1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

خطبہ حرم ۔۔۔ رمضان المبارک کے فیوض وبرکات

'مسائل رمضان' میں موضوعات آغاز کردہ از عتیق الرحمٰن, ‏مئی 19، 2019۔

  1. ‏مئی 19، 2019 #1
    عتیق الرحمٰن

    عتیق الرحمٰن مبتدی
    شمولیت:
    ‏مئی 19، 2019
    پیغامات:
    37
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    11


    رمضان المبارک کے فیوض وبرکات​

    حمد و ثناء کے بعد!
    اے مؤمنو! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ یہ خیرِ جامع ہے۔ صبر وتحمل سے کام لو۔ سنجیدگی اور ثابت قدمی دکھاؤ۔ یاد رکھو کہ دنیا کے دن گنے چنے ہیں۔ یہاں کی سانسیں بھی محدود ہیں۔ ہم میں سے کسی کو نہیں معلوم کہ رحلت کا وقت کب ہے؟
    چنانچہ، اللہ کے بندو! ہمیں اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے، کیونکہ ابھی عمر باقی ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ موت اچانک اور غفلت کے وقت آتی ہے۔ اگر زندگی میں خوب محنت کی جائے تو روزِ قیامت دنیا کی مشکلیں اور تکلیفیں اچھی لگنے لگیں گی۔
    ’’اس دن کی رسوائی ومصیبت سے بچو، جبکہ تم اللہ کی طرف واپس ہو گے، وہاں ہر شخص کو اس کی کمائی ہوئی نیکی یا بدی کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور کسی پر ظلم ہرگز نہ ہوگا۔‘‘ (البقرۃ: ۲۸۱)
    اے امت اسلام! یہ بات تو سب ہی جانے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے:
    ’’میں نے جن اور انسانوں کو اِس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری بندگی کریں۔‘‘ (الذاریات: ۵۶)
    کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جس میں اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کی کوئی شکل نہ ہو، یا اس کی رحمت کا کوئی نزول نہ ہو۔ ان دنوں میں اللہ جس پر چاہتا ہے، اپنی رحمت کی برکھا برساتا ہے۔ وہ فضلِ عظیم والا ہے۔ وہی معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ دیکھو! انتہائی بابرکت راتیں آنے والی ہیں، فضیلت والے دن آنیوالے ہیں۔ آپe ان کے آنے کی بشارت دیا کرتے تھے۔
    مسند امام احمد کی روایت ہے‘ سیدنا ابو ہریرہt بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہe اپنے صحابہ کو بشارت دیا کرتے تھے۔ فرماتے:
    ’’رمضان آگیا ہے۔ یہ ایک بابرکت مہینہ ہے جس کے روزے اللہ تعالیٰ نے تم پر فرض کیے ہیں، اس میں جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند ہو جاتے ہیں، شیطان قید ہو جاتے ہیں، اس میں ایک ایسی رات ہے جو ایک ہزار مہینے سے بہتراچھی ہے، اس سے محروم ہونے والا ہی حقیقی محروم ہے۔‘‘
    امام ابن رجبa فرماتے ہیں:
    اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رمضان المبارک کی آمد کی خوشخبری اور مبارکباد دینا ثواب کا کام ہے۔ بھلا اہل ایمان کو جنت کے دروازے کھلنے کی خوشخبری کیوں نہ دی جائے؟! بھلا گناہگاروں کو جہنم کے دروازے بند ہونے کی خوشخبری کیوں نہ دی جائے؟! دانشمندوں کو شیطان قید ہونے کی خوشخبری کیوں نہ دی جائے؟! بھلا اس وقت جیسا کوئی اور وقت بھی ہے؟!
    ’’اے نبی! کہو کہ یہ اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے کہ یہ چیز اس نے بھیجی، اس پر تو لوگوں کو خوشی منانی چاہیے، یہ اُن سب چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لوگ سمیٹ رہے ہیں۔‘‘ (یونس: ۵۸)
    اللہ کے بندو! ماہِ رمضان روزوں کا مہینہ ہے، قرآن کا مہینہ ہے، احسان کا مہینہ ہے۔ اس میں فضیلت والے اعمال اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ روزے اور قرآن قیامت کے دن لوگوں کے لیے سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا: اے پروردگار! میں نے اسے دن کے وقت کھانے اور خواہشات نفس سے روکے رکھا، تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما! قرآن کہے گا: میں نے اسے رات کے وقت سونے سے روکے رکھا۔ تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما۔
    صحیح بخاری اور صحیح مسلم‘ میں ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: جو ایمان اور حصول ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ جو ایمان اور حصول ثواب کی نیت سے رمضان کی راتوں میں عبادت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ جو ایمان اور حصول ثواب کی نیت سے لیلۃ القدر کی عبادت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہ معاف فرما دیتا ہے، روزے کا اجر اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمے لیا ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ’’ابن آدم کی ہر نیکی کا اجر بڑھایا جاتا ہے۔‘‘
    ایک نیکی کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’سوائے روزے گے۔ وہ تو میرے لیے ہوتا ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔ بندہ میرے لیے اپنے نفس کی خواہشات اور کھانا چھوڑ دیتا ہے۔‘‘
    یہ ایک عظیم مہینہ ہے۔ یہ ایک بہترین موقع ہے۔ اس میں فرشتے بھی افطاری تک روزہ داروں کے لیے مغفرت کی دعا کرتے رہتے ہیں۔ روزے دار کے لیے خوشی کے دو موقع ہوتے ہیں۔ ایک جب وہ روزہ افطار کرتا ہے اور دوسرا جب وہ اپنے پروردگار سے ملے گا تو اپنے روزے کی بدولت اسے وہاں بھی خوشی میسر آئے گی جس سے وہ خوش ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہر روز اپنی جنت کو مزید مزین کرتا ہے۔ پھر فرماتا ہے: ’’قریب ہے کہ میرے نیک بندے مصیبتوں اور اذیتوں سے جان چھڑا کر میرے پاس آ جائیں۔‘‘
    اسی ماہ میں پکارنے والا پکارتا ہے:
    ’’اے نیکی کرنے والے! آگے بڑھ۔ اور اے برائی کا ارادہ رکھنے والے! رک جا۔ اس میں دل، اللہ سے کے قریب تر ہو جاتے ہیں۔ نفس اپنے خالق کے لیے پاکیزہ ہو جاتے ہیں۔ اسی مہینے میں دس بابرکت اور روشن راتیں بھی ہیں۔ اسی میں لیلۃ القدر ہے جو ایک ہزار مہینے سے افضل ہے۔‘‘
    اس کی فضیلت یہ ہے کہ جو امام کے ساتھ نماز پڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ امام نماز مکمل کر کے چلا نہ جائے، تو اس کے لیے ایک مکمل رات کی عبادت لکھ دی جاتی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آگ سے محفوظ فرماتا ہے اور یہ کام ہر رات کرتا ہے۔ چنانچہ رسوائی ہے، پھر رسوائی ہے، پھر رسوائی ہے، اس شخص کے لیے، جو رمضان پا لے مگر پھر بھی اس کے گناہ معاف نہ ہوں۔ رمضان میں روزہ داروں کی دعائیں رد نہیں ہوتیں۔ اس میں قبولیت کی گھڑیاں بہت زیادہ ہوتی ہیں، چنانچہ اس میں زیادہ سے زیادہ کثرت سے دعائیں کیاکرو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں روزے کے احکام بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ اپنے بندوں سے انتہائی قریب ہے اور پکارنے والوں کی پکار سنتا ہے۔ فرمایا:
    ’’اور اے نبی کریمe میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں، تو اُنہیں بتا دو کہ میں ان سے قریب ہی ہوں‘ پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے، میں اُس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں‘ لہٰذا انہیں چاہیے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں‘ یہ بات تم اُنہیں سنا دو، شاید کہ وہ راہ راست پالیں۔‘‘ (البقرۃ: ۱۸۶)
    اسی طرح (مسند امام احمد)میں ہے کہ نبی اکرمe نے فرمایا: تین لوگوں کی دعائیں رد نہیں ہوتیں: ایک عدل کرنے والے حکمران کی، روزہ دار کی، جب تک وہ روزہ افطار نہیں کر لیتا اور مظلوم کی رمضان میں۔ نیکی کے بیشمار ہیں۔ جو کسی روزہ دار کا روزہ و افطار کر واترتا ہے، چاہے وہ ایک کھجور کے ساتھ ہی ہو، اسے اس روزے دار جتنا اجر مل جاتا ہے اور روزہ دار کے اجر میں بھی کوئی کمی نہیں آتی۔ بہترین صدقہ ماہِ رمضان کا صدقہ ہے۔ جو حساب کتاب کے دن سے ڈرتا ہے، وہ کسی بھوکے مسکین کو کھانا کھلا دے، کسی بیوہ اور یتیم کی حاجت پوری کر دے۔
    ’’اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں ہم تمہیں صرف اللہ کی خاطر کھلا رہے ہیں، ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ‘ ہمیں تو اپنے رب سے اُس دن کے عذاب کا خوف لاحق ہے جو سخت مصیبت کا انتہائی طویل دن ہوگا۔ پس اللہ تعالیٰ انہیں اُس دن کے شر سے بچا لے گا اور انہیں تازگی اور سرور بخشے گا اور اُن کے صبر کے بدلے میں اُنہیں جنت اور ریشمی لباس عطا کرے گا۔‘‘ (الانسان: ۱۲)
    اے مؤمن بھائیو! ماہِ رمضان، حصولِ تقویٰ کا سنہری ایک عظیم موقع ہے۔ روزہ ڈھال ہے، یعنی وہ تمام حرام کاموں اور فحش باتوں سے روکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے روزوں کے احکام بیان کرنے والی آیات کا آغاز تقویٰ سے فرمایا اور تقویٰ پر ہی ختم کیا۔ تقویٰ بہترین زادِ راہ ہے۔ تقویٰ کا لباس ہی بہترین لباس ہے۔
    ’’جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا اللہ اُس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا اور اسے ایسے راستے سے رزق دے گا جدھر اُس کا گمان بھی نہ جاتا ہو۔‘‘ (الطلاق: ۳)
    ’’جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کی برائیوں کو اس سے دور کر دے گا اور اس کو بڑا اجر دے گا۔‘‘ (الطلاق: ۵)
    ’’جو شخص اللہ سے ڈرے اُس کے معاملہ میں وہ سہولت پیدا کر دیتا ہے۔‘‘ (الطلاق: ۴)
    اللہ تعالیٰ نے خصوصی طور پر اہل ایمان کو اپنا ساتھ نصیب فرمایا ہے۔ ان پر مہربانی فرما کر ان کے ساتھ محبت کی ہے۔
    ’’آخر کیوں اُن سے باز پرس نہ ہوگی؟ جو بھی اپنے عہد کو پورا کرے گا اور برائی سے بچ کر رہے گا وہ اللہ کا محبوب بنے گا، کیونکہ پرہیز گار لوگ اللہ کو پسند ہیں۔‘‘ (آل عمران: ۷۶)
    سیدنا قتادہt بیان کرتے ہیں:
    جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کا ساتھ دینے لگتا ہے، اور جس کا ساتھ اللہ دے، وہ تو اس گروہ میں شامل ہو جاتا ہے جو کسی صورت میں بھی مغلوب نہیں ہو سکتا۔ اس کے ساتھ وہ نگہبان ہے جو کبھی پریشان نہیں ہوتا۔ اس کیساتھ وہ ہدایت دینے والا ہے، جو کبھی گمراہ نہیں ہوتا۔
    اہلِ تقویٰ ہی دنیا وآخرت میں بلندی پانے والے ہیں۔
    ’’وہ آخرت کا گھر تو ہم اُن لوگوں کے لیے مخصوص کر دیں گے جو زمین میں اپنی بڑائی نہیں چاہتے اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں اور انجام کی بھَلائی متقین ہی کے لیے ہے۔‘‘ (القصص: ۸۳)
    اے اہل ایمان! تقویٰ کے ذریعے وہ ہمیشہ رہنے والی کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ انسان کو جنت نصیب ہو جاتی ہے جو اتنی کشادہ ہے جتنے زمین وآسمان۔ اس میں ایسی نعمتیں ہیں، جو نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہیں، نہ ان کے بارے میں کسی کان نے صحیح خبر سنی ہے اور نہ کسی کے خواباب وخیال میں کبھی آئی ہیں۔
    ’’سُنو! جو اللہ کے دوست ہیں، جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقویٰ کا رویہ اختیار کیا، ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں دُنیا اور آخرت دونوں زندگیوں میں ان کے لیے بشارت ہی بشارت ہے‘ اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ (یونس: ۶۲-۶۴)
    اے مسلمانو! رمضان کا مہینہ رحمن کو راضی کرنے کا مہینہ ہے۔ یہ صراط مستقیم پر ثابت قدمی اور اللہ کے ساتھ ملاقات کی تیاری کا مہینہ ہے۔ آج کام کا وقت ہے، حساب کتاب کا وقت نہیں، کل حساب کتاب ہو گا اور عمل کا وقت نہیں ہو گا۔ چنانچہ زاد راہ لے لو، یاد رکھو کہ بہترین زاد راہ تقویٰ ہے۔
    ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر روزے فرض کر دیے گئے، جس طرح تم سے پہلے انبیا کے پیروؤں پر فرض کیے گئے تھے‘ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔‘‘ (البقرۃ: ۱۸۳)


    دوسرا خطبہ
    حمد وصلوٰۃ کے بعد:
    اے مؤمنو! روزے کا ایک مقصد یہ ہے کہ نفس کو فرماں برداری سکھائی جائے، اسے پاکیزہ کیا جائے اور اسے نافرمانی سے دور رکھا جائے۔ جس طرح مسلمان روزے کے دوران اپنے آپ کو کچھ حلال چیزوں سے بھی روکے رکھتا ہے، اسی طرح اسے چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو حرام چیزوں سے روکے رکھے۔ روزہ صرف یہی نہیں کہ کھانا چھوڑ دیا جائے، بلکہ یہ وہ مہینہ ہے جس کا پھل ایمان اور نیک اعمال کی شکل میں نظر آتا ہے۔ جو جھوٹ بولنا، اس پر عمل کرنا اور فضول گوئی نہیں چھوڑتا، تو اللہ تعالیٰ کو کوئی حاجت نہیں کہ وہ اسے کھانے اور پینے سے روکے رکھے۔ رسول اللہe رمضان کے مبارک دنوں میں سب سے بڑھ کر نیکی کرتے تھے۔ سیدنا ابن عباسw بیان کرتے ہیں: رسول اللہe سب سے بڑھ کر نیکی کرنے والے تھے۔ اسی ماہ میں جبریلu آپe سے ملاقات کرتے تھے۔ جبریلu رمضان کی ہر رات رسول اللہe کے ساتھ رہتے، یہاں تک کہ وہ رات گزر جاتی۔ نبی اکرمe انہیں قرآن کریم سناتے۔ جب جبریلu آپe سے ملتے تو آپe خیر کے کاموں میں نفع بخش ہوا سے بھی تیز ہو جاتے۔ (بخاری ومسلم)
    رمضان المبارک میں قرآن کریم کی تلاوت کی خاص فضیلت ہے۔ غور وفکر اور تدبر کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت سے بڑھ کر دل کے لیے کوئی نفع بخش چیز نہیں۔ جس طرح امام ابن القیمa فرماتے ہیں: تلاوت سے انسان میں تمام قابل تعریف صفات آ جاتی ہیں، وہ صفات کہ جن سے دل زندہ ہو جاتا ہے اور اسے کمال نصیب ہو جاتا ہے۔ اسی طرح تلاوت تمام برے کاموں سے انسان کو دور کرتی ہے جن سے دل فساد یا ہلاکت کی طرف جا سکتا ہے۔ اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ غور وفکر تدبر کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کی کتنی فضیلت ہے تو وہ سارے کام چھوڑ کر اسی میں لگ جائیں۔
    اسی طرح (مسند امام احمد) میں ہے کہ رسول اللہe نے ایک مرتبہ ساری رات قیام کیا، اور بس ایک ہی آیت پڑھتے رہے۔ اسے ہی پڑھ کر رکوع اور سجدے کرتے رہے۔ اس کی تلاوت کرتے رہے اور صبح تک اسے ہی دہراتے رہے۔
    ’’اب اگر آپ انہیں سزا دیں تو وہ آپ کے بندے ہیں اور اگر معاف کر دیں تو آپ غالب اور دانا ہیں۔‘‘ (المائدہ: ۱۱۸)
    اسی طرح سیدہ عائشہr کے بارے میں ان کے چچا زاد بھائی بتاتے ہیں: ایک روز میں سیدہ کے پاس گیا تو وہ نماز میں کھڑی تھیں اور اس آیت کی تلاوت کر رہی تھیں:
    ’’یہ کہیں گے کہ ہم پہلے اپنے گھر والوں میں ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے تھے آخر کار اللہ نے ہم پر فضل فرمایا اور ہمیں جھلسا دینے والی ہوا کے عذاب سے بچا لیا۔‘‘ (الطور: ۲۶-۲۸)
    سیدہ اسی آیت کو دہراتی رہیں اور دعا کرتی رہیں،۔ اللہ کی پناہ مانگتی رہیں اور روتی رہیں۔ بیان کرتے ہیں: میں انتظار میں کھڑا رہا، یہاں تک میں کھڑا کھڑا تھک کیا۔ پھر میں بازار چلا گیا، اپنا کام کیا اور پھر لوٹا تو وہ وہیں کھڑی تھیں اور ویسے ہی رو رہی تھیں۔ پس اے رجوع کرنیوالو! یہ ہیں نیکی کے دن، جو بڑے قریب آلگے ہیں۔ نیکی کے مواقع آ گئے ہیں، چنانچہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ اپنے اوقات کار کو وقت کی نیکیوں سے معمور کر لو، ۔ نیکیوں کا زاد راہ تیار کر لو۔ عبادتوں میں اخلاص اپناؤ اورؤ۔ نبی اکرمe کی سنت کی پیروی کرو۔
    اے اللہ! خلفائے راشدین حضرات سے راضی ہو جا! ابو بکر، عمر، عثمان اور علی سے راضی ہو جا! تمام صحابہ کرام] سے، تابعین عظام سے اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے بھی راضی ہو جا۔ اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! اپنا فضل وکرم اور احسان فرما کر ہم سب سے بھی راضی ہو جا۔
     
  2. ‏مئی 19، 2019 #2
    ابو حسن

    ابو حسن رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 09، 2018
    پیغامات:
    132
    موصول شکریہ جات:
    17
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    کاپی پیسٹ کے بعد جب اپنی کوئی بھی تحریر اپلوڈ کرنا چاہیں تو پیش منظر کی آپشن کا استعمال کرکے دیکھ لیں کہ آپکی پوسٹ کیسی دکھائی دیتی ہے ؟ تاکہ غلطیوں کو تحریر ارسال کرنے سے پہلے درست کرلیا جائے ، چند اقتباس میں ہیں بتانے کیلئے اور پوری تحریر میں ایسی ہی بہت زیادہ غلطیاں ہیں
     
  3. ‏مئی 21، 2019 #3
    عتیق الرحمٰن

    عتیق الرحمٰن مبتدی
    شمولیت:
    ‏مئی 19، 2019
    پیغامات:
    37
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    11

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    برادرم ابوالحسن
    آپ نے مہربانی کی نشاندہی اور رہنمائی کرنے کی لیکن معذرت کے ساتھ میں آپ کی نشان کردہ الفاظ میں مبینہ غلطی کو سمجھ نہیں پایا ہوں۔ براہ کرم وضاحت فرما دیں تو مشکور ہوں گا۔
     
  4. ‏مئی 22، 2019 #4
    ابو حسن

    ابو حسن رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 09، 2018
    پیغامات:
    132
    موصول شکریہ جات:
    17
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

    بھائی وہ تو واضح دکھائی دیتا ہے لیکن آپ پھر بھی نہ سمجھ سکے ؟ اسی لیے تو ان میں سے چند اقتباس لیکر آپکو مطلع کیا

    عباسw بیان کرتے ہیں: رسول اللہe ، جبریلu آپe

    ان ناموں کے ساتھ انگلش کے حروف لکھے دکھائی دے رہے ہیں
     
  5. ‏مئی 22، 2019 #5
    عتیق الرحمٰن

    عتیق الرحمٰن مبتدی
    شمولیت:
    ‏مئی 19، 2019
    پیغامات:
    37
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    11

    اللہ تعالٰی پیارے بھائی کو جزائے خیر دے میں یہاں تصویر شیئر کر رہا ہوں مجھ کو تو فانٹس بالکل ٹھیک دکھائی دے رہے ہیں، ممکن ہے آپ کے کمپیوٹر میں یا موبائل میں طغرہ جات درست دکھائی نہ دیتے ہوں اور انگلش حروف بن کر شو ہو رہے ہوں۔

    upload_2019-5-22_10-29-5.png
     
  6. ‏مئی 23، 2019 #6
    ابو حسن

    ابو حسن رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 09، 2018
    پیغامات:
    132
    موصول شکریہ جات:
    17
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    سوائے آپکی پوسٹ کے کوئی بھی پوسٹ اس طرح نہیں دکھائی دیتی

    [​IMG]

    [​IMG]
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں