1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

خاموش تماشائی نہ بنیں!

'اتحاد امت' میں موضوعات آغاز کردہ از SZ Shaikh, ‏مارچ 18، 2018۔

  1. ‏مارچ 18، 2018 #1
    SZ Shaikh

    SZ Shaikh مبتدی
    جگہ:
    India
    شمولیت:
    ‏فروری 13، 2015
    پیغامات:
    8
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم ٹیکنالوجی اور ترقی کی وجہ سے خوشحالی کی طرف بڑھ رہے ہیں، جس نے ہماری زندگی کو آسان بنا دیا ہے.ہمارے آباؤ اجداد کی زندگی ان ساری آسائشوں سے بہت دور تھی مگر اس کے باوجود ان کی زندگی میں سکون تھا. آج ہم نئے دور میں داخل ہو چکے ہے پوری دنیا ایک گلوبل ویلیج بن چکا ہے تمام فاصلے مٹ چکے ہیں لیکن بدقسمتی سے انسانوں کے دلوں کے ساتھ ساتھ انسانیت سسک رہی ہے دم توڑ رہی ہیں آج کے تناظر میں جس کا بین ثبوت ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ بڑے پیمانے پر معصوم بچوں، عورتوں کا بڑی بےرحمی سے ماراجارہا ہیں۔ اورکس طرح بے گناہ انسانوں کے سفاکانہ قتل پر ساری دینا خاموش ہے؟جو لوگ انسانی جان کے علمبردار ہیں وہی انسانوں کے خون پر خاموش تماشائی بنے ہوے ہیں۔ انسانیت کا اصل جوہر کہاں گم ہو گیا ہے؟ مشرق وسطی غوطہ کے حالات اور صورتحال کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ جبکہ انسانی جان بہت ہی معتبر ہے ۔ حضرت عمر فاروق (ر) کے الفا ظ حقوق انسانی کے ابتدائی نقطہ اور چارٹر قرار پاے کہ " تم نے لوگوں کو کب سے غلام بنانا شروع کردیا ھے جب کہ ان کی ماؤں نے انھیں آزاد جنا تھا" آج ہم کیوں بے حس ہو گیے ؟ جب کہ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم ظالم کے ہاتھ کو ظلم سے روکے.

    "تم میں سے جو کوئی کسی برائی کو دیکھے اس پر لازم ہے کہ اس برائی کو اپنے ہاتھ سے مٹائے اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو اپنی زبان سے روکے اگر اس کی استطاعت نہ ہوتو اپنے دل سے اس برائی کو مٹائے۔(یعنی بوقت استطاعت مٹانے کا عزم رکھے) اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔" [مسلم]

    دراصل حق اور باطل کی کشمکش ہر دور میں جاری رہے گی کبھی شداد کے روپ میں تو کبھی نمرود اور کبھی فرعون یہ ہر دور میں نظر آئے گے نام مختلف ہو گے.کردار ایک ہی ہونگے. مگر اس کے لئے ہمیں آگے بڑھنا ہوگا تو اللہ تعالی بھی ہماری راہیں آسان کرے گا۔ جس طرح ابراہیم کے لئے آگ کو گلزار کر دیا تو کبھی فرعون کو غرق کرکے تو کبھی فرشتوں کے ذریعے مدد کی۔

    ؎ فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
    اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی

    یہ بات طے ہے کہ ناکامی، شکست اور نامرادی ہی باطل کا مقدر ہے اور حق کا مقدر نصرت، اور فتح ہی آخری اور حتمی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم کو باطل سے ٹکراتے ہیں اور حق اس کا سر کچل دیتا ہے۔اور باطل میدان چھوڑ کر بھاگ جاتا یے۔ ." آج ہمارے اطراف جو لوگ انسان جان کو پامال کر رہے پیں. انہیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اللہ نے فرعون کی لاش کو بطور عبرت رکھا ہے تاکہ ہر جابر اور قہار کا یہی انجام ہیں. اور یہ نہ بھولیں کہ وقت اور حالات کبھی بھی بدل سکتے ہیں اگر آج یہ لوگ ظلم کا شکار ہیں تو کل ہم بھی ہو سکتے ہیں توآیے ہم سب مل کر ظلم کےخلاف آواز بلند کریں اللہ کا فرمان ہے کہ اگر تم نے ایک انسان کی جان بچائی گویا تمام نوع انسانی کی جان بچائی ۔۔[​IMG]

    Sent from my SM-N950F using Tapatalk
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں