1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

خانہ کعبہ میں آگ لگنا ، ذمہ دار کون؟؟؟

'تاریخی روایات' میں موضوعات آغاز کردہ از کفایت اللہ, ‏جولائی 02، 2012۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏جولائی 02، 2012 #1
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,914
    موصول شکریہ جات:
    9,778
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    خانہ کعبہ میں آگ لگنا ، ذمہ دار کون؟؟؟


    بعض لوگ یزید بن معاویہ رحمہ اللہ پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ اس نے خانہ کعبہ پرحملہ کرکے ’’بیت اللہ ‘‘ کو آگ لگا کرشہید کردیا ، معاذ اللہ۔
    ملاحظہ ہو پوسٹر ’’رافضیت ، ناصبیت اوریزیدیت کا تحقیقی جائزہ‘‘ سے ایک اقتباس :
    [​IMG]

    غورفرمائیں کیا کہا جارہا ہے ’’بیت اللہ‘‘ کو شہید کردیا گیا !!!!!!! لاحول ولاقوۃ الاباللہ۔
    کیا اس سے بھی بڑا جھوٹ کوئی ہوسکتاہے ، یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی دن کے اجالے میں کہے کہ سورج پر میزائل برسا کر اسے تباہ کردیا گیا۔
    اس طرح کی بات کہنے والے صرف یزید بن معاویہ ہی نہیں بلکہ ’’بیت اللہ‘‘ پر بھی جھوٹ بول رہے ہیں ، کیا ایک مسلمان جس کے پاس ذرہ برابر بھی ایمان ہو وہ ایک پل کے لئے اس خبر پر یقین کرسکتاہے کہ ’’بیت اللہ‘‘ کو بھی شہید کردیا گیا !!!!! وہ بھی آگ لگا کر !!!!!
    یہ وہی ’’بیت اللہ ‘‘ ہے جس پر حملہ کرنے کے لئے ہاتھیوں کی فوج نے بھی خواب دیکھا تھا لیکن ان کا کیا حشرہوا ، قران میں سورہ فیل کے نام سے پوری سورت موجود ہے ، اس طرح جھوٹی اوربے ہودہ افواہیں پھیلانے والوں کو چاہئے کہ یزیدبن معایہ رحمہ اللہ پر تہمت تراشیوں سے فرصت ملے تو کم ازکم ایک بار سورہ فیل مع ترجمہ وتفسیر کسی طالب علم کے پاس بیٹھ کرپڑھ لیں۔

    جس مقدس گھر’’بیت اللہ‘‘ کا ہاتھیوں کا جتھا کچھ نہ بگاڑ سکا ، جس کی ایک اینٹ کو بدنیتی سے ہلانے کی جرأت پوری تاریخ انسانیت میں کوئی نہ کرسکا ، کیونکر ممکن ہے ایک مسلمان نہ صرف یہ کہ ایسا خطرناک اقدام کرلے بلکہ اسے کامیابی بھی مل جائے۔ سبحان اللہ ھذا بہتان عظیم۔

    شيخ الاسلام ابن تيمية رحمه الله (المتوفى728) فرماتے ہیں:
    لكن لم يقتل جميع الأشراف ولا بلغ عدد القتلى عشرة الاف ولا وصلت الدماء إلى قبر النبي صلى الله عليه و سلم ولا إلى الروضة ولا كان القتل في المسجد وأما الكعبة فإن الله شرفها وعظمها وجعلها محرمة فلم يمكن الله أحدا من إهانتها لا قبل الإسلام ولا بعده بل لما قصدها أهل الفيل عاقبهم الله العقوبة المشهورة كما قال تعالى ألم تر كيف فعل ربك بأصحاب الفيل ألم يجعل كيدهم في تضليل وأرسل عليهم طيرا أبابيل ترميهم بحجارة من سجيل فجعلهم كعصف مأكول [منهاج السنة النبوية 4/ 576]۔

    شيخ الاسلام ابن تيمية رحمه الله (المتوفى728) آگے فرماتے ہیں:
    وأما ملوك المسلمين من بني أمية وبني العباس ونوابهم فلا ريب أن أحدا منهم لم يقصد أهانة الكعبة لا نائب يزيد ولا نائب عبد الملك الحجاج بن يوسف ولا غيرهما بل كان المسلمين كانوا معظمين للكعبة وإنما كان مقصودهم حصار ابن الزبير والضرب بالمنجنيق كان له لا للكعبة ويزيد لم يهدم الكعبة ولم يقصد إحراقها لا وهو ولا نوبه باتفاق المسلمين[منهاج السنة النبوية 4/ 577]۔
    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے آخری جملہ پرغورکریں وہ اس بات پراجماع نقل کررہے ہیں کہ یزید رحمہ اللہ نے نہ صرف یہ کہ خانہ کعبہ کو شہیدنہیں کیا بلکہ اس کا ارادہ تک نہ کیا ، اب جولوگ اس کے خلاف دعوی کریں ان کی ذمہ داری ہے ابن تیمہ رحمہ اللہ کے دور میں یا اس سے قبل اس بارے میں اختلاف ثابت کریں کہ یزید نے خانہ کعبہ کو جلایا یا نہیں ؟؟ اگر یہ اختلاف ثابت نہیں کیا جاسکتا ہے تو ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی یہ بات درست ہوگی کہ اس سلسلے میں یزیدرحمہ اللہ کی براءت پراجماع ہے ، اوراجماع امت کبھی غلط نہیں ہوسکتا۔

    یادرہے کہ محولہ جس پوسٹر میں یزید رحمہ اللہ پریہ جھوٹے الزامات لگائے گئے ہیں اس کے پہلے ہی صفحہ پرلکھا ہواہے:
    [​IMG]

    لہٰذا جس بات پر اجماع ہوچکا اس میں اجتہاد وقیاس اورنئی تحقیق پیش کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے یہ بات بھی اسی پوسٹر میں لکھی ہوئی ہے ملاحظہ ہو:
    [​IMG]

    لیکن افسوس ہے کہ یہ سب کچھ لکھنے کے باوجودبھی پوسٹرنگاروں نے اجماع امت کے بالمقابل نہ صرف یہ کہ قیاس آرائی کی بلکہ جھوٹی باتوں کو اجماع کے بالمقابل پیش کرکے بغیراللہ کے خوف کے صحیح مسلم کا حوالہ جڑدیا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 18
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏جولائی 02، 2012 #2
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,914
    موصول شکریہ جات:
    9,778
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    صحیح مسلم کی حدیث میں اہل شام پر الزام نہیں


    آئیے سب سے پہلے ہم اس حدیث کو دیکھتے ہیں جس کے لئے صحیح مسلم کا حوالہ دیا گیا ہے یادرہے کہ حدیث جس دعوی میں پیش کی گئی اس دعوی میں خانہ کعبہ میں آگ لگنے کے ساتھ ساتھ درج ذیل باتیں بھی ہیں:

    1. یزیدنےجلیل القدرصحابی ابن زبیر رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا۔
    2. یزیدنے ’’بیت اللہ‘‘ کو آگ لگائی۔
    3. یزید نے ’’بیت اللہ‘‘ کو شہیدکیا۔


    اب حدیث دیکھیں ، امام مسلم رحمه الله (المتوفى261)نے کہا:
    حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: لَمَّا احْتَرَقَ الْبَيْتُ زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، حِينَ غَزَاهَا أَهْلُ الشَّامِ، فَكَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا كَانَ، تَرَكَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ حَتَّى قَدِمَ النَّاسُ الْمَوْسِمَ يُرِيدُ أَنْ يُجَرِّئَهُمْ - أَوْ يُحَرِّبَهُمْ - عَلَى أَهْلِ الشَّامِ، فَلَمَّا صَدَرَ النَّاسُ، قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَشِيرُوا عَلَيَّ فِي الْكَعْبَةِ، أَنْقُضُهَا ثُمَّ أَبْنِي بِنَاءَهَا؟ أَوْ أُصْلِحُ مَا وَهَى مِنْهَا؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَإِنِّي قَدْ فُرِقَ لِي رَأْيٌ فِيهَا، أَرَى أَنْ تُصْلِحَ مَا وَهَى مِنْهَا، وَتَدَعَ بَيْتًا أَسْلَمَ النَّاسُ عَلَيْهِ، وَأَحْجَارًا أَسْلَمَ النَّاسُ عَلَيْهَا، وَبُعِثَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: " لَوْ كَانَ أَحَدُكُمُ احْتَرَقَ بَيْتُهُ، مَا رَضِيَ حَتَّى يُجِدَّهُ، فَكَيْفَ بَيْتُ رَبِّكُمْ؟ إِنِّي مُسْتَخِيرٌ رَبِّي ثَلَاثًا، ثُمَّ عَازِمٌ عَلَى أَمْرِي، فَلَمَّا مَضَى الثَّلَاثُ أَجْمَعَ رَأْيَهُ عَلَى أَنْ يَنْقُضَهَا، فَتَحَامَاهُ النَّاسُ أَنْ يَنْزِلَ بِأَوَّلِ النَّاسِ يَصْعَدُ فِيهِ أَمْرٌ مِنَ السَّمَاءِ، حَتَّى صَعِدَهُ رَجُلٌ، فَأَلْقَى مِنْهُ حِجَارَةً، فَلَمَّا لَمْ يَرَهُ النَّاسُ أَصَابَهُ شَيْءٌ تَتَابَعُوا فَنَقَضُوهُ حَتَّى بَلَغُوا بِهِ الْأَرْضَ، فَجَعَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ أَعْمِدَةً، فَسَتَّرَ عَلَيْهَا السُّتُورَ حَتَّى ارْتَفَعَ بِنَاؤُهُ، وَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: إِنِّي سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْلَا أَنَّ النَّاسَ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِكُفْرٍ، وَلَيْسَ عِنْدِي مِنَ النَّفَقَةِ مَا يُقَوِّي عَلَى بِنَائِهِ، لَكُنْتُ أَدْخَلْتُ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ خَمْسَ أَذْرُعٍ، وَلَجَعَلْتُ لَهَا بَابًا يَدْخُلُ النَّاسُ مِنْهُ، وَبَابًا يَخْرُجُونَ مِنْهُ» ، قَالَ: «فَأَنَا الْيَوْمَ أَجِدُ مَا أُنْفِقُ، وَلَسْتُ أَخَافُ النَّاسَ» ، قَالَ: " فَزَادَ فِيهِ خَمْسَ أَذْرُعٍ مِنَ الْحِجْرِ حَتَّى أَبْدَى أُسًّا نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ، فَبَنَى عَلَيْهِ الْبِنَاءَ وَكَانَ طُولُ الْكَعْبَةِ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ ذِرَاعًا، فَلَمَّا زَادَ فِيهِ اسْتَقْصَرَهُ، فَزَادَ فِي طُولِهِ عَشْرَ أَذْرُعٍ، وَجَعَلَ لَهُ بَابَيْنِ: أَحَدُهُمَا يُدْخَلُ مِنْهُ، وَالْآخَرُ يُخْرَجُ مِنْهُ ". فَلَمَّا قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ كَتَبَ الْحَجَّاجُ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ يُخْبِرُهُ بِذَلِكَ وَيُخْبِرُهُ أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ قَدْ وَضَعَ الْبِنَاءَ عَلَى أُسٍّ نَظَرَ إِلَيْهِ الْعُدُولُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ الْمَلِكِ: إِنَّا لَسْنَا مِنْ تَلْطِيخِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فِي شَيْءٍ، أَمَّا مَا زَادَ فِي طُولِهِ فَأَقِرَّهُ، وَأَمَّا مَا زَادَ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ فَرُدَّهُ إِلَى بِنَائِهِ، وَسُدَّ الْبَابَ الَّذِي فَتَحَهُ، فَنَقَضَهُ وَأَعَادَهُ إِلَى بِنَائِهِ[صحيح مسلم 2/ 970 ترقیم فوادعبدالباقی 1333 وترقیم آخر 3245]۔


    قارئین اس حدیث کو باربار پڑھیں اوربتلائیں کہ مذکورہ دعوی میں جن تین باتوں کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں سے کوئی ایک بات بھی اس روایت میں موجودہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    ہاں اس روایت میں اتناضرورہے کہ خانہ کعبہ میں آگ لگی تھی لیکن کیا کسی نےجان بوجھ کر یہ آگ لگائی تھی؟؟ یا یزید نے یہ آگ لگائی تھی ؟؟ یا عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ نے یہ آگ لگائی تھی ، ان میں سے کسی بات کی بھی دلیل اس روایت میں قطعا نہیں ہے۔

    بلکہ امام عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کا آگ لگنے کی ذمہ داری کسی پرنہ ڈالنا اس بات کی دلیل ہے کہ آگ کسی نے لگائی نہیں تھی بلکہ تیزہوا کے سبب دوسری جگہ کی آگ یہاں پہنچ گئی تھی جس کے نتیجہ میں کعبہ کا بعض حصہ جل گیا۔
    دکتورمحمدبن ہادی الشیبانی لکھتے ہیں:
    حتی ان احد کبارالتابعین من رواۃ مسلم لم یتھم احدا باحراق الکعبہ[مواقف المعارضة في عهد يزيد بن معاوية: ص: ٦٧٩].
    نوٹ :
    اہل شام نے بے شک عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ کے خلاف لشکرکشی کی لیکن یہ بات دوسرے مقامات پرمذکورہے محولہ روایت میں عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ پرحملہ کا ذکر نہیں ، یعنی تین باتوں میں سے کوئی بات بھی اس روایت میں نہیں ہے جس کا حوالہ دیا گیا ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 12
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏جولائی 02، 2012 #3
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,914
    موصول شکریہ جات:
    9,778
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    آگ لگنے کے ذمہ دارکون ؟
    اہل شام ؟ یا اصحاب عبداللہ بن زبیررضی اللہ ؟؟



    بعض جھوٹی ومردود روایات کی بنیاد پر اہل شام پر یہ تہمت لگائی جاتی ہے کہ کعبہ میں انہوں نے ہی آگ لگائی حالانکہ حقیقت اس کے خلاف ہے بلکہ متعدد روایات میں اس کے برعکس بات ملتی ہے اوروہ یہ صراحت کرتی ہیں کہ کعبہ میں آگ لگنے کے ذمہ دار اہل شام نہیں بلکہ عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ کے اصحاب ہی ہیں ، انہیں کی وجہ سے کعبہ میں آگ لگی، گرچہ انہوں نے دانستہ ایسا نہیں کیا۔

    ذیل میں ہم دونوں طرح کی روایات کو ان کی استنادی حالت کی وضاحت کے ساتھ پیش کررہے ہیں، سب سے پہلے وہ روایات دیکھتے ہیں جن میں اہل شام پر الزام لگایا گیا ہے کہ ان کی وجہ سے خانہ کعبہ میں آگ لگی ، ملاحظہ ہو:
     
    • شکریہ شکریہ x 11
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  4. ‏جولائی 02، 2012 #4
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,914
    موصول شکریہ جات:
    9,778
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    اہل شام پر الزام سےمتعلق پہلی روایت


    اہل سنت کے مصادر میں سند کے ساتھ منقول ان روایات کی حقیقت ملاحظہ ہوں جن میں ذکرہے ہے کہ کعبہ میں آگ لگنے کاسبب اہل شام ہیں :

    قال هشام بن محمد الكلبي وذكر عوانة (؟) أن مسلم بن عقبة شخص يريد ابن الزبير حتى إذا بلغ ثنية هرشا نزل به الموت فبعث إلى رؤوس الأجناد فقال إن أمير المؤمنين عهد إلي إن حدث بي حدث الموت أن أستخلف عليكم حصين بن نمير السكوني والله لو كان الأمر إلي ما فعلت ولكن أكره معصية أمر أمير المؤمنين عند الموت ثم دعا به فقال انظر يا برذعة الحمار فاحفظ ما أوصيك به عم الأخبار ولا ترع سمعك قريشا أبدا ولا تردن أهل الشام عن عدوهم ولا تقيمن إلا ثلاثا حتى تناجز ابن الزبير الفاسق ثم قال اللهم إني لم أعمل عملا قط بعد شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله أحب إلي من قتلي أهل المدينة ولا أرجي عندي في الآخرة ثم قال لبني مرة زراعتي التي بحوران صدقة على مرة وما أغلقت عليه فلانة بابها فهو لها يعني أم ولده ثم مات وما مات خرج حصين بن نمير بالناس فقدم على ابن الزبير مكة وقد بايعه أهلها وأهل الحجاز قال هشام قال عوانة قال مسلم قبل الوصية إن ابني يزعم أن أم ولدي هذه سقتني السم وهو كاذب هذا داء يصيبنا في بطوننا أهل البيت قال وقدم عليه يعني ابن الزبير كل أهل المدينة وقد قدم عليه نجدة بن عامر الحنفي في أناس من الخوارج يمنعون البيت فقال لأخيه المنذر ما لهذا الأمر ولدفع هؤلاء القوم غيري وغيرك وأخوه المنذر ممن شهد الحرة ثم لحق به فجرد إليهم أخاه في الناس فقاتلهم ساعة قتالا شديدا ثم إن رجلا من أهل الشام دعا المنذر إلى المبارزة قال والشامي على بغلة له فخرج إليه المنذر فضرب كل واحد منهما صاحبه ضربة خر صاحبه لها ميتا فجثا عبدالله بن الزبير على ركبتيه وهو يقول يا رب أبرها من أصلها ولا تشدها وهو يدعو على الذي بارز أخاه ثم إن أهل الشام شدوا عليه شدة منكرة وانكشف أصحابه انكشافة وعثرت بغلته فقال تعسا ثم نزل وصاح بأصحابه إلي فأقبل إليه المسور بن مخرمة بن نوفل بن أهيب بن عبد مناف بن زهرة ومصعب بن عبدالرحمن بن عوف الزهري فقاتلوا حتى قتلوا جميعا وصابرهم ابن الزبير يجالدهم حتى الليل ثم انصرفوا عنه وهذا في الحصار الأول ثم إنهم اقاموا عليه يقاتلونه بقية المحرم وصفر كله حتى إذا مضت ثلاثة ايام من شهر ربيع الأول يوم السبت سنة أربع وستين قذفوا البيت بالمجانيق وحرقوه بالنار [تاريخ الأمم والرسل والملوك- الطبري 3/ 361]۔

    یہ روایت موضوع ومن گھڑت ہے اس میں درج ذیل علتیں ہیں۔

    پہلی علت:
    امام ابن جرير الطبري رحمه الله (المتوفى310) نے اس روایت کو هشام بن محمد الكلبي(المتوفى204) سے نقل کیا ہے ، اوراپنا ماخذ نہیں بتایا ہے ، اوراس کتاب میں امام طبری نے هشام بن محمد الكلبی کی بہت ساری مروایات کسی واسطے سے نقل کی ہیں جیساکہ ایک مقام پرفرماتے ہیں:
    وأما هِشَام بن مُحَمَّد الكلبي فإنه قَالَ فِي سن يَزِيد خلاف الَّذِي ذكره الزُّهْرِيّ، والذي قَالَ هِشَام فِي ذَلِكَ- فِيمَا حدثنا عنه-:[تاريخ الطبري: 5/ 499]۔
    اور یہاں یہ معلوم نہیں ہے کہ موصوف نے ابن الکلبی سے یہ روایت کس واسطے سے نقل کی ہے۔


    دوسری علت:
    هشام بن محمد الكلبي کذاب ورافضی ہے ۔

    امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354)نے کہا:
    وكان غاليا في التشيع أخباره في الأغلوطات أشهر من أن يحتاج إلى الإغراق في وصفها[المجروحين لابن حبان: 3/ 91]۔

    شيخ الاسلام ابن تيمية رحمه الله (المتوفى728)نے کہا:
    وأكثر المنقول من المطاعن الصريحة هو من هذا الباب يرويها الكذابون المعروفون بالكذب مثل أبي مخنف لوط بن يحيى ومثل هشام بن محمد بن السائب الكلبي وأمثالهما من الكذابين[منهاج السنة النبوية لابن تیمیہ: 5/ 81]۔

    امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا:
    هشام بن محمد بن السائب الكلبي الحافظ واه[المعين فى طبقات المحدثين للذھبی: ص: 18]۔

    نیزاسے رافضی قراردیتے ہوئے کہا:
    ومع فرط ذكاء ابن الكلبي لم يكن بثقة، وفيه رفض[تاريخ الإسلام للذھبی: 5/ 211]۔

    امام ابن العراق الكناني رحمه الله (المتوفى963)نے کہا:
    هشام بن محمد بن السائب الكلبى الاخبارى النسابة اتهم بالكذب[تنزيه الشريعة المرفوعة لابن العراق: 1/ 123]۔


    تیسری علت:
    عوانة بن الحكم بن عوانة بن عياض۔
    آپ مختلف فیہ ہیں بعض نے آپ کو صدوق کہا جبکہ بعض نے آپ کومتہم قراردیا ہے [الأعلام للزركلي 5/ 93]۔
    لیکن اس سے قطع نظر آپ کی وفات سن 158 ہجری ہے اوراحتراق کعبہ کا واقعہ سن 64 کا ہے یعنی بیچ میں لمبا فاصلہ ہے اوراس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ موصوف نے اپنی سن تمیز میں یہ دور پا یا ہو۔
    لہٰذا ان کا ماخذ بھی نامعلوم ہے۔


    خلاصہ کلام یہ کہ یہ روایت موضوع و من گھڑت ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 11
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  5. ‏جولائی 02، 2012 #5
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,914
    موصول شکریہ جات:
    9,778
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    اہل شام پر الزام سےمتعلق دوسری روایت

    امام خليفة بن خياط الشيباني العصفري (المتوفى: 240 ) نے کہا
    حدثنا الأنصاري وغندر قالا : نا ابن جريج قال (؟) : اتخذ ابن الزبير المسجد حصنا فكانت فيه الفساطيط والخيام . فحرق رجل من أهل الشام باب بني جمح ففشا الحريق حتى أخذ في باب الكعبة فاحترقت[تاريخ خليفة بن خياط ص: 64]۔


    اس کی سند میں ابن جریج خطرناک قسم کے مدلس ہیں کیونکہ یہ کذاب راویوں سے تدلیس کرتے ہیں۔

    امام احمدرحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب یہ بغیرسماع کی صراحت کے روایت بیان کریں تو وہ روایت منکرہوتی ہے ،چنانچہ:
    امام أحمد بن حنبل رحمه الله (المتوفى241)نے کہا:
    إذا قال ابن جريج: قال فلان، وقال فلان، وأخبرت، جاء بمناكير[تاريخ بغداد للخطيب البغدادي: 12/ 142واسنادہ صحیح روایۃ الجوھری عن الاثرم من کتاب]۔

    بلکہ امام احمدرحمہ اللہ نے دوسرے مقام پر اس کی بعض تدلیس کردہ روایات کو موضوع و من گھڑت کہاہے، چنانچہ:
    امام أحمد بن حنبل رحمه الله (المتوفى241)نے کہا:
    بعض هذه الأحاديث التي كان يرسلها بن جريج أحاديث موضوعة كان بن جريج لا يبالي من أين يأخذه يعني قوله أخبرت وحدثت عن فلان [العلل ومعرفة الرجال لأحمد رواية ابنه عبد الله 2/ 551]۔

    امام دارقطنی رحمہ اللہ نے بھی یہی صراحت کی ہے کہ ابن جریج سخت مجروح رواۃ سے تدلیس کرتے ہیں ،چنانچہ:
    امام دارقطني رحمه الله (المتوفى385)نے کہا:
    يتجنب تدليسه فإنه وحش التدليس لا يدلس إلا فيما سمعه من مجروح مثل إبراهيم بن أبي يحيى وموسى بن عبيدة وغيرهما[سؤالات الحاكم للدارقطني: ص: 174]۔

    غورفرمائیں کہ جس راوی کا یہ معمول ہو کہ کذاب اور سخت مجروع رواۃ سے تدلیس کرکے اس کی غیرمصرح بالسماع روایت کیا کیا ہونا چاہے ۔
    یقینا ایسی روایت قابل حجت تو درکنار شواہد و متابعات میں بھی قابل قبول نہیں ہے کیونکہ ایسی روایات سخت ضعیف کے حکم میں ہیں۔

    علامہ البانی رحمہ اللہ جن کا اصول ہے کہ ضعیف روایت دوسری ضعیف روایت سے مل کرحسن لغیرہ بن جاتی ہے وہ بھی پوری صراحت کے ساتھ فرماتے ہیں کہ ابن جریج کی تدلیس کردہ روایات حسن لغیرہ بننے کے قابل بھی نہیں ہیں چنانچہ علامہ البانی رحمہ اللہ رقم طراز ہیں:
    فتبين من كلمات هؤلاء الأئمة أن حديث ابن جريج المعنعن ضعيف، شديد الضعف، لا يستشهد به؛ لقبح تدليسه، حتى روى أحاديث موضوعة، بشهادة الإمام أحمد، وهذا إذا كان حديثه المعنعن مسندًا، فكيف إذا كان مرسلًا، بل معضلًا كهذا الحديث؟!.[جلباب المرأة المسلمة في الكتاب والسنة ص: 46 ]۔


    فائدہ:
    یہ دوسری روایت غیرثابت ہونے کے باوجود پہلی روایت سے مختلف ہے ۔
    پہلی روایت میں اہل شام پر یہ تہمت لگائی گئی ہے کہ انہوں نے کعبہ پر حملہ کرکے اسے جلا دیا ، جبکہ اس دوسری روایت میں یہ ہے کہ اہل شام کے ایک فرد نے باب بني جمح میں آگ لگائی تھی لیکن وہ آگ ہوا کے ساتھ اڑ کر خانہ کعبہ تک پہنچ گئی ، یعنی اس دوسری روایت میں اہل شام پر آگ لگنے کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے لیکن ساتھ میں یہ بھی وضاحت ہے کہ اہل شام نے ایسا دانستہ نہیں کیا تھا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 12
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  6. ‏جولائی 04، 2012 #6
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,914
    موصول شکریہ جات:
    9,778
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    اہل شام پر الزام سےمتعلق تیسری روایت


    امام أبو العرب،محمد بن أحمد بن تميم(المتوفى: 333) نے کہا:
    حَدَّثَنِي أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدُ بْنُ أُسَامَةَ قَالا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ (؟) لَمَّا مَاتَ مُسْلِمُ بْنُ عُقْبَةَ سَارَ حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ حَتَّى جَاءَ مَكَّةَ فَدَعَاهُمْ إِلَى الطَّاعَةِ وَابْنُ الزُّبَيْرِ يَوْمَئِذٍ بِمَكَّةَ فَلَمْ يُجِيبُوهُ وَقَاتَلَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَقُتِلَ يَوْمَئِذٍ الْمُنْذِرُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَرَجُلانِ مِنْ إِخْوَتِهِ وَمُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ وَكَانَ حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ قَدْ نَصَبَ الْمَجَانِيقَ عَلَى أَبِي قُبَيْسٍ وَعَلَى قعيقعان فَلم يكد أَحَدٌ يَقْدِرُ عَلَى أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ فَأَسْنَدَ ابْنُ الزُّبَيْرِ أَلْوَاحًا مِنَ السَّاجِ عَلَى الْبَيْتِ وَأَلْقَى عَلَيْهَا الْفُرُشَ وَالْقَطَائِفَ فَكَانَ إِذَا وَقَعَ عَلَيْهَا الْحَجَرَ نَبَا عَنِ الْبَيْتِ وَكَانُوا يَطُوفُونَ تَحْتَ تِلْكَ الأَلْوَاحِ فَإِذَا سَمِعُوا صَوْتَ الْحَجَرِ حِينَ يَقَعُ عَلَى الْفُرُشِ وَالقْطَائِفِ كَبَّرُوا وَكَانَ طُولُ الْكَعْبَةِ يَوْمَئِذٍ فِي السَّمَاءِ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ ذِرَاعًا وَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ قَدْ ضَرَبَ فُسْطَاطًا فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَكُلَّمَا جُرِحَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ أدخلهُ ذَلِك الْفسْطَاط قَالَ فجَاء رجل من أهل الشَّام وَفِي طرف سِنَان رمحه نَار فأشعلها فِي الْفسْطَاط وَكَانَ يَوْمًا شَدِيدَ الرِّيحِ فَوَقَعَتِ النَّارُ عَلَى الْكَعْبَةِ فَاحْتَرَقَ الْبَيْتُ وَالسَّقْفُ وَانْصَدَعَ الرُّكْنُ وَأُحْرِقَتِ الأستار وتساقطت إِلَى الأَرْضِ قَالَ ثُمَّ أَقَامَ أَهْلُ الشَّامِ أَيَّامًا بَعْدَ حَرِيقِ الْكَعْبَةِ[المحن لابی العرب: ص: 203 واسنادہ ضعیف ومنقطع]۔

    یہ روایت ضعیف ہے ، اس میں درج ذیل علتیں ہیں:

    پہلی علت:
    امام ابوالعرب کے دونوں اساتذہ ابویوسف اور محمدبن اسامہ نامعلوم ہیں ان کا تعین بادلائل اوران کی توثیق مطلوب ہے۔

    دوسری علت:
    نجيح بن عبد الرحمن السندى أبو معشر المدنى سخت ضعیف ہیں ۔

    امام يحيى بن سعيد رحمه الله (المتوفى 198)نے اسے ضعیف کہا:
    كان يحيى بن سعيد لا يحدث عن أبى معشر ويضعفه ويضحك إذا ذكره[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 8/ 494واسنادہ صحیح]۔

    امام مظفر بن مدرك رحمه الله (المتوفى207)نے کہا:
    كَانَ أَبُو معشر رجلا لَا يضْبط الْإِسْنَاد[العلل ومعرفة الرجال: 2/ 553 واسنادہ صحیح]۔

    امام ابن سعد رحمه الله (المتوفى230)نے کہا:
    كان كثير الحديث ضعيفا[الطبقات الكبرى لابن سعد، ط العلمية: 5/ 488]۔

    امام ابن معين رحمه الله (المتوفى233)نے کہا:
    أبو معشر ليس بشيء [تاريخ ابن معين - رواية الدوري: 3/ 160]۔

    نوٹ:
    واضح رہے کہ ’’ليس بشيء‘‘ یہ سخت قسم کی جرح ہے،جیسامتعددمحدثین نے صراحت کی ہے دیکھیں :[ألفاظ وعبارات الجرح والتعديل:٣٠٧،فتح المغيث:٢/١٢٣،تدريب الراوي:١/٤٠٩-٤١٠]
    اورابن معین کے نزدیک بھی عام حالات میں یہ اسی معنی میں ہے، بلکہ بسااوقات آپ نے کذاب اور وضاع راویوں پربھی انہیں الفاظ میں جرح کی ہے،مثلاایک کذاب کے بارے میں فرماتے ہیں:''کذاب لیس بشیٔ'' [سؤالات ابن الجنيد: رقم ٥٣٥و أيضا أرقام:٢٩٣،٤١٧،٤٨٤،]اورایک وضاع کے بارے میں فرماتے ہیں:''لیس بشیٔ یضع الأحادیث''[تاريخه ،رواية الدوري:رقم٤٢١٣].
    حافظ زبیرعلی زئی حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
    ''امام ابن معین عام طورپر جس راوی کو ’’ليس بشيء‘‘ کہتے ہیں تووہ شدیدجرح ہوتی ہے''[ماہنامہ الحدیث:55 ص 18]۔

    امام علي بن المديني رحمه الله (المتوفى:234)نے کہا:
    كَانَ ذَلِك شَيخا ضَعِيفا ضَعِيفا[سؤالات ابن أبي شيبة لابن المديني: ص: 100]

    نوٹ:
    ضعیف ضعیف کی تکرار سخت جرح ہے۔

    امام أحمد بن حنبل رحمه الله (المتوفى241)نے کہا:
    عندي حديثه مضطرب لا يقيم الإسناد، ولكن أكتب حديثه أعتبر بِهِ[تاريخ بغداد للخطيب البغدادي: 15/ 591 وسندہ صحیح وروایۃ الجوھری عن الاثرم من الکتاب]۔

    نوٹ:
    امام احمد رحمہ اللہ نے اسے ’’أعتبر بِهِ‘‘ کہا ہے ۔
    امام احمد یا دیگرمحدثین جب ’’ اعتبار‘‘ کے لئے کسی مجروح راوی کی روایت لکھیں تو ہرجگہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کے نزدیک اس کی روایت استشہاد میں پیش کی جاسکتی ہے ، بلکہ مقصدیہ ہے کہ اس کی روایات کی جانچ پڑتال میں آسانی ہو مثلا اگرکسی نے سند سے اس کو ساقط کردیا اورہمارے پاس دوسری سند اس کے نام کے اثبات کے ساتھ موجود رہے گی تو یہ معلوم ہوجائے گا فلاں سند سے فلاں کو ساقط کیاگیا۔
    یہی امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ ’’جابرالجعفی‘‘ جیسے کذاب و ضاع راوی کے بارے میں کہتے ہیں:
    قد كنت لا اكتب حديثة ، ثم كتبت اعتبر بِهِ .[علل أحمد رواية المروذي ص: 70]۔
    یادرہے کہ امام احمدرحمہ اللہ نے خود جابرجعفی کو کذب سے متہم کیا ہے امام مروزی نے ان سے پوچھا :
    قلت : جابر الجعفي ؟ قال لي : كان يري التشيع :، قلت يتهم في حديثة بالكذب ؟ فقال لي: من طعن ، فانما يطعن بما خاف من الكذب ، قلت : الكذب ، فقال : أي والله . وذاك في حديثة بين ، اذا نظرت اليها[علل أحمد رواية المروذي: ص: 236]۔

    امام عمرو بن على الفلاس رحمه الله (المتوفى249)نے کہا:
    أَبُو معشر ضعيف.[تاريخ بغداد للخطيب البغدادي: 15/ 591 واسنادہ صحیح]۔

    امام بخاري رحمه الله (المتوفى256)نے کہا:
    مُنكَرُ الحديثِ[التاريخ الكبير للبخاري: 8/ 114]۔

    نوٹ:
    امام بخاری رحمہ اللہ کا منکرالحدیث کہنا سخت جرح ہے ، ایسے رواۃ سے امام بخاری رحمہ اللہ روایت لینا بھی جائز نہیں سمجھتے۔
    بلکہ زیرتبصرہ راوی کے بارے تو امام بخاری رحمہ اللہ صراحت بھی کردی ہے کہ وہ اس سے روایت نہیں لیتے ، چنانچہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے نقل کیا کہ:
    سألت مُحمدًا عن داود بن أبي عبد الله الذي روى عن ابن جدعان فقال هو مقارب الحديث قال محمد عبد الكريم أبو أمية مقارب الحديث و وأبو معشر المديني نجيح مولى بني هاشم ضعيف لا أروي عنه شيئا ولا أكتب حديثه[علل الترمذي الكبير ص: 156]۔


    امام نسائي رحمه الله (المتوفى303)نے کہا:
    أبو معشر المدني اسمه نجيح وهو ضعيف ومع ضعفه أيضا كان قد اختلط[سنن النسائي الكبرى 2/ 96]۔

    امام دارقطني رحمه الله (المتوفى385)نے کہا:
    وأبو معشر اسمه نجيح وهو ضعيف[سنن الدارقطني: 2/ 16]۔

    امام أبو نعيم رحمه الله (المتوفى430)نے کہا:
    روى عَن نَافِع وَابْن الْمُنْكَدر وَهِشَام بن عُرْوَة وَمُحَمّد بن عَمْرو الموضوعات لَا شَيْء[الضعفاء لأبي نعيم: ص: 153]۔

    امام بيهقي رحمه الله (المتوفى458)نے کہا:
    أبو معشر هذا نجيح السندي مدني ضعيف[السنن الكبرى للبيهقي: 5/ 180 نیزدیکھیں:الدر النقي من كلام الإمام البيهقي:ص:376]۔

    امام ابن القيسراني رحمه الله (المتوفى:507)نے کہا:
    وأبو معشر هذا . هو نجيح ضعيف جدا[ذخيرة الحفاظ لابن القيسراني: 1/ 485]۔

    امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا:
    تفرد به أبو معشر نجيح -وهو واهٍ[تلخيص كتاب الموضوعات للذهبي ص: 203]۔

    نوٹ:
    امام ذہبی رحمہ اللہ کا ’’واهٍ‘‘ کہناسخت جرح ہے۔

    حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
    ضعيف من السادسة أسن واختلط[تقريب التهذيب لابن حجر: 1/ 473]۔


    تیسری علت:
    نجيح بن عبد الرحمن السندى أبو معشر المدنى کی وفات ١٧٠ ہجری ہے۔
    اوراحتراق کعبہ کا واقعہ سن 64 کا ہے، یعنی بیچ میں ایک صدی سے بھی زائدکابھی فاصلہ ہے، لہذا احتراق مکہ کے وقت ان کا موجود ہونا بہت بعیدہے۔
    نیز کتاب المحن میں مذکورہ روایت سے متصل ہی اگلی روایت میں ہے:
    قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ قَالَ حَجَّاجٌ حَدَّثَنِي أَبُو مَعْشَرٍ قَالَ حَدَّثَنِي بَعْضُ المشيخة اللَّذين حَضَرُوا قِتَالَ ابْنِ الزُّبَيْرِ[المحن لابی العرب: ص: 204]۔

    اس سے معلوم ہوتا ہے کہ احتراق مکہ وغیرہ کا واقعہ انہوں نے کسی واسطے سے روایت کیاہے، یعنی یہ سند منقطع بھی ہے۔


    فائدہ:
    اس تیسری روایت میں بھی دوسری روایت کی طرح یہ صراحت ہے کہ اہل شام نے کعبہ میں دانستہ آگ نہیں لگائی بلکہ آگ تو کہیں اورلگائی تھی لیکن تیز ہوا کے ساتھ وہ آگ خانہ کعبہ تک پہنچ گئی۔
     
    • شکریہ شکریہ x 11
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  7. ‏جولائی 17، 2012 #7
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,914
    موصول شکریہ جات:
    9,778
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    اہل شام پر الزام سےمتعلق چوتھی روایت


    امام حاكم رحمه الله (المتوفى405)نے کہا:
    حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي مَسْلَمَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: أَرْسَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِلَى الْحُصَيْنِ بْنِ نُمَيْرٍ يَدْعُوهُ إِلَى الْبِرَازِ، فَقَالَ الْحُصَيْنُ: لَا يَمْنَعُنِي مِنْ لِقَائِكَ جُبْنٌ، وَلَسْتُ أَدْرِي لِمَنْ يَكُونُ الظَّفَرُ، فَإِنْ كَانَ لَكَ كُنْتَ قَدْ ضَيَّعْتَ مَنْ وَرَائِي، وَإِنْ كَانَ لِي كُنْتُ قَدْ أَخْطَأْتُ التَّدْبِيرَ، وَإِنْ طُفْتَ رَجَعْنَا إِلَى بَاقِي الْحَدِيثِ، وَضَرَبَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فُسْطَاطًا فِي الْمَسْجِدِ فَكَانَ فِيهِ نِسَاءٌ يَسْقِينَ الْجَرْحَى وَيُدَاوِيهِنَّ وَيُطْعِمْنَ الْجَائِعَ، وَيَلُمُنَّ النَّهْدَ الْمَجْرُوحَ، فَقَالَ حُصَيْنٌ: مَا يَزَالُ يَخْرُجُ عَلَيْنَا مِنْ ذَلِكَ الْفُسْطَاطِ أَسَدٌ كَأَنَّمَا يَخْرُجُ مِنْ عَرِينِهِ، فَمَنْ يَكْفِنِيهِ؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ: أَنَا، فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ وَضَعَ شَمْعَةً فِي طَرَفِ رُمْحِهِ، ثُمَّ ضَرَبَ فَرَسَهُ، ثُمَّ طَعَنَ الْفُسْطَاطَ فَالْتَهَبَ نَارًا وَالْكَعْبَةُ يَوْمَئِذٍ مُؤَزَّرَةٌ فِي الطَّنَافِسِ، وَعَلَى أَعْلَاهَا الْجَرَّةُ، فَطَارَتِ الرِّيحُ بِاللَّهَبِ عَلَى الْكَعْبَةِ حَتَّى احْتَرَقَتْ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔[المستدرك على الصحيحين للحاكم: 3/ 634 رقم6339 ]۔


    یہ روایت موضوع و من گھڑت اورمسلسل بالعلل ہے۔

    پہلی علت:
    امام شافعي رحمه الله (المتوفى 204)نے کہا:
    كتب الواقدي كذب[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 8/ 20 وسندہ صحیح]۔

    امام إسحاق بن راهَوَيْه رحمه الله (المتوفى 237)نے کہا:
    عندي ممن يضيع الحديث[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 8/ 20 وسندہ صحیح]۔

    امام نسائي رحمه الله (المتوفى303)نے کہا:
    والكذابون المعروفون بِوَضْع الحَدِيث على رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم أَرْبَعَة: ١- ابْن أبي يحيى بِالْمَدِينَةِ ٢- والواقدي بِبَغْدَاد ٣ - وَمُقَاتِل بن سُلَيْمَان بخراسان ٤ - وَمُحَمّد بن السعيد بِالشَّام وَيعرف بالمصلوب [ أسئلة للنسائي في الرجال المطبوع فی رسائل في علوم الحديث ص: 76]۔

    امام ابن القيسراني رحمه الله (المتوفى507)نے کہا:
    أجمعوا على تركه[معرفة التذكرة لابن القيسراني: ص: 163]۔

    امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا:
    قَدِ انْعَقَدَ الإِجْمَاعُ اليَوْمَ عَلَى أَنَّهُ لَيْسَ بِحُجَّةٍ، وَأَنَّ حَدِيْثَهَ فِي عِدَادِ الوَاهِي[سير أعلام النبلاء للذهبي: 9/ 469]۔

    ان ائمہ کے علاوہ اوربھی متعدد ناقدین نے اس پر جرح کی ہے ملاحظہ ہو عام کتب رجال اور امام علي بن المديني رحمه الله (المتوفى234)سے تو یہ بھی نقل کیا گیا ہے واقدی حدیث ، انساب یا کسی بھی چیز میں قابل اعتماد نہیں ، چنانچہ:

    امام عقيلي رحمه الله (المتوفى322)نے کہا:
    حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُوسَى السِّيرَافِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُهَلَّبِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ، يَقُولُ: الْهَيْثَمُ بْنُ عَدِيٍّ أَوْثَقُ عِنْدِي مِنَ الْوَاقِدِيِّ , وَلَا أَرْضَاهُ فِي الْحَدِيثِ , وَلَا فِي الْأَنْسَابِ , وَلَا فِي شَيْءٍ[الضعفاء الكبير للعقيلي: 4/ 108 ، شیخ العقیلی لم اعرفہ وباقی الرجال ثقات ، ومن طریق العقلیلی اخرجہ الخطیب فی تاريخ : 14/ 52 و ابن عساکر فی تاريخ دمشق 54/ 452 و ذکرہ المزی فی تهذيب الكمال: 26/ 187]۔


    فائدہ:
    علامہ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
    محمد بن عمر هذا - وهو الواقدي - كذاب ، فلا يفرح بروايته[سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة 4/ 13]۔

    دوسری علت:
    الحسين بن الفرج ، یہ بھی کذاب راوی ہے:

    امام ابن معين رحمه الله (المتوفى233)نے کہا:
    كذاب صاحب سكر شاطر[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 3/ 62]۔

    امام أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى277)نے کہا:
    تكلم الناس فيه[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 3/ 62]۔

    امام أبو زرعة الرازي رحمه الله (المتوفى264)نے کہا:
    لا شيء لاأحدث عنه[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 3/ 62 واسنادہ صحیح]۔

    تیسری علت:

    الحسن بن الجهم ، یہ راوی مجہول ہے اس کی توثیق کہیں نہیں ملی۔



    فائدہ:
    اس روایت میں بھی یہ صراحت ہے کہ اہل شام نے کعبہ میں دانستہ آگ نہیں لگائی بلکہ آگ تو کہیں اورلگائی تھی لیکن تیز ہوا کے ساتھ وہ آگ خانہ کعبہ تک پہنچ گئی۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  8. ‏جولائی 17، 2012 #8
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,914
    موصول شکریہ جات:
    9,778
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    اہل شام پر الزام سےمتعلق پانچویں روایت


    امام محمد بن إسحاق المكي الفاكهي (المتوفى272) نے کہا:
    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: ثنا مَهْدِيُّ بْنُ أَبِي الْمَهْدِيِّ قَالَ: ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ الذِّمَارِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قال (؟) : لما تثاقل ابن الزبير رضي الله عنهما على يزيد بن معاوية وأظهر شتمه بلغ ذلك يزيد، فأقسم أن لا يؤتى به إلا مغلولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ مِنَ الْمَدِينَةِ، فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ مَاتَ، فَاسْتُخْلِفَ الْحُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ الْكِنْدِيُّ وَقَالَ مُسْلِمُ بْنُ عُقْبَةَ لِلْحُصَيْنِ: يَا بَرْذَعَةَ الْحِمَارِ، احْذَرْ خَدَائِعَ قُرَيْشٍ، لَا تُعَامِلْهُمْ إِلَّا بِالثِّقَافِ ثُمَّ الْقِطَافِ قَالَ: فَمَضَى حَتَّى وَرَدَ مَكَّةَ فَقَاتَلَ بِهَا ابْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَيَّامًا، وَضَرَبَ ابْنُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فُسْطَاطًا فِي الْمَسْجِدِ، فَكَانَ فِيهِ نِسَاءٌ يَسْقِينَ الْجَرْحَى وَيُدَاوِينَهُمْ وَيُطْعِمْنَ الْجَائِعَ قَالَ الْحُصَيْنُ: مَا يَزَالُ يَخْرُجُ عَلَيْنَا مِنْ هَذَا الْفُسْطَاطِ أُسْدٌ كَأَنَّهَا تَخْرُجُ مِنْ عَرِينِهَا، فَمَنْ يَكْفِينِيهِ؟ قَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ: أَنَا قَالَ: فَلَمَّا جَنَّ اللَّيْلُ وَضَعَ شَمْعَةً فِي طَرَفِ رُمْحٍ، ثُمَّ ضَرَبَ فَرَسَهُ حَتَّى طَعَنَ الْفُسْطَاطَ فَالْتَهَبَ نَارًا قَالَ: وَالْكَعْبَةُ يَوْمَئِذٍ مُؤَزَّرَةٌ بِطَنَافِسَ حَتَّى احْتَرَقَتِ الْكَعْبَةُ، وَاحْتَرَقَ يَوْمَئِذٍ فِيهَا قَرْنَا الْكَبْشِ [أخبار مكة للفاكهي 2/ 337 واخرجہ ایضا الطبرانی فی المعجم الكبير: 14/ 182وعنہ ابن عساکر فی تاريخ مدينة دمشق 28/ 230 و ابونعیم فی حلية الأولياء 1/ 331 کلھم من طریق علي بن المبارك، قال: ثنا زيد بن المبارك، قال: ثنا عبدالملك بن عبدالرحمن الذماري بہ ولکنھم زادوا ’’ عن ابیہ‘‘ بعد ھشام بن عروہ ، و اخرجہ الحاکم فی المستدرك: 3/ 634 من نفس الطریق لکن سقط زیدبن المبارک من اسنادہ]۔

    یہ روایت بھی سخت ضعیف ہے اس میں درج ذیل علتیں ہیں:

    پہلی علت:
    عبد الملك الذماري ضعیف ہے۔

    امام أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى277)نے کہا:
    ليس بقوي[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 5/ 355]۔

    امام أبو زرعة الرازي رحمه الله (المتوفى264)نے کہا:
    منكر الحديث [الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 5/ 355]۔

    امام دارقطني رحمه الله (المتوفى385)نے کہا:
    ليس بقوي [سنن الدارقطني: 3/ 234]۔

    دوسری علت:
    مهدي بن أبي مهدي
    یہ راوی غیرمتعین ہے ، اس کے نام کے دو راوی ہیں ، اوران کے اساتذہ ایک ہی دور کے ہیں، خطيب بغدادي رحمه الله (المتوفى463) فرماتے ہیں:
    مهدي بن أبي مهدي اثنان أحدهما مهدي بن أبي مهدي العبدي حدث عن عكرمة مولى ابن عباس (المتوفی ١٠٤ھ) روى عنه أبو عبيدة عبدالمؤمن بن عبيدالله السدوسي. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والآخر حدث عن هشام بن يوسف الصنعاني (١٩٧ھ) روى عنه يعقوب بن سفيان الفسوي.[المتفق والمفترق للخطيب البغدادي 3/ 306]۔

    لیکن ان دونوں میں کسی کے اساتذہ میں بھی ذماری کا نام نہیں ملتا اورنہ ہی ان کے تلامذہ میں محمدبن اسماعیل کانام ملتاہے۔

    نیزیہ دونوں کے دونوں راوی مجہول ہیں ، صرف مهدي بن أبي مهدي الهجرى کو ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا ہے لیکن دیگرائمہ فن نے صراحتا اسے مجہول قراردیاہے علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے مجہول ہی مانا ہے ایک مقام پرلکھتے ہیں:
    وتوثيق ابن حبان إياه مما لا يعتد به كما نبهت عليه مرارا ، وكذا تصحيح ابن خزيمة لحديثه لا يعتد به لأنه متساهل فيه ، ولذلك لم يعتمد الحافظ على توثيقهما إياه فقال في ترجمة الهجري هذا مقبول يعني عند المتابعة ، وإلا فهو لين الحديث[سلسلة الأحاديث الضعيفة : 1/ 581]۔

    ایک مقام پرصرف اورصرف اسی راوی کی وجہ سے ایک حدیث کو ضعیف قراردیتے ہوئے لکھتے ہیں:
    قلت: وهذا إسناد ضعيف، ورجاله ثقات؛ غير مهدي- وهو ابن حرب الهجري-، قال ابن معين:" لا أعرفه ". ونقل مثله الذهبي عن أبي حاتم، وإنما رواه ابنه في "الجرح والتعديل " (٤/١/٣٣٧) عن ابن معين. وقال ابن حزم في "المحلى" (٧/١٨) : " مجهول، لا يحتج به ". وقال الحافظ في "التقريب ": " مقبول ". يعني: عند المتابعة؛ ولذلك ضعّف الحديث ابن القيم في "زاد المعاد"، [ضعيف أبي داود (الام) للالباني: 2/ 287]

    یہ بھی معلوم ہواکہ علامہ البانی رحمہ اللہ کے اصول کےمطابق بھی یہ روایت غیرمستندہے، کیونکہ اس نام کا ایک راوی تو مجہول ہے ہی اوردوسرے راوی کو علامہ البانی رحمہ اللہ نے مجہول ہی مانا ہے اورابن حبان کی توثیق اورابن خزیمہ وغیرہ کی تصحیح کو رد کردیاہے۔

    تیسری علت:
    سند میں اضطراب ہے۔
    امام فاکہی کی سند میںمهدي بن أبي المهدي نے یہ روایت ھشام سے منقطعا نقل کی ہے اورہشام بن عروہ کے بعد کسی واسطے کاذکر نہیں کیا ہے ۔
    جبکہ طبرانی وغیرہ کی سند میں زيد بن المبارك نے یہی روایت موصولا نقل کی ہے یعنی ہشام بن عروہ کے بعد ان کے والد کا واسطہ ذکر کیا ہے ، اوریہاں ترجیح کی کوئی صورت نہیں کیونکہ دونوں طریق ضعیف ہیں۔
    پہلے طریق میں مهدي بن أبي المهدي مجہول ہے،اوردوسرے طریق کا دار مدار علي بن المبارك پر ہے اوریہ بھی مجہول ہے ، اوراس کے شیخ زیدبن مبارک بھی غیرمعروف ہیں۔
    اوراگرمهدي بن أبي المهدي سے متعلق ابن حبان کی توثیق اورابن خزیمہ وغیرہ کی تصحیح کو کچھ اہمیت دی جائے تو انہیں کا طریق راجح قرار پائے گا ، دریں صورت مذکوہ روایت منقطع ٹہرے گی۔



    نکارت
    ان علتوں کے علاوہ اس روایت کے مضمون میں یہ بھی ہے کہ لما تثاقل ابن الزبير رضي الله عنهما على يزيد بن معاوية وأظهر شتمه یعنی عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ نے یزید بن معاویہ کے خلاف گالی گلوج کا اظہار کیا ، اورعبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ جیسے صحابی سے یہ قطعا امید نہیں کہ وہ گالی گلوج پر اترآئیں۔


    تنبیہ :
    أخبار مكة للفاكھی کے محقق نے اس سند کو حسن کہا ہے۔

    عرض ہے :
    اولا:
    یہ سند حسن نہیں بلکہ ضعیف ہے ، جیساکہ کذشتہ سطور میں تفصیل پیش کی گئی، لہٰذا محقق موصوف کا اسے حسن قراردینا درست نہیں ، نیز محقق موٖصوف کی اس تحسین کو دکتور محمدبن عمر الشیبانی نے ’’ مواقف المعارضة ‘‘ میں غلط قراردیا ہے دیکھے مواقف المعارضة في عهد يزيد بن معاوية: ص ٦٧٦۔علامہ البانی رحمہ اللہ کے اصول سے بھی یہ روایت ضعیف ہے کمامضی۔
    ثانیا:
    محقق موصوف نے ھشام بن عروہ تک سند کوحسن کہا ہے ، اب اگریہ تحسین مان لی جائے تب بھی یہ حدیث ضعیف ہوگی کیونکہ ھشام بن عروہ نے اپنا ماخذ نہیں بتایا ہے یعنی یہ رویت منقطع ہے۔



    فائدہ:
    اس روایت میں بھی یہ صراحت ہے کہ اہل شام نے کعبہ میں دانستہ آگ نہیں لگائی بلکہ آگ تو کہیں اورلگائی تھی لیکن تیز ہوا کے ساتھ وہ آگ خانہ کعبہ تک پہنچ گئی۔


    تنبیہ بلیغ:
    مذکورہ روایت کے مصادر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ اسے ایک ہی طریق سے امام فاکہی، امام طبرانی ، امام ابن عساکر ، امام ابونعیم اورامام حاکم نے روایت کیا ہے ، ابونعیم کے علاوہ سب کی روایت میں یہ تفصیل ہے کہ اہل شام کے کسی فرد نے کہیں اورآگ لگائی لیکن ہوا کے ساتھ یہ آگ کعبہ تک پہنچ گئی ، لیکن ابونعیم کی روایت میں مذکورہ تفصیل کو حددرجہ اختصار کے ساتھ یوں بیان کیا گیا:
    فورد حصين مكة فقاتل بها ابن الزبير وأحرق الكعبة [حلية الأولياء 1/ 331]۔

    عرض ہے کہ یہ اختصار اور روایت بالمعنی ہے کیونکہ ابو نعیم نے بھی اسے اسی طریق سے روایت کیا ہے جس طریق سے دیگرلوگوں نے نقل کیا ہے، خلاصہ کلام یہ کہ اس روایت کے مردود ہونے ساتھ اس میں بھی یہی مذکورہے کہ اہل شام نے دانستہ کعبہ کو آگ نہیں لگائی بلکہ کہیں اور آگ لگائی اورہوا سے آگ کعبہ تک پہنچ گئی۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  9. ‏جولائی 17، 2012 #9
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,914
    موصول شکریہ جات:
    9,778
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    اہل شام پر الزام سےمتعلق چھٹی روایت


    امام أزرقي رحمه الله (المتوفى250)نے کہا:
    حَدَّثَنِي جَدِّي، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ سَاجٍ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّهُ لَمَّا قَدِمَ جَيْشُ الْحُصَيْنِ بْنِ نُمَيْرٍ، أَحْرَقَ بَعْضُ أَهْلِ الشَّامِ عَلَى بَابِ بَنِي جُمَحَ، وَالْمَسْجِدُ يَوْمَئِذٍ خِيَامٌ وَفَسَاطِيطُ، فَمَشَى الْحَرِيقُ حَتَّى أَخَذَ فِي الْبَيْتِ، فَظَنَّ الْفَرِيقَانِ كِلَاهُمَا أَنَّهُمْ هَالِكُونَ، فَضَعُفَ بِنَاءُ الْكَعْبَةِ، حَتَّى إِنَّ الطَّيْرَ لَيَقَعُ عَلَيْهِ فَتَتَنَاثَرُ حِجَارَتُهُ "[أخبار مكة للأزرقي: 1/ 199]۔

    یہ روایت بھی سخت ضعیف ہے، اس میں کئی علتیں ہیں ۔

    پہلی علت:
    عثمان بن عمرو بن ساج نے ’’بلغنی‘‘ سے بیان کیا ہے یعنی اپنے ماخذ کی وضاحت نہیں کی ہے لہذایہ رویات منقطع ہے۔

    دوسری علت:
    عثمان بن عمرو بن ساج القرشى یہ ضعیف ہیں ۔

    امام أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى277)نے کہا:
    عثمان والوليد ابنى عمرو بن ساج يكتب حديثهما ولا يحتج بهم[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 6/ 162]۔

    امام عقيلي رحمه الله (المتوفى322)نے کہا:
    لا يتابع عليه[الضعفاء الكبير للعقيلي: 3/ 204]۔

    حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
    فيه ضعف [تقريب التهذيب لابن حجر:رقم 4506]۔

    تحرير التقريب کے مؤلفين (دكتور بشار عواد اور شعيب ارنؤوط)نے کہا:
    ضعيف يعتبر به في المتابعات والشواهد [تحرير التقريب :رقم 4506]۔


    فائدہ:
    اس روایت میں بھی یہ صراحت ہے کہ اہل شام نے کعبہ میں دانستہ آگ نہیں لگائی بلکہ آگ تو کہیں اورلگائی تھی لیکن تیز ہوا کے ساتھ وہ آگ خانہ کعبہ تک پہنچ گئی۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  10. ‏جولائی 17، 2012 #10
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,914
    موصول شکریہ جات:
    9,778
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    اہل شام پر الزام سےمتعلق روایات کا خلاصہ


    اہل سنت کی کتابوں میں ہمیں کل سات روایات سندکے ساتھ ملیں جن میں یہ بات منقول ہے کہ خانہ کعبہ میں آگ لگنے کے ذمہ دار اہل شام تھے ، گذشتہ سطور میں ان تمام روایات پر تفصیلی بحث کی گئی اس کاخلاصہ یہ ہے :

    • پہلی روایت : سند میں تین علتیں (١) ایک کذاب و رافضی راوی (٢) سند کے ابتدائی حصہ میں انقطاع (٣) سندکے آخری حصہ میں انقطاع۔
    • دوسری روایت: سند میں دو علتیں (١) کذاب راویوں سے تدلیس کرنا والا راوی (٢) سند میں انقطاع ۔
    • تیسری روایت: سند میں تین علتیں (١) مصنف کے شیوخ نا معلوم (٢) ایک سخت ضعیف راوی (٣) سند میں انقطاع ۔
    • چوتھی روایت: سند میں تین علتیں (١) ایک کذاب راوی (٢) ایک وضاع راوی (٣) ایک مجہول راوی۔
    • پانچویں روایت: سند میں تین علتیں (١) ایک سخت ضعیف متروک راوی (٢) دوسرا مجہول راوی (٣) سند میں اضطراب۔
    • چھٹی روایت: سند میں دو علتیں (١) ایک ضعیف راوی (٢) سند میں انقطاع۔

    اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ یہ سندیں سخت ضعیف ہیں لہٰذا یہ سب مل کر حسن لغیرہ بننے کے بھی قابل نہیں ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • زبردست زبردست x 2
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں