1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

خود کشی کا بھیانک انجام !!!

'نفسیاتی و اجتماعی مشکلات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏مارچ 10، 2014۔

  1. ‏مارچ 10، 2014 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    خود کشی کا بھیانک انجام !!!
    Suicide

    عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنَ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ فَحَدِيدَتُهُ فِى يَدِهِ يَتَوَجَّأُ بِهَا فِى بَطْنِهِ فِى نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا وَمَنْ شَرِبَ سَمًّا فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ يَتَحَسَّاهُ فِى نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا وَمَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ يَتَرَدَّى فِى نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا ».

    (صحيح مسلم: 313، باب غلظ تحريم قتل الانسان نفسه)

    1782562_369159409888993_489970624_o.jpg
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 10، 2014 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    اس کے بھائی نے خود کشی کی اور وہ تقدیر کے متعلق خطرناک سوال کرتا ہے

    میرا چھوٹا بھائی لٹک کر فوت ہو گیا ہے اس کی عمر صرف 25 سال تھی اس کا سبب چھوٹی سی مشکل تھی جو کہ والدہ اور اس کے درمیان جھگڑا ہے ہم سب انتہائی دہشت اور غم کا شکار ہیں – اس کے متعلق کچھ سوالات ہیں جو میں پوچھنا چاہتی ہوں-

    اول : اللہ تعالی نے میرے بھائی کی موت کے لۓ یہ قسم کیوں اختیار کی؟

    دوم : میرے والد کی عمر 75 برس اور وہ بہت دین پر چلنے والا اور والدہ بہت مہربان اور اچھی طبیعت اور کرم کی مالک ہیں تو اللہ تعالی نے ان دونوں کو ان کی زندگی میں ان جیسا دن کیوں دکھایا ہے ؟

    سوم : ہم اپنے بھائی کا کس طرح تعاون کر سکتے ہیں جو کہ ہم میں نہیں ہے ؟ اور ہمارے یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم اسے جنت میں دیکھ سکیں ؟ اور کیا ہمارے لۓ یہ ممکن ہے کہ ہم اسے سلام پہنچا سکیں اور کیا ہمارا سلام اسے پہنچے گا ؟

    جب اس کی موت کے سبب کا چیک اپ ہوا تو پتہ چلا کہ اس کی موت گلا گھٹنے سے نہیں بلکہ ریڑھ کی ہڈی کا مہرہ ٹوٹنے سے ہوئی ہے ۔

    واقعہ کچھ اس طرح ہے میرے کمرے میں بچے کے لۓ کپڑے کا جھولا تھا بھائی نے چھوٹی سی کرسی پکڑی جو کہ اس کے قریب پڑی ہوئی تھی اور اس جھولے کو اپنی گردن میں باندھ لیا اور یہ کہنے لگا کہ میں اپنے آپ کو قتل کر لوں گا اور والدہ اسی کمرے میں نماز پڑھ رہی تھیں ہمارا خیال یہ ہے کہ اس نے خود کشی نہیں کی اور ہو سکتا ہے کہ وہ غصہ میں آکر اس نے یہ عمل کیا ہو۔

    اس کے دوست بھی ہمیں بتاتے ہیں کہ وہ حقیقتا ایسے لوگوں میں سے نہیں تھا جو کہ خود کشی کا سوچتے ہیں – جب بھی انہوں نے اس کے سامنے خود کشی کا ذکر کیا وہ انہیں سمجھاتا تھا کہ یہ کام اچھا نہیں ۔

    اس کی میت کی بھی حالت اچھی تھی اور اس کے چہرہ سے اس طرح کا کوئی عمل ظاہر نہیں ہو رہا تھا اور ایسے معلوم ہو رہا تھا کہ وہ سو رہا ہے اور اسے بیدار کر دیں تو کیا اسے کچھ دلیل لے سکتے ہیں ؟
    آپ سے گزارش کرتی ہوں کہ آپ ہمیں جواب ضروری دیں ہم اس کی اچانک موت سے بہت زیادہ غمگین اور پریشان ہیں ۔

    الحمد للہ:

    ان سوالوں سے قبل تین چیزوں کا جاننا ضروری ہے- اور وہ یہ ہیں ۔

    اول : بیشک ہر چیز اللہ تعالی کی تقدیر کے ساتھ ہے اور جو اس دنیا میں خیر اور شر جاری ہے وہ اللہ تعالی کی تقدیر اور تدبیر اور اس کی مشیت سے ہے کیونکہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی اور تدبیر کرنے والا اور رب نہیں ہے ۔

    دوم : اللہ سبحانہ وتعالی کی تقادیر میں جو حکمت ہے اس پر ایمان لانا واجب ہے تو اس جہان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس میں اللہ تعالی کی حکمت بالغہ ہے اگرچہ ہم اس تک پہنچ سکیں یا نہ بلکہ بہت سی اللہ تعالی کی حکمتوں کو بندوں کی عقلیں نہیں پہنچ سکتیں تو اللہ تعالی کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ضروری ہے اور یہ اس کی حکمت کاملہ پر ایمان کے ساتھ ہی ممکن ہے تو اس کی شرع اور تقدیر میں کسی قسم کا اعتراض جائز نہیں ۔

    سوم : خود کشی ایک بہت بڑا جرم اور زندگی کا برے طریقے سے خاتمہ ہے تو شخص اپنے آپ کو مصیبت یا تنگی اور غربت اور غصہ یا کسی اور فعل کی بنا پر قتل کرتا ہے وہ اس سے اپنے آپ کو اللہ تعالی کی سزا کا مستحق ٹھہرا رہا ہے

    تو جو اس معاملہ میں ذکر کیا گیا ہے اس کے متعلق ضروری ہے کہ اسے اللہ سبحانہ وتعالی کے سپرد کیا جائے ظاہری طور پر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس نے خود کشی کی ہے کیونکہ اس نے اپنے آپ کو لٹکایا ہے یعنی اپنی گردن میں رسی باندھی جس کی بنا پر اس کا سانس گھٹ گیا یا تو اس نے خود کشی کی ہے اور یا پھر خود کشی کا ارادہ تھا – واللہ اعلم

    اور رہی یہ بات کہ والدین صالح اور نیک ہیں تو یہ اس چیز کے مانع نہیں کہ اللہ تعالی انہیں آزمائش نہ ڈالے اور ان پر مصائب نازل نہ کرے تا کہ ان کا صبر ظاہر ہو سکے اور اس میں ان کے گناہوں کی صفائی ہے اور ان کے گناہ دھونے کا باعث ہے ۔

    اور مومن کے تو سب معاملات میں خیر ہوتی ہے اگراسے نعمت ملے تو وہ اس کا شکر ادا کرتا ہے تو یہ اس کے لۓ بہتر ہے اور اگر اسے تنگی اور تکلیف آتی ہے تو اس پر صبر کرتا ہے تو اس کے لۓ بہتر ہے تو تکلیفوں اور مصائب سے آزمائش اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ بندہ اللہ تعالی کی اطاعت کرنے کے باوجود بے وقعت ہے تو اللہ تعالی پر ایمان اور اس کی اطاعت اور اس کا تقوی اختیار کرنا یہ عزت کا باعث ہیں اور اللہ تعالی کے ساتھ کفر اور اس کی نافرمانی اور فسق پہ ذلت کا سبب ہیں ۔

    تو جو شخص کسی مصیبت میں مبتلا کیا گیا تو اس نے صبر کیا تو یہ اس کے درجات میں بلندی کا باعث ہو گا اور مصائب کی بہت سی اقسام ہیں کبھی تو مرض کے ساتھ ہوتی ہے اور کبھی مال چھن جانے کے سبب اور کبھی محبوب کے گم ہونے پر مثلا ، بھائی، یا والد، یا بیوی، یا خاوند تو اللہ تعالی اپنے بندے کو نعمتوں اور مصیبتوں سے آزماتا ہے اور یہ ہی خیر اور شر ہیں ۔

    اور اگر کوئی شخص اللہ تعالی کی اطاعت پر مستقیم اور نمازوں کا پابند ہو اور اس سے خود کشی جہالت کے سبب ہو جائے تو اس کے لۓ اللہ تعالی سے معافی اور درگزری کی امید رکھی جا سکتی ہے – بے شک اللہ تعالی غفور رحیم ہے ۔

    اور اگر اسے اس بات کا علم ہو کہ خود کشی حرام ہے لیکن اس نے خود کشی اس لۓ کی تاکہ وہ کسی مشکل سے نجات حاصل کر سکے جس سے وہ تنگ آ چکا ہے تو خطرہ ہے کہ وہ اس وعید اور سزا کا مستحق نہ بن جائے جو کہ حدیث میں آئی ہے ۔

    لیکن اس کے ساتھ ساتھ اگر وہ اللہ تعالی اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا اور اللہ تعالی کی توحید کا اقرار کرتا اور شرک سے بچا ہوا ہے تو وہ اللہ تعالی کی مشیت میں ہے اگر اللہ تعالی چاہے تو اسے معاف کر دے اور اگر چاہے تو اسے عذاب دے اور عذاب کے بعد وہ آگ سے ضرور نکل آۓ گا -

    اور رہا یہ معاملہ کہ اس کی حالت غسل اور تجہیز وتکفین کے وقت اور جو اس کے چہرے سے اچھائی ظاہر ہو رہی ہے تو وہ اچھے انجام اور حالت کے مانوس ہونے کی بناء پر ہے اور وہ اللہ کے ہاں معذور اور مغفور ہے لیکن یہ بات یقینی نہیں ہو سکتی کیونکہ ایسے معاملے زیادہ سے زیادہ خیر ہی کا فائدہ دے سکتے ہیں ۔

    اور اگر خود کشی کرنے والا نمازی اور موحد اور مسلمان ہو تو اس کے لۓ مغفرت کی دعا کی جا سکتی ہے کہ اللہ تعالی اس کے گناہ معاف کرے اور ان گناہوں میں سے وہ گناہ بھی ہے جو اس نے اپنے آپ کو قتل کر کے کیا ہے ۔

    اور لیکن سوال میں جو یہ کہا گیا اور اللہ تعالی نے اسے مارنے کی جو کیفیت اختیار کی ہے اس پر تنقید ہے اور یہ اللہ تعالی کی تقدیر پر اعتراض کی ایک قسم ہے تو اللہ تعالی ہی تقدیر کو مقدر کرنے والا اور وہی ہر چیز کا خالق ہے اور ہر چیز اس کی تقدیر کے ساتھ ہے اور وہ حکمت والا اور علم والا ہے ۔

    لیکن جو اللہ تعالی کی شریعت کے مخالف ہو تو اس پر تقدیر کی حجت نہیں پکڑی جا سکتی اور جو کچھ اس جہان میں ہو رہا ہے اور جاری ہے ان کی تقدیر کے معاملہ میں اللہ تعالی پر اعتراض کرنا جائز نہیں اور تقدیر اور اللہ سبحانہ وتعالی کی حکمت پر ایمان لانا واجب ہے - .

    الشیخ عبدالرحمان البراک

    http://islamqa.info/ur/22407
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  3. ‏مارچ 10، 2014 #3
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    مومن کی آزمائش کے فائدے

    اللہ تعالی کثرت سے عبادت کرنے والے مومنوں پر بیماریوں اور آزمائشوں کا بوجھ کیوں ڈالتے ہیں۔ حالانکہ گنہگار زندگی میں ہر ناحیہ سے لطف اندوز ہوتے ہیں؟

    الحمدللہ :

    اس سوال کی دو شقیں ہیں ایک تو اعتراض ہے اور دوسرا صحیح راہ کی تلاش ہے۔

    تو اعتراض یہ ہے کہ جو کہ سائل کی جہالت کی دلیل ہے بیشک اللہ سبحانہ وتعالی کی حکمت اس سے بڑھ کر ہے کہ وہ ہماری عقلوں تک پہنچے اللہ عزوجل ارشاد فرماتے ہیں۔

    "اور وہ آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں آپ جواب دے دیجئے کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں بہت ہی کم علم دیا گیا ہے"

    تو یہ روح جو کہ ہمارے پہلووں میں ہے اور ہماری زندگی کا مادہ ہے اسے ہم نہیں جانتے اور سب فلسفی اور دیکھنے والے اور اسکی حدود اور کیفیت میں کلام کرنے والے سب عاجز ہو چکے ہیں تو جب یہ روح ہمارے سب سے قریب ہے اسکے متعلق ہم کچھ نہیں جانتے سوائے جو قرآن اور سنت نے ہمارے لئے بیان کیا ہے تو پھر اس کے متعلق کیا خیال ہے جو کہ اس سے دور اور علیحدہ ہے؟

    تو اللہ عزوجل سب سے اعظم اور جلال والا اور قدرت والا اور ہر امر کو محکم کرنے اور صحیح کرنے والا ہے تو ہم پر ضروری ہے کہ ہم اسکے فیصلوں کو مکمل طور پر تسلیم کریں۔ چاہے وہ قضاء وفیصلہ کوئی ہو یا قدری ہو کہ ہم اس سبحان وتعالی کی حکمت کی غرض وغایت کو پانے سے قاصر ہیں تو سوال کی اس شق کے جواب میں ہم یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالی زیادہ علم والا اور اعظم اور قدرت والا اور محکم فیصلے کرنے والا ہے۔

    اور سوال کی دوسری شق یہ راہ کی تلاش ہے تو ہم سائل کو یہ کہتے ہیں۔

    مومن کو آزمایا جاتا ہے اور اللہ تعالی کے اسے اس ابتلاء میں ڈالنے اور تکلیف دینے کے دوعظیم فائدے ہیں۔

    پہلا فائدہ: اس آدمی کا ایمان سچا اور پختہ ہے یا کہ اسکا ایمان متزلزل ہے۔ تو جو اپنے ایمان میں سچا ہے وہ تو اس ابتلاء پر اللہ کی تقدیر اور فیصلے پر صبر کرتا اور اللہ تعالی سے ثواب کی نیت کرتا ہے تو اس وقت اس پر یہ معاملہ آسان ہوجاتا ہے۔ کسی عابدہ عورت سے بیان کیا جاتا ہے کہ اسکی انگلی کٹ گئ یا زخم آیا تو اس نے تکلیف محسوس نہیں کی اور نہ ہی بے قراری ظاہر کی تو اسے اسکے بارہ میں کہا گیا تو اسنے جواب دیا۔ کہ مجھے اس کے اجر کی مٹھاس نے اسکے صبر کی کڑواہٹ بھلادی۔ تو مومن آدمی اللہ تعالی سے اجر کی نیت کرے اور اسے مکمل طور پر تسلیم کرے۔ تو یہ ایک فائدہ ہے۔

    دوسرا فائدہ: اللہ تعالی نے صبر کرنے والوں کی بہت زیادہ تعریف کی ہے اور یہ بتایا ہے کہ وہ انکے ساتھ ہے اور انہیں بغیر حساب کے اجر دے گا۔ اور ایک ایسا درجہ ہے جو کہ صرف اسے ملتا ہے جو کہ ان امور میں مبتلا کیا جائے جن میں صبر کیا جاتا ہے تو اگر وہ ان پر صبر کرے تو اس بلند درجے کو حاصل کرے گا جس میں اجر عظیم ہے۔

    تو اللہ تعالی کا مومن کو تکلیف دہ امور میں مبتلا کرنے کا سبب یہ ہے کہ وہ صابرین کے درجہ کو حاصل کرلیں۔ اور اسی لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بخار کی اتنی تیزی ہوتی تھی جتنا کہ دو آدمیوں کو ہوتا ہے اور حالت نزع میں اسکی نزع میں اسکی شدت اور زیادہ ہوگئ تھی۔ حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایمان اور تقوی اور خشیت الہی کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے زیادہ مومن اور متقی اور اللہ تعالی سے ڈرنے والے تھے۔ تو سب کچھ اس لئے تھا کہ انکے صبر کا درجہ مکمل ہوجائے بیشک سب سے زیادہ صابر تھے۔

    تو اس سے آپ کے سامنے یہ واضح ہوگیا ہوگا کہ اللہ تعالی مومنوں کو اس طرح کے مصائب میں کیوں مبتلا کرتا ہے۔ اور اسکی کیا حکمت ہے۔

    اور رہا یہ معاملہ کہ فاسقوں فاجروں اور نافرمانوں اور کفار پر عافیت اور رزق کی فراوانی کیوں ہوتی ہے تو یہ اللہ تعالی کی طرف سے انکے لئے ڈھیل ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا۔

    (بیشک مومن کے لئے جیل خانہ اور کافر کے لئے جنت ہے) تو انہیں یہ اچھی اشیاء دنیاوی زندگی میں جلد دیدی جاتی ہیں اور قیامت کے دن وہ اپنے اعمال کی سزا پائیں گے۔

    فرمان باری تعالی ہے۔

    "اور جس دن جہنم کے سرے پر لائے جائیں گے (کہا جائے گا) تم نے اپنی نیکیاں دنیا کی زندگی میں ہی برباد کردیں اور ان سے فائدے اٹھاچکے پس آج تمہیں ذلت کے عذاب کی سزا دی جائے گی اسکے باعث کہ تم زمین میں ناحق تکبر کیا کرتے تھے اور اسکے باعث بھی کہ تم حکم عدولی کیا کرتے تھے"

    تو حاصل یہ ہے کہ یہ دنیا کافروں کے لئے ہے اس میں انہیں ڈھیل دی جارہی ہے اور جب وہ اس دنیا جسمیں انہیں نعمتیں ملتی رہیں سے آخرت میں منتقل ہونگے تو عذاب پائيں گے اور اس سے اللہ کی پناہ تو یہ عذاب ان پر بہت سخت ہوگا کیونکہ وہ عذاب میں سزا اور عقوبت پائیں گے اور اس لئے بھی کہ انکی دنیا بھی ختم ہوگئ جس میں وہ نعمتیں اور خوشیاں حاصل کرتے تھے۔

    اور یہ تیسرا فائدہ بھی ممکن ہے کہ اسے دونوں فائدوں کے ساتھ اضافہ کردیا جائے۔ کہ مومن جو بیماریاں اور تکالیف پاتا ہے تو جب وہ اس دنیا سے اچھے دار آخرت کی طرف منتقل ہوگا تو اسکا یہ ایک ایسے اذیت ناک اور المناک دار جو کہ دنیا ہے سے ایک اچھے اور فرحت والی آخرت کی طرف منتقل ہونا ہے جس سے اسے فرحت اور خوشی حاصل ہوگی کیونکہ اسے وہ نعمتیں دگنی سے بھی زیادہ ملیں گی اور اذیت اور مصائب کا دور ختم ہونے کی بھی خوشی ہوگی- .

    الشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کے فتوی میں سے۔
    دیکھیں کتاب: فتاوی اسلامیہ (1/83)

    http://islamqa.info/ur/12099
     
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  4. ‏مارچ 10، 2014 #4
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    1970373_467321410034798_1743718334_n.jpg
     
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  5. ‏ستمبر 06، 2015 #5
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    11181750_539888889492139_1222825550411935577_n.jpg
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں