1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

خطرناک بیماریاں

'معاشرت' میں موضوعات آغاز کردہ از ساجد تاج, ‏جنوری 26، 2019۔

  1. ‏جنوری 26، 2019 #1
    ساجد تاج

    ساجد تاج فعال رکن
    جگہ:
    پاکستان ، لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    7,174
    موصول شکریہ جات:
    4,488
    تمغے کے پوائنٹ:
    604

    خطرناک بیماریاں

    بیماریوں کا نام سنتے ہی ہم لوگ ڈر سے جاتے ہیں اور خود کو ان بیماریوں سے بچانے کے لیے ڈاکٹرز کے پاس بھاگتے ہیں ، حکیموں کے پاس جاتے ہیں ، ہسپتالوں کے چکرکاٹتے ہیں اور پتہ نہیں کیا کیا ٹوٹکے کرتے ہیں کہ بس کسی طرح ان بیماریوں سے جان چُھڑا لی جائے ۔ لیکن آج میں جن بیماریوں کا ذکر کرنے جا رہا ہوں وہ بیماریاں اللہ کی طرف سے نہیں بلکہ انسان کی اپنی پیدا کی گئی ہیں جو انسان کے اندر تیزی سے بڑھتی جا رہی ہیں اور انسان ان کا علاج کروانے کوراضی نہیں اور دن بدن یہ بیماریاں انسان کو اندر ہی اندر ختم کرتی جا ر
    رہی ہیں۔
    بات بات پہ غصہ کرنا، ہر بات کو اَنا کا مسئلہ بنا لینا، جھوٹ پہ جھوٹ بولنا، محفل میں بیٹھ کر غیبت کرنا، اپنی بات کو منوانا، کسی کو ذلیل ورُسوا کرنا، اپنے سے چھوٹے کو تُو اوئے کہہ کر بُلانا، دوسروں کو حقیر سمجھنا، تکبر کرنا، احسان کرکے جتانا،کسی کا حق مارنا، کسی کا ناحق خون بہانا، کسی کے ساتھ زیادتی کرنا، گالی گلوچ سے کام لینا،فحاش بات آگے پھیلانا،نشہ کرنا، امانت میں خیانت کرنا،دوسروں کا دل دُکھانا، دو انسانوں کے درمیان جھگڑے کا سبب بننا، کسی کی زمین پر ناجائز قبضہ کرنا، جھوٹی گواہی دینا، حرام کاموں کو اپنانا۔
    یہ وہ بیماریاں ہیں جو آج کے انسان میں کثرت سے پائی جاتی ہیںاور افسوس اس بات کا ہے کہ دوسری بیماریوں میںہم لاکھوں کروڑوں روپے لگا دیتا ہیںکہ کسی بھی طرح ہم ٹھیک ہو جائں لیکن ان بیمارریوں کا علاج کروانے کے لیےہم ذرا کوشش نہیں کرتے ہے بلکہ ہم خود مزید ان بیماریوں کو اپنے اوپر حاوی کرتے جارہے ہیں۔
    اللہ کے لیے ان بیماریوں سے بچیں اور اپنی آنے والی نسلوں کو بھی ان سے بچائیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں