1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

خلیفۂ راشد (امیر المومنین)عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بیس رکعات تراویح

'تقابل مسالک' میں موضوعات آغاز کردہ از lovelyalltime, ‏جولائی 17، 2014۔

  1. ‏جنوری 10، 2016 #11
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    میں آپ کی بات سمجھا نہیں!
     
  2. ‏جنوری 10، 2016 #12
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,357
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    اس فاروقی حکم کی سند بالکل صحیح ہے:
    آپ نے اسکا اقتباس لیکر یہ کہا

     
  3. ‏جنوری 11، 2016 #13
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیس رکعات تراویح ہی منقول ہے۔

    خلیفہ راشد عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حکم اور عمل کے خلاف آپ کے پاس کوئی دلیل ہے تو سامنے لائیں۔
     
  4. ‏جنوری 11، 2016 #14
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے آٹھ رکعت تراویح کا حکم
    احناف کے امام أبو جعفر المعروف بالطحاوي (المتوفى: 321 ھ) نے شرح معانی الآثار میں ثابت فرمایا ہے :
    آنکھیں کھول کر پڑھیں :
    قال الامام الطحاوی رحمہ اللہ :
    حدثنا أبو بكرة , قال: ثنا روح بن عبادة , قال: ثنا مالك , عن محمد بن يوسف , عن السائب بن يزيد , قال: أمر عمر بن الخطاب أبي بن كعب وتميما الداري أن يقوما للناس بإحدى عشرة ركعة. قال: «فكان القارئ يقرأ بالمئين حتى يعتمد على العصا من طول القيام , وما كنا ننصرف إلا في فروع الفجر»
    فهذا يدل على أنهم كانوا يوترون بثلاث؛

    سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب اور جناب تمیم داری رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو گیارہ رکعت پڑھائیں ‘‘
    تو حسب حکم قاری (تراویح کی نماز پڑھاتا ) اور سو سو آیتیں ایک رکعت میں پڑھتا حتی کہ ہم عصا کاسہارا لیتے تھے ،اور صبح کے قریب نماز سے فارغ ہوتے ‘‘
    امام طحاوی یہ حدیث لکھ کر فرماتے ہیں :یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام تین رکعت وتر پڑھتے تھے ،،
    ان کی اس وضاحت سے ثابت ہوا کہ گیارہ میں سے آٹھ رکعت تراویح ہوتی تھیں،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور یہی بات دیوبندی مولوی محمد علی نیموی نے آثار السنن میں لکھی ہے ، جو میں نے گذشتہ پوسٹوں میں بلفظہ نقل کردی ہے
    لیکن آپ حقیقت اور دلیل سے عمداً چشم پوشی کرکے اپنا مذاق بنا رہے ہیں ۔۔ھداک اللہ تعالی
     
  5. ‏جنوری 11، 2016 #15
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    ہٹ دھرمی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے مگر وہ ”لا مذہب“ ہی کیا جو اس پنجابی کی مثل نہ ہو؛
    ”موڑ گہیڑھ کے کھوتی بوڑھ تھلے“


    سنن البيهقي الكبرى (ج 2 صفحہ نمبر496 )
    عن السائب بن يزيد قال ثم كانوا يقومون على عهد عمر بن الخطاب رضي الله عنه في شهر رمضان بعشرين ركعة قال وكانوا يقرؤون بالمئتين وكانوا يتوكؤن على عصيهم في عهد عثمان بن عفان رضي الله عنه من شده القيام

    سائب بن يزيد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں رمضان میں ہم بیس رکعات (تراویح) پڑھتے تھے۔

    سنن البيهقي الكبرى (ج 2 صفحہ نمبر 497)
    عن يزيد بن رومان قال ثم كان الناس يقومون في زمان عمر بن الخطاب رضي الله عنه في رمضان بثلاث وعشرين ركعة


    يزيد بن رومان رحمۃ اللہ علیہ (تابعی) فرماتے ہیں کہ عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں رمضان میں ہم تین (وتر) اور بیس (تراویح) پڑھتے تھے۔
     
  6. ‏جنوری 11، 2016 #16
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    انا للہ وانا الیہ راجعون
    آپ نے ھٹ دھرمی اور مسلکی تعصب کے مرض کے سبب جہالت میں اپنے دو نامور علماء پر ’’ کھوتی ‘‘ کی مثال فٹ کردی ۔۔۔
    احناف کے امام أبو جعفر الطحاوی ۔۔اور ۔۔محمد علی النیموی رحمہما اللہ حنفیہ کے بڑے نامور عالم تھے،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    قال الامام الطحاوی رحمہ اللہ :
    حدثنا أبو بكرة , قال: ثنا روح بن عبادة , قال: ثنا مالك , عن محمد بن يوسف , عن السائب بن يزيد , قال: أمر عمر بن الخطاب أبي بن كعب وتميما الداري أن يقوما للناس بإحدى عشرة ركعة. قال: «فكان القارئ يقرأ بالمئين حتى يعتمد على العصا من طول القيام , وما كنا ننصرف إلا في فروع الفجر»
    فهذا يدل على أنهم كانوا يوترون بثلاث؛

    سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب اور جناب تمیم داری رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو گیارہ رکعت پڑھائیں ‘‘
    تو حسب حکم قاری (تراویح کی نماز پڑھاتا ) اور سو سو آیتیں ایک رکعت میں پڑھتا حتی کہ طویل قیام کے سبب عصا کاسہارا لیتے تھے ،اور صبح کے قریب نماز سے فارغ ہوتے ‘‘
    امام طحاوی یہ حدیث لکھ کر فرماتے ہیں :یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام تین رکعت وتر پڑھتے تھے ،، انتہی
    امام طحاوی رحمہ اللہ کی اس وضاحت سے ثابت ہوا کہ گیارہ میں سے آٹھ رکعت تراویح ہوتی تھیں،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں