1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

خواتین کیلئے قبروں کی زیارت کی اجازت سے متعلق احادیث کا جواب :

'مسائل قبور' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏فروری 23، 2015۔

  1. ‏فروری 23، 2015 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,967
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    خواتین کیلئے قبروں کی زیارت کی اجازت سے متعلق احادیث کا جواب !!!

    سوال:

    میں نے ایک فتوی پڑھا ہے کہ کسی عورت کیلئے قبروں کی زیارت کرنا جائز نہیں ہے، لیکن مجھے کچھ دلائل ملے ہیں جن سے عورتوں کیلئے قبروں پر جانے کی اجازت ملتی ہے، مثلاً: بسطام بن مسلم بصری ابو تیاح یزید بن حمید سے بیان کرتے ہیں، وہ عبد اللہ بن ابی ملیکہ سے کہ: "ایک دن عائشہ رضی اللہ عنہا قبرستان سے واپس آرہی تھیں، تو میں نے ان سے عرض کیا: "ام المؤمنین! آپ کہاں سے آرہی ہیں؟" تو انہوں نے کہا: "میں اپنے بھائی عبد الرحمن بن ابو بکر کی قبر سے واپس آرہی ہوں" تو میں نے عرض کیا: "کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبروں کی زیارت سے منع نہیں کرتے تھے؟" تو انہوں نے جواب دیا: "ہاں پہلے آپ نے روکا تھا، پھر بعد میں ہمیں قبروں کی زیارت کرنے کی اجازت دی تھی" اس حدیث کو بیہقی اور حاکم نے روایت کیا ہے، اسی طرح ایک اور حدیث ہے کہ جس میں عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ قبروں کی زیارت کیلئے وہ کونسی دعا پڑھیں، اس حدیث کو البانی رحمہ اللہ نے "صحیح الجامع " میں مسلم اور نسائی سے نقل کیا ہے، تو خواتین کیلئے اجازت دینے والی ان احادیث کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟

    الحمد للہ:

    خواتین کیلئے قبروں کی زیارت کرنے کے بارے میں اہل علم کا شروع سے اب تک اختلاف رہا ہے، اور سوال میں مذکور احادیث انہیں دلائل میں سے ہیں جنہیں خواتین کیلئے قبروں کی زیارت جائز قرار دینے والے اپنی دلیل بناتے ہیں۔

    اہل علم کے دو اقوال میں سے راجح یہی ہے کہ خواتین کیلئے قبروں کی زیارت جائز نہیں ہے، اس بارے میں مزید وضاحت کیلئے سوال نمبر: (8198) اور (131847) کا مطالعہ کریں۔

    خواتین کو قبروں کی زیارت سے منع کرنے والوں نے مذکورہ دونوں احادیث کے درج ذیل جوابات دیے ہیں:

    پہلی حدیث کا جواب: اس کا جواب دو طرح سے دیا گیا ہے:

    اول:

    ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا جب گھر سے نکلی تھیں تو قبرستان کی زیارت سے نہیں گئیں تھیں، بلکہ وہ تو حج کیلئے جاتے ہوئے راستے میں اپنے بھائی کی قبر سے گزریں تھیں، اور اس طرح زیارت میں کوئی حرج نہیں ہے۔

    چنانچہ امام ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ ہے کہ اس حدیث کے سنن ترمذی میں موجود الفاظ "محفوظ" ہیں ، اگرچہ اس کے بارے میں بھی کچھ کلام ہے[ابن قیم رحمہ اللہ کی مراد یہ روایت ہے جسے: عبد اللہ بن ابی ملیکہ روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں: عبد الرحمن بن ابو بکر "حُبشِی" مقام پر فوت ہوئے، پھر انہیں مکہ لایا گیا، تو انہیں وہیں دفن کیا گیا، چنانچہ جب عائشہ رضی اللہ عنہا مکہ آئیں تو عبد الرحمن بن ابو بکر کی قبر پر بھی آئیں۔۔۔ پھر انہوں نے کہا: "اللہ کی قسم اگر میں تمہارے فوت ہونے کے وقت موجود ہوتی ، تو تمہیں وہیں دفن کرتی جہاں تم فوت ہوئے، اور اگر میں تمہاری وفات کے وقت موجود ہوتی تو میں آج تمہاری قبر کی زیارت نہ کرتی"

    ترمذی: (1055)، البانی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف ترمذی میں ضعیف قرار دیا ہے: (1055) ]

    عائشہ رضی اللہ عنہا مکہ حج کرنے کیلئے آئیں، تو اپنے بھائی کی قبر کے پاس سے انکا گزر ہوا، تو آپ وہاں کچھ دیر کیلئے کھڑی ہوگئیں، اور اس میں کوئی حرج والی بات نہیں ہے، بلکہ حرج والی بات تو ان خواتین کے بارے میں ہے جو قبرستان کی زیارت کے ارادے سے ہی گھر سے نکلتی ہیں ۔

    اور اگر یہ کہا جائے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا قصداً اور ارادۃً اپنے بھائی کی قبر پر گئیں تھیں، کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ:

    " اگر میں تمہاری وفات کے وقت موجود ہوتی تو میں آج تمہاری قبر کی زیارت نہ کرتی "

    تو اس سے تو یہ مزید واضح ہو جاتا ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نزدیک بھی قبروں کی زیارت کرنا جائز نہیں تھا، اگر ایسا نہ ہو تو عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس بات کا کوئی معنی نہیں رہتا ہے"

    انتہی" تهذيب سنن أبی داود " (9/44)

    دوم:

    ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا ترمذی کی روایت کے مطابق یہ کہنا:

    " اگر میں تمہاری وفات کے وقت موجود ہوتی تو میں آج تمہاری قبر کی زیارت نہ کرتی " اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خواتین کیلئے زیارت اسی طرح مستحب نہیں ہے جیسے مردوں کیلئے مستحب ہے؛ کیونکہ اگر بات ایسے ہی ہوتی تو عائشہ رضی اللہ عنہا کیلئے بھی ہر حالت میں [یعنی : وہ جنازے کے وقت موجود ہوتیں یا نہ ہوتیں]زیارت اسی طرح مستحب ہوتی جیسے مردوں کیلئےمستحب ہے، یہی بات شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی کہی ہے، جیسے کہ مجموع الفتاوی: (24/345) میں ہے کہ : "عائشہ رضی اللہ عنہا کی بات سے معلوم ہوتا ہے کہ : انکے نزدیک بھی خواتین کیلئے قبروں کی زیارت منع تھی"

    اسی طرح آپ رضی اللہ عنہا کا یہ کہنا کہ:

    " پہلے آپ نے روکا تھا، پھر بعد میں ہمیں قبروں کی زیارت کرنے کا حکم دیا " اس کا بھی دو طرح سے جواب ہے:

    اول:

    یہ تاویل ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کی طرف سے اجتہاد کی بنیاد پر تھی، چنانچہ ابن قیم رحمہ اللہ " تهذيب السنن " (9/45) میں کہتے ہیں:

    "عائشہ رضی اللہ عنہا نے خواتین کے قبرستان میں داخل ہونے کے بارے میں تاویل کی، جیسے کہ خواتین کو قبرستان میں جانے کی اجازت دینے والے دیگر افراد نے تاویل کی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حجت اور دلیل نبی معصوم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہی بن سکتا ہے، راوی کی تاویل حجت نہیں بن سکتی، ہاں راوی کی تاویل اسی وقت حجت بن سکتی ہے جب اس کے مقابلے میں زیادہ وزنی بات نہ ہو، جبکہ اس تاویل کے مقابلے میں ممانعت کی احادیث موجود ہیں" انتہی

    دوم:

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے خواتین کو قبرستان کی زیارت کیلئے کوئی دلیل نہیں ملتی ہے، اس لئے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے [عبد اللہ بن ابی ملیکہ نے] کہا: کہ قبروں سے زیارت کی ممانعت سب کیلئے عام ہے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس اعتراض کو رد کرنے کیلئے کہا:"یہ ممانعت منسوخ ہوچکی ہے"، بات ایسے ہی ہے کہ قبروں کی زیارت سے ممانعت منسوخ ہو چکی ہے، لیکن [عبد اللہ بن ابی ملیکہ نے] وہ ممانعت ذکر نہیں کی تھی جو خواتین کے ساتھ خاص ہے، اور اس ممانعت میں خواتین کی طرف سے قبروں کی زیارت پر لعنت کا ذکر بھی ہے۔

    یہ بات عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول : " ہمیں قبروں کی زیارت کرنے کا حکم دیا " سے آشکار ہوتی ہے، وہ اس طرح کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی گفتگو سے یہ پتا چلتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کا حکم دیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی چیز کے بارے میں حکم دینا کم از کم استحباب کا درجہ رکھتا ہے، اور قبروں کی زیارت کیلئے استحباب صرف مردوں کیلئے خاص ہے، لیکن عائشہ رضی اللہ عنہا یہ بیان کر رہی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری حکم نے پہلی ممانعت کو منسوخ کر دیا؛ لہذا عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس بیان سے دلیل بنتی ہی نہیں کہ عورتوں کیلئے بھی قبروں کی زیارت اصل میں جائز تھی، اور اگر عائشہ رضی اللہ عنہا قبروں کی زیارت کیلئے حکم خواتین کیلئے بھی سمجھتی ہوتیں تو وہ بھی اسی طرح قبروں کی زیارت کرتیں جیسے مرد کرتے ہیں، اور اپنے بھائی کے بارے میں یہ کبھی نہ فرماتیں: " میں تمہارے جنازے میں شریک ہوتی تو میں تمہاری [قبر ]کی زیارت نہ کرتی "" انتہی

    "مجموع الفتاوى" (24/353)

    *دوسری حدیث کا جواب:

    پہلا جواب یہ ہے کہ:

    عائشہ رضی اللہ عنہا کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قبرستان کی زیارت کیلئے دعا پوچھنا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے انہیں دعا کی تعلیم دینا، اس بات پر محمول ہوگا کہ : اگر عائشہ رضی اللہ عنہا قبروں کی زیارت کا ارادہ کیے بغیر راستے میں کسی قبر کے پاس سے گزرتی ہیں تو وہ کیا دعا پڑھیں، یہی وجہ ہے کہ زیارت قبور کی دعا والی احادیث کے الفاظ میں زیارت کے الفاظ صریح طور پر نہیں ہیں، بلکہ عائشہ رضی اللہ عنہا نےیوں کہا ہے: "میں انکے کیلئے کیا کہوں؟"جیسے کہ یہ لفظ مسلم: (974)، نسائی: (2037)

    دوسرا جواب:

    یہ مسئلہ براءت اصلیہ پر محمول تھا ، پھر اس کے بعد مردوں اور خواتین سب کیلئے قبروں کی زیارت منع قرار دے دی گئی، تیسرے مرحلے میں صرف مردوں سے ممانعت منسوخ کردی گئی، لیکن عورتوں کیلئے ممانعت باقی رہی؛ کیونکہ حدیث ہے کہ: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والی خواتین پر لعنت فرمائی"اس حدیث کو ترمذی: (1056)،

    ابن ماجہ: (1576) نے روایت کیا ہے، اور البانی رحمہ اللہ نے " أحكام الجنائز " (ص 185) میں اسے صحیح کہا ہے۔

    تیسرا جواب:

    عائشہ رضی اللہ عنہا کے سوال ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے انہیں قبرستان کی دعا سیکھانے کا معاملہ تبلیغ پر محمول کیا جائے گا، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھ کر عائشہ رضی اللہ عنہا نے آگے سیکھایا، اور اس قسم کے مسائل احادیث میں بہت زیادہ ہیں، کہ انہوں نے بہت سے مسائل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے لوگوں تک پہنچائے۔

    اس حدیث کے مزید جوابات جاننے کیلئے آپ ایک رسالے کا مطالعہ فرمائیں جس کا عنوان ہے: " جزء في زيارة النساء للقبور " از فضیلۃ الشیخ بکر ابو زید رحمہ اللہ،
    ("اجزاء حدیثیہ"میں صفحہ : 129 کے بعد)

    واللہ اعلم.

    اسلام سوال و جواب

    http://islamqa.info/ur/210114
     
  2. ‏فروری 23، 2015 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,967
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    عورتوں كے ليے قبروں كى زيارت كا حكم !!!

    ميرى خالہ كے والد ( ميرے نانا ) فوت ہو چكے ہيں، ميرى خالہ نے ايك بار قبر كى زيارت كى اور دوبارہ پھر زيارت كرنا چاہتى ہيں، ميں نے حديث سنى ہے جس كا معنى ہے كہ عورت كے ليے قبروں كى زيارت كرنى حرام ہے.

    كيا يہ حديث صحيح ہے، اور اگر صحيح ہے تو اسے گناہ ہوا ہے جس سے كفارہ واجب ہوتا ہو ؟


    الحمد للہ :

    مذكورہ حديث كى بنا پر صحيح تو يہى ہے كہ عورتوں كے ليے قبروں كى زيارت كرنا جائز نہيں، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت ہے كہ آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے قبروں كى زيارت كرنے والى عورتوں پر لعنت كى، لھذا عورتوں پر واجب ہے كہ وہ قبروں كى زيارت كرنا چھوڑ ديں، اور جس عورت نے جہالت اور لاعلمى ميں قبر كى زيارت كى لى تو اس پر كوئى حرج نہيں، اب اسے چاہيے كہ وہ آئندہ ايسا نہ كرے، اور اگر اس نے ايسا كيا تو اسے توبہ و استغفار كرنا ہو گى، اور توبہ پہلےگناہ ختم كرديتى ہے.

    لھذا قبروں كى زيارت مردوں كے ساتھ خاص ہے-

    نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    "
    قبروں كى زيارت كيا كرو، كيونكہ يہ تمہيں آخرت ياد دلاتى ہے"

    شروع اسلام ميں مردوں اور عورتوں كے ليے قبروں كى زيارت كرنا ممنوع تھى، كيونكہ مسلمان ابھى نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اور وہ جاہليت ميں فوت شدگان كى عبادت كيا كرتے تھے، اور ان كے ساتھ متعلق تھے تو شر كے سد ذريعہ اور شركيہ مادہ كو ختم كرنے كے ليے قبروں كى زيارت كرنا ممنوع قرار دے ديا گيا، اور جب اسلام نے استقرار حاصل كر ليا اور مسلمانوں نے شريعت اسلاميہ كو سمجھ ليا تو اللہ تعالى نے ان كے ليے قبروں كى زيارت مشروع كردى، كيونكہ زيارت كرنے ميں عبرت و نصيحت اور موت اور آخرت كى ياد آتى ہے، اور فوت شدگان كے ليے دعائے استغفار اور ان كے ليے رحم كى دعا كى جاتى ہے.

    پھر اللہ سبحانہ وتعالى نے عورتوں كو زيارت كرنے سے منع كر ديا، علماء كرام كا صحيح قول يہى ہے، كيونكہ مرد فتنے ميں پڑجاتے ہيں، اور ہو سكتا ہے وہ خود بھى فتنے ميں پڑ جائيں، اور اس ليے انہيں زيارت سے منع كيا گيا ہے كہ ان ميں صبر و تحمل بہت كم ہوتا ہے، اور وہ بہت زيادہ جزع فزع كرتى ہيں، تو اللہ تعالى نے ان پر رحمت اور احسان كرتے ہوئے ان پر قبروں كى زيارت حرام كردى.

    اور پھر اس ميں مردوں كے ليے بھى احسان ہے، كيونكہ قبر كے پاس سب كا جمع ہونے سے ہو سكتا ہے فتنہ كا باعث بنے، تو يہ اللہ تعالى كى رحمت ہے كہ انہيں قبروں كى زيارت سے منع كر ديا گيا.

    ليكن نماز جنازہ ادا كرنے ميں كوئى حرج نہيں، لھذا عورتيں نماز جنازہ ادا كر سكتى ہيں، صرف انہيں قبروں كى زيارت كرنے سے منع كيا گيا، لھذا ممانعت پر دلالت كرنے والى احاديث كى بنا پر علماء كرام كے صحيح قول كے مطابق عورت كے ليے قبر كى زيارت كرنا جائز نہيں، اور اس پركوئى كفارہ نہيں بلكہ وہ صرف توبہ كرے.

    مجموع فتاوى و مقالات متنوعۃ فضيلۃ الشيخ عبد العزيز بن عبد اللہ بن باز رحمہ اللہ ( 9 / 28 ).

    http://islamqa.info/ur/8198
     
  3. ‏فروری 23، 2015 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,361
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    یہ رسالہ عربی میں ڈاونلوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں
     
    Last edited: ‏فروری 23، 2015
  4. ‏فروری 24، 2015 #4
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105


    حَدَّثَنَا آدَمُ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ،‏‏‏‏ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ "مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ تَبْكِي عِنْدَ قَبْرٍ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ إِلَيْكَ عَنِّي فَإِنَّكَ لَمْ تُصَبْ بِمُصِيبَتِي وَلَمْ تَعْرِفْهُ،‏‏‏‏ فَقِيلَ لَهَا:‏‏‏‏ إِنَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَأَتَتْ بَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ تَجِدْ عِنْدَهُ بَوَّابِينَ،‏‏‏‏ فَقَالَتْ:‏‏‏‏ لَمْ أَعْرِفْكَ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى".

    ترجمہ داؤد راز
    ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے ثابت نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک عورت پر ہوا جو قبر پر بیٹھی رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے ڈر اور صبر کر۔ وہ بولی جاؤ جی پرے ہٹو۔ یہ مصیبت تم پر پڑی ہوتی تو پتہ چلتا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان نہ سکی تھی۔ پھر جب لوگوں نے اسے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، تو اب وہ (گھبرا کر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ پر پہنچی۔ وہاں اسے کوئی دربان نہ ملا۔ پھر اس نے کہا کہ میں آپ کو پہچان نہ سکی تھی۔ (معاف فرمائیے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صبر تو جب صدمہ شروع ہو اس وقت کرنا چاہیے (اب کیا ہوتا ہے)۔
    صحیح بخاری،كتاب الجنائز ،باب زیارت القبور حدیث نمبر 1283
    کہتے ہیں امام بخاری کی فقہ ان کے ترجمہ ابواب میں ہے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں