیث میں ایسے لوگ گزرے جو نہ صرف صوفی تھے بلکہ تصوف کے داعی تھے ،یہ اس عہد کے سلفی ہیں جو اسلاف کو چھوڑ کر سلفی ہیں
    http://naqshbandiaowaisiah.com/library/ilm_o_irfan/Ilm-O-Irfan.zip
    Shaikh e Tariqat
    رہا مسلئہ دیو بند کا توآپ انکی زبانی سن لیں
    علماء دیوبند قبور سے فیض حاصل کرنے کا عقیده رکهتےہیں جوکہ ایک شرکیہ عقیده ہے

    الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على المبعوث رحمة للعالمين وخاتم النبیین والمرسلین سيدنا
    محمد وعلى آله وصحبہ اجمعین

    از

    مولانا حافظ محمد خاں صاحب دامت برکاتہم

    فرقہ جديد نام نہاد اهل حدیث کے وساوس واکاذیب

    وسوسہ 33

    علماء دیوبند قبور سے فیض حاصل کرنے کا عقیده رکهتےہیں جوکہ ایک شرکیہ عقیده ہے

    جواب

    فرقہ جدید نام نہاد اہل حدیث میں فی زمانہ کچھ نام نہاد شیوخ عوام الناس کوگمراه کرنے کے لیئے یہ وسوسہ استعمال کرتے ہیں ، ان کا دجل وفریب اس طرح ہوتا ہے کہ حکایات وسوانح اور وعظ ونصیحت وتصوف وغیره کسی کتاب ورسالہ سے کوئی بات لیتے ہیں اورکوئی مُحتمل ومُشتبہ عبارت پیش کرتے ہیں اورپھرعوام سے کہتے ہیں کہ یہ علماء دیوبند کا عقیده ہے ، اوراس طرح کرکے جاہل عوام کوورغلاتے هیں ،خوب یاد رکھیں ہمارے اکابرومشائخ حضرات علماء دیوبند . ( .کثرهم الله سوادهم . ) . کا مسلک ومنهج تمام امورمیں افراط وتفریط سے پاک اورمبنی براعتدال ہے اوراعتدال کی یہ شان ان اکابراعلام کا ایک خصوصی وصف وامتیاز ہے ، لیکن اعتدال کا یہ طریق اختیارکرنے کی وجہ سے کچھ جہلاء نے بوجہ جہالت وتعصب وحسد کےان اکابراعلام کو افراط وتفریط میں مبتلا قراردیا ،چند جہلاء مذکوره بالا وسوسہ پیش کرکے عوام کویہ باورکراتے ہیں کہ قبورسے فیض کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ قبرپرست هیں ، قبورکا طواف کرتے هیں ،اہل قبورسے استمداد کرتے ہیں ، ان کومشکل کشا حاجت روا سمجھتے ہیں وغیره . ( . معاذالله . ) . ۔
    خوب یادرکھیں ہمارے اکابرومشائخ حضرات علماء دیوبند میں سے کسی نے بھی یہ تعلیم نہیں دی بلکہ قبور واہل قبورسے متعلق بھی ان کا مسلک اعتدال والا ہے نہ تواتنی تفریط ہے کہ اہل قبورکی زیارت ودعا وایصال ثواب کوبھی منع کردیں ، اورنہ اتنا افراط ہے کہ قبور سے متعلق تمام مُروجہ بدعات وخرافات کوجائزقراردیں ، لہذا احادیث مبارکہ سے قبور کی زیارت ودعاء مسنون وایصال ثواب برائے اہل قبورثابت ہے ، تویہی تعلیم وطریق علماء دیوبند کا بھی ہے ، باقی اس سے زیاده اگرکوئی شخص وساوس پیش کرے تواس کی طرف توجه نہیں کرنی چائیے کیونکہ وساوس کا اصل علاج عدم التفات ہے ۔

    انبیاء واولیاء وصالحین کی قبورسے فیض حاصل کرنے کا عام فہم مطلب

    حدیث میں آتا ہے کہ قبرجنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گھڑوں میں سے ایک گھڑا ہے۔

    قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا الْقَبْرُ رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ ، أَوْ حُفْرَةٌ مِنْ حُفَرِ النَّار۔

    .). ( .رواه الترمذي في سننه ، والبيهقى فى شعب الإيمان ، والطبراني .) .).

    اب قبر کا یہ گھڑا جس میں انبیاء وصحابہ واولیاء الله وعلماء وصُلحاء مدفون ہیں ہمارا اعتقاد ہے کہ یہ جنت کے باغات ہے ، جیسا کہ حدیث میں بیان ہوا ، اب جنت الله تعالی کے انعامات ورحمتوں وتجلیات کا مقام ہے توصالحین کے قبورپرالله تعالی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے ، لہذا زیارت کرنے والا شخص اس رحمت سے محروم نہیں رہتا اگرچہ اس کومحسوس ہو یا نہ ہو ، یہی سارا مفہوم ہے فیض وفائده کا ، ایک لحظہ کے لیئے اس حدیث کوسامنے رکھ کریہ دیکھیں کہ انبیاء وصحابہ وعلماء وصالحین کے قبور جنت کے باغ ہیں یقینا اس بات میں کوئی شک نہیں کرسکتا ، لہذا جنت کے ان باغات کی زیارت ونفع کا کون انکارکرسکتا ہے ؟؟ باقی قبور کا طواف اورسجدے کرنا ، وہاں چراغ جلانا ، قبرپراذان پڑهنا ، وہاں عرس میلے قوالی کرنا ، قبرکوبوس وکنار کرنا ،ان سے حاجات طلب کرنا ، ان کومتصرف سمجھنا وغیره سب بدعات وخرافات ہیں ۔

    صحيح البخاري میں امام البخاري نے ایک باب قائم کیا هے ۔

    ‘‘باب ماجاء في قبر النبي صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وعمر رضي الله عنهما’’

    اس باب کے تحت امام البخاري نے حضرت عمر رضی الله عنہ کی وه حدیث نقل کی ہے جس میں انهوں نے حضرت عبد الله بن عمر رضی الله عنہ کے واسطہ سے حضرت عائشة رضي الله عنها سے حجرة النبوية میں دفن ہونے کی اجازت مانگی تھی انهوں نے کہا تھا کہ یہ جگہ میں نے اپنے لیئے پسند کی تھی لیکن میں آج یہ جگہ ان کودیتی ہوں۔ الحدیث

    حافظ ابن حجر رحمہ الله اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ

    وفيه الحرص على مجاورة الصالحين في القبور طمعا في إصابة الرحمة إذا نزلت عليهم وفي دعاء من يزورهم من أهل الخير "

    یعنی اس حدیث میں ثبوت ہے اس بات كاکہ صالحین کے ساتھ قبورمیں پڑوسی ہونے كاحرص کرنا چائیے اس امید ونیت سے کہ صالحین پرنازل ہونے والی رحمت اس کوبھی پہنچے گی اورنیک صالح لوگ جب ان کی زیارت کریں گے اوردعا کریں گے تواس کوبھی حصہ ملے گا ۔
    اسی طرح ایک حدیث حسن میں ہے کہ

    بعض صحابہ نے کسی قبرپراپنا خیمہ نصب کیا اوراس معلوم نہیں تھا کہ یہ قبرہے ، پس اس قبرمیں ایک انسان سورة .{. تبارك الذي بيده الملك .}.پڑھ رہا تھا یہاں تک کہ سورة ختم کردی ، جب حضور صلى الله عليه وسلم.کے پاس تشریف لائے تو عرض کیا يا رسول الله میں نے اپنا خیمہ ایک قبرپرنصب کیا اورمجھے معلوم نہیں تها کہ وه قبر ہے ، پس اس قبرمیں ایک انسان سورة .{. تبارك الذي بيده الملك .}.پڑھ رہا تھا یہاں تک کہ سورة ختم کردی ، رسول الله صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ سورة عذاب قبرکوروکتی ہے عذاب قبرسے نجات دیتی ہے اس. (.صاحب قبر.). کو عذاب قبرسے نجات دیتی ہے ۔

    وقال الإمام الترمذي بسنده عن ابن عباس قال:

    ضرب رجل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم خباءه على قبر وهو لا يحسب أنه قبر ، فإذا قبر إنسان يقرأ سورة " الملك " حتى ختمها ، فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال : يا رسول الله ، ضربت خبائي على قبر وأنا لا أحسب أنه قبر ، فإذا قبر إنسان يقرأ سورة " الملك " حتى ختمها ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " هي المانعة ، هي المنجية تنجيه من عذاب القبر " . قال : حديث حسن غريب .

    .(.ورواه الطبراني في الكبير، وأبونعيم في الحلية ، والبيهقي في إثبات عذاب القبر .).

    قبور اولیاء سے فیض کا مطلب استمداد واستغاثہ نہیں ہے

    سوال : مُردوں سے بطریق دعا ، مد د چاهنا جائزهے یا نہیں ؟

    جواب: مد د چاہنا تین قسم کا ہے ۔

    1. ایک یہ کہ اہل قبور سے مد د چاہے اسی کوسب فقہاء نے ناجائزلکھاہے ۔

    2.دوسرے یہ کہ کہے اے فلاں خدا تعالی سے دعا کرکہ فلاں کام میرا پورا ہوجائے یہ مبنی ہے اس بات پرکہ مردے سنتے ہیں کہ نہیں ، جوسماع موتی کے قائل ہیں ان کے نزدیک درست ، دوسروں کے نزدیک ناجائز،. (. سماع موتی کے مسئلہ میں صحابہ کے زمانہ سے اختلاف ہے دونوں طرف اکابر ودلائل ہیں لہذا ایسے اختلافی امرکا فیصلہ کون کرسکتا ہے ، لیکن بہتریہ ہے اس دوسری قسم پربھی عمل نہ کرے .).۔

    3. تیسرے یہ کہ دعا مانگے الہی بحرمت فلاں میرا کام پورا کردے یہ بالاتفاق جائز ہے .(. فتاوی رشیدیه ص 57. ) .حضرت گنگوهی رحمہ الله کی یہ فتوی بالکل واضح ہے کہ مردوں سےمد د طلب کرنا تمام فقہاء کے نزدیک ناجائزہے ، اوریہی فیصلہ وفتوی تمام اکابرعلماء دیوبند کا بھی ہے ، لہذا جو لوگ فیض عن القبور کا مطلب استعانت واستمداد وغیره بیان کرکے اس کو اکابرعلماء دیوبند کا عقیده قرار دیتے ہیں ، یہ سب دجل وفریب ہے ، هداهم الله

    قبور اور أہل قبور کے متعلق فرقہ جدید اہل حدیث کے اکابرکا مذہب

    جیسا کہ میں گذشتہ سطورمیں عرض کرچکا کہ اس فرقہ جدید کے اکابراورآج کل کے اس فرقہ جدید کے هم نواوں میں بہت سخت اختلاف هے ، مثلا اسی مذکوره مسئلہ میں اس فرقہ جدید اهل حدیث کے بانی ومُوجد نواب صدیق حسن خان صاحب کا نظریہ ملاحظہ فرمائیں اپنی کتاب). .ألتاجُ المُكلل. (. میں اپنے والد ابواحمد حسن بن علی الحُسینی البخاری القنوجی کے تذکره میں لکھا کہ

    لایزال يرى النورعَلى قبره الشريف والناسُ يَتبَّرَكُون به ۔

    آپ کی کی قبرشریف پرہمیشہ نور رہتا ہے اورلوگ آپ کی کی قبرسے بترُّک حاصل کرتے ہیں ۔
    .(. ألتاجُ المُكلل صفحه 543 ، مكتبة دارالسلام. ).
    اسی طرح فرقہ جدید اہل حدیث کے بانی علامہ وحیدالزمان صاحب بھی یہی فرماتے ہیں کہ

    ولازال السلف والخلف یتبَرَّكون بآثارالصلحاء ومشاهدهم ومقاماتهم وآبارهم وعيونهم۔

    یعنی سلف وخلف سب صالحین کے آثار ، اور ان کی قبروں سے ، اوران کے مقامات ، اور ان کے کنووں سے ، اور ان کے چشموں سے تبرُّ کحاصل کرتے تھے ۔ آگے علامہ وحیدالزمان صاحب فرماتے ہیں کہ

    ولم یقل احد ان التبرک بمثل هذه الاشیاء شرک

    یعنی کسی ایک نے بھی یہ نہیں کہا کہ اس قسم کی اشیاءسے تبرکحاصل کرنا شرک ہے ۔
    آگے علامہ وحیدالزمان صاحب فرماتے هیں کہ

    ترجى سرعة الإجابة عند قبرالنبي صلى الله عليه وسلم أوغيره من المواضع المتبركة قال الشافعي قبرموسى الكاظم ترياق مجرب وروى الشيخ ابن حجرالمكي في القلائد عن الشافعي قال إني أستبرك بقبرأبي حنيفة واذا عرضت لي حاجة أجيئ عند قبره وأصلي ركعتين وأدعوالله عنده فتقضي حاجتي ۔

    آپ صلى الله عليه وسلم کے قبرمبارک اوراس کے علاوه مقامات متبركة میں دعا بہت جلد قبول ہوتی ہے ، امام شافعی رحمہ الله نے فرمایا کہ موسی کاظم کی قبرتریاق مجرب ہے ، اورالشيخ ابن حجرالمكي نے اپنی کتاب " القلائد " میں امام شافعی رحمہ الله سے روایت کیا ہے، فرمایا کہ میں ابوحنیفہ کے قبرسے تبرک حاصل کرتا ہوں ، اورجب مجھے کوئی حاجت پیش آتی ہے تومیں ابوحنیفہ کے قبرکے پاس آتاہوں اوردورکعت نمازپڑهتا ہوں ، اورالله تعالی سے دعا کرتا ہوں پس میری حاجت پوری ہوجاتی ہے ۔

    علامہ وحیدالزمان صاحب نے ایک فصل قائم کیا ہے " مَقرارواح " کے متعلق اورآٹھ مذاہب نقل کیئے ہیں، اسی فصل میں فرماتے ہیں کہ

    وقال شـيخنا ابن القـيـم فثبت بهذا انه لامنافات بين كون الروح في عليين أوفي الجنة أوفي السماء وبين اتصاله بالبدن بحيث تدرك وتسمع وتصلي وتقرأ ۔

    اورہمارے شیخ ابن القیمنے فرمایا کہ اس سے ثابت ہوا کہ اس میں کوئی منافات نہیں ہے کہ روح عليين میں ہو یا جنت میں ہو یا آسمان میں ہو اوراس کا تعلق بدن کے ساتھ ہو اس طورپرکہ وه ادراک بھی کرے اور سماع بھی کرے اورنمازبھی پڑھے اورقرآءت بھی کرے ۔

    قلت بهذا يدفع الشـبـهـة التي أوردهـا القــاصرون انه كيف يمكن استحصال الفيوض
    والبـركــات وبرد القلب والأنوارمن أرواح الصلحـاء بزيـارة قبـورهم ۔

    میں .(. علامہ وحیدالزمان صاحب .). کہتا ہوں کہ اس سے وه شبہ بھی دور ہوجائے گا جو بعض کوتاه عقل لوگ پیش کرتے ہیں کہ صلحاء کی قبور کی زیارت کرکے ان کی ارواح سے فیوض وبركات وأنوارات کا حصول کیسے ممکن ہے ۔
    .(.(. دیکهیئے ھدية المهدي ص 32 ، 33 ، 34 ، 62 ،23. ).).
    اسی طرح علامہ وحیدالزمان صاحب نے قبروں کی مُجاوری کوبھی جائزقرار دیا هے ۔

    .(.(. دیکهیئے هدیۃ المهدي ص 34 ، نزل الأبرار ج 1 ص 241 .).).

    یہ چند حوالے اختصارکے ساتھ فرقہ جدید اہل حدیث کے اکابرکے حوالہ سے آپ نے ملاحظہ کیئے ، جب کہ آج کل فرقہ جدید اہل حدیث میں شامل چند لوگ ان سب امورکوشرک وبدعت کہتے ہیں ، میرے علم میں نہیں ہے کہ فرقہ جدید اہل حدیث کی آج کل کی ایڈیشن میں شامل توحید وسنت کے علمبرداروں نے فرقہ جدید اہل حدیث کے بانیان نواب صدیق حسن خان اورعلامہ وحیدالزمان صاحب کے ان نظریات کی تردید کی ہو ، کوئی کتاب ورسالہ لکھا ہو یا کوئی بیانات اس سلسلہ میں کیئے ہوں ؟؟ والله اعلم ۔

    مزارات اولیاء سے فیض بطریق خاص صرف کاملین کے لیئے ہے

    سوال : مزارات اولیاء رحمهم الله سے فیض حاصل ہوتا ہے یا نہیں ؟؟ اگر ہوتا ہے توکس صورت سے ؟؟
    جواب : مزارات اولیاء سے کاملین کوفیض ہوتا ہے مگرعوام کواس کی اجازت دینی ہرگزجائزنہیں ہے ، اورتحصیل فیض کا طریقہ کوئی خاص نہیں ہے ، جب جانے والا اہل ہوتا ہے تواس طرف سے حسب استعداد فیضان ہوتا ہے ، مگرعوام میں ان امورکا بیان کرنا کفروشرک کا دروازه کھولنا ہے ۔

    . (. فتاوی رشید یہ ص 104. ).

    اب یہاں چند باتیں قابل غور ہیں

    1. تقریبا اسی طرح کی بات .(. المهند علی المفند. ). اور دیگرکتب مشائخ میں بھی موجود ہے ، اور حضرت گنگوهی رحمہ الله اوردیگرتمام اکابرعلماء دیوبند کا اجماعی فتوی یہ ہے کہ اہل قبورسے استمداد واستعانت جائزنہیں ہے ، تومعلوم ہوا کہ اس فیض سے مراد اهل قبورسے استمداد واستعانت وغیره نہیں ہے۔

    2. پھر قبور اولیاء سے فیض سے متعلق جو طرق وتفصیلات ہیں یہ صرف علماء کاملین کے لیئے ہیں نہ کہ عوام کے لیئے اورپھر عوام میں ہروه شخص داخل ہے جواس طریق سے نابلد ہو چاہے کسی اورفن میں معلومات رکھتا ہے ۔
    عربی کا مشہور مقولہ ہے. (. لکُل فنٍّ رِجال .). ہرفن کے اپنے ماہرلوگ ہوتے ہیں ، لہذا اس وجہ سے اس میدان کے کامل وماہرلوگوں کواجازت ہے ۔

    3. کچھ لوگ اس قول پراعتراض کرتے ہیں کہ عوام کواس کی اجازت دینی کیوں جائزنہیں ہے ؟؟ اورعوام میں ان امورکا بیان کرنا کفروشرک کا دروازه کھولنے کےمترادف کیوں ہے ؟؟
    خوب یاد رکهیں الحمد لله حضرات اکابرعلماء دیوبند کا یہ قول بھی احادیث نبویہ وتعلیمات سلف کے بالکل موافق ہے ، کیونکہ لوگوں کے سامنے ایسی باتیں بیان کرنا ممنوع ہے جہاں تک ان کے عقول ومعرفت نہ پہنچ سکیں ۔
    ابن مسعود رضی الله عنہ کا قول ہے کہ
    جب توکسی قوم کو کوئی حدیث بیان کرتا ہے جس تک ان کے عقول نہیں پہنچتے تو وه اس قوم میں سے بعض کے لیئے فتنہ کا باعث بن جاتا ہے ۔

    قال ابن مسعود رضی الله عنہ :

    " ما أنت بمحدث قوما حديثا لا تبلغه عقولهم ، إلا كان لبعضهم فتنة "

    .[.(.(.أخرجه مسلم في " مقدمة صحيحه " .(. 1 / 108 – نووي .). ، وعبدالرزاق في " مصنفه " .( .11 / 286 .). – ومن طريقه الطبراني في " المعجم الكبير " .(. 9 / 151 / 8850 .). ، والخطيب في "الجامع لأخلاق الراوي ". (. 1321 / 108 / 2 .). ، والسمعاني في " أدب الإملاء والاستملاء " .(. ص 60 .) .– ، والرامهرمزي في " المحدث الفاصل ". (. ص 577. ). ، وابن عبدالبر في " جامع بيان العلم ". (. 1 / 539 و 541 / 888 و 892. ). ، والبيهقي في " المدخل " .(. 611.).) .].

    الله تعالی کی بے شمار رحمتیں ہوں ان اکابراعلام کے قبور مبارکہ پر کہ دین میں کوئی بات بلادلیل وثبوت نہیں کہی ، مجھے ازخود اکابرکے اس قول پرکئی ساتھیوں نے کہا کہ ہمیں کچھ کھٹک سی رہتی ہے کہ یہ کیوں کہا کہ کاملین کے لیئے جائز اور عوام کے لیئے ناجائز ؟ لہذا اس باب میں تھوڑی سی تحقیق وتفتیش کے بعد معلوم ہوا کہ ان اکابراعلام کا یہ فرمان احادیث نبویہ واقوال وتعلیمات سلف کے بالکل مطابق وموافق ہے ، حتی کہ امام بخاری رحمہ الله نے صحیح بخاری .(.کتاب العلم. ). میں ایک باب قائم کیا ہے ، جس میں اتنی واضح طور پراکابراعلام کے اس قول کی تائید وتصدیق موجود ہے۔

    باب من ترك بعض الاختيار مخافة أن يقصر فهم بعض الناس عنه فيقعوا في أشد منه

    یعنی یہ باب ہے اس شخص کے بارے میں جس نے بعض جائز چیزوں کو اس ڈرسے چھوڑ دیا کہ بعض کم فہم لوگ اس سے سخت بات میں مبتلا نہ ہو جائیں ،اوراس باب وترجمہ کے تحت یہ حدیث نقل کی ہے

    حدثنا عبيد الله بن موسى عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن الأسود قال: قال لي ابن الزبير كانت عائشة تسر إليك كثيرا فما حدثتك في الكعبة قلت: قالت لي قال النبي يا عائشة لولا قومك حديث عهدهم قال ابن الزبير بكفر لنقضت الكعبة فجعلت لها بابين باب يدخل الناس وباب يخرجون ففعله بن الزبير ۰

    امام بخاری رحمہ الله نے صحیح بخاری. (.کتاب العلم. ) .میں ایک اوراس طرح باب قائم کیا ہے

    باب من خص بالعلم قوما دون قوم كراهية أن لا يفهموا

    یعنی جس نے بعض قوم کوعلم کے ساتھ خاص کیا اوربعض کواس ڈرسے نہیں پڑھایا کہ وه اس کو نہیں سمجھیں گے ۔
    اس باب کے تحت امام بخاری رحمہ الله نے فرمایا

    وقال علي حدثوا الناس بما يعرفون أتحبون أن يكذب الله ورسوله

    حضرت علی نے فرمایا کہ لوگوں کوبیان کرو جووه سمجھتے هوں ، کیاتم پسند کرتے هو کہ الله ورسول کی تکذیب کی جائے ؟
    یعنی کوئی بھی غامض ودقیق وباریک بات جوعوام کے سمجھ وفہم سے باهرهوتوان کووه بیان نہ کی جائے۔
    اوراسی کو حضرت الامام گنگوهی رحمہ الله نے فرمایا کہ
    .(. مگرعوام میں ان امورکا بیان کرنا کفروشرک کا دروازه کھولنا هے ۔. ).
    اس باب کے تحت امام بخاری رحمہ الله نے حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ کی یہ روایت نقل کی هے ،
    حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ رسول الله صلى الله عليه وسلم کے ساتھ سواری پرسوار تھے تو رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا يا ‏ ‏معاذ بن جبل۔ حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ نے عرض کی لبيك يا رسول الله وسعديك ۔پھر رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا يا ‏ ‏معاذ بن جبل۔ حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ نے عرض کی لبيك يا رسول الله وسعديك ، تین مرتبہ فرمایا یعنی یہ ندا اورجواب ، رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا جوکوئی بھی صدق دل سے یہ گواهی دے کہ لا إله إلا الله وأن‏ ‏محمدا ‏ ‏رسول الله توالله تعالی اس کوجهنم کی آگ پرحرام کردیں گے ، حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ نے فرمایا يا رسول الله کیا میں لوگوں کواس کی خبرنہ دوں پس وه بھی خوشخبری حاصل کرلیں ؟؟
    رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا .(. إذا يتكلوا. ). یعنی اگرتوان کوخبردے گا تووه اسی پراکتفاء کرلیں گے ، یعنی عمل نہیں کریں گے اسی حکم کے ظاهرپراعتماد کرلیں گے ، اور حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ نے اپنی موت کے وقت اس حدیث کی خبردی تاکہ. (. کتمان علم. ). کا گناه نہ ہو ۔

    حدثنا إسحاق بن إبراهيم قال: حدثنا معاذ بن هشام قال: حدثني أبي عن قتادة قال: حدثنا أنس بن مالك أن النبي ومعاذ رديفه على الرحل قال: يا معاذ بن جبل قال لبيك يا رسول الله وسعديك قال: يا معاذ قال لبيك يا رسول الله وسعديك ثلاثا قال: ما من أحد يشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله صدقا من قلبه إلا حرمه الله على النار قال: يا رسول الله أفلا أخبر به الناس فيستبشروا قال إذا يتكلوا وأخبر بها معاذ عند موته تأثما ۰
    حدثنا مسد د قال: حدثنا معتمر قال: سمعت أبي قال: سمعت أنسا قال: ذكر لي أن النبي قال لمعاذ من لقي الله لا يشرك به شيئا دخل الجنة قال ألا أبشر الناس قال لا إني أخاف أن يتكلوا ۰

    اوراسی مضمون کوبیان کرنے والی بعض دیگر روایات ملاحظہ کریں

    أُمِرْنا أن نُكلِّمَ الناسَ على قدْر عقولِهم.

    .(.رواه الديلمي عن ابن عباس مرفوعا،. ).

    وقال في المقاصد وعزاه الحافظ ابن حجر لمسند الحسن بن سفيان عن ابن عباس بلفظ

    أمرت أن أخاطب الناس على قدر عقولهم ،

    ورواه أبو الحسن التميمي من الحنابلة في العقل له عن ابن عباس من طريق أبي عبد الرحمن السُلَمي أيضا بلفظ

    بُعْثِنا معاشر الأنبياء نخاطب الناس على قدر عقولهم، وله شاهد عن سعيد بن المسيب مرسلا بلفظ إنا معشر الأنبياء أمرنا وذكره،

    ورواه في الغنية للشيخ عبد القادر قدس سره بلفظ أمرنا معاشر الأنبياء أن نحدث الناس على قدر عقولهم
    وروى البيهقي في الشعبعن المقدام بن معدي كرب مرفوعا إذا حدثتم الناس عن ربهم فلا تحدثوهم بما يعزب عنهم ويشق عليهم،:

    وصح عن أبي هريرة حفظت عن النبي صلي الله عليه وسلم وعاءَيْنِ:

    فأما أحدهما فَبَثثْتُهُ، وأما الآخر فلو بثثتُه لقُطع هذا البلعوم،

    وروى الديلمي عن ابن عباس مرفوعا عاقبوا أرقاءكم على قدر عقولهم، وأخرجه الدارقطني عن عائشة مثله، وروى الحاكم وقال صحيح على شرط الشيخين عن أبي ذر مرفوعا خالقوا الناس بأخلاقهم،

    وأخرج الطبراني وأبو الشيخ عن ابن مسعود خالط الناس بما يشتهون، ودينك فلا تَكْلِمْهُ، ونحوه عن علي رفعه، خالق الفاجر مخالقة، وخالص المؤمن مخالصة، ودينك لا تسلمه لأحد، وفي حديث أوله خالطوا الناس علي قدر إيمانهم .). راجع كشف الخفاء للعجلوني. (.

    اس باب میں دیگراقوال وروایات بھی ہیں ، لیکن حق وہدایت کے طالبین کے لیئے اس قدر میں کفایت ہے ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  7. ‏مئی 24، 2012 #7
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    بہت زبر دست بات کہی آپ نے۔ تصوف کے بارے میں سنتے پڑھتے ہوئے یہی احساس مجھے بھی بار بار ہوتا ہے ۔ ہمارے یہاں تصوف کی تنقید میں جو لٹریچر اور آڈیو ویڈیو مواد وجود میں آیا ہے وہ ان لوگوں کو تو خوش کرسکتا ہے جو تصوف کی آلودگیوں سے پاک ہیں البتہ وہ لوگ جن کی رگ و پے میں تصوف سرایت کرچکا ہو ان کو اس سے کم فائدہ ملنے کی امید ہے ۔ تصوف کے فروعات سے زیادہ اس کے اصول اور فلسفہ پر تنقید ضروری ہے جو اصلا ساری خرابی کی بنیاد ہے۔ عبدالقادر لون کی’’ مطالعہ تصوف ‘‘ اب تک کی سب سے تفصیلی اور زبردست کتاب ہے جو میری نظروں سے گذری ہے ۔
    ابوالحسن علوی بھائی کی معلومات تصوف کے سلسلہ میں کافی وسیع ہے ۔ آپ ہم طالب علموں کو اس موضوع پر مزید پڑھنے کےلیے کن کتب کے مطالعہ کا مشورہ دیں گے۔
     
  8. ‏مئی 24، 2012 #8
    محمد موسی

    محمد موسی رکن
    جگہ:
    یو -ایس -اے
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 16، 2011
    پیغامات:
    106
    موصول شکریہ جات:
    493
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    جزاک اللہ خیرا ! ! میری تجویز ہے کہ آپ یہ علمی کام سرانجام دیں ۔ اللہ آپ کے علم میں اضافہ فرمائے آمین ۔ آپکی حفاظت فرمائے شیطان مردود سے ۔آمین
     
  9. ‏مئی 24، 2012 #9
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    ہم انکار کرتے ہیں کیوں کہ حدیث کو غور سے دوبارہ پڑھیے کیا کہیں کوئی ایسا جملہ ہےجس سے قبور سے استفادہ اور اکتساب فیض جس طرح کا آپ ثابت کرنا چاہتے ہیں ثابت ہورہا ہو؟ اور اہم بات یہ ہیکہ کہ کیا اس حدیث کو صحابہ کرام نے نہیں سمجھا تھا؟ کیا صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے بھی اس وہی مفہوم اخذ کیا جو آپ کررہے ہیں ؟ قبروں سے استفادہ کو جو عقیدہ آپ ثابت کرنا چاہ رہے ہیں کیا صحابہ کرام میں سے کسی ایک سے ایسا کوئی عقیدہ ثابت کیا جاسکتا ہے؟
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  10. ‏مئی 24، 2012 #10
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    لیکن اس حدیث سے قبور سے استفادہ کی وہ صورت کہاں ثابت ہورہی جو بحث کا موضوع ہے؟ اس موضوع پر اتنی دور سے کوڑیاں لانا خود اس کی دلیل ہے کہ اتنے اہم موضوع پر آپ کے پاس ایک بھی واضح اور صحیح دلیل موجود نہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں