1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

ختنہ واجب یا سنت

'طہارت' میں موضوعات آغاز کردہ از عمر اثری, ‏دسمبر 29، 2015۔

  1. ‏دسمبر 29، 2015 #1
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,727
    موصول شکریہ جات:
    981
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    ختنہ کرانا واجب ھے یا سنت؟
    وجوب کے جو دلائل مجھے ملے ھیں ان میں سے اکثرضعیف ھیں
     
  2. ‏فروری 20، 2016 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,593
    موصول شکریہ جات:
    2,001
    تمغے کے پوائنٹ:
    650

    ختنہ اہل اسلام کیلئے واجب ہے ،کیونکہ یہ ملت ابراہیم کا شعار ہے ،
    اور ملت ابراہیم کی پیروی کا خصوصی حکم دیا گیا ہے،
    قرآن کریم میں اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:

    ثُمَّ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا ۭ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ ١٢٣
    پھر ہم نے آپ کی طرف یہ وحی کی کہ آپ ملت ابراہیم کی پیروی کریں جو باطل سے مجتنب تھے اور وہ مشرکین میں سے نہ تھے ۔

    لفظ ’’ ملت ‘‘ کی تحقیق کرتے ہوئے صاحب تاج العروس لکھتے ہیں :۔ ’’ الملہ فی اللغۃ السنۃ والطریقۃ وفی الاساس ومن المجاز الملۃ الطریق المسلوکۃ ومنہ ملۃ ابراہیم (علیہ السلام) خیر الملل۔
    یعنی لغت میں ’’ ملۃ ‘‘ سنت اور طریقہ کو کہا جاتا ہے، جیسے ملت ابراہیم (علیہ السلام )
    اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :
    ’’ عن ابي هريرة رضي الله عنه قال:‏‏‏‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏"اختتن إبراهيم عليه السلام وهو ابن ثمانين سنة بالقدوم".
    (صحیح البخاری،حدیث نمبر: 3356 )
    سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ابراہیم علیہ السلام نے اسی (80) سال کی عمر میں بسولے سے ختنہ کیا۔“
     
    • علمی علمی x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  3. ‏فروری 20، 2016 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,593
    موصول شکریہ جات:
    2,001
    تمغے کے پوائنٹ:
    650

    مردوں اور عورتوں کا ختنے کروانا
    شروع از عطاء اللہ سلفی بتاریخ : 03 June 2012 02:35 PM

    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    مردوں اور عورتوں کے ختنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟
    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال


    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

    ختنے کے حکم کے بارے میں اختلاف ہے۔ صحیح ترین قول یہ ہے کہ ختنہ مردوں کے حق میں واجب اور عورتوں کے حق میں سنت ہے اور دونوں میں فرق کی وجہ یہ ہے کہ مردوں کے حق میں ختنہ میں ایک ایسی مصلحت ہے جس کا نماز کی شرطوں میں سے ایک شرط، یعنی طہارت سے تعلق ہے کیونکہ قلفہ باقی رہنے کی صورت میں حشفہ کے سوراخ سے نکلنے والا پیشاب قلفہ میں باقی رہ جاتا ہے اور وہ جلن یا سوزش کا سبب بن جاتا ہے یا بے ختنہ انسان جب بھی حرکت کرتا ہے تو اس سے پیشاب خارج ہو کر نجاست کا سبب بنتا رہتا ہے۔ عورت کے ختنہ کا زیادہ سے زیادہ فائدہ یہ ہے کہ ختنہ عورت کی شہوت کم کر دیتا ہے۔ لہذا عورت کے لئے یہ طلب کمال ہے اور ایسی چیز نہیں جس کے نہ کرنے سے نقصان ہو۔ علماء نے وجوب ختنہ کے لیے یہ شرط عائد کی ہے کہ اس سے ہلاکت یا بیماری کا اندیشہ نہ ہو اگر اس طرح کا کوئی اندیشہ ہو تو پھر ختنہ واجب نہیں ہے کیونکہ واجبات عجز، یا خوف ہلاکت یا نقصان کی صورت میں واجب نہیں رہتے۔ مردوں کے حق میں وجوب ختنہ کے دلائل حسب ذیل ہیں:
    ٭ متعدد احادیث میں یہ آیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام لانے والوں کو ختنہ کا حکم دیا،مسند الامام احمد: ۳/ ۴۱۵۔
    اور اصول یہ ہے کہ امر وجوب کے لیے ہوتا ہے۔
    ٭ ختنہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے مابین امتیازی بات ہے حتیٰ کہ مسلمان معرکوں میں اپنے شہداء کو ختنوں ہی سے پہچانتے تھے اور سمجھتے تھے کہ ختنہ ہی ایک امتیازی علامت ہے اور جب یہ امتیازی علامت ہے تو کافر اور مسلمان میں امتیاز کے وجوب کے پیش نظرختنہ واجب ہے۔ اسی لیے کفار کے ساتھ مشابہت کو حرام قرار دے دیا گیا ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
    «مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ»سنن ابی داود، اللباس، باب فی لبس الشهرة، ح:۴۰۳۱۔

    ’’جو کسی قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کرے، وہ انہی میں سے ہے۔‘‘
    ٭ ختنہ بدن کے کچھ حصے کو کاٹنے کا نام ہے اور بدن کے کسی حصے کو کاٹنا حرام ہے اور حرام کو کسی واجب شے ہی کے لیے مباح قرار دیا جاسکتا ہے، لہٰذا ختنہ واجب ہے۔
    ٭ (اگر کوئی بچہ یتیم ہے تو ظاہر ہے اس کے) ختنے کا اہتمام اس کا وارث کرتا ہے اس کے وارث کا یہ تصرف اس یتیم پر اور اس کے مال پر زیادتی ہے کیونکہ وہ ختنہ کرنے والے کو اجرت دے گا اور اگر ختنہ واجب نہ ہوتا تو اس کے مال اور بدن پر یہ زیادتی جائز نہ ہوتی۔ ان نقلی اور نظری دلائل سے معلوم ہوا کہ مردوں کے حق میں ختنہ واجب ہے۔
    عورتوں کے ختنہ کے بارے میں اقوال مختلف ہیں، جن میں صحیح ترین قول یہ ہے کہ ختنہ صرف مردوں کے لیے واجب ہے۔ عورتوں کے لیے نہیں اور اس کے بارے میں ایک ضعیف حدیث ہے:
    «اَلْخِتَانُ سُنَّة فی حقٌ الرِّجَالِ،و مَکْرُمَة فی حقٌ لِلنِّسَاءِ»مسند احمد: ۵/۷۵۔

    ’’ختنہ مردوں کے حق میں سنت اور عورتوں کے حق میں اعزاز واکرام ہے۔‘‘
    اگر یہ حدیث صحیح ہوتی تو اس باب میں فیصلہ کن ہوتی۔
    وباللہ التوفیق
    فتاویٰ ارکان اسلام


    نماز کے مسائل


     
    • علمی علمی x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏فروری 20، 2016 #4
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,727
    موصول شکریہ جات:
    981
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    جزاکم اللہ خیر واحسن الجزاء.
    اللہ آپ کے علم وعمل اور وقت میں برکت عطا فرماۓ.
     
  5. ‏فروری 20، 2016 #5
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,593
    موصول شکریہ جات:
    2,001
    تمغے کے پوائنٹ:
    650

    ختنہ اگر شرعاً واجب نہ ہوتا تو اسی سال کے بوڑھے آدمی اس کا حکم نہ دیا جاتا ،
    پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :
    ’’ عن ابي هريرة رضي الله عنه قال:‏‏‏‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏"اختتن إبراهيم عليه السلام وهو ابن ثمانين سنة بالقدوم".
    (صحیح البخاری،حدیث نمبر: 3356 )
    سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ابراہیم علیہ السلام نے اسی (80) سال کی عمر میں بسولے سے ختنہ کیا۔“
     
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں