1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

خیر کی بیس خصلتیں

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏اپریل 26، 2017۔

  1. ‏اپریل 26، 2017 #1
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    محترم شیخ @اسحاق سلفی صاحب!
    اس روایت کے بارے تحقیق فرما دیں۔ جزاک اللہ خیرا

    حضرت سوید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ،میں اپنی قوم کے سات افراد کے ساتھ حضور علیہ الصلوٰة السلام کی خدمت میں حاضرہوا،آپ کو ہمارا انداز گفتگو نشست برخاست کا سلیقہ اورلباس پسند آیا ۔آپ نے فرمایا:تم کون ہو؟ہم نے کہا:مومن ہیں،اس پر آپ مسکرانے لگے اورفرمایا:ہر شے کی کوئی حقیقت ہوتی ہے، تمہارے اس قول کی کیاحقیقت ہے؟ہم نے کہا: پندرہ خصلتیں ہیں،ان میں سے پانچ تو وہ ہیں جن کے بارے میں آپ نے ہمیں حکم دیا ہے،پانچ وہ ہیں جن کے بارے میں آپ کے قاصدوں نے ہمیں تلقین کی ہے اور پانچ وہ ہیں جنہیں ہم نے زمانہ جاہلیت میں اختیار کیا تھا اوراب تک ان پر قائم ہیں، لیکن اگران میں سے کسی کو آپ ناگوار سمجھیں گے تو ہم اسے ترک کردیں گے۔آپ نے فرمایا:ذرا وضاحت تو کرو ،ہم نے عرض کیا:آپ نے ہمیں اللہ پر، اس کے ملائکہ ،اس کی کتابوں ،اس کے رسولوںاورتقدیر کے من جانب اللہ ہونے پر ایمان کا حکم دیاہے۔آپ نے فرمایا:میرے قاصدوں نے تمہیں کیا تلقین کی ہے؟عرض کیا گیا:انھوںنے کہاہے کہ اللہ کے معبود ہونے ، اسکے لاشریک ہونے اورآپ کے اللہ کے بندے اور رسول ہونے کی گواہی دیں،فرض نماز قائم کریں،زکوٰة ادا کریں ،ماہ رمضان کے روزے رکھیں اوراستطاعت رکھنے کی صورت میں بیت اللہ کا حج کریں ۔پھر آپ نے پوچھا:وہ پانچ خصلتیں کون سی ہیں جن کو تم نے زمانہ جاہلیت میں اختیار کیا؟ہم نے عرض کیا،سہولت اورخوشحالی میں اللہ کا شکر اداکرنا ،ابتلاءوآزمائش کے وقت صبر کرنا ،جنگ کے موقع پر جم کر لڑنا اور بہادری کے جوہر دکھانا،اللہ کی قضاءوتقدیر پر راضی رہنا اوردشمن کی مصیبت سے خوش نہ ہونا،نبی کریم علیہ الصلوٰة والتسلیم نے صحابہ سے فرمایا:یہ لوگ تو بڑے سمجھ بوجھ اورسلیقہ والے ہیں،یہ انبیاءکی عمدہ اوربہترین خصلتوں کے حامل ہیں ۔پھر آپ ہمیں دیکھ کر مسکرائے اورارشادفرمایا :میں تمہیں پانچ مزید خصلتوں کی وصیت کرتا ہوں تاکہ اللہ تبارک وتعالیٰ تمہارے اندر خیر کی خصلتیں پوری کردے ۔جو تم نے کھانا نہیں ہے اسے جمع بھی نہ رکھو(یعنی فاضل اورضرورت سے زائد اور بچاہواکھانا صدقہ کردو)جس مکان میں تم نے رہائش نہیں رکھنی اسے مت بناﺅ(یعنی صرف ضرورت کے مطابق مکان بناﺅ ،ضرورت سے زیادہ تعمیر نہ کرو)اور جس فانی دنیا کو چھوڑ کر تم نے آگے روانہ ہونا ہے اس میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرو (یعنی حرص وہوس کے معاملات میں مقابلہ نہ کروبلکہ خیر میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو)،جس رب ذوالجلال کے پاس تم نے جانا ہے اورمحشر میں اس کے سامنے جمع ہونا ہے ،اس پاک پروردگار سے ڈرواور جس دارِ آخرت کو تم نے سدھارنا ہے اوروہاں دائمی سکونت اختیار کرنی ہے اس کی فکر کرو۔(ابونعیم،حاکم،ابن عساکر)

    اخباری حوالہ

    نوٹ: پوسٹ میں ترمیم کر دی گئی ہے۔ اصل الفاظ و اخباری حوالہ شامل کردیا گیا ہےاور عنوان بھی ذرا تبدیل کر دیا ہے۔
     
    Last edited: ‏اپریل 26، 2017
  2. ‏اپریل 27، 2017 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,359
    موصول شکریہ جات:
    2,394
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    یہ روایت حافظ ابونعیم اصفہانی نے حلیۃ الاولیاء۔ علامہ ابن عساکر نے تاریخ دمشق (ج 41- ص 198 ) اور امام ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں پیش کر رکھی ہے ،
    قال الحافظ أبو نعيم الأصبهاني في ( حلية الأولياء ج: 9 ص: 279)
    حدثنا الحسين بن عبد الله بن سعيد ثنا القاضي حمزة بن الحسن ثنا الأشناني ثنا أحمد بن علي الخراز قال سمعت أحمد بن أبي الحواري يقول سمعت أبا سليمان الداراني يقول حدثني شيخ بساحل دمشق يقال له علقمة بن يزيد بن سويد الأزدي حدثني أبي عن جدي سويد بن الحارث قال وفدت على رسول الله صلى الله عليه وسلم سابع سبعة من قومي فلما دخلنا عليه وكلمناه فأعجبه ما رأى من سمتنا وزينا فقال ما أنتم قلنا مؤمنين فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال إن لكل قول حقيقة فما حقيقة قولكم وإيمانكم قال سويد فقلنا خمس عشرة خصلة خمس منها أمرتنا رسلك أن نؤمن بها وخمس منها أمرتنا رسلك أن نعمل بها وخمس منها تخلقنا بها في الجاهلية فنحن عليها إلا أن تكره منها شيئا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم وما الخمس التي أمرتكم رسلي أن تؤمنوا بها قلنا أمرتنا رسلك أن نؤمن بالله وملائكته وكتبه ورسله والبعث بعد الموت قال وما الخمس التي أمرتكم أن تعملوا بها قلنا أمرتنا رسلك أن نقول لا إله إلا الله ونقيم الصلاة ونؤتي الزكاة ونصوم رمضان ونحج البيت من استطاع إليه سبيلا قال وما الخمس التي تخلقتم بها أنتم في الجاهلية قلنا الشكر عند الرخاء والصبر عند البلاء والصدق في مواطن اللقاء والرضى بمر القضاء والصبر عند شماتة الأعداء فقال النبي صلى الله عليه وسلم : " علماء حكماء كادوا من صدقهم أن يكونوا أنبياء " .
    ---------------------------
    قال الإمام الذهبي في معرفة الصحابة ( 1 / 249 ) : إسناده مجهول
    وقال في " ميزان الاعتدال " ( 5 / 135 ) في ترجمة علقمة بن يزيد بن سويد : عن أبيه عن جده / لا يعرف وأتى بخبر منكر فلا يحتج به .
    قلت : هو هذا الخبر .
    ونقله الحافظ ابن حجر في " اللسان " : ولم يتعقبه . ( 4 / 229 )
    قلت : فالحديث منكر لتفرد هذا المجهول به .

    یعنی امام الذہبی رحمہ اللہ میزان الاعتدال میں فرماتے ہیں :
    علقمہ بن یزید بن سوید اپنے والد سے وہ اس کے دادا سوید سے نقل کرتے ہیں ، یہ علقمہ بن یزید مجہول ہے ، اور ایک منکر روایت نقل کرتا ہے
    ( یہ منکر یہی روایت ہے جو اوپر سوال میں منقول ہے ) تو اسلئے یہ روایت منکر ہے کیونکہ صرف ایک مجہول علقمہ سے مروی ہے ،
    -----------------------------
    اور سعودی عرب کی تحقیقاتی کمیٹی برائے فتوی (فتاوی اللجنۃ الدائمہ ، ج 4- ٍ475) کا فتوی بھی اس روایت کے متعلق یہی ہے

    ذكرها ابن كثير في حديثه عن قدوم وفد الأزد على رسول الله صلى الله عليه وسلم ج5 ص106 من كتاب [البداية]، وذكر صدرها ابن حجر في ترجمة سويد الأزدي في كتاب [الإِصابة]، ومدار سندها على علقمة بن يزيد بن سويد الأزدي عن أبيه عن جده سويد الأزدي ، وعلقمة : مجهول،
    (الجزء رقم : 4، الصفحة رقم: 476)
    فلا يحتج به؛ لما ذكره ابن حجر في [لسان الميزان] قال: علقمة بن يزيد بن سويد عن أبيه عن جده: لا يعرف، وأتى بخبر منكر فلا يحتج به. وعلى هذا فالخبر غير صحيح.
    وبالله التوفيق. وصلى الله على نبينا محمد، وآله وصحبه وسلم.
    اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإِفتاء
     
  3. ‏اپریل 27، 2017 #3
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    بارک اللہ فیک یا شیخ!
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں