1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

خواتین کی آزادی یا خواتین تک رسائی

'سیکولرازم' میں موضوعات آغاز کردہ از خضر حیات, ‏مارچ 12، 2014۔

  1. ‏مارچ 12، 2014 #1
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,723
    موصول شکریہ جات:
    8,321
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    خواتین کی آزادی یا خواتین تک رسائی

    آفتابِ رسالت ﷺ اپنے اصحاب کی جھرمٹ میں فروکش تھے،چراغ مصطفوی ﷺ کے گرد پروانوں کاہجوم تھا۔وہ بھی خاموشی کےساتھ مجلس کےآخرمیں بیٹھ گیے۔مایوسی،اداسی اوراحساسِ جرم کی کیفیت اُن کےچہرےسے عیاں تھی۔
    رسول رحمت ﷺکی نگاہیں ان پہ پڑیں ،اُنہیں پریشان پاکے اپنے قریب بلایا،اورشفقت ومحبت سے پوچھا:اے میرے صحابی !تُوکس بات پہ اُداس وحزیں ہے؟۔ایسی کیابات ہےجس نے تیری یہ حالت بنارکھی ہے؟۔
    بس پوچھنے کی دیرتھی کہ ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے،ندامت کے آنسوؤں نے رخسارکوترکردیا،وہ ہچکچائی اورڈبڈبائی آوازمیں گویاہوئے:اے میرے آقا! اے میرے حبیب!
    '' میں بھی اُن حرماں نصیب لوگوں میں سےتھا،جنہوں نے زمانۂ جاہلیت میں اپنی معصوم بچیوں کوزندہ درگورکردیاتھا، میرے گھربھی اک ننھی سی کلی صورت بچی کی ولادت ہوئی،میں نے اپنی بیوی سےسفارش کی کہ ہم اس پھول سی بچی کونہیں ماریں گے،اسے زندہ درگورنہیں کریں گے۔بیوی نے بھی میری ہاں میں ہاں ملائی ،اب وہ بچپن ،لڑکپن سےہوتی ہوئی جوانی کی دہلیزپہ تھی،وہ اپنے ماں باپ کاجگرگوشہ اوردل کاٹکڑاتھی،ہم دونوں میاں بیوی اس سے بہت پیارومحبت کرتےتھے،وقت کوجیسے پَرلگ گیا،وہ جلدی بڑی ہوگئی، حُسن وجمال کا پیکربن گئی تھی،سوایک دن اس کےلیے رشتہ آیا،میرے دل میں جاہلیت کی حمیت وغیرت جاگ اٹھی کہ میں کیسے اپنی بیٹی کوکسی اجنبی کے حوالےکردوں؟۔چنانچہ ایک دن میں نے اپنی بیوی سے کہاکہ میں فلاں قبیلے میں اپنے ایک رشتہ دارسے ملنےجارہاہوں ،بیٹی کوبھی ساتھ لےکرجاؤں گاتاکہ وہ بھی اپنے عزیزواقارب سے ملاقات کرلے۔میری بیوی نے گھرسے نکلتےوقت مجھ سے پختہ عہدوپیمان لیاکہ میں اس کی اس امانت میں بالکل بھی خیانت نہ کروں،یہ سن کرمیری بیٹی بہت خوش ہوئی، اس نے پنے آپ کونئے ملبوسات وزیورات سے مزین کیا،وہ بہت خوش اورخوبصورت لگ رہی تھی،پھرمیراہاتھ تھام کے جلد چلنے کی ضدکرنے لگی،سومیں اس کولیے بیاباں کے اک خشک اور ویراں کنوئیں کے کنارے پہنچ گیا،کنوئیں کے اوپررکھے پتھرکوسرکاکےمیں نے اس میں دیکھا،وہ بہت ذہین وفطین تھی جلدہی بات کی تہہ تک پہنچ گئی کہ میں اسے اس کنوئیں میں زندہ درگورکرنے لایاہوں،وہ لپک کے میرے سینےسے چمٹ گئی اورزاروقطاررونے لگ گئی،اس کے آنسوؤں نے میرے پتھردل کوموم کردیا،وہ کہنے لگی:بابا!آپ یہ کیاکرنےجارہےہیں؟میرے دل میں ایک لمحے کےلیے اس کی محبت جاگی،میں کوئی فیصلہ نہیں کرپارہاتھا،پھرمیں نےکنوئیں کی طرف دیکھا،قبائلی حمیت اوررسوائی کےخوف نے میراارادہ بدل دیا،اُس نے پھرمجھے سختی سےپکڑااوربولی:بابا!میری ماں کی امانت میں خیانت مت کرو،مجھ پہ عجیب سی کیفیت طاری تھی،کبھی اس کے معصوم فریادی چہرے کودیکھتاتوکبھی اندھے کنوئیں کو،شیطان مجھ پہ غالب آیا،میں نے اسے مضبوطی سے پکڑااورکنوئیں میں دھکیل دیا،وہ مجھے پکارتی آوازیں دیتی رہی کہ بابا!آپ نے مجھے ماردیا،بابا!آپ نے مجھے ماردیا۔میں وہیں کھڑارہایہاں تک کہ اس کی آواز ہمیشہ کےلیے خاموش ہوگئی،تب سے اب تلک جب بھی میں کچھ لمحات تنہائی میں بیٹھتاہوں تومجھے میرے کانوں میں اس کی گونج سنائی دیتی ہے:ياابت! قتلتنی،بابا آپ نے مجھے ماردیا!!۔
    اس کی کہانی ختم ہوچکی تھی رحمتِ عالمﷺ کی داڑھی مبارک اشکوں سے تر ہوچکی تھی،اصحاب بھی آبدیدہ تھے،
    تب آپ ﷺنے فرمایا:اگرمجھے حکم ہوتاکہ زمانۂ جاہلیت کےکسی جرم پہ کسی کوسزادوں توتمہارے اس سنگین جرم پہ میں تمہیں سزادیتا۔''
    قارئین کرام!
    یہ تھی اسلام سے پہلے کے معاشرے میں صنفِ نازک کی حالتِ زار انہیں زندہ درگورکیاجاتا،شوہرکی فوتگی کی صورت بیوی طویل مدت خلوت میں قیدہوتی،جہاں اُس پہ '' قوت لایموت'' زندہ رکھنے کی مقدار نوالے کے علاوہ سب کچھ اس پہ حرام ہوتا۔
    سب سے منقطع ،پانی استعمال کرسکتی نہ کپڑے تبدیل،اسلام سے پہلے معاشرے میں عورت عار اورنفرت ورسوائی کااستعارہ تھی۔
    اسلام کی آمدنے جاہلیت کےرسوم کی ڈسی عورت کوماں،بیٹی،بہن،اوربہوکےمقدس رشتوں کی صورت عزت وتکریم سے نوازا۔
    وراثت میں انہیں حصہ دار بنایا،عورت کوعفت وعصمت کی محفوظ چادروچاردیواری عطاکی،ان کےحقوق کی پاسداری کی ترغیب دلائی۔
    چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ محسنِ انسانیت ﷺ نے ارشادفرمایا:'' جس نے دولڑکیوں کی پرورش کی،یہاں تک کہ وہ بالغ ہوگئیں ،انگشتِ شہادت اوردرمیانی انگلی سے اشارہ کرتےہوئے رحمتِ عالمﷺفرمایا:تومیں اور وہ اس طرح جنت میں داخل ہوں گے''۔
    مگرآج کے متعصب مغربی معاشرےمیں اسلام کوبدنام کیاجارہاہےکہ اسلام نے عورت کے حقوق سلب کرلیے ہیں،خوشنمانعروں،دلفریب سلوگنوں کےساتھ خواتین کا ''عالمی دن'' منانے والے یہ بھول جاتےہیں کہ اُن کےاپنے ہاتھوں خواتین کے استحصال کے باعث یہ دن منانے کی ضرورت پیش آئی۔
    آئیے
    ہم ذرا تاریخ کے آئینے میں دیکھتےہیں کہ آج سے کم وبیش سوسال پہلے ''وومن رائٹس'' کاٹھیکیدار امریکہ کے شہرنیویارک میں کپڑابُننے والی ایک فیکٹری میں مسلسل دس گھنٹے کام کرنے والی خواتین نے کام کے اوقات میں کمی اوراُجرت میں اضافے کے لیے آواز اٹھائی توان ناتواں خواتین پہ پولیس نے نہایت بےرحمی کے ساتھ لاٹھی چارج کرتےہوئے سخت تشددکانشانہ بنایا۔
    بلکہ اسی پہ بس نہ کیا انہیں گھوڑوں سے باندھ کے سڑکوں پہ نہایت بےدردی سے گھسیٹابھی گیا،جس کے نتیجہ میں خواتین نے جبری مشقت کے خلاف بھرپورتحریک چلائی،ریاست نے ان پہ بے انتہا تشددکیا،خواتین کی یہ تحریک زورپکڑگئی اور۱۹۱۰ء مین کوپن ہیگن میں خواتین کی پہلی عالمی کانفرنس منعقدہوئی،جس میں سترہ سے زائدممالک کی سوکےقریب خواتین نے شرکت کی،جس میں عورتوں پہ ہونےولے مظالم واستحصال کےخلاف عالمی دن کےمنانےکافیصلہ ہوا۔
    پہلی عالمی جنگ میں بیس لاکھ روسی فوجیوں کی ہلاکت پر خواتین نے ہڑتال کی تب سے یہ دن ترقی یافتہ اورترقی پذیرممالک میں عالمی حیثیت اختیارکرگیا۔لیکن ۱۹۵۶ء میں سیاہ فام مزدوروں پرپابندی کےخلاف نیویارک میں بیس ہزار خواتین کے مظاہروں کی وجہ سے آٹھ مارچ کواقوام متحدہ نے بھی خواتین کاعالمی دن منانے کافیصلہ کیا،یہ دن ہرسال منایاجاتاہے،لیکن اس کےباوجود جنسی بنیادوں پرہونے والے مظالم میں اضافہ ہورہاہے۔
    حقوق کے چیمپئن امریکہ میں ہر چھے منٹ بعدایک عورت جنسی استحصال کاشکارہوتی ہے،بھارت میں ہرچھے گھنٹےکے بعدایک شادی شدہ عورت کوتشددسےماراجاتاہے،جبکہ بھارت ہی میں ہرروزسات ہزار بچیاں قبل از ولادت ماردی جاتی ہیں،دنیامیں سالانہ بیس لاکھ بچیوں کوجنسی کاروبارکےلیے اسمگل کیاجاتاہے۔
    خواتین کی تجارت سےہرسال بارہ ملین ڈالرسےزیادہ منافع کمایاجاتاہے،پوری دنیامیں عورت کاروبار کااشتہاربن چکی ہے۔
    اُ س کے ایک ایک عضواور ایک ایک پرزے کی نمائش کی جاتی ہے،مغرب نے عورت کو '' آزادی'' اور '' حقوق'' کا فریب دےکرخوب خوب استحصال کیا،یہی وجہ ہےکہ آج مغرب میں اسلام قبول کرنےوالوں کی شرح میں زیادہ تعدادخواتین کی ہے۔
    عورت ہردن محترم ہے،ہردن حیاکی پیکرہے،ہر دن اس کاہے،خواتین کاایک دن مناکے خواتین کوآزادی دینے کے خوشنمانعرےلگانےوالے دراصل خواتین تک '' مکمل آزادی اوررسائی''چاہتےہیں،چراغِ خانہ کوچراغِ محفل بنانے کی آزادی !
    مردکی ہوس بھری نگاہوں کاشکاربنانےکی آزادی!ہوٹلوں میں بستروں کی چادریں تبدیل کرنے اور ائیرہوسٹس بناکے مسافروں کادل بہلانےکاسامان بہم کرنے کی آزادی!!!
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 2
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 13، 2014 #2
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاکم اللہ خیرا
     
  3. ‏مارچ 13، 2014 #3
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    جزاک اللہ بہت اچھی معلومات ہیں
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں