1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

خانہ کعبہ میں آگ لگنا ، ذمہ دار کون؟؟؟

'تاریخی روایات' میں موضوعات آغاز کردہ از کفایت اللہ, ‏جولائی 02، 2012۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏جولائی 17، 2012 #11
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,914
    موصول شکریہ جات:
    9,778
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    اصحاب ابن زبیررضی اللہ عنہ پرالزام سے متعلق پہلی روایت (حکمامرفوع حدیث)

    اہل شام پر الزام سے متعلق جو بھی روایات ہیں وہ غیرمستندہونے کے ساتھ ساتھ مقطوع روایات ہیں ، لیکن جن روایات میں کعبہ میں آگ لگنے کی ذمہ داری عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ کے اصحاب پرڈالی گئی ہے ان میں ایک روایت حکما مرفوع بھی ہے ملاحظہ ہو:
    امام ازرقی رحمہ اللہ (المتوفى250) نے کہا:
    حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ أَبِي الْمَهْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ الذِّمَارِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عُلَيْمٍ الْكِنْدِيِّ، قَالَ: قَالَ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ: «لَتُحْرَقَنَّ هَذِهِ الْكَعْبَةُ عَلَى يَدَيْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الزُّبَيْرِ»[أخبار مكة للأزرقي: 1/ 197]
    سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی اس بات میں رائے و قیاس کا دخل نہیں لہٰذا یہ حکما مرفوع ہے لیکن اس کی سند صحیح نہیں اس میں درج ذیل علتیں ہیں۔

    پہلی علت:
    مهدي بن أبي مهدي یہ نامعلوم راوی ہےاس کے بار ے میں تفصلی گذرچکی ہے دیکھئے اہل شام پر الزام سےمتعلق پانچویں روایت۔

    دوسری علت:
    عبد الملك الذماري یہ ضعیف ہے، اس کے بارے میں بھی تفصیل گذرچکی ہے دیکھئے اہل شام پر الزام سےمتعلق پانچویں روایت۔

    تیسری علت:
    علیم الکندی کو صرف ابن حبان رحمہ اللہ نے ثقہ کیا ہے دیکھئے [الثقات لابن حبان: 5/ 286 رقم 4868 ]۔

    فائدہ :
    اسی سند کے بعض راویوں نے ھشام بن عروہ تابعی سے ایک روایت ایسی بھی نقل کی ہے جس میں اہل شام کو آگ لگنے کا ذمہ دار بتایا گیا ہے ، یہ روایت گذشتہ سطور میں نقل کی جاچکی ہے ملاحظہ ہو :اہل شام پر الزام سےمتعلق پانچویں روایت۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏جولائی 18، 2012 #12
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,914
    موصول شکریہ جات:
    9,778
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    اصحاب ابن زبیررضی اللہ عنہ پرالزام سے متعلق دوسری روایت


    أبوالفرج الأصفهاني (المتوفى356)نے کہا:
    أخبرني محمد بن عبيد الله بن محمد الرازي قال حدثنا أحمد بن الحارث الخراز عن المدائني وذكر إسحاق عن المدائني عن أبي بكر الهذلي قال كان سبب بناء ابن الزبير الكعبة لما احترقت أن أهل الشام لما حاصروه سمع أصواتا بالليل فوق الجبل فخاف أن يكون أهل الشام قد وصلوا إليه وكانت ليلة ظلماء ذات ريح شديدة صعبة ورعد وبرق فرفع نارا على رأس رمح لينظر إلى الناس فأطارتها الريح فوقعت على أستار الكعبة فأحرقتها واستطالت فيها وجهد الناس في إطفائها فلم يقدروا وأصبحت الكعبة تتهافت وماتت امرأة من قريش فخرج الناس كلهم في جنازتها خوفا من أن ينزل العذاب عليهم وأصبح ابن الزبير ساجدا يدعو ويقول اللهم إني لم أتعمد ما جرى فلا تهلك عبادك بذنبي وهذه ناصيتي بين يديك [الأغاني ابي الفرج الأصبهاني: 3/ 274 ونقلہ ابن الجوزی من کتاب المدائنی فی المنتظم: 6/ 23]۔
    اس روایت کو امام مدائنی کی کتاب سے براہ راست ابن الجوزی رحمہ اللہ نے بھی نقل کیا ہے ملاحظہ ہو المنتظم لابن الجوزي: 6/ 23۔
    لہٰذا امام مدائنی رحمہ اللہ سے نچلے رواۃ کے مطالعہ کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ روایت امام مدائنی رحمہ اللہ کی کتاب میں موجود ہے ، لیکن امام مدائنی سے اوپر اس کی سند میں صحیح نہیں ہے اس کی درج ذیل علتیں ہیں:

    پہلی علت:
    ابوبکرالھذلی سخت ضعیف راوی ہے۔

    امام جوزجاني رحمه الله (المتوفى259)نے کہا:
    أبو بكر الهذلي سُلْمى: يضعف حديثه، وكان من علماء الناس بأيامهم.[أحوال الرجال للجوزجانى: ص: 208]۔

    حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا :
    أخباري متروك الحديث[تقريب التهذيب لابن حجر: 1/ 535]۔

    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے علاوہ اوربھی بہت سے ناقدین نے اس راوی پر جرح کی ہے عام کتب رجال۔

    دوسری علت:
    ابوبکرالھذلی کی تاریخ وفات 167 ہجری ہے یعنی اسے احتراق کعبہ کا دور نہیں ملا ، لہٰذا سند منقطع ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏جولائی 18، 2012 #13
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,914
    موصول شکریہ جات:
    9,778
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    اصحاب ابن زبیررضی اللہ عنہ پرالزام سے متعلق تیسری روایت


    امام أزرقي رحمه الله (المتوفى250):
    حَدَّثَنِي جَدِّي، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ سَاجٍ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَجُوزٌ، مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ كَانَتْ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ، فَقُلْتُ لَهَا: أَخْبِرِينِي عَنِ احْتِرَاقِ الْكَعْبَةِ كَيْفَ كَانَ؟ قَالَتْ: كَانَ الْمَسْجِدُ فِيهِ خِيَامٌ كَثِيرَةٌ، فَطَارَتِ النَّارُ مِنْ خَيْمَةٍ مِنْهَا فَاحْتَرَقَتِ الْخِيَامُ، وَالْتَهَبَ الْمَسْجِدُ، حَتَّى تَعَلَّقَتِ النَّارُ بِالْبَيْتِ فَاحْتَرَقَ[أخبار مكة للأزرقي: 1/ 199]۔
    یہ سند ضعیف ہے اس میں دو علتیں ہیں:
    پہلی علت:
    عثمان بن عمرو بن ساج نے ’’عجوز‘‘ (ایک عورت) سے یہ روایت نقل کی ہے اوراس عورت کا نام وحال نامعلوم ہے۔

    دوسری علت:
    عثمان بن عمرو بن ساج القرشى یہ ضعیف ہیں ۔
    امام أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى277)نے کہا:
    عثمان والوليد ابنى عمرو بن ساج يكتب حديثهما ولا يحتج بهم[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 6/ 162]۔

    امام عقيلي رحمه الله (المتوفى322)نے کہا:
    لا يتابع عليه[الضعفاء الكبير للعقيلي: 3/ 204]۔

    حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
    فيه ضعف [تقريب التهذيب لابن حجر:رقم 4506]۔

    تحرير التقريب کے مؤلفين (دكتور بشار عواد اور شعيب ارنؤوط)نے کہا:
    ضعيف يعتبر به في المتابعات والشواهد [تحرير التقريب :رقم 4506]۔

    فائدہ:
    بالکل اسی سند سے ایک روایت ایسی بھی منقول ہے جس میں اہل شام کو آگ لگنے کا ذمہ دار بتایا گیا ہے ، یہ روایت گذشتہ سطور میں نقل کی جاچکی ہے ملاحظہ ہو :اہل شام پر الزام سےمتعلق چھٹی روایت۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  4. ‏جولائی 18، 2012 #14
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,914
    موصول شکریہ جات:
    9,778
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    اصحاب ابن زبیررضی اللہ عنہ پرالزام سے متعلق چوتھی روایت


    امام أحمد بن يحيى، البَلَاذُري (المتوفى 279)نے کہا:
    حدثني عَفَّان، والعَبَّاس بْن الوليد النرسي، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْد الواحد بْن زياد، قَالَ: حَدَّثَنَا ليث، قَالَ كان عطاء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قَالَ: ولما تحصن عَبْد اللَّهِ بْن الزبير بْن العوام في المسجد الحرام واستعاذ به- والحصين بْن نمير السكوني إذ ذاك يقاتله في أهل الشام- أخذ ذات يوم رجل من أصحابه نارا عَلَى ليفة في رأس رمح، وكانت الريح عاصفا، فطارت شرارة فتعلقت بأستار الكعبة فأحرقتها[فتوح البلدان للبلاذری: ص: 55]۔

    اس روایت کے سارے رجال ثقہ ہیں سوائے ليث بن أبى سليم کے ، موصوف سے امام مسلم رحمہ اللہ نے صحیح میں استشادا روایت کیا ہے اورامام عجلی رحمہ اللہ نے انہیں ثقہ کہا ہے اور:
    امام ابن عدي رحمه الله (المتوفى365)نے کہا:
    لَيْث بن أبِي سُلَيم له من الحديث أحاديث صالحة غير ما ذكرت وقد روى عنه شُعْبَة والثوري وغيرهما من ثقات الناس ومع الضعف الذي فيه يكتب حديثه[الكامل لابن عدي: 7/ 238]۔

    لیکن جمہور محدثین نے انہیں ضعیف کہا ہے ، چنانچہ:

    امام نووي رحمه الله (المتوفى:676)نے کہا:
    أما ليث بن أبى سليم فضعفه الجماهير[شرح النووي على مسلم 1/ 52]۔

    امام ابن الملقن رحمه الله (المتوفى:804)نے کہا:
    (لَيْث) بن أبي سليم ، وَقد ضعفه الْجُمْهُور[البدر المنير لابن الملقن: 7/ 227]۔

    امام زين الدين العراقي رحمه الله (المتوفى806)نے کہا:
    لَيْث بن أبي سليم وَضَعفه الْجُمْهُور[تخريج أحاديث الإحياء: ص: 637]۔

    امام هيثمي رحمه الله (المتوفى807)نے کہا:
    فيه ليث بن أبي سليم والأكثر على ضعفه[مجمع الزوائد للهيثمي: 1/ 107]۔

    امام بوصيري رحمه الله (المتوفى:840)نے کہا:
    لَيْث بن أبي سليم وَقد ضعفه الْجُمْهُور وَهُوَ مُدَلّس[مصباح الزجاجة للبوصيري: 1/ 32]۔

    امام بوصیری کے قول سے معلوم ہوا کہ لیث مدلس بھی ہیں ، نیز :

    امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354)نے کہا:
    ما سمع التفسير عن مجاهد أحد غير القاسم بن أبى بزة نظر الحكم بن عتيبة وليث بن أبى سليم وابن أبى نجيح وابن جريج وابن عيينة في كتاب القاسم ونسخوه ثم دلسوه عن مجاهد [مشاهير علماء الأمصار لابن حبان: ص: 146]۔

    امام هيثمي رحمه الله (المتوفى807)نے کہا:
    وفيه ليث بن أبي سليم وهو مدلس وبقية رجاله ثقات[مجمع الزوائد للهيثمي: 2/ 344]

    اس کے علاوہ سند منقطع بھی ہے کیونکہ لیث (المتوفی 148ھ) نے احتراق کعبہ کا دور نہیں پایا ہے۔


    خلاصہ کلام یہ کہ یہ روایت ضعیف ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  5. ‏جولائی 18، 2012 #15
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,914
    موصول شکریہ جات:
    9,778
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    اصحاب ابن زبیررضی اللہ عنہ پرالزام سے متعلق پانچویں روایت


    امام ازرقی رحمہ اللہ (المتوفى250) نے کہا:
    حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَالَ الْوَاقِدِيُّ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أُذَيْنَةَ قَالَ: " قَدِمْتُ مَكَّةَ مَعَ أَبِي يَوْمَ احْتَرَقَتِ الْكَعْبَةُ، فَرَأَيْتُ الْخَشَبَ قَدْ خَلَصَتْ إِلَيْهِ النَّارُ، وَرَأَيْتُهَا مُجَرَّدَةً مِنَ الْحَرِيقِ، وَرَأَيْتُ الرُّكْنَ قَدِ اسْوَدَّ، فَقُلْتُ: مَا أَصَابَ الْكَعْبَةَ؟ فَأَشَارُوا إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالُوا: هَذَا احْتَرَقَتِ الْكَعْبَةُ فِي سَبَبِهِ، أَخَذَ نَارًا فِي رَأْسِ رُمْحٍ لَهُ، فَطَارَتْ بِهِ الرِّيحُ، فَضَرَبَتْ أَسْتَارَ الْكَعْبَةِ فِيمَا بَيْنَ الرُّكْنِ الْيَمَانِيِّ إِلَى الرُّكْنِ الْأَسْوَدِ " [أخبار مكة للأزرقي: 1/ 198 واخرجہ ایضا أبوالفرج الأصفهاني فی الأغاني 18/ 332 من طریق الواقدی بہ وذکرہ الطبری فی تاریخہ 5/ 499]۔

    یہ سند متصل ہے لیکن عبد الله بن يزيد الليثي المدنی کو ابن حبان کے علاوہ کسی نے ثقہ نہیں کہا [الثقات لابن حبان: 8/ 333]۔
    اورمحمدبن عمر الواقدی کذاب ہے اس کے بارے میں تفصیل گذرچکی ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  6. ‏جولائی 18، 2012 #16
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,914
    موصول شکریہ جات:
    9,778
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    اصحاب ابن زبیررضی اللہ عنہ پرالزام سے متعلق چٹھی روایت


    امام ازرقی رحمہ اللہ (المتوفى250) نے کہا:
    قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَالَ الْوَاقِدِيُّ: حَدَّثَنِي رَبَاحُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «كَانُوا يوقدون حول الكعبة، فأقبلت شررة هبت بِهَا الريح، فاحترقت ثياب الكعبة»[أخبار مكة للأزرقي: 1/ 198وذکرہ الطبری فی تاريخہ: 5/ 498 واللفظ لہ]۔

    یہ روایت بھی سخت ضعیف ہے، سند میں واقدی کذاب ہے جس کے بارے میں تفصیل گذرچکی ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  7. ‏جولائی 18، 2012 #17
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,914
    موصول شکریہ جات:
    9,778
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    اصحاب ابن زبیررضی اللہ عنہ پرالزام سے متعلق ساتویں، آٹھویں ، نویں اوردسویں روایت


    امام ابن سعد رحمه الله (المتوفى230)نے کہا:
    قال: وأَخبَرنا محمد بن عمر, قال: حَدَّثَنَا موسى بن يعقوب، عن عمه أبي الحارث بن عبد الله بن وهب بن زمعة (ح) قال: وأَخبَرنا شرحبيل بن أبي عون، وعبد الله بن جعفر، عن أبي عون (ح) قال: وأَخبَرنا إبراهيم بن موسى، عن عكرمة بن خالد (ح) قال: وأَخبَرنا أبو صفوان العطاف بن خالد، عن أخيه، قالوا: : لما ارتحل الحصين بن نمير من مكة لخمس ليال خلون من شهر ربيع الآخر سنة أربع وستين. أمر عبد الله بن الزبير بتلك الخصاص التي كانت حول الكعبة فهدمت. فبدت الكعبة. وأمر بالمسجد فكنس ما فيه من الحجارة والدماء. فإذا الكعبة تنغض متوهنة من أعلاها إلى أسفلها. فيها أمثال جيوب النساء من حجارة المنجنيق. وإذا الركن قد اسود واحترق من الحريق الذي كان حول الكعبة. فشاور ابن الزبير الناس في هدمها وبنائها. فأشار عليه جابر بن عبد الله بن عمير وغيرهما بأن يهدمها ويبنيها. وأبى ذلك عليه عبد الله بن عباس وقال: أخشى أن يأتي من بعدك فيهدمها فلا تزال تهدم.فيتهاون الناس بحرمتها فلا أحب لك [الطبقات الكبرى : 2/ 72]۔
    ان تمام روایات میں مرکزی راوی واقدی کذاب ہے جس کے بارے میں تفصیل گذرچکی ہے، بعض سندوں میں مزید علتیں بھی ہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  8. ‏جولائی 18، 2012 #18
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,914
    موصول شکریہ جات:
    9,778
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    اصحاب ابن زبیر رضی اللہ عنہ پر الزام سےمتعلق روایات کا خلاصہ


    اہل سنت کی کتابوں میں ہمیں کل دس (١٠) روایات سندکے ساتھ ملیں جن میں یہ بات منقول ہے کہ خانہ کعبہ میں آگ لگنے کے ذمہ دار عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے اصحاب تھے ، گذشتہ سطور میں ان تمام روایات پر تفصیلی بحث کی گئی اس کاخلاصہ یہ ہے :
    • پہلی روایت : سند میں تین علتیں (١) ایک نامعلوم راوی (٢) ضعیف راوی (٣) صرف ابن حبان کی توثیق والا راوی۔
    • دوسری روایت: سند میں دو علتیں (١) ایک سخت ضعیف راوی (٢) سند میں انقطاع ۔
    • تیسری روایت: سند میں دو علتیں (١) ایک مجول راوی (٢) ایک ضعیف راوی ۔
    • چوتھی روایت: سند میں دو علتیں (١) ایک ضعیف راوی (٢) سند میں انقطاع ۔
    • پانچویں روایت: سند میں دو علتیں (١) صرف ابن حبان کی توثیق والا راوی (٢) واقدی کذاب راوی ۔
    • چھٹی روایت: سند میں ایک علت (١) واقدی کذاب راوی ۔
    • ساتویں، آٹھویں ، نویں اوردسویں روایت : ساری سندوں میں واقدی کذاب راوی نیز بعض میں مزید علتیں ۔

    اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ یہ ساری سندیں ضعیف ہیں لیکن یہ روایات حسن لغیرہ بن سکتی ہیںکیونکہ پہلی ،تیسیری اورچوتھی روایات کی سندوں میں سخت ضعف نہیں ہے۔اوراہل علم ایسی سندوں کو حسن لغیرہ کے باب میں قبول کرتے ہیں ، علامہ البانی رحمہ اللہ بھی حسن لغیرہ کے باب میں ایسی روایات کو قبول کرلیتے ہیں جن میں اس طرح کا خفیف ضعف ہو۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  9. ‏جولائی 18، 2012 #19
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,914
    موصول شکریہ جات:
    9,778
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    امام طبری رحمہ اللہ کا موقف
    امام طبری رحمہ اللہ نے مذکورہ روایت پیش کرنے کے بعد عنوان قائم کیا:
    ذكر الخبر عن حرق الكعبه وفي هَذِهِ السنة حرقت الكعبة. ذكر السبب فِي إحراقها[تاريخ الطبري: 5/ 498]۔
    یعنی خانہ کعبہ کیسے جلا اس کے سبب کا بیان ۔

    اس عنوان کے تحت امام طبری رحمہ اللہ نے صرف انہیں روایات کو پیش کیا ہے جن میں کعبہ میں آگ لگنے کی ذمہ داری عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ کے اصحاب پرڈالی گئی اور اس مذکورہ جھوٹی روایت کو اس عنوان کے تحت قطعا نہیں ذکرکیا ہے حالانکہ اس سے قبل وہ اس روایت کو پیش کرچکے ہیں، اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ امام طبری رحمہ اللہ کا رجحان اسی طرف ہے کہ یہ آگ عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ کے اصحاب ہی کی طرف سے لگی ہے۔

    امام ابن الاثیر رحمہ اللہ کا موقف:
    امام ابن الاثیررحمہ اللہ نے آگ لگنے کے سب متعلق بغیرسند کے دونوں طرح کی روایات کو نقل کیا یعنی وہ روایات بھی جن میں آگ لگنے کاذمہ دار اہل شام کوبتایاگیا اوروہ روایات بھی جن میں آگ لگنے کے ذمہ داری عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ پرڈالی گئی ہے۔
    لیکن یہ دونوں روایات پیش کرنے کے بعدامام ابن الاثیر نے اس روایت کو راجح قراردیا ہے جس میں اس کی ذمہ داری اہل شام پرڈالی گئی ہے ، اوروجہ ترجیح بتلانے ہوئے رقمطراز ہیں:
    وقيل: إن الكعبة احترقت من نار كان يوقدها أصحاب عبد الله حول الكعبة وأقبلت شرارة هبت بها الريح فاحترقت ثياب الكعبة واحترق خشب البيت، والأول أصح، لأن البخاري قد ذكر في صحيحه أن ابن الزبير ترك الكعبة ليراها الناس محترقةً يحرضهم على أهل الشام.[الكامل في التاريخ 2/ 193 ]۔
    عرض ہے کہ اول تو جس روایت کو امام ابن الاثیر رحمہ اللہ بخاری کی رویات بتلایا ہے اس کا بخاری میں کوئی نام ونشان نہیں ہے البتہ یہ روایت صحیح مسلم میں ہے اوریہ وہی روایت ہے جسے اوپرمسلم کے حوالہ سے مکمل نقل کیا جاچکا ہے۔
    لیکن عرض ہے کہ صحیح مسلم کی اس روایت سے بھی درج ذیل وجوہات کی بناپر یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اہل شام نے خانہ کعبہ کا جلایا :
    اولا:
    مستدل ٹکڑاعبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ کا اپنا قول نہیں ہے بلکہ یہ ان کے طرزعمل (خانہ کعبہ کی اصلاح میں تاخیر) کی توجیہ ہے جسے امام عطاء یا اس کے بعد کے کسی راوی نے پیش کیا ہے افسوس کے ان الفاظ کے ساتھ کسی دوسرے طریق سے یہ روایت ہمیں نہیں مل سکی جس سے یہ اندازہ ہو کہ یہ توجیہ کس کی پیش کردہ ہے ؟ آیا امام عطاء رحمہ اللہ کی یا بعد کے کسی راوی کی ۔
    لیکن بہرصورت یہ توجیہ عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ سے براہ راست ثابت نہیں ہے اورعبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ سے اس کی توقع بھی نہیں ہے کیونکہ:
    الف:
    عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ کے فضائل ومناقب مسلم ہیں ان سے یہ قطعا توقع نہیں کی جاسکتی ہے کہ انہوں نے محض اہل شام کے خلاف لوگوں کو بھڑکانے کے لئے خانہ کعبہ کی اصلاح میں تاخیرکی اس طرح خود عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ کی شخصیت پربھی حرف آتا ہے کہ انہوں نے محض لوگوں کو مشتعل کرنے کے لئے خانہ کعبہ کااستعمال کیا اور ایک لمبی مدت تک اسے شکستہ حالت میں چھوڑے رکھا ۔
    ب:
    اسی روایت میں آگے عبداللہ بن زیبررضی اللہ عنہ کے یہ الفاظ بھی ہیں کہ:
    امام مسلم رحمه الله (المتوفى261)نے کہا:
    " لَوْ كَانَ أَحَدُكُمُ احْتَرَقَ بَيْتُهُ، مَا رَضِيَ حَتَّى يُجِدَّهُ، فَكَيْفَ بَيْتُ رَبِّكُمْ؟ [صحيح مسلم 2/ 970 ترقیم فوادعبدالباقی 1333 وترقیم آخر 3245]۔
    اس تمثیل پرغورفرمائیں کہ عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ فرمارہے کہ جو بات تم اپنے گھروں سے متعلق پسندنہیں کرتے اسے خانہ کعبہ سے متعلق کیسے برداشت کرلیا ، جو صحابی رسول خانہ کعبہ کا اس حدتک احترام کرتے ہیں ان کے بارے میں یہ کیسے توقع کرلی جائے کہ انہوں نے محض لوگوں کو مشتعل کرنے کے لئے ایک لمبی مدت تک خانہ کعبہ کی اصلاح کو ملتوی کردیا۔
    ج:
    جب عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ کی طرف سے کعبہ کی تعمیرنو کا کام شروع ہوا تو کسی کو ہمت نہیں ہورہی تھی خانہ کعبہ کی ایک اینٹ کوبھی ہلائے ، مسلم کی اسی روایت میں ہے:
    اب حدیث دیکھیں ، امام مسلم رحمه الله (المتوفى261)نے کہا:
    فَلَمَّا مَضَى الثَّلَاثُ أَجْمَعَ رَأْيَهُ عَلَى أَنْ يَنْقُضَهَا، فَتَحَامَاهُ النَّاسُ أَنْ يَنْزِلَ بِأَوَّلِ النَّاسِ يَصْعَدُ فِيهِ أَمْرٌ مِنَ السَّمَاءِ، حَتَّى صَعِدَهُ رَجُلٌ، فَأَلْقَى مِنْهُ حِجَارَةً، فَلَمَّا لَمْ يَرَهُ النَّاسُ أَصَابَهُ شَيْءٌ تَتَابَعُوا فَنَقَضُوهُ حَتَّى بَلَغُوا بِهِ الْأَرْضَ،[صحيح مسلم 2/ 970 ترقیم فوادعبدالباقی 1333 وترقیم آخر 3245]۔
    غورکریں کہ اگراہل شام نے خانہ کعبہ پر آتش باری کی ہوتی تو سب کے علم میں یہ بات ہوتی کہ اہل شام نے کعبہ پرآتش باری کی اور ان پرکوئی آسمانی آفت نہیں آئی ، ایسی صورت میں کعبہ کو تعمیرنو کی غرض سے نیک نیتی کے ساتھ ڈھاتے وقت وہ اس درجہ خوف کے شکار نہ ہوتے ، کیونکہ جب ان کے مشاہدہ میں ہے کہ اہل شام نے کعبہ کو بدنیتی سے گرایا اوران کا کچھ نہ بگڑا تو پھر ہم تو نیک جذبہ سے اسے گرارہے ہیں اس سے ہم پر بدرجہ اولی کوئی آفت آنہیں آسکتی، لیکن اس صورت میں بھی ان کا ڈرنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ماضی میں ان کے سامنے ایسا کوئی مشاہدہ نہیں ہے کہ کسی نے خانہ کعبہ کو شہید بھی کیا ہو اورصحیح سلامت واپس بھی چلاگیاہو۔
    د :
    اگرخانہ کعبہ کی تاخیرکامقصد حجاج کرام کو اہل شام کے خلاف بھڑکانا ہوتا تو حج کے موقع پر عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ یہ کام ضرورکرتے ہیں لیکن کسی بھی روایت سے اس بات کا ثبوت نہیں ملتا کہ عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ نے حج کے موقع پر خانہ کعبہ کی شکستہ حالت کا حوالہ دے کراہل شام کےخلاف کوئی اشتعال انگیز خطاب کیا ہو یا انفرادی طورپربھی کسی کو بھڑکایا ہو۔
    ھ:
    حج کے بعد حجاج کرام اوردیگرافرد امت کی طرف سے بھی اہل شام کے خلاف کسی طرح کی نفرت انگیزی کاماحول نہیں دیکھا گیا ، کسی روایت میں ایسی کوئی بات منقول نہیں ہوئی ۔
    ح:
    حج کے موقع پرجب حجاج کرام تشریف لائے توعبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ نے اس کے سامنے اہل شام کے خلاف کوئی تقریرنہیں کی بلکہ ان سے کعبہ کی تعمیرنو سے متعلق مشورہ لیا:
    فَلَمَّا صَدَرَ النَّاسُ، قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَشِيرُوا عَلَيَّ فِي الْكَعْبَةِ، أَنْقُضُهَا ثُمَّ أَبْنِي بِنَاءَهَا؟ أَوْ أُصْلِحُ مَا وَهَى مِنْهَا؟ [صحيح مسلم 2/ 970 ترقیم فوادعبدالباقی 1333 وترقیم آخر 3245]۔

    اس سے معلوم ہواکہ عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ نے اصلاح کعبہ میں تاخیراس لئے کی تھی تاکہ امت کے اکابرین سے اس کی اصلاح کے بارے میں مشورہ لے جائے ، درصل عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ کعبہ کی ازسرنو تعمیرکرنا چاہتے ہیں اور یہ اقدام غیرمعمولی تھا اس لئے انہوں نے اس میں جلدبازی نہ کی بلکہ تھوڑا انتظارکیا تاکہ امت کے دیگراکابرین کی رائے بھی سامنے آجائے۔

    ثانیا:
    اگریہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ ایک جلیل القدرصحابی رضی اللہ عنہ نے محض لوگوں کو مشتعل کرنے کے لئے خانہ کعبہ کی اصلاح میں تاخیرکی تو اس سے بھی اس بات کا کوئی قطعی ثبوت نہیں ملتا کہ اہل شام ہی نے خانہ کعبہ کو جلایا ، بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ خانہ کعبہ اصحاب عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ ہی کی کاروائی سے غیر ارادی طور پر جلا ہو (کمافی بعض الروایات) لیکن چونکہ یہ نوبت اہل شام کے حملہ کی بناپرآئی تھی اس لئے اس کی اصل ذمہ داری بھی اہل شام ہی پرڈالی گئی اورلوگوں کو یہی باور کرایا گیا کہ اہل شام کے حملہ کی وجہ سے کعبہ بھی آگ کا شکار ہوگیا، اس پہلو سے بھی اہل شام کے خلاف لوگوں کو مشتعل کرنے کی راہ موجود ہے لہٰذا محض اشتعال دلانے والی بات اس چیز کی دلیل نہیں بن سکتی کہ اہل شام ہی کی کارروائی سے خانہ کعبہ جلا۔


    ثالثا:
    اگرہم یہ بھی تسلیم کرلیں کہ خانہ کعبہ اہل شام ہی کی کارروائی سے جلا تو بھی اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ اہل شام نے جان بوجھ کرخانہ کعبہ پر آتش باری کی اوراسے شہید کردیا ! جیساکہ مذکورہ بلا جھوٹی روایت میں ہے۔
    یہ بھی تو ممکن ہے اوربعض ضعیف روایات میں منقول بھی ہے (کمامضی) کہ اہل شام کے کسی فرد نے کہیں اور آگ لگائی لیکن تیز ہوا کے سبب آگ خانہ کعبہ تک پہنچ گئی اورخانہ کعبہ جل گیا ، اوراسی بات کو لیکر اہل شام کے خلاف لوگوں کو مشتعل کرنے کا منصوبہ بنالیا گیا۔

    دکتور حمد بن محمد العرينان امام ابن الاثیر رحمہ اللہ کے مذکورہ استدلال پررد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    وهذا الدليل- کما هو واضح- لا يعني بالضرورة ان مجانيق الجيش الاموي هي التي تسببت في حريق الکعبة، وليس في ترک ابن الزبير الکعبة تحترق دليل علي حراق بني امية لها؛ بل ربما استعمل هذا الدليل ضد ابن الزبير، ذ کيف يترک البيت الحرام تلتهمه النار لمجرد تحريض جيشه علي القتال. [إباحة المدينة وحريق الكعبة في عهد يزيد بن معاوية بين المصادر القديمة والحديثة:ص 15].
    یہ دلیل جیساکہ واضح ہے اس بات پر قطعی دلالت نہیں کرتی کہ اہل شام کی منجنیقیں ہی خانہ کعبہ کے جلنے کا سبب بنی تھیں، اورابن زبیررضی اللہ عنہ نے جو کعبہ کو جلتا ہوا چھوڑدیا تو اس میں اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ بنوامیہ ہی نے اسے جلایا تھا ، بلکہ یہ دلیل تو عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ کے خلاف بھی استعمال کی جاسکتی ہے کہ موصوف نےکیسے محض اپنے لشکرکو جنگ پرابھار نے کی خاطر خانہ کعبہ کوآگ کی لپٹ میں چھوڑ دیا ؟؟۔

    فائدہ:
    دکتور موصوف نے محولہ کتاب میں یہ ثابت کیا ہے کہ خانہ کعبہ میں آگ لگنے کے معاملہ سے اہل شام باکل بری ہیں ، آں موصوف نے اس سلسلے کی تمام روایات نقل کرکے محاکمہ کیا ہے لیکن چند روایات ان سے بھی چھوٹ گئی ہیں اوران کی حقیقت ہم نے اس مضمون میں بیان کردی ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  10. ‏جولائی 18، 2012 #20
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,914
    موصول شکریہ جات:
    9,778
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    آگ دانسہ نہیں لگائی گئی بلکہ غیرارادی طورپرلگ گئی


    گذشتہ سطور میں دونوں طرف کی تمام روایات پیش کی جاچکی ہیں اور ان تمام روایات میں مشترک بات یہ ہے کہ کسی بھی فریق نے قصدا آگ نہیں لگائی بلکہ آگ کہیں اورتھی اورہوا کے جھونکے سے خانہ کعبہ تک پہنچ گئی ۔
    اس لئے اہل شام پر یہ الزام لگانا کوئی انہوں نے جان بوجھ کرخانہ کعبہ میں آگ لگائی یہ قطعا درست نہیں جیساکہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی اس کی وضاحت کی ہے کما مضی ۔
    اوراگرتھوڑی دیر کے لئے مان لیں کہ خانہ کعبہ میں آگ کسی شامی فوجی نے لگائی تو بھی یہ محض اس کا جرم ہوگا جس نے ایسا کیا ہے ، لیکن یزید رحمہ اللہ پر تو یہ الزام قطعا نہیں آسکتا کیونکہ یزید رحمہ اللہ نے ایسا کرنے کا حکم قطعا نہیں دیا تھا کیونکہ ضعیف وموضوع روایت میں بھی نہیں ملتا کہ یزید نے خانہ کعبہ میں آگ لگانے کا حکم دیا ہو ، لہٰذا اس سلسلے میں یزید رحمہ اللہ کا نام لینا کسی بھی صورت میں درست نہیں ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں