1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

خواتین میں پائے جانے والے شرکیہ اعمال

'اصلاح خواتین' میں موضوعات آغاز کردہ از مقبول احمد سلفی, ‏فروری 13، 2016۔

  1. ‏فروری 13، 2016 #1
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,227
    موصول شکریہ جات:
    352
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    مسلمانوں کے ایک طبقہ نے مسلمانوں کے اندر شرک کے وجود کا انکار کیا ہے اس لئے میں پہلے اس بات کی گواہی پیش کردیتا ہوں کہ مسلمانوں کے اندر بھی شرک پایا جاتا ہے تاکہ عنوان کی وضاحت ہوسکے ۔
    قرآن کی بہت سی آیات اور بہت ساری احادیث اس بات پہ دلالت کرتی ہیں کہ امت محمدیہ بھی شرک کرے گی ۔
    مثال کے طور پہ ایک آیت اور ایک حدیث دیکھتے ہیں:
    (1) قرآن : وَما يُؤمِنُ أَكثَرُ‌هُم بِاللَّهِ إِلّا وَهُم مُشرِ‌كونَ ۔ (سورة يوسف:106)
    ترجمہ: اور ان میں سے اکثر لوگ اللہ پر ایمان لانے کے باوجود بھی شرک ہی کرتے ہیں۔
    (2) حدیث :لولا تقومُ الساعةُ حتى تَلحقَ قبائلُ من أُمتي بالمشركينَ ، وحتى تعبدَ قبائلُ من أمتي الأوثانِ ۔(صحیح ابوداؤد:4252)
    ترجمہ : قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک میری اُمّت کے قبائل مشرکین سے نہ مل جائیں اور یہاں تک کہ میری اُمت کے قبائل بتوں کی عبادت نہ کریں۔
    ان دونوں نصوص سے ظاہر ہے کہ اس امت میں بھی شرک کا وجود رہے گا۔ اس لئے نبی ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو چھوٹے بڑے تمام قسم کے شرک سے محفوظ رہنے کے لئے سکھائی ہے ۔
    "اللهم إني أعوذ بك أن أشرك بك و أنا أعلم ، و استغفرك لما لا أعلم"۔
    ٭ اس حدیث کو علامہ البانی نے صحیح قرار دیا ہے ۔(صحیح الادب المفرد:551)

    جب ہم مسلم سماج کا جائز لیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ جہاں مردوں میں شرکیہ اعمال پائے جاتے ہیں وہیں خواتین کے اندر بھی شرک کا وجود ملتا ہے بلکہ بعض ناحیہ سے تو عورت میں مرد سے زیادہ شرکیہ اقوال وافعال پائے جاتے ہیں۔ اس بات کی تصدیق کرنی ہو تو کسی مزار پہ چلے جائیں ۔شرک کا یہ منظر مسلمانوں کےمخصوص طبقہ بریلویوں میں پایا جاتاہے۔
    مرد کی طرح عورت بھی سماج کا ایک حصہ ہے ، اگر سماج میں مرد شرک کا ارتکاب کرے گا تو اس کا اثر عورت سمیت سماج کے تمام طبقے پہ پڑے گایہی وجہ ہے کہ سماج کو شرکیہ افعال نے کھوکھلا کردیا ہے ۔
    عورتوں میں شرک کا وجود:
    عورتیں کمزور دل اور کمزورعقل ہونے کے باعث ان میں ضعیف الاعتقادی بہت پائی جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ عورت کی بات بات سے شرک کی بو آتی رہتی ہے۔ بچپن سے لیکر بڑھاپے تک زندگی کے تمام مرحلے میں اعتقاد کا ضعف بہت کم ہی خاتون سے زائل ہوپاتا ہے ۔ گھر میں اکیلی ہو تو جن بھوت سے ڈرکر چلانا، کسی کو بیمار دیکھے تو برافال لینا، کسی کا بچہ مرجائے تو نحوست لینا،کوئی اکسڈنٹ سےیاجل کریا لٹکر کر فوت ہوجائے تو اس کی روح بھٹکتی ہوئی تصور کرنا اور اس روح سے ڈرنا،عشق ومحبت، مرض ووبا،خو ف و تردد ، رنج والم ، یاس وقنوط تمام حالات میں امام ضامن باندھناعورتوں میں عام ہے ۔
    مسلم خاتون کو رب پہ توکل کرنا چاہئے اور کسی چیز سے بدفالی نہیں لینا چاہئے اور نہ ہی اللہ سے زیادہ کسی سے ڈرنا چاہئے اور نہ ہی اپنی زبان سے کوئی شرکیہ کلام نکالنا چاہئے۔
    خواتین میں شرک کی تمام اقسام پائی جاتی ہیں۔
    (1) شرک اکبر: یہ سب سے بڑا شرک ہے ، اس کے ارتکاب سے آدمی دین اسلام سے خارج ہوجاتا ہے ۔ خواتین میں بھی یہ شرک پایا جاتا ہے ۔ جب بچہ نہ ہو، بیماری کی حالت ہو، گھریلوپریشانی ہو وغیرہ وغیرہ حالات میں خاتون رب کو چھوڑکر مردوں سے مدد مانگتی ہیں اور ان سے حاجت روائی کرتی ہیں جوکہ شرک اکبر ہے ۔ اگر اسی عمل پہ عورت کا خاتمہ ہوجائے تو ہمیشہ جہنم میں رہے گی ۔ اللہ کا فرمان ہے :

    إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ ۖ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ(المائدۃ : 72)
    ترجمہ: جو شخص اﷲ کے ساتھ شرک کرتا ہے ،اﷲ تعالی نے اس پر جنت حرام کردی،اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔
    (2) شرک اصغر: چونکہ عورت جھوٹ بہت بولتی ہے اور اپنی جھوٹی بات پہ قسم پہ قسم کھاتی ہے ۔عورتوں کا بات بات پہ غیراللہ کی قسم کھاناشرک اصغر کے قبیل سے ہے ۔ اس قسم سے وہ اسلام سے خارج نہیں ہوتی مگر توحید میں نقص پیدا ہوتا ہے ۔
    نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    مَن حلفَ بغيرِ اللَّهِ فقد كفرَ أو أشرَكَ۔(صحیح الترمذی : 1535)
    ترجمہ : جس نے بھی غیراللہ کی قسم کھائی اس نے یا تو شرک کیا یا کفر کیا.
    (3) شرک خفی : حدیث میں ریاکاری کو شرک خفی بتلایا گیا ہے۔
    نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    ألَا أُخبركم بما هو أخوفُ عليكم عندي من المسيحِ الدجالِ قال قلنا بلى فقال الشركُ الخفيُّ أن يقومَ الرجلُ يُصلي فيُزيِّنُ صلاتَه لما يرى من نظرِ رجلٍ(صحیح ابن ماجۃ : 3408)
    ترجمہ:کیامیں تمہیں اس چیز کی خبر نہ دوں جو میرے نزدیک میسح دجال سے بھی زیادہ تمہارے اوپر خوف کھانے والی بات ہے ۔ صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ضرور بتلائیے ۔ آپ نے فرمایا: وہ شرک خفی ہے ۔ ایک آدمی نماز کو مزین کرکے اس لئے پڑھتا ہے تاکہ لوگ اس کی طرف دیکھیں۔

    عورتوں کے اعمال میں بھی دکھاواہے ، وہ خود کو اچھابنانے کے لئے ریاکاری سے کام لیتی ہے ۔ ایسی خاتون کواپنے عملوں میں اخلاص پیدا کرنا چاہئے اور بندوں کی تعریف حاصل کرنے یا ان کی نظر میں اچھا بننے کے لئے نمائش سے بچنا چاہئے ۔
    اللہ تعالی سے دعا ہے کہ تمام مسلمان مردوخاتون کو ہرقسم کے شرک بچا اور توحید کے راستے پہ چلا۔ آمین
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 05، 2016 #2
    غلام فرید چوہان

    غلام فرید چوہان رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 11، 2015
    پیغامات:
    42
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    30

    جزاك الله خيراً شیخ صاحب
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں