1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

خلیفۃ المسلمین سیدنا معاویہ بن سفیان﷜ کی شخصیت وتعارف

'خلافت' میں موضوعات آغاز کردہ از ناظم شهزاد٢٠١٢, ‏جولائی 07، 2012۔

  1. ‏جولائی 27، 2012 #21
    نوید عثمان

    نوید عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 24، 2012
    پیغامات:
    181
    موصول شکریہ جات:
    119
    تمغے کے پوائنٹ:
    53

    میرے بھائی اسی بات کا تو رونا ہے کہ ایک بندہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض اٹھانے کے باوجود بھی دنیا دار ہی رہا اور دنیا کے عہدوں اور دولت کی خاطر بڑی سے بڑی زیادتی کرنے سے گریز نہ کیا اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا کیا اثر ہوا ۔


    باقی عالم دین کوئی بھی ہو اس کی ہر بات ٹھیک یا غلط نہیں ہو سکتی ہمیں اس بات کو قبول کر لینا چاہیے جس کے پیچھے وزنی دلائل ہوں ۔

    آپ پوری روایت عربی متن و سند پیش کریں آپ کو ضعف بتا دیں گے انشا ء اللہ
     
  2. ‏جولائی 27، 2012 #22
    نوید عثمان

    نوید عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 24، 2012
    پیغامات:
    181
    موصول شکریہ جات:
    119
    تمغے کے پوائنٹ:
    53

    شریعت کا قانون ہے کہ صحابی کو گالی دینا یا لعن طعن کرنا قابل مذمت ہے ۔ کیا یہ اصول صرف عام لوگوں کے لئے ہے اور صحابہ کرام یا قرون اولی کے لوگوں کو کھلی چھٹی تھی کہ وہ جیسے چاہے منبر رسول پر حضرت علی رض و دیگر کو سب و شتم کرتے رہیں ان کے اوپر یہ حدیث رسول لاگو نہیں ہوتی ۔ ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ جو کسی بھی صحابی کو سب و شتم کرے یا لعن طعن کرے اس کا یہ عمل شریعت کی نظر میں قابل مذمت ہے خواہ وہ سب و شتم کرنے والا صحابی رسول ہی کیوں نہ ہو۔
     
  3. ‏جولائی 27، 2012 #23
    Abu Saifullah

    Abu Saifullah رکن
    جگہ:
    کویٹہ
    شمولیت:
    ‏جولائی 26، 2012
    پیغامات:
    27
    موصول شکریہ جات:
    160
    تمغے کے پوائنٹ:
    31

    پیارے بھائی رونا اس بات کا بھی ہے کہ خود کو عقیدہ اہل السنۃ پر کہلوانے والے بھی شیعی اور جھوٹی روایات کے پروپوگنڈا سے متأثر ہو کر اپنے ہی اکابر کے خلاف منہ کھولتے ہیں اور جو چاہتے ہیں بولتے ہیں،،، اور اس بات کو بالکل نہیں سمجھتے کہ خیر القرون میں رہنے والوں کا درجہ کیا تھا اور آج کے لوگوں کا درجہ کیا ہے۔۔۔ آپ نے یہ تو فرما دیا ہے کہ
    ایک بندہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض اٹھانے کے باوجود بھی دنیا دار ہی رہا
    ۔۔ میں جان سکتا ہوں کہ وہ کون سے ذرائع ہیں جن سے آپ اپنی ان بیان بازیوں کو پروو کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ یاد رہے کہ آپ جتنی بھی روایات اس سلسلہ میں پیش کریں ان میں کوئی شیعی راوی متفرد روایت کرنے والا نہیں ہونا چاہیے۔ ورنہ آپ اپنے موقف کو خود ہی جھوٹا ثابت کریں گے۔

    پھر آپ نے جو حدیث طلب کی ہے کہ اس کی مکمل عبارت چاہیے تو حاضر خدمت ہے:

    مسند احمد کی روایت:
    حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمِيرَةَ الْأَزْدِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ مُعَاوِيَةَ وَقَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا وَاهْدِ بِهِ

    جامع الترمذی کی روایت:

    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عُمَيْرَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
    عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا وَاهْدِ بِهِ


    معرفۃ الصحابۃ لأبی نعیم کی روایت:
    حدثنا سليمان بن أحمد ، ثنا أبو زرعة الدمشقي ، ثنا أبو مسهر ، ثنا سعيد بن عبد العزيز ، عن ربيعة بن يزيد ، عن عبد الرحمن بن أبي عميرة ، قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لمعاوية : « اللهم ، اجعله هاديا مهديا ، واهده ، واهد به » رواه الوليد بن مسلم ، وغيره ، عن سعيد ورواه عمرو بن واقد ، عن يونس ، عن عمير الأنصاري ، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏جولائی 27، 2012 #24
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    آپ سے پوچھا تھا کہ کیا درج بالا احادیث کو تسلیم کرتے ہو یا نہیں؟؟؟
     
  5. ‏جولائی 27، 2012 #25
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    اسی کو تقیہ کہتے ہیں

    اللہ کی قسم! نہایت ہی قبیح سب وشتم ہے نبی کریمﷺ کے جلیل القدر صحابی سیدنا معاویہ﷜ پر!

    پہلے تم نے سیدنا عثمان﷜ اور سیدنا معاویہ﷜ وغیرہ کو وقت کا فرعون بھی قرار دیا۔

    سب وشتم صرف کتا، سور کہنے کو نہیں کہتے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  6. ‏جولائی 27، 2012 #26
    نوید عثمان

    نوید عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 24، 2012
    پیغامات:
    181
    موصول شکریہ جات:
    119
    تمغے کے پوائنٹ:
    53

     
  7. ‏جولائی 27، 2012 #27
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    شیعہ حضرات کو محدث فورم پر اپنا موقف دلیل کے ساتھ پیش کرنے کی اجازت ہے، لیکن صحابہ کرام﷢ پر سب وشتم پر مبنی ہر پوسٹ فوراً ڈیلیٹ کر دی جائے گی۔
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • متفق متفق x 2
    • لسٹ
  8. ‏جولائی 27، 2012 #28
    Abu Saifullah

    Abu Saifullah رکن
    جگہ:
    کویٹہ
    شمولیت:
    ‏جولائی 26، 2012
    پیغامات:
    27
    موصول شکریہ جات:
    160
    تمغے کے پوائنٹ:
    31

     
  9. ‏جولائی 28، 2012 #29
    نوید عثمان

    نوید عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 24، 2012
    پیغامات:
    181
    موصول شکریہ جات:
    119
    تمغے کے پوائنٹ:
    53

    ٹھیک ہے پھرصحاح ستہ و دیگر کتب حدیث میں سیکنڑوں حدیثییں ایسی موجود ہیں جن کو روایت کرنے والے صرف شیعہ راوی ہیں تو آپ ان سب حدیثوں کا انکار کرنے کی جرات کر سکتے ہیں ؟؟؟؟؟؟؟
     
  10. ‏جولائی 28، 2012 #30
    نوید عثمان

    نوید عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 24، 2012
    پیغامات:
    181
    موصول شکریہ جات:
    119
    تمغے کے پوائنٹ:
    53

    آپ کی بیان کردہ روایت کے تین راوی تو خیر سے شامی ہیں اوران پر جرح بھی ہے ایک کے بارے میں نمونہ حاضر خدمت ہے
    امام احمد بن حنبل کی جرح ولید بن مسلم پر
    كان رفاعا، ومرة: كثير الخطأ، ومرة: اختلطت عليه أحاديث ما سمع وما لم يسمع، وكانت له منكرات، ومرة: ليس لأحد أروي لحديث الشامين منه


    جا
    اسے کہتے ہیں جھوٹی وکالت کے لئے حق کا خون کرنا روایت پیش کر دی لیکن خود صاحب کتاب نے جو اس روایت کا حال بیان کیا اس کو چھپا لیا
    (حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عُمَيْرَةَ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا وَاهْدِ بِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں