1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

داعش کی اپنے علاقوں میں ہجرت کی دعوت کس حد تک درست ہے؟

'خوارج' میں موضوعات آغاز کردہ از خوشبواسلام, ‏مارچ 16، 2016۔

  1. ‏مارچ 16، 2016 #1
    خوشبواسلام

    خوشبواسلام مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2016
    پیغامات:
    7
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    داعش نے جو ساری دنیا کے مسلمانوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اپنے زیر کنٹرول عراقی اور شامی علاقوں کی طرف ہجرت کر آئیں تو اس میں بہت سی خرابیاں موجود ہیں۔
    [یہ خبر بی بی سی کی ویب سائٹ پر بتاریخ 01 جولائی 2014ء کو نشر ہوئی تھی۔]
    اسلام میں حرام کردہ گروہی تعصب اس طرح جھلکتا ہے اور اسلام کا نام بدنام ہوتا ہے۔
    گروہی تعصب اور اس کے مفاسد:
    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’جو شخص کسی گروہ کے بارے میں یہ ٹھان لیتا ہے کہ جس سے وہ دوستی کرے گا، اسے میں دوست رکھوں گا اور جس سے وہ دشمنی کرے گا، اسے دشمن سمجھوں گا۔ تو ایسا شخص شیطان کے راستہ میں لڑنے والے تاتاریوں جیسا ہے۔
    اسی جیسا شخص نہ مجاہد فی سبیل اللہ ہے، نہ مسلمان فوجی ہے اور نہ ہی اس کا مسلمان فوج کا حصہ ہونا جائز ہے، بلکہ یہ تو شیطانی لشکر کا حصہ ہے۔‘‘
    چہ جائیکہ جاہلوں کے نزدیک ، اور داعش میں تو اکثریت جاہل ہی اکٹھے ہوئے ہیں، اس چیز کو اپنایا جائے کہ مسلمانوں میں سے جو بھی ہجرت کرکے ان کے پاس نہ جائے ، اس کی تکفیر کی جائے۔
    اسی سلسلہ میں ایک لطیفہ بھی سنتے جائیے۔ ابو العباس اَصَمّ کہتے ہیں :
    ایک مرتبہ دو خارجی بیت اللہ کا طواف کررہے تھے۔ ایک دوسرے کو کہنے لگا: ’’یہ جو اتنی مخلوق یہاں پھر رہی ہے، ان میں سے میرے اور تمہارے علاوہ کوئی بھی جنت میں نہیں جائے گا۔‘‘ دوسرا کہنے لگا: ’’جنت تو زمین وآسمان سے بھی بڑی ہے، کیا صرف ہم دونوں کےلیے بنی ہے؟‘‘ پہلا کہنے لگا: ’’ہاں۔‘‘ دوسرے نے کہا: ’’پھر تم ہی اسے سنبھالو۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے خارجیت سے توبہ کرلی۔
    [شرح أصول اعتقاد أھل السنۃ لللالکائي: 2317]
    شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے ہجرت اور اس کے قواعد وضوابط خوب واضح کیے ہیں۔ فرماتے ہیں: ’’نبی کریمﷺ نے فرمایا تھا:
    ’’فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے، لیکن جہاد اور نیت باقی ہے۔ جب تم سے جہاد میں نکلنے کو کہا جائے تو نکل پڑا کرو۔‘‘
    [صحیح البخاري: 2783، صحیح مسلم: 4864]
    دوسری حدیث میں فرمایا: ’’جب تک دشمنوں سے جہاد باقی رہے گا، ہجرت بھی باقی رہے گی۔‘‘
    [مسند أحمد: 22755، السنن الکبریٰ للنسائي: 7926، سنن النسائي: 7748، صحیح ابن حبان: 4866]
    دونوں احادیث ہی صحیح اور برحق ہیں۔ وضاحت یہ ہے کہ پہلی حدیث میں وہ ہجرت مراد ہے جو آپﷺ کے زمانہ مبارک میں ہورہی تھی یعنی مکہ اور دیگر عرب علاقوں سے مدینہ کی طرف ہجرت۔ تو یہ ہجرت تب تک درست تھی جب تک مکہ دار الکفر اور دار الحرب تھا اور مدینہ دار الاسلام تھا۔ لہٰذا صاحب ِ استطاعت پر دار الکفر سے دار الاسلام کی طرف ہجرت کرنا لازم تھا۔
    جب مکہ فتح ہوگیا اور سارا عرب مشرف بہ اسلام ہوگیا تو سارا عرب دار الاسلام بن گیا۔ تب آپﷺ نے فرما دیا: ’’فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے۔‘‘
    کسی بھی خطہ کا دار الکفر، دار الایمان یا دار الفاسقین ہونا ہمیشہ ہمیش کےلیے نہیں ہوتا بلکہ اس کے باشندوں کے اعتبار سے بدلتا رہتا ہے۔
    حاشیہ (یہ بہت ہی باریک فقہی نکتہ ہے جس میں فقہاء غلطی کھاتے رہے ہیں کہ دار الکفر اور دار الاسلام کی تعریف کیا کی جائے؟ بعض معاصرین ابھی تک اسے سمجھ نہیں پا رہے۔ لہٰذا آپ خوب یاد رکھیں۔)
    چنانچہ ہر وہ علاقہ جس کے باشندے مؤمن اور متقی ہوں، وہ اس وقت اولیاء اللہ کا علاقہ کہلائے گا۔ اور جس سرزمین کے باشندے کافر ہوں گے، وہ اس وقت دار الکفر کہلائے گا۔ اسی طرح جس سرزمین کے باشندے فاسق ہوں گے، اس وقت اسے دار الفاسقین کہیں گے۔گویا جس سرزمین میں جس طرح کے لوگ رہتے ہیں، وہ انہی سے منسوب ہوکر دار الکفر، دار الایمان، دار الفاسقین وغیرہ کہلائے گا۔
    اسی طرح اگر مسجد کو شراب خانہ بنا دیا جائے یا وہاں فاسق وظالم رہنے لگیں ، یا اسے شرک کے اڈے گرجا گھر میں بدل دیا جائے تو اپنے باشندوں کے حساب سے اس کا نام بھی بدل جائے گا۔
    اسی طرح اگر شراب خانہ یا دار الفاسقین وغیرہ کو مسجد بنا دیا جائے جس میں رب تعالیٰ کی عبادت شروع ہوجائے تو اسے پھر عبادت خانہ ہی کہا جائے گا۔
    اسی طرح اگر ایک نیک آدمی فاسق وفاجر بن جائے اور کافر مؤمن بن جائے، یا مؤمن کافر ہوجائے وغیرہ تو ہر ایک جس حال میں چلا جائے گا، اس پر وہی حکم لگے گا۔‘‘ انتہی
    [مجموع الفتاویٰ لابن تیمیۃ: 18/281]
    اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اپنے دین کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں