1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

خلیفۃ المسلمین سیدنا معاویہ بن سفیان﷜ کی شخصیت وتعارف

'خلافت' میں موضوعات آغاز کردہ از ناظم شهزاد٢٠١٢, ‏جولائی 07، 2012۔

  1. ‏جولائی 07، 2012 #1
    ناظم شهزاد٢٠١٢

    ناظم شهزاد٢٠١٢ مشہور رکن
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏جولائی 07، 2012
    پیغامات:
    258
    موصول شکریہ جات:
    1,524
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    امیر معاویہ﷜ کے حالات زندگی


    *نام ونسب *

    ابو عبد الرحمن معاویہ رضی اللہ عنہ بن ابو سفیان رضی اللہ رعنہ بن صخر بن حرب بن عبد شمس بن عبد مناف قریشی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلہءنسب پانچویں پشت میں حضور اکرم ﷺ سے ملتاتھا ۔
    *حليه مبارك*

    سروقد ، لحیم وشحیم، رنگ گورا، چہرہ کتابی ،آنکھیں موٹی گھنی داڑھی، وضع قطع، چال ڈھال میں بظاہر شا ن وشوکت اورتمکنت مگر مزاج اور طبیعت میں زہد وتواضع، فرونتی، حلم برد باری اور چہرہ سے ذہانت اور فطانت مترشح تھی۔
    *پیدائش *

    حضور اکرم ﷺ کی بعثت سے تقریباً ۵ سال قبل پیدا ہوئے ۔
    *اسلام قبول کرنے سے پہلے*

    *:* حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سردار قریش ابوسفیان کے صاحبزادے تھے ، آپ رضی اللہ عنہ کا شمار قریش کے ان 17 ِافرا دمیں ہوتا تھا جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے ۔
    *اسلام کے دامن رحمت میں:*

    حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے قبول اسلام کااعلان فتح مکہ 8 ھ کے موقع پر فرمایا ، لیکن اس سے بہت عرصے پہلے آپ رضی اللہ عنہ کے دل میں اسلام داخل ہوچکا تھا ،جس کا ایک اہم اور واضح ثبوت یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے جنگ بدر، جنگ احد، جنگ خندق اور صلح حدیبیہ میں لاحصہ نہیں لیا ، حالانکہ آپ رضی اللہ عنہ جوان اور فنون حرب وضرب کے ماہرتھے
    *قبول اسلام ظاهر نه كرنے كي وجه*

    ” میں عمرةالقضا سے بھی پہلے اسلام لاچکا تھا ، مگر مدینہ جانے سے ڈرتا تھا ، جس کی وجہ یہ تھی کہ میری والدہ نے مجھے صاف کہہ دیا تھا کہ اگر تم مسلمان ہوکرمدینہ چلے گئے تو ہم تمہارے ضروری اخراجات زندگی بھی بند کردیں گے “ (طبقات ابن سعد ؒ)
    *خدمت نبوی ﷺ میں*

    اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے شب وروز خدمت نبوی ﷺ میں بسر ہونے لگے آپ رضی اللہ عنہ کے خاندان بنو امیہ کےتعلقات قبول اسلام سے پہلے بھی حضور اکرم ﷺ کے ساتھ دوستانہ تھے ۔
    دار الامن

    یہی وجہ تھی کہ فتح مکہ کے موقع پر آپ ﷺ نے دار ابو سفیان رضی اللہ عنہ کو دارالامن قراردے دیا تھا ،
    آپ ﷺسے رشته داري

    نیز حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اورحضرت معاویہؓ کی بہن حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا حضور اکرم ﷺ کے حرم میں داخل تھیں ۔
    *كاتب وحي*

    حضور اکرم ﷺ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو نہ صرف کاتبین وحی صحابہ رضی اللہ عنہم میں شامل فرمالیا تھا بلکہ دربار رسالت ﷺ سے جو فرامین اور خطوط جاری ہوتے تھے ، ان کو بھی آپ رضی اللہ عنہ لکھا کرتے تھے ۔
    ”حضور اکرم ﷺ کے کاتبین میں سب سے زیادہ حاضر باش حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تھے ۔ شب وروزکتابت وحی کے علاوہ آپ رضی اللہ عنہ کا کوئی شغل نہ تھا “ (علامه ابن حزم، جامع السیر )
    حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جلیل القدر صحابہ رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین پر مشتمل ایک جماعت مقرر کر رکھی تھی جو کہ ” کاتب وحی ” تھے ان میں حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا چھٹا نمبر تھا۔ حضرت شاہ ولی اللہ حدث دہلوی لکھتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو کا تب وحی بنایا تھا۔۔۔ اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی کو کاتب وحی بناتےتھے جو ذی عدالت اور امانت دار ہوتا تھا(”ازالتہ الخفا ازشاہ ولی اللہ”)
    *دور خلافت راشدہ ؓمیں آپؓ کے جہادی کارنامے*


    حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں شام کی طرف جو لشکر بھیجےگئے آپ رضی اللہ عنہ اس کے ہراول دستے میں شامل تھے ۔
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں گورنر شام کی حیثیت سے آپ رضی اللہ عنہ نے روم کی سرحدوں پر جہاد جاری رکھا اور متعدد شہر فتح کئے ۔
    حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورخلافت میں آپ رضی اللہ عنہ نے عموریہ تک اسلام کا پرچم لہرا یا ۔ آپ رضی اللہ عنہ کا ایک اہم جہادی کارمانہ قبرص کی فتح ہے ۔ شام کے قریب واقع یہ حسین وزرخیز جزیرہ اس حیثیت سے انتہائی اہمیت کا حامل تھا کہ یورپ اور روم کی جانب سے یہی جزیزہ مصر وشام کی فتح کا دروازہ تھا ۔
    حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے سمندری مشکلات کے پیش نظر آپ رضی اللہ عنہ کو لشکر کشی کی اجازت نہیں دی تھی ، لیکن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کے عزم کامل اور شدید اصرار کو دیکھتے ہوئے اجازت مرحمت فرمادی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یہاں حملہ کرنے کی غرض سے 500 جہازوں پر مشتمل بحری بیڑہ تیار فرمایا ۔ جب اہل قبرص نے اتنے عظیم بحری بیڑے کو قبرص میں لنگر انداز دیکھاتو ابتدا میں کچھ شرائط پر مسلمانوں سے صلح کرلی، لیکن موقع پاکر عہد شکنی کی اور مسلمانوں کے خلاف رومیوں کومدد فراہم کی چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نےدوبارہ حملہ کردیا اور اس اہم جزیرے کو مسخر کرلیا ۔
    یہ اسلام کا پہلا بحری بیڑہ تھا اور باتفاق محدثین آپ رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے اس بیڑے میں شامل مجاہدین ہی اس حدیث کا مصداق ہیں جس میں حضور اکرم ﷺ نے بحری جہاد کرنے والوں کو جنت کی خوشخبری دی ہے ، علاوہ ازیں افرنطیہ ،ملطیہ ،روم کے متعدد قلعے بھی آپ رضی اللہ عنہ نے فتح کئے ۔
    *عہدے ومناصب اور خلافت:*

    آپ رضی اللہ عنہ 18 ھ سے 41 ھ تک تقریباً 22 سال گورنری کے منصب پر فائز رہے ۔ آ پ نے 19 سال تک 64 لاکھ مربع میل یعنی آدھی دنیا پر حکومت کیزاس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ 18 ھ میں آپ رضی اللہ عنہ کے برادراکبر حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ طاعون کے باعث شہید ہوگئے ،چنانچہ ان کی جگہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو دمشق کا گورنر مقرر فرمایا ۔
    حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فلسطین ،اردن اور لبنان بھی آپ رضی اللہ عنہ کی گورنری میں دےدئیے ۔ اس طرح شام کا صوبہ اور اس کے مضافات کے تمام علاقے آپ رضی اللہ عنہ کی عملداری میں آگئے ۔
    *حضرت حسن اور امير معاويه*

    41 ھ میں حضر ت حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت سے دستبرداری پر آپ رضی اللہ عنہ خلیفۃ المسلمین بنے ، تمام مسلمانوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے دست حق پر ست پر بیعت کی ۔ آپ رضی اللہ عنہ کا دور خلافت تقریباً 20 سال پر محیط ہے ۔
    *بطور خلیفہ خدمات جلیلہ:*

    1) آپ رضی اللہ عنہ کے دو رخلافت میں فتوحات کا سلسلہ انتہائی برق رفتاری سے جاری رہا اور قلات ، قندھار، قیقان ، مکران ، سیسان ، سمر قند ، ترمذ،شمالی افریقہ ،جزیرہ روڈس ،جزیرہ اروڈ ،کابل ،صقلیہ (سسلی ) سمیت مشرق ومغرب ،شمال وجنوب کا 22 لاکھ مربع میل سے زائد علاقہ اسلام کے زیر نگیں آگیا ۔ ان فتوحات میں غزوہ قسطنطنیہ ایک اہم مقام رکھتاہے ۔ یہ مسلمانوں کی قسطنطنیہ پر پہلی فوج کشی تھی ، مسلمانوں کا بحری بیڑہ سفیان ازدی رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں روم سے گزر کر قسطنطنیہ پہنچا اور قلعے کا محاصرہ کرلیا ۔
    2) آپ رضی اللہ عنہ نے فوج کو دو حصوں میں تقسیم کیا ایک حصہ موسم سرما میں اور دوسرا حصہ موسم گرما میں جہاد کرتا تھا ۔آپ رضی اللہ عنہ نے فوجیوں کا وظیفہ دگنا کردیا ۔ ان کے بچوں کے بھی وظائف مقرر کردئیے نیز ان کے اہل خانہ کا مکمل خیال رکھا ۔
    3) مردم شماری کےلئے باقاعدہ محکمہ قائم کیا ۔
    4) بیت اللہ شریف کی خدمت کےلئے مستقل ملازم رکھے ۔ بیت اللہ پر دیبا وحریر کا خوبصورت غلاف چڑھایا ۔
    5) تمام قدیم مساجد کی ازسرنو تعمیر ومرمت ،توسیع وتجدید او رتزئین وآرائش کی ۔
    6) حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سب سے پہلا قامتی ہسپتال دمشق میں قائم کیا۔
    7) نہروں کے نظام کے ذریعے سینکڑوں مربع میل اراضی کو آباد کیا اور زراعت کو خوب ترقی دی ۔
    8) نئے شہر آباد کئے اور نو آبادیاتی نظام متعارف کرایا ۔
    9) خط دیوانی ایجاد کیا اور قوم کو الفاظ کی صورتمیں لکھنے کا طریقہ پیدا کیا۔
    10) ڈاک کے نظام کو بہتر بنایا ، اس میں اصلاحات کیں اور باقاعدہ محکمہ بناکر ملازم مقرر کئے ۔
    11) احکام پر مہر لگانے اور حکم کی نقل دفتر میں محفوظ رکھنے کا طریقہ ایجاد کیا۔
    12) عدلیہ کے نظام میں اصلاحات کیں اور اس کو مزیدترقی دی ۔
    13) آپ نے دین اخلاق اور قانون کی طرح طب اور علم الجراحت کی تعلیم کا انتظام بھی کیا۔
    14) آپ نے بیت المال سےتجارتی قرضے بغیر اشتراک نفع یا سود کے جاری کرکے تجارت وصنعت کو فروغ دیا اور بین الاقوامی معاہدے کئے۔
    15) سرحدوں کی حفاظت کیلئے قدیم قلعوں کی مرمت کر کے اور چند نئے قلعے تعمیر کرا کر اس میں مستقل فوجیں متعین کیں۔
    16) حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں ہی سب سے پہلے منجنیق
    17) کا استعمال کیا گیا۔
    18) مستقل فوج کے علاوہ رضا کاروں کی فوج بنائی ۔
    19) بحری بیڑے قائم کئے اور بحری فوج ( نیوی ) کا شعبہ قائم کیا ۔ یہ آپ رضی اللہ عنہ کا تجدیدی کارنامہ ہے ۔
    20) جہاز سازی کی صنعت میں اصلاحات کیں اور باقاعدہ کارخانے قائم کئے۔پہلا کارخانہ 54 ھ میں قائم ہوا ۔
    21) قلعے بنائے ، فوجی چھاؤنیاں قائم کیں اور ” دارالضرب “ کے نام سے شعبہ قائم کیا ۔
    22) امن عامہ برقرار رکھنے کےلئے پولیس کے شعبے کو ترقی دی جسے حضرت عمررضی اللہ عنہ نے قائم کیا تھا ۔
    دارالخلافہ دمشق اور تمام صوبوں میں قومی وصوبائی اسمبلی کی طرز پر مجالس شوری قائم کیں ۔
    ابو اسحق السبیعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بلاشبہ وہ مہد ی زماں تھے
    *حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ احادیث وآثار کے آئینے میں : *
    1) میری اُمت کا پہلا لشکر جو سمندر میں جہاد کرے گا، ان (مجاہدین) کے لئے(جنگ) واجب ہے (صحیح بخاری ٢٩٢٤)۔۔۔یہ جہاد سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ (کی خلافت) کے زمانے میں ہوا تھا (دیکھئے صحیح البخاری ٦٢٨٢۔٦٢٨٣)۔۔۔ اور اس جہاد میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ شامل تھے (دیکھئے صحیح بخاری ٢٧٩٩۔٢٨٠٠)۔۔۔
    2) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں بچوں کے ساتھ کھیل رہاتھا کہ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے میں یہ سمجھا کہ آپ میرے لئے تشریف لائے لہذا میں دروازے کے پیچھے چھپ گیا تو آپ نے میری کمر پر تھپکی دے کر فرمایا۔۔۔جاؤ اور معاویہ کو بُلا لاؤ وہ (معاویہ رضی اللہ عنہ) وحی لکھتے تھے۔۔۔ الخ(دلائل النبوۃ للبہیقی ٢\٢٤٣ و سند حسن)۔۔۔
    3) جلیل القدر تابعی عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ المکی رحمہ اللہ سے روایت کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے عشاء کے بعد ایک رکعت وتر پڑھا پھر ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ!۔ انہوں نے صحیح کیا ہے وہ فقیہ ہیں (صحیح بخاری ٣٧٦٥)۔۔۔
    4) صحابی عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے لئے فرمایا کہ!۔۔۔ اے اللہ!۔۔۔ اسے ہادی مہدی بنادے اور اس کے ذریعے لوگوں کو ہدایت دے (سنن الترمذی۔٣٨٤٢ وقال؛ {ھذا حدیث حسن غریب} التاریخ الکبیر للبخاری ٥\٢٤٠، طبقات ابن سعد ٧\٤٨٧، الآحادوالمثانی لابن ابی عاصم ٢\٣٥٨ ح ١١٢٩، مسند احمد ٤\٢١٦ ح ١١٢٩ مسند احمد ٤\٢١٦ ح ١٧٨٩٥ وھوحدیث صحیح}۔۔۔ یہ روایت مروان بن محمد وغیرہ نے سعید بن عبدالعزیز سے بیان کر رکھی ہے اور مروان سعید سے روایت صحیح مسلم میں ہے۔{ دیکھئے ١٠٨\١٠٤٣ وترقیم دارلسلام ٢٠٤٣}۔۔۔
    5) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ!۔مارایت رجلا کان اخلق یعنی للملک من معاویہ۔
    6) میں نے معاویہ سے زیادہ حکومت کے لئے مناسب (خلفائے راشدین کے بعد) کوئی نہیں دیکھا... (تاریخ دمشق ٦٢\١٢١ وسند صحیح، مصنف عبدالرزاق ١١\٤٥٣ ح٢٠٩٨٥)۔۔۔
    7) عرباض بن ساریہ السلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ!۔اللھم علم معاویۃ الکتاب والحساب، وقد العذاب۔اے میرے اللہ!۔ معاویہ کو کتاب و حساب سکھا اور اُسے عذاب سے بچا۔(مسند احمد ٤\١٢٧ ح ١٧١٥٢ وسند حسن، صحیح ابن خزیمہ ١٩٣٨)۔۔۔
    8) ابراہیم بن میسر الطائفی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کسی انسان کو نہیں مارا سوائے ایک انسان کے جس نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو گالیاں دی تھیں انہوں نے اسے کئی کوڑے مارے۔ { تاریخ دمشق ٦٤\١٤٥ وسند صحیح}۔۔۔
    9) 1۔اے اللہ ! اسے ہدایت یافتہ بنا اور اس کے ذریعہ اوروں کو ہدایت دے (
    10) *حدیث مبارکہ* )
    11) اے اللہ ! معاویہ رضی اللہ عنہ کو کتاب وحساب کا علم دے اور اسے عذاب سےمحفوظ رکھ ( *حدیث مبارکہ* )
    12) اے اللہ ! اس کے سینے کو علم سے بھر دے ۔ ( *حدیث مبارکہ* )
    13) حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو ہدایت دینے والا، ہدایت پر قا ئم رہنے والا اور لوگوں کیلئے ذریعہ ہدایت بنا۔( جا مع ترمذی)
    14) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا کہ معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالی عنہ میری امت میں سب سے زیادہ بردبار اور سخی ہیں۔(تطہیرالجنان)۔
    15) حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے جب اپنے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا تو حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں مبارکبا د دی اور”مرحبا۔۔۔۔۔۔” فرمایا”(البدایہ والنہایہ ص ٧١١ج٨)
    16) معاویہ رضی اللہ عنہ کا ذکر بھلائی کےساتھ کرو۔ ( اسے حدیث سمجھنا غلط فہمی ہے ) ( *حضرت عمر فاروق ؓ*)
    17) لوگو ! فرقہ بندی سے بچو ۔ اگر تم نے فرقہ بندی اختیار کی تو یاد رکھو معاویہ رضی اللہ عنہ شام میں موجود ہیں ۔ ( *حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ* )
    18) معاویہ رضی اللہ عنہ کی امارت کو برا نہ سمجھو کیونکہ جب وہ نہیں ہوں گے تم سروں کو گردنوں سے اڑتا دیکھو گے ( *حضر ت علی رضی اللہ عنہ* )
    19) میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر امو ر سلطنت وبادشاہت کے لائق کسی کو نہیں پایا۔ ( *حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ* )
    20) میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد ان سے بڑھ کر حق کا فیصلہ کرنے والانہیں پایا ۔ ( *حضرت سعدؓبن ابی وقاص*)
    21) میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر برد بار ،سیادت کے لائق ، باوقاراور نرم دل کسی کو نہیں پایا ۔( *حضرت قبیصہؓ بن جابر* )
    22) اگر تم معاویہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ پاتے تو تمہیں پتہ چلتا کہ عدل وانصاف کیا ہے؟( *امام اعمش* ؒ)
    مسند بقی بن مخلد میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ ایک سو تریسٹھ
    احادیث موجود ہیں دیکھئے سیراعلام النبلاء (٣\١٦٢)۔۔۔
    22رجب المرجب 60ھ میں کاتب وحی، جلیل القدر صحابی رسولصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، فاتح شام و قبرص اور 19سال تک 64 لاکھ مربع میل پر حکمرانی کرنے والے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ 78 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ حضرت ضحاک بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور دمشق کے باب الصغیر میں دفن کئے گئے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 9
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏جولائی 23، 2012 #2
    نوید عثمان

    نوید عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 24، 2012
    پیغامات:
    181
    موصول شکریہ جات:
    119
    تمغے کے پوائنٹ:
    53

    حضرت معاویہ کی انفرادی فضیلت کسی بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں کیوں ریت کے محل تعمیر کر رہے ہیں آپ لوگ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • ناپسند ناپسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏جولائی 24، 2012 #3
    ابوبکر

    ابوبکر مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 02، 2012
    پیغامات:
    181
    موصول شکریہ جات:
    414
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    مسٹر نوید عثمان یہ لو
    عرباض بن ساریہ السلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ!۔اللھم علم معاویۃ الکتاب والحساب، وقد العذاب۔اے میرے اللہ!۔ معاویہ کو کتاب و حساب سکھا اور اُسے عذاب سے بچا۔(مسند احمد ٤\١٢٧ ح ١٧١٥٢ وسند حسن، صحیح ابن خزیمہ ١٩٣٨)
     
    • شکریہ شکریہ x 9
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  4. ‏جولائی 24، 2012 #4
    نوید عثمان

    نوید عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 24، 2012
    پیغامات:
    181
    موصول شکریہ جات:
    119
    تمغے کے پوائنٹ:
    53

    لگتا ہے کسی انگریز کےگھر آپ کی پیدائش ہوئی ہے جو آپ لوگوں کو مسٹر کےنام سے پکارتے ہیں اسلامی تہذیب سیکھیں شکریہ۔


    باقی میرا دعوی دیکھیں کہ میں نے کیا کیا ہے اور آپ اس کے مقابلے میں کیا پیش فرما رہے ہیں ذرا اس حدیث کا مکمل سند و متن عربی میں تحریر فرمائیں تا کہ آپ کی پیش کردہ روایت کا جائزہ لیا جا سکے۔
     
  5. ‏جولائی 24، 2012 #5
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    پوسٹ کرنے والے بھائی نے انفرادی فضیلت کی بات بھی نہیں کی۔

    اس سے قطع نظر کہ انفرادی فضیلت ثابت ہے یا نہیں! یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ کو صحابی رسول سیدنا امیر معاویہ﷜ سے اتنا بیر کیوں ہے کہ ان کا ذکرِ خیر ہی آپ کو برداشت نہیں؟؟؟

    صحابہ کرام﷢ سے اس طرح کا بیر تو صرف شیعہ حضرات رکھتے ہیں!
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  6. ‏جولائی 24، 2012 #6
    ابوبکر

    ابوبکر مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 02، 2012
    پیغامات:
    181
    موصول شکریہ جات:
    414
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    کسی انگریز کے گھر میری پیدائش نہیں ہوئی اور اللہ کا شکر ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے بغض رکھنے والا نہیں ہوں
    مسٹر اس لیے کہا ہے کہ آپکی پوسٹ میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا انکار ہے

    اور یہ لیجیے ایک صحیح حدیث امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں

    ( اللهم اجعله هادياً مهدياً واهد به ) ، سنن الترمذي كتاب المناقب، باب مناقب معاوية، حديث رقم (3842)، وانظر صحيح الترمذي حديث رقم (3018).
     
    • شکریہ شکریہ x 9
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏جولائی 24، 2012 #7
    ابوبکر

    ابوبکر مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 02، 2012
    پیغامات:
    181
    موصول شکریہ جات:
    414
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    مزید

    بخاری اور مسلم کی صحیح اور صریح حدیث
    عَنْ ‏‏أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ‏، ‏عَنْ ‏خَالَتِهِ ‏‏أُم حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ ‏‏قَالَت :‏ نَامَ النَّبِي ‏‏صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‏ ‏يَوْمًا قَرِيبًا مِنِّي ، ثُمَّ اسْتَيْقَظ يَتَبَسَّم فَقُلْت: مَا أَضْحَكَك ؟ قَالَ :‏ ‏أُنَاس مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَي يَرْكَبُون هَذَا الْبَحْر الْأَخْضَر، كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ ، قَالَتْ : فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَدَعَا لَهَا ، ثُمَّ نَامَ الثَّانِيَةَ فَفَعَلَ مِثْلَهَا ، فَقَالَتْ مِثْلَ قَوْلِهَا ، فَأَجَابَهَا مِثْلَهَا ، فَقَالَتْ : ادْع اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَقَالَ : أَنْتِ مِنْ الْأَوَّلِينَ ؛ فَخَرَجَت مَعَ زَوْجِهَا ‏ ‏عُبَادَة بْنِ الصَّامِتِ ‏‏غَازِيًا أَوَّل مَا رَكِبَ الْمُسْلِمُونَ الْبَحْرَ مَعَ ‏ ‏مُعَاوِيَةَ ،‏ ‏فَلَمَّا انْصَرَفُوا مِنْ غَزْوِهِمْ قَافِلِينَ فَنَزَلُوا ‏ ‏الشَّأْمَ ،‏ ‏فَقُرِّبَتْ إِلَيْهَا دَابَّةٌ لِتَرْكَبَهَا ،‏ ‏فَصَرَعَتْهَا ،‏ ‏فَمَاتَتْ . رواه البخاري (2799) ، ومسلم (1912).

    عَنْ ‏‏خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ‏أَنَّ ‏عُمَيْر بْنَ الْأَسْوَدِ الْعَنْسِيَّ ‏حَدَّثَهُ أَنَّه أَتَى ‏عُبَادَة بْنَ الصَّامِتِ ،‏ ‏وَهُوَ نَازِلٌ فِي سَاحَةِ ‏ ‏حِمْصَ ،‏ ‏وَهُوَ فِي بِنَاءٍ لَهُ وَمَعَهُ ،‏ ‏أُمُّ حَرَامٍ ،‏ ‏قَالَ ‏عُمَيْرٌ :‏ ‏فَحَدَّثَتْنَا ‏‏أُمُّ حَرَامٍ ‏‏أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ ‏صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‏‏يَقُولُ :‏ ‏أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ الْبَحْرَ قَدْ ‏‏أَوْجَبُوا ،‏ ‏قَالَتْ ‏‏أُمُّ حَرَامٍ :‏ ‏قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا فِيهِمْ ، قَالَ أَنْتِ فِيهِمْ ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ ‏صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :‏ ‏أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ مَدِينَةَ ‏‏قَيْصَرَ ‏‏مَغْفُورٌ لَهُمْ ، فَقُلْتُ : أَنَا فِيهِمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : لَا . رواه البخاري (2924).قال الحافظ ابن حجر في " الفتح: (6/120) قَالَ الْمُهَلَّب : فِي هَذَا الْحَدِيثِ مَنْقَبَة لِمُعَاوِيَة لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ غَزَا الْبَحْرَ وَمَنْقَبَةٌ لِوَلَدِهِ يَزِيد لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ غَزَا مَدِينَةَ قَيْصَرَ .

    قال الحافظ ابن حجر في " الفتح: (6/120) قَالَ الْمُهَلَّب : فِي هَذَا الْحَدِيثِ مَنْقَبَة لِمُعَاوِيَة لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ غَزَا الْبَحْرَ وَمَنْقَبَةٌ لِوَلَدِهِ يَزِيد لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ غَزَا مَدِينَةَ قَيْصَرَ .


    وروى مسلم في صحيحه (رقم 2501) من حديث ابن عباس: أن أبا سفيان قال: يا نبيَّ الله، ثلاثٌ أَعطِنيهنّ. قال: نعم. قال: عندي أحسنُ العربِ وأجملُه "أمُّ حَبيبة بنت أبي سفيان"؛ أُزوّجُكها. قال: نعم. قال: ومعاوية تجعلُه كاتبا بين يديك. قال: نعم. قال: وتؤمّرني حتى أقاتل الكفار كما كنتُ أقاتلُ المسلمين؟ قال: نعم.

    و أخرج الإمام أحمد ، عن العرباض بن سارية رضي الله عنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : اللهم علّم معاوية الكتاب و قه العذاب . فضائل الصحابة (2/913) إسناده حسن.

    آل ہاشم میں سے ابن عباس رضی اللہ عنہ کی زبانی

    عَنْ ‏‏ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ‏‏قَالَ :‏ ‏أَوْتَرَ ‏مُعَاوِيَةُ ‏‏بَعْد الْعِشَاءِ بِرَكْعَةٍ وَعِنْدَه ‏‏مَوْلًى ‏‏لِابْنِ عَبَّاسٍ ،‏ ‏فَأَتَى ‏ابْنَ عَبَّاسٍ ‏‏فَقَالَ ‏ : ‏دَعْه ؛ فَإِنَّهُ قَدْ صَحِبَ رَسُول اللَّهِ ‏‏صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم. رواه البخاري (3764(.

    وَعَنْ ‏ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ‏‏قِيلَ ‏‏لِابْنِ عَبَّاسٍ :‏ هَلْ لَك فِي أَمِيرِ الْمُؤْمِنِين ‏‏مُعَاوِيَةَ ؟‏ ‏فَإِنَّهُ مَا أَوْتَر إِلَّا بِوَاحِدَة ، قَالَ : أَصَاب ، إِنَّهُ فَقِيه . رواه البخاري (3765).

    عَنْ هَمَّامِ بنِ مُنَبِّهٍ، سَمِعْت ابْن عَبَّاسٍ يَقُوْل : مَا رَأَيْت رَجُلا كَانَ أَخْلَق لِلمُلْكِ مِنْ مُعَاوِيَةَ ، كَانَ النَّاسُ يَرِدُوْنَ مِنْهُ عَلَى أَرْجَاءِ وَادٍ رَحْبٍ ، لَمْ يَكُنْ بِالضَّيِّقِ ، الحَصِرِ ، العُصْعُص ، المُتَغَضِّب . رواه عبد الرزاق في " المصنف " (20985) . إسناده صحيح .



    مزید کے لیے دیکھیں
    ْمناقب أمير المؤمنين معاوية ابن أبي سفيان رضي الله عنه وأرضاه - سبيل الإستقامة
     
  8. ‏جولائی 24، 2012 #8
    نوید عثمان

    نوید عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 24، 2012
    پیغامات:
    181
    موصول شکریہ جات:
    119
    تمغے کے پوائنٹ:
    53

    انس نضر صاحب معذرت کے ساتھ آپ لوگوں کو لے دے کے حضرت معاویہ ہی کیوں نظر آتے ہیں کبھی آپ کے قلم صحابی و داماد رسول حضرت علی رض کے لئے کیوں نہیں حرکت میں آتے اور دوسرے دیگر صحابہ رض میں آپ کو کیا خامیاں نطر آتی ہیں جو آپ ان کے لے نہیں لکھتے ایسا کونسا عظیم کارنامہ اس صحابی نے انجام دیا ہے جو اس کے دفاع کو لوگوں نے ایمان کا جزو ہی بنا لیا ہے
     
  9. ‏جولائی 24، 2012 #9
    نوید عثمان

    نوید عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 24، 2012
    پیغامات:
    181
    موصول شکریہ جات:
    119
    تمغے کے پوائنٹ:
    53

    آپ کی اطلاع کے لئے صحیح بات بیان کرنا بغض کا اظہار نہیں ہوتا اور نہ ہی بغض معاویہ سے ایمان پر کوئی حرف آتا ہے اور نہ ان سے محبت سے ایمان میں کوئی اضافہ ہو گا ۔

    اگر آپ کے دل میں فضیلت معاویہ کا انکار کرنے والے کے لئے اس طرح کے جذبات موجود ہیں تو ان محدثین و علما ء دین کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے جو یہ بات فرما گئے ہیں کہ حضرت معاویہ کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث ثابت نہیں۔


    باقی آپ نے پہلی حدیث کی طرح یہ حدیث بھی ضعیف بیان کی ہے ..
     
  10. ‏جولائی 24، 2012 #10
    ابوبکر

    ابوبکر مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 02، 2012
    پیغامات:
    181
    موصول شکریہ جات:
    414
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    جانے بھی دو اب ! لا یعنی اور ایک ہی چیز کی بس رٹ لگائی ہوئی ہے
    سیؑدنا علی رضی اللہ عنہ کو ہم معاویہ رضی اللہ عنہ سے افضل مانتے ہیں چوتھا خلیفہ راشد مانتے ہیں
    اب شیعوں کی طرح نعوذ باللہ "علی اللہ" تو کہنے سے رہے
    معاویہ رضی اللہ عنہ صحابی رسول ﷺ تھے اس سے زیادہ اور کیا چاہیے تمہیں ؟ اور بھی فضائل موجود ہیں لیکن میں اسی نقطے پر بات کروں گا-
    اچھا تمہاری توپوں کا رخ صحابی رسولﷺ کی طرف تو ہے یہ بتاؤ شیعہ نعوذ باللہ "علی اللہ" کہنے سے مشرک ہوا یا نہیں ؟ تمہارا کیا عقیدہ ہے ؟
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • متفق متفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں