1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

(خواب میں دیدارمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم) کے متعلق اس حدیث کا معنی و مطلب علی فہم السلف درکار ہے

'شرح وفوائد' میں موضوعات آغاز کردہ از عامر, ‏دسمبر 18، 2011۔

  1. ‏دسمبر 18، 2011 #1
    عامر

    عامر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 31، 2011
    پیغامات:
    151
    موصول شکریہ جات:
    818
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    السلام علیکم،

    اس حدیث کا معنی و مطلب علی فہم السلف درکار ہے ؛
    صحیح بخاری میں حدیث شریف ہے کہ پیارے نبی ﷺ نے فرمایا :
    عن أبي سعيد الخدري، سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «من رآني فقد رأى الحق، فإن الشيطان لا يتكونني»
    (صحیح البخاری ،6997، مسند احمد )
    ترجمہ :
    سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ انہو ں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ جس نے مجھے دیکھا اس نے حق دیکھا کیونکہ شیطان مجھ جیسا نہیں بن سکتا "

    نوٹ: اس حدیث کی غلط تشریح کچھ اسطرح کی جاتی ہے "فیض الوہیت کی تمام حدین اور انتہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم، جب تمام فیض آپ کوعطاکردیئے ،توآپ نے یہ ارشادفرمایا"

    جزاک اللہ خیرا
     
    Last edited by a moderator: ‏مئی 20، 2019
  2. ‏دسمبر 18، 2011 #2
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    اس کا مطلب ہے کہ

    ’’جس نے مجھے (خواب میں) دیکھا تو اس نے سچ (خواب) دیکھا ہے۔‘‘

    یعنی جو نبی کریمﷺ کو خواب میں دیکھے تو اس کا خواب سچا ہے، اس نے واقعی ہی نبی کریمﷺ کو دیکھا ہے، وہ پریشان خیالات یا شیطان کی طرف سے جھوٹا خواب نہیں ہو سکتا، کیونکہ شیطان نبی کریمﷺ کی شکل نہیں اپنا سکتا۔

    امام طیبی﷫ فرماتے ہیں: یہاں ’حق‘ مصدر مؤکد ہے، أي فقد رأى رؤية الحق

    اس کی دلیل نبی کریمﷺ کا یہ فرمان ہے: « من رآني في المنام فقد رآني ، فإن الشيطان لا يتخيل بي » ... صحيح البخاري کہ ’’جس نے مجھے خواب میں دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا ہے، کیونکہ شیطان میری شکل نہیں اپنا سکتا۔‘‘ واللہ تعالیٰ اعلم!

    تفصیل کیلئے: فتح الباری (حدیث نمبر: 6481)، شرح مسلم للنووی (حدیث نمبر: 4208)
     
  3. ‏دسمبر 19، 2011 #3
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,483
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    جزاکم اللہ خیرا
     
  4. ‏مئی 20، 2019 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,365
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    خواب میں دیدار نبی صلى الله عليه وسلم

    شیخ ابوکلیم فیضی
    حديث :
    عن أبي ھریرہ رضی اللہ عنہ قال: قال الرسول الله صلى الله عليه وسلم : من رآنی فی المنام فقد رآنی فان الشیطان لا یتمثل بی ۔ (صحیح البخاری : ۱۱۰ العمل ، صحیح مسلم : ۲۲۶۶ الرؤیا )
    ترجمہ :
    سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو اس نے مجھے حقیقت میں دیکھا ، اسلأ کہ شیطان میری مثال نہیں بنا سکتا میری صورت اختیار نہیں کر سکتا . صحیح البخاری و صحیح مسلم

    تشریح :

    ہر مسلمان کی یہ خواہش رہتی ہے کہ وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا دیدار کر لے ، اوریہ خواہش اسکے سچے محب رسول ہونے کی دلیل ہے جیسا کہ نبی صلى الله عليه وسلم کا ارشاد ہے: میری امت میں مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے وہ لوگ ہیں جو میری وفات کے بعد آئیں گے اور ان کی خواہش ہوگی کہ وہ مجھے دیکھنے کے لئے اپنے اہل و مال سب کچھ صرف کردیں [ صحیح مسلم ، مسند احمد ] آپ صلى الله عليه وسلم کا یہ فرمان اس بات کی غمازی کر رہا ہے کہ اس امت میں ایسے بھی محب رسول پیدا ہوں گے جنکے نزدیک نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی صحبت اور آپ صلى الله عليه وسلم کے نورانی چہرے کی طرف نظرسے بڑھ کر کوئ اور چیز نہ ہوگی لہذا اللہ تعالیٰ نے بھی انکے اس نیک جذبے کی قدر کی چنانچہ اولا انھیں یہ بدلہ دیا کہ خود جیب الہی رسول اکرم صلى الله عليه وسلم بھی ان لوگوں سے ملاکات کے متمنی رہے جیسا کہ ایک بار آپ صلى الله عليه وسلم قبرستان کی طرف نکلے ، أھل قبور سے سلام کیا اور فرمایا : ہماری خواہش ہے کہ اپنے بھائیوں کو دیکھ لیتا صحابہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول کیا ہم آپ کے بھائ نہیں ہیں ؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : تم لوگ ہمارے ساتھی ہو ، ہمارے بھائ وہ لوگ ہیں جو ابھی تک نہیں آتے [ صحیح مسلم ، مسند احمد ] آپ صلى الله عليه وسلم کے اس دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد حالت بیداری میں تو آپ صلى الله عليه وسلم کا دیدار ممکن نہیں ہے ، البتہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اسے اپنے محبوب نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کا دیدار خواب میں کرا دیتا ہے ، اسی وجہ سے اپنے نبی کو اس خصوصیت سے نوازا کہ شیطان آپ صلى الله عليه وسلم کی شکل اختیار نہیں کر سکتا جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسے یہ قدرت دی ہے کہ جس مخلوق کی شکل چاہے اختیار کر لے سوا نبی صلى الله عليه وسلمکے، تاکہ جو شخص بھی آپ صلى الله عليه وسلم کو خواب میں دیکھے اسکا خواب سچا ہو، جیسا کہ زیر بحث حدیث سے واضح ہوتا ہے لہذا جو شخص خواب میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو دیکھتا ہے تو یہ سمجھا جانے گا کہ یقیناًوہ شخص رؤیت نبوی سے مشرف ہوا ہے ، البتہ اس سلسلے میں یہاں چند باتیں دھیان میں رکھنا ضروری ہے :

    ضروری ہے کہ خواب میں نبی صلى الله عليه وسلم کو اس شکل میں دیکھا جائے جس شکل میں آپ صلى الله عليه وسلم دنیا میں موجود رہے ہیں کیونکہ ممکن ہے کہ شیطان کسی بزرگانہ شکل میں آئے اور اس مغالطے میں ڈال دے کہ یہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ہیں درآں حالیکہ وہ صورت کسی اور بزرگ کی ہو کیونکہ آپ صلى الله عليه وسلم نے یہ فرمایا کہ شیطان میری صورت میں نہیں آسکتا ۔ اسی لئے صحیح بخاری میں زیرے بحث حدیث کے بعد امام محمدین سیریں کا یہ قول مذکور ہے کہ یہ اس صورت میں ہے جب اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کو آپ ہی کی صورت میں دیکھا جائے ، اسی طرح ایک شخص حضرت عبداللہ بن عباسرضي الله عنه کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے اورعرض کرتا ہے کہ میں نے آج رات نبی صلى الله عليه وسلم کو خواب میں دیکھا ہے ، انھوں نے فرمایا کہ جسے دیکھا ہے اسکی صفت بیان کرو ، اس نے کہا کہ وہ شکل حسن بن علی رضي الله عنهما جیسی تھی تو حضرت عبداللہ بن عباس رضي الله عنهما نے فرمایا : تم نے حقیقت میں دیکھا ہے ۔ فتح الباری ۱۲ص ۳۸۴

    محب رسول کو چاہیے کہ آپ کے حلیہ مبارک کو یاد رکھے تاکہ شیطان اسکو دھوکہ میں نہ ڈال سکے ۔ کسی عالم سے ایک شخص نے کہا کہ میں نے خواب میں اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کو دیکھا کہ آپ کی داڑھی بالکل سفید تھی وغیرہ ، اس عالم نے اسے فورا ٹوکا اور فرمایا کہ یہ خواب سچا نہیں ہے کیونکہ وفات تک نبی صلى الله عليه وسلم کی داڑھی کے صرف چند بال ہی سفید جائے تھے ۔

    علماء امت کا اس پر اجماع ہے کہ اگر خواب میں نبی صلى الله عليه وسلم کسی کو کوئ ایسی بات بتلائیں، یا کوئی ایسا حکم دیں جو شریعت کے خلاف ہے تو اس پر عمل جائز نہ ہوگا ، کیونکہ اولاً تو آپ صلى الله عليه وسلم کی وفات سے قبل دین مکمل ہو چکا تھا، ثانیاً آپ صلى الله عليه وسلم نے یہ تو فرمایا ہے کہ شیطان میری شکل میں نہیں آسکتا لیکن یہ نہیں فرمایا کہ شیطان میری طرف کوئی بات منسوب نہیں کرسکتا ۔

    اگر کوئ شخص نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو خواب میں دیکھتا ہے تو اس رؤیت کی وجہ سے وہ صحابی شمار نہ ہوگا اور نہ ہی یہ اسکے متقی وپرہیزگار ہونے کی دلیل ہے ۔

    نبی صلى الله عليه وسلم کے دیدار کی خواہش رکھنے والے کو چاہیے کہ آپ صلى الله عليه وسلم کو کثرت سے یاد رکھے ، آپ صلى الله عليه وسلم کی سیرت و شمایل کا مطالعہ کرے ، آپ صلى الله عليه وسلم کی محبت اپنے دل میں راسخ کرنے کی کوشش کرے ، آپ صلى الله عليه وسلم پر بکثرت درود بھیجے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کا دیدار کرادے، آپ صلى الله عليه وسلم کے دیدار کے حصول کا یہی سب سے بڑا اور کامیاب نسخہ ہے ، حضرت انس بن مالک رضي الله عنه ببان کرتے ہیں کوئ دن ایسا نہیں گزرتا کہ خواب میں نبی صلى الله عليه وسلم کو نہ دیکھتا ہوں [ الشفا ] البتہ اسکے لئے خصوصی نمازیں پڑھنا اور اس میں کچھ خاص قسم کے اذکار کا اہتمام کرنا غیر شرعی اور بدعی طریقہ ہے ۔

    فوائد :

    ۱۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی خصوصیت کہ شیطان مردود آپ کی صورت اختیار نہیں کر سکتا ۔
    ۲۔ آپ صلى الله عليه وسلم کے دیدار کی تمنا ایک نیک خواہش اور محب رسول ہونے کی دلیل ہے ۔
    ۳۔ سارے مسلمان بحیثیت ایک مسلمان نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے بھائ ہیں ، البتہ بحیثیت مقام و مرتبہ کے کوئ بھی آپ کا ہم پلہ نہیں ہے ۔
    ۴۔ صحابہ کرام کی فضیلت کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں صحبت نبوی سے نوازا ہے ۔
     
  5. ‏مئی 20، 2019 #5
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,365
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    خواب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت


    تحریر: مولانا ابوالحسن مبشر احمد ربانی
    سوال : کیا خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ممکن ہے؟
    جواب : خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ممکن ہے۔

    ❀ صحیح بخاری میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جس نے مجھے نیند میں دیکھا، اس نے یقیناً مجھے دیکھا کیونکہ شیطان میری شکل نہیں بنا سکتا۔“ [بخاري، كتاب الجنائز : باب الدخول على الميت بعد الموت 1244 ]

    ❀ اور صحیح بخاری ہی میں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ جس نے مجھے خواب میں دیکھا، وہ مجھے بیداری میں دیکھے گا اور شیطان میری صورت نہیں بن سکتا۔ ’’ [ بخاري، كتاب التعبير : باب من رئي النبى فى المنام : 6993 ]
    ↰ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کے ساتھ تعبیر کے مشہور تابعی امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ کی وضاحت نقل فرمائی ہے کہ یہ اس وقت ہے جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں دیکھے۔

    ↰ فتح الباری میں ہے کہ جب کوئی شخص محمد بن سیرین سے بیان کرتا ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے تو وہ فرماتے : ’’ تم نے جسے دیکھا ہے، اس کی شکل بیان کرو۔“ اگر وہ ایسی صورت بیان کرتا جسے وہ نہ پہنچانتے تو فرماتے : ’’ تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا۔“
    ↰ اس لیے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں سے کسی کو ہو تو اس نے یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو دیکھا کیونکہ شیطان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت اختیار نہیں کر سکتا اور چونکہ صحابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتا بھی ہے، وہ یقین سے کہہ سکتا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے۔ لیکن جس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہی نہیں، وہ یقین کے ساتھ کیسے کہہ سکتا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ؟ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اجنبی لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہچان کے لیے بعض اوقات پوچھنا پڑتا تھا کہ آپ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ؟
    ❀ صحیح بخاری میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ’’ ایک دفعہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی اونٹ پر آیا، اسے مسجد میں بٹھایا، اس کا گھٹنا باندھا اور پھر کہنے لگا : ’’ تم میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کون ہیں ؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے درمیان ٹیک لگا کر بیٹھے تھے، ہم نے کہا: ’’ یہ سفید تکیہ لگانے والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“ پھر اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہو کر کئی سوالات کیے“۔ [بخاري، كتاب العلم : باب القراء و العرض على المحدث 63 ]

    ❀ سنن ابی داؤد میں سیدنا ابوذر اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے صحیح روایت ہے، فرماتے ہیں : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے درمیان بیٹھتے، کوئی اجنبی آتا تو پوچھنے کے بغیر معلوم نہ کر سکتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کون ہیں ؟ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ہم آپ کے لیے بیٹھنے کی جگہ بنا دیتے ہیں کہ کہ کوئی اجنبی آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان لے۔ تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مٹی کا ایک چبوترہ سا بنا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھتے اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد بیٹھتے تھے۔“ [ابوداؤد، كتاب السنة : باب فى القدر 4698 ]
    ↰ سیرت ابن ہشام میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ کیلئے ہجرت کر کے قبا پہنچے تو بنو عمرو بن عوف کے ہاں ٹھہرے۔ اس موقع پر انصار کے جن لوگوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھا تھا، وہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ کر سلام کرتے تھے۔ جب سایہ ہٹ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دھوپ پڑنے لگی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی چادر کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کیا۔ اس وقت لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانا۔“
    ↰ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پہچاننے والے کسی دوسرے کے متعلق خیال کر سکتے ہیں کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو خواب میں بھی اس کا امکان ہے۔ البتہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی شخص اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حلیے میں دیکھے جو صحیح احادیث میں آیا ہے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے۔
    ↰ لیکن اگر وہ کوئی اور صورت دیکھے یا کوئی ایسا شخص دیکھے جو اسے خلاف شرعیت کسی کام کا حکم دے رہا ہو یا ایسا کام کر رہا ہو جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شایان شان نہیں تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ شیطان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل نہیں بن سکتا مگر یہ بات نہیں کی کہ وہ کسی اور شکل میں آ کر جھوٹ بھی نہیں کر بول سکتا۔ اس دور کے شیطان مرزا دجال نے دعویٰ کیا تھا : منم مسيح و محمد كه مجتبي باشد ”میں مسیح ہوں اور محمد مجتبیٰ ہوں“

    ↰ خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت حاصل کر نے کے لیے لوگوں نے بہت سے وظائف اور طریقے گھڑے ہیں جب کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں۔ اس کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ خلوص دل سے اللہ تعالیٰ سےدعا کی جائے۔ اگر قبولیت کے اوقات میں دعا کی جائے تو امید اور زیادہ ہو جاتی ہے۔ دوسرے انبیاء کی زیارت بھی اللہ تعالیٰ جسے کرانا چاہے کرا سکتا ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  6. ‏مئی 20، 2019 #6
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,365
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ، فَقَدْ رَآنِي، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ بِي»
    ابن ماجہ ،30471، مصنف ابن ابی شیبہ3903 )
    ترجمہ : حضرت ابو سعید ؓ سے روایت ہے، نبیﷺ نے فرمایا: جس نے خواب میں مجھے دیکھا ، اس نے مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں