1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

داعش کو خوارج کہنے کی وجہ۔۔۔۔۔

'خوارج' میں موضوعات آغاز کردہ از عمر سعد, ‏جنوری 31، 2017۔

  1. ‏جنوری 31، 2017 #1
    عمر سعد

    عمر سعد مبتدی
    شمولیت:
    ‏جنوری 28، 2017
    پیغامات:
    13
    موصول شکریہ جات:
    4
    تمغے کے پوائنٹ:
    9


    ہم داعش کو خوارج کیوں کہتے ہیں؟
    ]
    گفتگو کو کسی تفصیل میں کیے بغیر ٹو دی پوائنٹ رکھنا چاہتا ہوں ۔ تو سب سے پہلے تو سمجھنا ہوگا خوارج کسے کہتے ہیں...؟؟
    آج کل کچھ بھائی سمجھتے ہیں کہ خوارج شاید کوئی امریکی اتحادی ہوں گے یا کوئی طاغوتی جماعت یا کوئی انتہائی لبرل سیکولر قسم کے لوگ ہوں گے جن کو دیکھتے ہی ہم پہچان جائیں گے کہ یہی خوارج ہیں !!
    حالانکہ بات اس سے بلکل الٹ ہے، خوارج بظاہر انتہائی زیادہ ایماندار ' مخلص ' عبادت کرنے والے ' قیام و سجود کرنے والے اور عالمی مسلمانوں سے زیادہ قرآن پڑھنے والے ہوتے ہیں، لیکن احادیث کے مطابق انکا قرآن انکے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، یعنی انکا قرآن انکی نمازیں ان کو کچھ فائدہ نہیں دیں گی۔
    غور کرنے کی بات یہ ہے کہ یہ نشانیاں ایک اچھے سچے مسلمان کو ظاہر کرتی ہیں۔!! تو کیوں پھر انکو خوارج کہا جاتا ہے ...؟؟؟
    تو اسکی وجہ یہ ہے کہ یہ مسلمانوں ہی کو کافر مرتد کہنا شروع کر دیتے ہیں اور پھر ان سے قتال کرتے ہیں ۔
    کچھ نشانیوں کے مطابق خوارج وہ ہوتے ہیں جو کبیرہ گناہوں پر بھی تکفیر کرتے ہیں ۔
    کثیر اہل علم نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ مذہب خوارج (کبیرہ گناہوں کے مرتکب کی تکفیر کرنا) کی یہ صفت تمام 'خوارج' کے لئے جامع صفت نہیں ہے، اور نہ ہی یہ خروج کرنے کی واحد شرط ہے۔ بلکہ خوارج کے اندر وہ تمام شامل ہیں، جو مسلمانوں کی ناحق تکفیر کرتے ہیں اور ان کے خون کو حلال کرتے ہیں اگرچہ وہ کبائر کے مرتکب کے کفر کا عقیدہ نہ بھی رکھتے ہوں۔
    ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالٰی علیہ ( الفتاوی) میں کہتے ہیں۔

    خوارج اپنے مذہب کو واجب التعظیم اور بلند تر سمجھتے ہیں : جماعت المسلمین میں سے نکل جاتے ہیں، اور ان کے خون

    اور اموال کو حلال کر لیتے ہیں۔ اور فرمایا
    :

    "
    یہ اہل قبلہ کے خون کو حلال اس اعتقاد کے ساتھ کرتے ہیں کہ یہ مرتدین ہیں، اور یہ اصلی کفار ( جو مرتدین

    نہیں ہیں) کے مقابلے میں ان (اہل قبلہ) کے خون کو زیادہ حلال جانتے ہیں، جیسے خوارج کے بڑے عہد اعلی علی بن طالب رضی اللہ عنہ کے دور میں جمع ہوئے اور قرآن کو حکم بنانے کا عہد لیا، حق کو طلب کرنے کی بات کی اور ظلم سے انکار کیا۔ ظالموں سے جہاد کرنے اور سے بےرغبتی پر یکجا ہوئے، نیکی کی دعوت اور برائی سے بچنے کی نصیحت کی، پھر اسکے بات صحابہ کرام کا قتال کرنے پر نکل کھڑے ہوئے ۔
    پس سب سے بڑی نشانی جس سے خوارج کی پہچان ہوتی ہے وہ یہی ہے کہ وہ بظاہر متقی دیندار نمازی ہونے کے باوجود مسلمانوں کو مرتد کافر کہہ کر ان سے قتال شروع کر دیتے ہیں۔
    اب یہاں پر سوال ہوگا کہ کیا یہ سب نشانیاں داعش میں موجود ہیں کہ انکو خوارج کہا جائے....؟؟

    جی ہاں یہ سب نشانیاں داعش میں موجود ہیں، یہاں میں ثبوت کے ساتھ ثابت کروں گا إن شاء الله


    داعش شامی جہادی گروپ جبھتہ الاسلامیہ وغیرہ کو مرتد سمجھتی ہے۔

    1: پہلا ثبوت داعش (أحرار الشام) جبھتہ الاسلامیہ کو مرتد پکارتی ہے۔

    22: دوسرا ثبوت داعش نے البوکمال میں اعلان کیا کہ ہم مندرجہ ذیل گروپس کے افراد کے لیے توبہ کا دروازہ کھولتے ہیں ۔

    1 جیش الحر گروپ (جیس کو جبھتہ الاسلامیہ کہا جاتا ہے )۔
    2 جبھتہ الجولاني (جبھتہ النصرہ )۔
    3 نصیری سپاہی(جو اہل سنت ہو)۔
    ان کی بھی توبہ مندرجہ ذیل شرائط پر قبول ہوگی۔
    1 اپنے اوپر اقرار کرے شخص ارتداد پر تھا۔
    2 شرعی دورے کرے۔
    3 ہمارے معسکرات کی طرف آئے اور پھر فرنٹ لائنس پر لڑے۔
    4 جو بھی معلومات اس کے پاس ہوں ہمیں دے

    پس توبہ کی سب سے پہلی شرط سے یہ ثابت ہے کہ جبھتہ النصرہ اور جبھتہ الاسلامیہ کو مرتد سمجھتے ہیں۔

    تیسرا ثبوت جیش المہاجرین کے امیر صلاح الدین الشیشانی جو کہ ابھی تک اس لڑائی میں غیر جانبدار تھے۔ انہیں جبھتہ الاسلامیہ اور جبھتہ النصر
    ہ نے داعش کے پاس بھیجا کہ اس وقت آپس میں کی لڑائی کا ٹائم نہیں مسلمان چاروں طرف سے پس رہے ہیں تو ہم صلح و فائر کی پیش کش کرتے ہیں۔

    صلاح الدین الشیشانی جو کہ امارت قوقاز کے سابقہ امیر ابو عثمان رحمہ اللہ(ڈوکا عمروف) سے بیعت شدہ تھے۔ان کے بعد انکی بیعت امیر ابو عثمان رحمہ اللہ (ڈوکا عمروف ) کے جانشین ابو محمد داغستانی سے ہے۔ وہ داعش کے پاس الرقہ گئے لیکن داعش نے صاف جواب دیا کہ ان لوگوں سے صلح نہیں ہو سکتی وہ کفار پیں۔

    اس کے علاوہ اور بھی کئی ثبوت ہیں لیکن طوالت کے پیش نظر پیش نہیں کرسکتا ۔

    داعش جن علاقوں پر اب قابض ہے۔ یہ تقریباً شامی مجاہدین نے بشار خنزیر و نجس سے آزاد کروائے تھے۔ داعش نے بشار سے بجائے علاقے چھیننے کے پہلے سے فتح شدہ جبھتہ الاسلامیہ اور جبھتہ النصرہ کے علاقوں پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ اور خوارج کی ایک اور نشانی کے کفار کو چھوڑیں گے اور مسلمانوں کو قتل کریں گے ثابت کردی ۔۔اب میں انکو خوارج نہ کہوں تو کیا کہوں۔۔؟؟

    ان باتوں کا موازنہ کیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ داعش شام میں مسلمان جہادی گرپوں کا قتل عام کرنے کے بعد بشار سے بہت کم لڑی ہے۔ جبکہ شامی جہادی گروپوں کے علماء کے فتوی کے مطابق صرف داعش کے حملوں کو روکتے ہیں ان پر جوابی حملہ نہیں کر رہے اور اپنی توجہ کفار اصلی کی جانب ہوئے ہیں لیکن ظاہر بات ہے جب ظلم حد سے بڑھ جائے اسکا علاج کرنا ہی پڑتا ہے۔ اگر داعش مسلمان جہادی گروپس کی تکفیر اور ان کے قتال سے باز نہ آئی تو پھر قوم عاد کی طرح قتل کرنے والی حدیث پر عمل کرنا پڑے گا۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوارج کو قوم عاد کی طرح قتل کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ انکا فساد سب سے بڑھ کر ہے
    ۔
    پس خوارج کی نشانیاں دولتہ کے اندر داخل ہو چکی ہیں۔ علمائے حق انکو خوارج قرار دے چکے ہیں۔اور امرائے جہاد ان سے براءت کا اعلان کر چکے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف ان کی طور بھی مدد نہیں کی جاسکتی ورنہ وہ لوگ بھی انہیں میں شمار ہوں گے۔


    اور پھر اوپر سے داعش نے اپنے افعال کا جواز گھڑنے کے لئے یہ الزامات لگائے کہ اسلامی گروپس نے ہمارے بندوں کو قتل کیا اور بہنوں کی عزتوں کو پامال کیا۔جب غیر جانبدار چیچن مجاہدین نے ان باتوں پر تحقیق کی تو یہ سفید جھوٹ نکلے۔۔۔
    چاہے یہ خوارج پورے عراق و شام پر ہی کیوں نہ قابض ہو جائیں ان کے عقیدے پر کبھی بھی جمع نہیں ہوا جا سکتا۔ چاہے یہ خلافت سے بھی کوئی بڑا لیبل اپنے اوپر چسپاں کر لیں۔ حق پہچاننے کا معیار کتاب و سنت ہے نہ کہ علاقے۔کیونکہ ماضی میں بھی خوارج کے پاس حکومتیں رہی ہیں اور وہ بڑے بڑے علاقوں پر بھی قابض رہے ہیں۔

    لیکن آج انکا کوئی نام و نشان نہیں ہے۔
    ماضی قریب میں خوارج کی مثال الجزائر کے خوارج تھے جن کے پاس اس داعش سے زیادہ علاقے زیادہ سپاہی موجود تھے اور انہوں نے بھی خلافت کا اعلان کیا تھا لیکن آج انکا نام و نشان نہیں ہے
    اگر کسی کا نام زندہ ہے تو وہ مسلمان سچے مجاہدین ہیں ۔
    میرے بھائیوں اسی لئے سچ کا ساتھ دو چاہے وہ تھوڑے ہی کیوں نہ ہوں ۔ کسی کے نعروں اور سلوگن میں نہ آئیں ۔
    کیونکہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
    ان کے نعرے اور ظاہری باتیں دوسرے لوگوں سے اچھی ہوں گی اور متاثر کن ہوں گی۔
    طبراني-المعجم الأوسط 6:186 الرقم 61422 احادیث کے مطابق اسکا کوئی جہاد نہیں جس کے ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ نہیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں