1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حکم بغیر ما اَنزل اللہ اگر ’کفر‘ ہی نہیں تو یہ نظام بھی پھر ’طاغوتی‘ کیسے؟؟

'توحید حاکمیت' میں موضوعات آغاز کردہ از باربروسا, ‏جنوری 23، 2012۔

  1. ‏جنوری 23، 2012 #1
    باربروسا

    باربروسا مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 15، 2011
    پیغامات:
    311
    موصول شکریہ جات:
    1,016
    تمغے کے پوائنٹ:
    106

    حامد کمال الدین


    یہاں کے کچھ نیک طبقوں کے یہاں ایک نہایت سرسری اور سطحی قسم کااندازِ استدلال دیکھ کر بے حد حیرانی ہوتی ہے۔ اپنی سلامتیِ فطرت اور اپنی غیرتِ توحیدی کی بدولت یہ غیر اللہ کی شریعت پر قائم اِس نظام کو ”باطل“ اور ”طاغوت“ یا ”طاغوتی“ کہنے میں تو ہرگز کوئی تردد نہیں رکھتے اور جوکہ ایک قابل ستائش امر ہے، لیکن یہاں پائے جانے والے ارجائی رجحانات سے دب کر وہ یہ کہنا البتہ ’انتہا پسندی‘ گردانتے ہیں کہ حکم بغیر ما اَنزل اللہ ایک کافرانہ فعل ہے....!!!


    یہاں تک کہ ان میں سے کئی ایک طبقے نادانستہ عین اُسی مرجئہ والی دلیل ہی کو دہرانے لگتے ہیں جوکہ دراصل اِن کے اپنے پہلے مقدمے کو بھی باطل کر دیتی ہے؛ یعنی اِن کا یہ سوال اٹھانا کہ یہاں کا ایک عام فرد جو اپنی خواہش نفس سے مجبور ہو کر خدا کی معصیت کر بیٹھتا ہے اُس میں اور غیر اللہ کا قانون چلانے میں آخر کیا فرق ہے؟
    فرماتے ہیں: دونوں کا حکم ایک رکھیں، کفر کہیں تو دونوں کے فعل کو کہیں، اور کفر کی فردِ جرم سے معاف رکھیں تو دونوں کو معاف رکھیں!
    اب ظاہر ہے ایک عام شخص کے، خواہش نفس کے ہاتھوں مجبور ہو کر خدا کی معصیت کرنے کو، کفر تو ہم نہیں کہیں گے؛ کیونکہ یہ خوارج کا مذہب ہے نہ کہ اہل سنت کا۔ لیکن۔۔۔۔ محض ’گناہ‘ کر لینے کو جب ہم ’کفر‘ نہیں کہیں گے تو کیا اُس کو ’طاغوتی‘ کہیں گے؟
    ظاہر ہے نہ ’کفر‘ کہیں گے اور نہ ’طاغوتی‘۔
    شرعی اصطلاح میں مذہب اہل سنت کی رو سے یہ محض ایک ’خطا‘ یا ایک ’معصیت‘ ہے جوکہ اہل ایمان سے بھی سرزد ہو جاتی ہے۔
    تو پھر اگر عین یہی حکم یہاں پر قائم نظام کا بھی ہے، جیسا کہ ہمارے اِن اصحاب کا کہنا ہے، تو پھر اِس نظام کا حکم بھی محض ایک ’خطا‘ یا ایک ’معصیت‘ کا ہے جوکہ اہل ایمان سے بھی سرزد ہو جاتی ہے، اِس نظام کیلئے بھی پھر آپ ’طاغوت‘ یا ’طاغوتی‘ کا لفظ ہی سرے سے کیسے بول سکتے ہیں؟؟؟

    اور یہی تو وہ بات ہے جس پر یہاں کے کچھ گھاگ قسم کے افکار ہمارے اِن نیک طبقوں کو لے کر آنا چاہ رہے ہیں؛ کہ یہ غیر اللہ کی شریعت کو قانون ٹھہرانے اور ایک عام قسم کی معصیت کا ارتکاب کر لینے،۔۔۔ ہر دو کو شرعی حکم کے لحاظ سے ایک کر دیں! پھر نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری! یہ نظام ہی جب عام خطاؤں جیسی محض ایک خطا ہے، جس پر ’شرک‘ یا ’کفر‘ یا ’طاغوت‘ ایسے الفاظ ہی نہیں بولے جا سکتے تو پھر ’وہ جدوجہد جو انبیاءکی طرز پر ایک طاغوت کے خلاف لڑی جاتی ہے‘ آپ سے آپ بے معنیٰ ٹھہرے گی!


    پس ہم چاہیں گے کہ ہمارے وہ گرامی قدر اصحاب جو پورے یقین اور وثوق کے ساتھ اِس نظام کو ’طاغوت‘ کہتے ہیں مگر حکم بغیر ما اَنزل اللہ کو ’کفر‘ کہنے میں بے اندازہ تامل اختیار کرتے ہیں، اِس پر غور فرمائیں کہ ایسا کر کے کیا وہ اپنی اس تحریکی اساس ہی کو تو فوت نہیں کر لیتے جس پر وہ قوم کو یک آواز کرنے جا رہے ہیں؟! اِس نظام کو طاغوت ٹھہرائے جانے کی بنیاد اِس کا حکم بغیر ما اَنزل اللہ کرنا ہی تو ہے! اِس نظام کا اور کونسا جرم ہے جس کی بنیاد پر اِس کو ’طاغوت‘ قرار دے دیا جائے؟ یہی اگر کفر نہیں تو پھر اِس کیلئے ’طاغوت‘ کا لفظ بولنے کا بھی آپ کے پاس کیا جواز رہ جاتا ہے؟

    یا تو آپ اِس انتظام کو جو ”اللہ مالک الملک کی شریعت کو ہٹا کر مخلوق کی طے کردہ شریعت ہی کو قانون اور انسانوں کے جملہ نزاعات میں فیصلہ کیلئے حتمی اور آخری مرجع ٹھہرا رکھنے“ سے عبارت ہے ’طاغوتی‘ ہی قرار نہ دیں۔۔ اور یا اِس عمل کو جو ”اللہ مالک الملک کی شریعت کو ہٹا کر مخلوق کی طے کردہ شریعت ہی کو قانون اور انسانوں کے جملہ نزاعات میں فیصلہ کیلئے حتمی اور آخری مرجع ٹھہرا رکھنے“ سے عبارت ہے ’عام گناہوں‘ سے مختلف ایک گناہ قرار دیں اور اِس کو وہ ’ظلمِ عظیم‘ مانیں جس کو قرآنی اصطلاح میں ’شرک‘ اور ’کفر‘ کہا جاتا ہے۔

    مؤخر الذکر بات کیلئے ہی، یعنی اِس فعل کو عام کبائر سے مختلف کبیرہ قرار دینے کیلئے ہی، اور اِس کو اعمال کی اُس صنف میں شمار کروانے کیلئے ہی جس کو اسلامی عقیدہ کی اصطلاح میں ’ظلمِ عظیم‘ کہا گیا ہے، قرآن کے اندر کچھ ایسے مباحث آئے ہیں:

    وَلَا يُشْرِكُ فِي حُكْمِهِ أَحَدًا (1)

    أَمْ لَهُمْ شُرَكَاء شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّهُ (2)

    إِنِ الْحُكْمُ إِلاَّ لِلّهِ أَمَرَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّاهُ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ (3)

    أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُواْ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُواْ إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُواْ أَن يَكْفُرُواْ بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلاَلاً بَعِيدًا (4)

    أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللّهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ(5)
     
    • شکریہ شکریہ x 7
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏جنوری 24، 2012 #2
    ابن بشیر الحسینوی

    ابن بشیر الحسینوی رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    Pakistan
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    1,060
    موصول شکریہ جات:
    4,411
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    حامد کمال الدین
    کے متعلق اہل علم کی کیا رائے ہے وہ کس منھج کے آدمی ہیں کیونکہ میں نے ان کے متعلق مختلف آراء سنی ہیں احباب وضاحت فرمائیں ؟
     
  3. ‏جنوری 24، 2012 #3
    عاصم

    عاصم رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 20، 2011
    پیغامات:
    44
    موصول شکریہ جات:
    185
    تمغے کے پوائنٹ:
    66

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ
    بشیر بھائی شخصیت کیا ایسانہیں ہے کہ کہنے والے سے زیادہ اس کی بات اہمیت رکھتی ہے؟ سوال یہ اٹھنا چاہیے کہ کہی جانے والی بات کس حد درست ہے یا نہیں۔
     
  4. ‏جنوری 24، 2012 #4
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    حكم بغير ما انزل الله بعض صورتوں میں کفر (اکبر) ہے اور بعض صورتوں میں نہیں۔
    اگر کوئی شخص ما أنزل اللہ کی بجائے کسی اور قانون سے فیصلہ کرے اور اسے علم ہو کہ اس پر ما أنزل اللہ کے مطابق فیصلہ کرنا واجب ہے، اور وہ شریعت کی مخالفت کر رہا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ حکم بغیر ما أنزل اللہ کو مباح سمجھتا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں اور اس کیلئے اللہ کی شریعت کو چھوڑ کر بھی فیصلہ کرنا جائز ہے ۔۔۔ تو ایسا شخص تمام علماء کرام کے نزدیک کفر (اکبر) کا مرتکب ہے۔ جیسے کوئی شخص یہود ونصاریٰ کے وضعی قوانین سے فیصلہ کرے اور سمجھے کہ یہ جائز ہے، یا وضعی قوانین کو اسلامی قوانین سے افضل سمجھے یا انہیں اسلامی قوانین کے برابر سمجھے کہ انسان خود مختار ہے کہ اسلامی اور وضعی قوانین میں سے جسے چاہے اپنالے وغیرہ وغیرہ۔ تو ایسا اعتقاد رکھنے والا بالاجماع کافر ہے۔

    جہاں تک ایسے شخص کا معاملہ ہے جو غیر ما أنزل اللہ کے مطابق فیصلہ خواہش نفسانی یا دنیاوی عاجلانہ مفادات کے تحت کرے اور وہ جانتا ہو کہ یہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی معصیت اور بڑا گناہ ہے اور اس پر شریعت کے مطابق فیصلہ کرنا ضروری تھا تو ایسا شخص گناہگار ہے، کبیرہ گناہ اور کفر اصغر کا مرتکب ہے۔ حقیقی کافر نہیں بن جاتا۔ یہ سیدنا ابن عباس﷜، امام مجاہد﷫ ودیگر اہل علم کی رائے ہے۔
    ایسے شخص نے کفر دون کفر، ظلم دون ظلم اور فسق دوق فسق کا ارتکاب کیا ہے نہ کہ کفر اکبر کا۔ یہی اہل السنۃ والجماعہ کی رائے ہے۔
    فرمانِ باری ہے:
    ﴿ وَأَنِ احْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ ﴾ ۔۔۔ المائدة
    نیز فرمایا:
    ﴿ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكٰفِرُ‌ونَ ٤٤ ﴾ ۔۔۔ المائدة
    ﴿ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الظّٰلِمُونَ ٤٥ ﴾ ۔۔۔ المائدة
    ﴿ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفٰسِقُونَ ٤٧ ﴾ ۔۔۔ المائدة
    ﴿ فَلَا وَرَ‌بِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ‌ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَ‌جًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ٦٥ ﴾ ۔۔۔ النساء
    ﴿ أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّـهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ ٥٠ ﴾ ۔۔۔ المائدة


    پس اللہ کا حکم ہی بہترین حکم ہے، اسی کی اتباع لازمی ہے، اسی کے ساتھ دنیا وآخرت میں اُمت مسلمہ بلکہ پوری دُنیا کی بہتری اور سعادت مندی لاحق ہے لیکن اکثر لوگ اس بارے میں غفلت میں ہیں، والله المستعان، ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم (سماحة الشيخ ابن باز رحمه الله)
    اصل فتوىٰ کیلئے یہ لنک ملاحظہ کریں!
    الحكم بغير ما أنزل الله | الموقع الرسمي لسماحة الشيخ عبدالعزيز بن باز
     
  5. ‏جنوری 24، 2012 #5
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,168
    موصول شکریہ جات:
    2,641
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
    پھر کیا خیال ہے! کتب جرح و تعدیل کو فقہ حنفیہ کی کتب کی طرح غرق دریا کردیا جائے!!
    ان حامد کمال الدین صاحب کے بارے میں جو کچھ سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے کہ یہ صاحب جماعتی اسلامی اور تکفیری منہج کا ماجون مرکب ہیں!! مکمل تفصیل شیخ رفیق طاہر سے معلوم کی جاسکتی ہے!!
     
  6. ‏جنوری 24، 2012 #6
    باربروسا

    باربروسا مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 15، 2011
    پیغامات:
    311
    موصول شکریہ جات:
    1,016
    تمغے کے پوائنٹ:
    106

    انس نضر بھائی !

    آپ کی باتوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن موضوع کی مناسبت سے جوب دیں نا.

    کیا یہ نظام طاغوتی ہے؟؟ اگر ہے تو کیوں؟؟ اگر نہیں تو کیوں نہیں؟؟

    سادہ سا دو جمع دو کا حساب ہے کہ اس نظام کے طواغوتی ہونے کی وجہ وہی ہے جس کے کفر نہ ہونے پر ہم زور دیتے نہیں تھکتے، تو پھر نظام کیوں کر طاغوتی ہوا. . . . ؟؟

    میرے خیال سے یہ مختصر خلاصہ ہے اوپر کے مضمون کا.

    والسلام
     
  7. ‏جنوری 25، 2012 #7
    ابن بشیر الحسینوی

    ابن بشیر الحسینوی رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    Pakistan
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    1,060
    موصول شکریہ جات:
    4,411
    تمغے کے پوائنٹ:
    376


    میرے محترم !جو آپ نے اشارہ کیا اس کا میں بھی قائل ہوں میں نے اس مضمون پر تبصرہ نہیں کیا کہ یہ صحیح ہے یا غلط !
    آج کل بہت زیادہ لوگ نئے نئے منھج لے کر اٹھے ہیں بس یہ پوچھنا تھا کہ حامد کمال الدین صاحب کا مجموعی منھج کیسا ہے ؟
    آپ اس پر رہنمائی فرمائیں ۔
    آج ضروری ہو گیا ہے کہ لوگوں کے منھج کو پہچانا جائے ،بعض باتوں کے صحیح ہونے سے اس کا منھج درست ہونا لازم نہیں آتا ،چند ایک باتوں کا درست ہونا اور اور منھج کا درست ہونا اور ہے !
     
  8. ‏جنوری 25، 2012 #8
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    بھائی!! آپ کے استدلال (کہ حکم بغیر ما انزل اللہ مطلقاً کفر ہے) کی بنیاد یہ ہے کہ چونکہ یہ نظام ’طاغوتی‘ ہے لہٰذا دو جمع چار کے مطابق ’حکم بغیر ما انزل اللہ‘ بھی کفر ہوا۔ سوال یہ ہے کہ یہ کہاں سے طے ہوگیا کہ ہمارا نظام طاغوتی ہے؟؟؟ کیا اس لئے کہ ہمارے حکمران ’غیر ما انزل اللہ ‘ کے مطابق فیصلے کرتے ہیں؟؟؟ بھائی یہ تو دور (گول چکر) ہے جس میں انسان چکرا کر ہی رہ جائے۔
    در اصل میری ناقص رائے میں اگر ہمیں ’اپنے نظام کے طاغوتی، غیر طاغوتی‘ ہونے پر، یا ’حکم بغیر ما انزل اللہ کفر اکبر ہے یا کفر دون کفر ہے‘ پر بحث کرنی ہے تو اس کیلئے انہیں ایک دوسرے پر معلق کرکے حکم لگانے کی بجائے قرآن وسنت کے ٹھوس دلائل سے ان دونوں پر الگ الگ بحث کرنی چاہئے کیونکہ کسی بھی شے کے صحیح اور غلط ہونے کا معیار کتاب وسنّت ہے۔

    اسی لئے میں نے حکم بغیر ما انزل کے بارے میں شیخ ابن باز﷫ کا فتویٰ نقل کر دیا ہے، اگر آپ کو اس سے دلیل کے ساتھ اختلاف ہے تو بتائیے۔

    یہ طے ہوجائے تو ہمارا نظام طاغوتی ہے یا نہیں؟؟ اس پر بھی دلائل سے بات ہوجائے گی۔

    کیا خیال ہے؟
     
  9. ‏جنوری 25، 2012 #9
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,482
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    میرے خیال میں یہ تجزیہ ہی غلط ہے کیونکہ حامد کمال الدین صاحب جن پر نقد کرنا چاہ رہے ہیں، ان کا موقف صحیح نہیں بیان کر رہے ہیں۔ مذہبی رجحانات رکھنے والوں میں حکم بغیر ما انزل اللہ کو سب کفر ہی کہتے ہیں، اب اختلاف صرف اس میں ہے کہ کب وہ کفر اکبر ہوتا ہے اور کب کفر اصغر ہوتا ہے۔ حامد کمال الدین صاحب حکم بغیر ما انزل اللہ کی بعض ایسی صورتوں کو بھی کفر اکبر قرار دیتے ہیں کہ جنہیں سلفی علما شیخ بن باز، شیخ صالح عثیمین، علامہ البانی اور پاکستان کے اہل حدیث علما کفر اصغر قرار دیتے ہیں۔
     
  10. ‏جنوری 25، 2012 #10
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    السلام علیکم

    جناب میں حیران ہوں ، کچھ لوگوں کو سلف صالحین کے ناموں سے تو بے انتہا محبت ہے مگر انکے فیصلوں اور اقوال سے پیٹ میں درد ہونے لگ جاتا ہے!

    اگر نطام طاغوتی تو حکمران کافر والا فارمولا آپ کا مجھے تو عجیب لگا!!

    میرا ایک سوال ہے تمام احباب سے..
    امام ابن تیمیہ رح، امام احمد بن حنبل رح اور محمد بن عبد الوھاب رح کے دور میں عثمانی خلافت کے دور میں حکمران کے بارے فتوی، حالانکہ کہ تب بھی طاغوتی فیصلے موجودتھے ا؟؟؟

    کیا ان تینوں میں سے کسی نے طاغوتی فیصلوں کی موجودگی کے باوجود حکمرانوں کے کافر ہونے کا فتوی دیا؟؟؟؟؟

    متنظر جواب !!!!!!​
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں