1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حیات مسیح کے موضوع پر ایک محمدی کا مرزائی کو جواب

'قادیانیت' میں موضوعات آغاز کردہ از خضر حیات, ‏ستمبر 28، 2013۔

  1. ‏ستمبر 28، 2013 #1
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    مولانا رفیق اثری صاحب '' حیات و خدمات مولانا سلطان محمود محدث جلالپوری '' کے صفحہ نمبر 57 ،58 پر محدث جلالپوری کے اساتذہ کے تذکرہ کے ضمن میں مولانا عبد الحق محدث مکی ہاشمی رحمہ اللہ اور ایک مرزائی کے مابین ہونے والی گفتگو یوں نقل کرتے ہیں :

    '' ایک مرزائی سے حیات مسیح کے موضوع پر گفتگو ہوئی اس نے آیت مبارکہ
    إني متوفيك و رافعك إلي ومطهرك من الذين كفروا .... الآية
    سے استدلال کیا کہ '' توفی '' کا ذکر '' رفع '' سے پہلے ہے لہذا وفات ہوچکی ہے ۔
    شیخ محترم رحمہ اللہ نے اس سے دریافت کیا ، بتاؤ کہ
    کیا '' واؤ '' ترتیب پر دلالت کرتی ہے ؟
    اور یہ جملہ خبریہ ہے یا إنشائیہ ؟
    مرزائی نے کہا کلام خبری ہے اور '' واؤ '' ترتیب کے لئے نہیں ۔
    شیخ محترم رحمہ اللہ نے کہا مسئلہ یہ نہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام پر موت نہیں آئے گی ،بلکہ بحث یہ ہے کہ کس لفظ سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ پر موت آچکی ہے ؟
    مرزائی نے جواب دیا کہ مسلمان کہتے ہیں کہ وہ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اور آیت میں '' رفع '' یعنی اٹھایا جانا '' توفی '' کے بعد مذکور ہے اس سے معلوم ہوا کہ وفات ہوچکی تھی ۔
    شیخ محترم نے جواب دیا کہ آپ نے خود تسلیم کیا کہ یہ کلام خبری ہے ۔ اللہ تعالی یہ خبر کیوں دے رہا ہے ؟ کیا عیسی علیہ السلام کو اپنی موت کے بارے میں شک تھا ؟ وہ اللہ کے رسول ہیں اس کی کتاب انسانوں تک پہنچا چکے ہیں پھر ان کو یہ بتانے میں کیا حکمت تھی کہ میں تجھے موت دوں گا ؟ نظر بہ ظاہر اس کا فائدہ معلوم نہیں ہوتا ۔ حقیقتا اس میں کوئی حکمت ضرور ہے ورنہ یہ کلام اس درجے میں ہوجائے گا جیساکہ ایک شخص نے کسی کو خبردی :
    چشمان تو زیر ابرواند دندان تو جملہ در دہانند
    مرزائی کے استفاار پر کہ اللہ تعالی کے کلام میں بے فائدہ جملہ کیسے آسکتا ہے ؟آپ اس کی حکمت بیان فرمائیں ۔
    آپ نے فرمایا ارشاد ربانی ہے :
    فلما أحس عيسي منهم الكفر قال من أنصاري إلى الله ... الآية
    اس سے یہ ظاہر ہے کہ عیسی علیہ السلام کو ان (عیسائیوں ) کے شدید کفر کا احساس ہوا اور خطرہ محسوس کیا کہ یہ لوگ میرے قتل کے درپے ہوں گے ، اسی لیے فرمایا من أنصاری إلی اللہ ؟ تو اللہ سبحانہ و تعالی نے آپ کو تسلی دی کہ اے عیسی! تیری موت تو میرے ہاتھ میں ہے جب تک میرا حکم نہ آئے ، یہ تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔
    اس میں ابھی تشنگی ہے کہ پھر ان کے منصوبہ قتل کو کس طرح روکا جائے گا ؟ تو فرمایا : '' ورافعک إلی '' کہ میں تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں ، یہ دشمن تیرا کیا بگاڑ لیں گے ۔
    اس پر مرزائی حواس باختہ ہوکر چلا گیا ۔
     
  2. ‏ستمبر 28، 2013 #2
    قاری مصطفی راسخ

    قاری مصطفی راسخ علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    lahore
    شمولیت:
    ‏مارچ 07، 2012
    پیغامات:
    664
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    301

    جزاکم اللہ خیرا
     
  3. ‏مارچ 10، 2014 #3
    جاء الحق

    جاء الحق مبتدی
    جگہ:
    چناب نگر
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2014
    پیغامات:
    4
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    1.jpg
     

    منسلک کردہ فائلیں:

    • 2.jpg
      2.jpg
      فائل سائز:
      254.6 KB
      مناظر:
      124
    • معلوماتی معلوماتی x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏مارچ 10، 2014 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    جزاکم اللہ خیرا ۔
     
  5. ‏جون 08، 2014 #5
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن
    شمولیت:
    ‏جون 28، 2013
    پیغامات:
    173
    موصول شکریہ جات:
    67
    تمغے کے پوائنٹ:
    70

    ماشا اللہ بہت عمدہ
     
  6. ‏جون 09، 2014 #6
    محمد عثمان منظور

    محمد عثمان منظور مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2014
    پیغامات:
    6
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    10

    حیات مسیح کو ثابت کرنے کے لیے تو النساء کی آیات 157،158، اور 159 ہی کافی ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں