1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

داعش کی حقیقت ؟

'جنگ وجدال' میں موضوعات آغاز کردہ از Salafi Shabir, ‏اگست 02، 2015۔

  1. ‏اگست 02، 2015 #1
    Salafi Shabir

    Salafi Shabir مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 21، 2015
    پیغامات:
    1
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    9

    میں دائش کے بارے میں جاننا چہاتا ہو. مہربانی کر کے کوئی بھائی میری مدد کرے
     
  2. ‏اگست 02، 2015 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,726
    موصول شکریہ جات:
    8,322
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  3. ‏اگست 03، 2015 #3
    ابو حمزہ

    ابو حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 10، 2013
    پیغامات:
    381
    موصول شکریہ جات:
    139
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

    اتنا ذہن میں رکھیں کہ مشرق وسطہ کے حکمرانوں اپنے جال میں پھنسائے رکھنے کے لیے ضروری تھا کہ سی آئے ئی دھشت کا کوئی نیا روپ سامنے لائے بس داعش نکل آیا جس کا سربراہ نیویارک کا فیض یافتہ بھی ہے ۔۔ اللہ تعالی مشرق وسطہ کے حکمرانوں کو سمجھ دے اس جال سے انہیں نکالے قوی امید ہے کہ وہ اس صورتحال کو سمجھتے ہونگے ۔۔ صدام اور قذافی کا فورن مارہ جانا اور لبیا پر فضائی پابندیا ں فورن لگادینا اور پھر بشر اسد کو کھلا چھوڑ دینا کہ شام کے شہریوں پر جہازوں سے بم برسائے ۔۔ اورپر سعودی اتحاد کے حمایت یافتہ اپوزیشن کو نام نہاد خلیفہ کی طرف جہاد کا سامنا رہنا اور دوسریطرف بشر اسد کے جہازوں کے زد میں آنا یہی بتا رہا ہے کہ اصل ٹارگیٹ طاقتور تیل والے ممالک ہیں۔ اللہ تعالی ان کی حفاظت فرمائے داعش کا جہاں بھی مبارک ظہور ہوتا ہے وہ مجاہدین کو ہی نشانہ بناتی ہے۔۔
     
  4. ‏جولائی 12، 2016 #4
    فواد

    فواد رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 28، 2011
    پیغامات:
    434
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    74


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    داعش کے ليڈر البغدادی کا نيويارک سے بس يہی ايک تعلق ہے کہ رپورٹس کے مطابق سال 2009 ميں انھوں نے ايک امريکی فوجی افسر کو نيويارک پہنچ کر "سنگين نتائج" کی دھمکی کا وعدہ کيا تھا۔

    يہ رہا اس رپورٹ کا لنک

    http://www.washingtontimes.com/news/2014/jun/14/ill-see-you-guys-new-york-abu-bakr-al-baghdadis-pa/

    يقينی طور پر يہ کسی ایسے شخص کے الفاظ يا دھمکی نہيں ہو سکتی جو امريکی عوام کے ليے نيک خواہشات رکھتا ہے۔

    ايک ايسا قيدی جو اپنی اسيری کی مدت پوری ہونے کے بعد ان عہديداروں کو دھمکی دے رہا ہے جنھوں نے اسے قید کيا تھا، اس سے يہ توقع ہرگز نہيں کی جا سکتی کہ آج وہ خطے ميں ہمارے ايجنڈے کی تکميل کے ليے اپنی جان خطرے ميں ڈالنے کے ليے تيار ہو جاۓ گا۔ اور يقينی طور پر ہمارے جنگی طياروں کی جانب سے اس کے محفوظ ٹھکانوں پر مسلسل بمباری اور اس کے ظالمانہ تسلط سے علاقے کے لوگوں کو نجات دلانے کے ليے اپنے اسٹريجک اتحادوں کو وسائل کی فراہمی اور مکمل تعاون ايسے اقدامات ہرگز نہيں ہيں جن کی بنياد پر البغدادی اپنے اس بدترين دشمن کے اشاروں پر عمل کرنا شروع کر دے گا جس پر حملے کا اس نے وعدہ کر رکھا ہے۔

    يہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ کچھ راۓ دہندگان جو سال 2009 ميں البغدادی کو رہا کرنے پر امريکہ کو ہدف تنقيد بناتے ہيں اور اس کے تمام مظالم کے ليے ہميں ذمہ دار سمجھتے ہيں، انھی افراد سے اگر گوانتاناموبے کے حوالے سے بات کی جاۓ تو وہ اپنی ہی دليل کو بالکل الٹ ديتے ہيں اور انتہائ جذباتی انداز ميں امريکی حکومت پر اس حوالے سے زور ديتے ہيں کہ وہاں موجود تمام قيديوں کو غير مشروط رہائ ملنی چاہيے۔ گوانتاناموبے کے حوالے سے يہ بات بھی واضح کر دوں کہ تيس سے زائد ممالک ميں ان قيديوں کو منتقل کيا جا چکا ہے اور اس وقت وہاں قيديوں کی تعداد اسی سے کم ہے۔

    http://www.state.gov/secretary/remarks/2016/07/259522.htm


    امريکی حکومت کی کبھی بھی يہ خواہش يا کوشش نہيں رہی کہ دانستہ عالمی سطح پر دہشت گردوں کو متعارف کروايا جاۓ۔ ان افراد کو کيمپ بوکا، گوانتاناموبے اور ديگر مراکز ميں قيد کرنے کا مقصد ہميشہ يہی رہا ہے کہ عام شہريوں کی زندگيوں کو محفوظ کیا جاسکے اور مجرموں کو کيفر کردار تک پہنچايا جاۓ۔ يہ نہيں بھولنا چاہيے کہ ان ميں سے اکثر افراد کو اس وقت گرفتار کيا گيا تھا جب وہ عراق اور افغانستان ميں مسلح کاروائيوں ميں ملوث پاۓ گۓ تھے۔

    يہ دعوی کرنا کہ داعش کا ليڈر يا اس کے حمايتی خطے ميں ہمارے مبينہ مقاصد کے حصول کے ليے اپنی جانيں تک قربان کرنے کے ليے آمادہ ہو جائيں گے، خاصا مضحکہ خيز ہے کيونکہ امريکی طياروں کی فضائ بمباری کے نتيجے ميں ہزاروں کی تعداد ميں داعش کے جنگجو ہلاک ہو چکے ہيں۔ محض چند دن قبل صرف ايک حملے ميں 250 سے زائد داعش کے دہشت گرد ہلاک ہوۓ تھے۔

    http://nypost.com/2016/06/29/us-airstrikes-kill-at-least-250-isis-fighters-in-a-convoy-reports/

    اب ان اعداد وشمار ميں اس اسٹريجک تعاون، فوجی سازوسامان، تربيت اور اينٹيلی جنس کو بھی شامل کر ليں جو ہم بدستور خطے ميں اپنے شراکت داروں اور اتحاديوں کو فراہم کر رہے ہيں تا کہ وہ داعش کے محفوظ ٹھکانوں کو نشانہ بنا سکيں۔ ان حقائق کی روشنی ميں وہ کون سی منطق اور محرک ہے جو داعش کے دہشت گردوں کو اس بات پر قائل کر سکتا ہے کہ وہ ہمارے مبينہ مفادات کے ليے اپنی زندگیاں خطرے ميں ڈاليں؟

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  5. ‏جولائی 13، 2016 #5
    ابو حمزہ

    ابو حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 10، 2013
    پیغامات:
    381
    موصول شکریہ جات:
    139
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

    کیا آپ امریکہ اسٹیٹ ڈپارٹ مینٹ کے ملازم ہیں ؟؟؟
    ویسے میری پوسٹ میں یہ بھی لکھا تھا جس تعلق براہ راست امریکہ سے تھا آپ نے اس کا جواب نہیں دیا۔۔
    """"""
    صدام اور قذافی کا فورن مارہ جانا اور لبیا پر فضائی پابندیا ں فورن لگادینا اور پھر بشر اسد کو کھلا چھوڑ دینا کہ شام کے شہریوں پر جہازوں سے بم برسائے """"""
     
  6. ‏جولائی 15، 2016 #6
    فواد

    فواد رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 28، 2011
    پیغامات:
    434
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    74


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    جی ہاں - يہ درست ہے کہ ميں يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کے ليے کام کرتا ہوں۔

    ميں جب کسی موضوع پر اپنی راۓ کا اظہار کرتا ہوں تو وہ اس موضوع پر يو – ايس – اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ اور امريکی حکومت کے سرکاری موقف کی بنياد پر ہوتا ہے۔ اس کا موازنہ آزاد ميڈيا پر کسی نيوز رپورٹ يا اخباری کالم سے نہيں کيا جا سکتا۔ آپ يقينی طور پر ميری راۓ سے اختلاف کر سکتے ہيں۔ آپ اس بات کا حق رکھتے ہيں کہ کسی بھی موضوع کے حوالے سے اپنی آزاد راۓ قائم کريں۔

    ہماری ٹيم براہراست يو – ايس – اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ سے منسلک ہے۔ لہذا اس حوالے سے کسی موضوع پر ميری راۓ امريکی حکومت کے سرکاری موقف کو واضح کرتی ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/

    https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/

    [​IMG]
     
  7. ‏جولائی 16، 2016 #7
    ابو حمزہ

    ابو حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 10، 2013
    پیغامات:
    381
    موصول شکریہ جات:
    139
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

    اوکے لیکن آپ نے میرے بات کا جواب پھر بھی نہین دیا۔۔
    """""""""""""""""""""
    یعنی صدام اور قذافی کا فورن مارہ جانا اور لبیا پر فضائی پابندیا ں فورن لگادینا اور پھر بشر اسد کو کھلا چھوڑ دینا کہ شام کے شہریوں پر جہازوں سے بم برسائے؎

    """""""""""""""
     
  8. ‏جولائی 22، 2016 #8
    فواد

    فواد رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 28، 2011
    پیغامات:
    434
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    74


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    کوئ بھی عالمی تنازعہ يا ايشو اور اس پر امريکی اور عالمی ردعمل اس وقت کی سياسی اور علاقائ صورت حال کی بنياد پر ہوتا ہے۔ زمينی حقائق، فريقین ميں اتفاق راۓ اور ممکنہ نتائج کی بنياد پر سياسی عزم ايسے عوامل ہيں جو فيصلہ سازی کے عمل ميں کليدی کردار ادا کرتے ہيں۔

    تاريخ کے دو مختلف ادوار ميں دو مختلف تنازعات کو ايک ہی معيار پر پرکھنا درست نہيں ہے کيونکہ مروجہ عوامل، ممکنہ اثرات ونتائج اور سياسی وجغرافيائ ترجيحات کبھی بھی يکساں نہيں ہوتيں۔

    امريکی حکومتی حلقے خود کو "عالمی تھانيدار" نہيں سمجھتے اور ديگر امور کی طرح خارجہ پاليسی کے حوالے سے مختلف ايشوز پر بھی ہر سطح پر بحث اور نقطہ چينی کا عمل جاری رہتا ہے۔ کسی بھی ملک کی طرح امريکی حکومت بھی مختلف عالمی امور پر اپنا نقطہ نظر اور موقف عالمی برادری اور متعلقہ حکومتوں تک باہمی طے شدہ سفارتی اور انتظامی ذرائع اور فورمز کے ذريعے پہنچاتی ہے۔ يہ ايک غير منطقی اور اور ناقابل فہم سوچ ہے کہ امريکہ ہر اس ملک کے خلاف جنگی محاذ کھول لے جہاں پر طرز حکومت اور انسانی حقوق سے متعلق قوانين امريکی معاشرے ميں رائج اصولوں سے مطابقت نہيں رکھتے۔

    ريکارڈ کی درستگی کے ليے يہ واضح کر دوں کہ صدام کی حکومت کے خلاف فوجی کاروائ اس بنا پر نہيں کی گئ تھی کہ امريکہ وہاں پر مخصوص اقدار يا نضام رائج کرنے کا خواہش مند تھا۔ اس ضمن ميں ايک دہائ پر محيط واقعات کا تسلسل، سفارتی طور پر مکمل ڈيڈ لاک اور اس تاريخی تناظر کو بھی مد نظر رکھنا ضروری ہے جو صدام حکومت کے خلاف امريکی اقدامات کی وجہ بنا۔

    ستمبر 11، 2001 کے سانحے کے بعد امريکہ ميں يہ تشويش پائ جاتی تھی کہ حکومت کو ہر وہ قدم اٹھانا چاہيے جو مستقبل ميں امريکہ اور عالمی برادری کو دہشت گردی کے مزيد واقعات سے محفوظ رکھ سکے۔ اس ضمن ميں عراق کی جانب سے اپنے ہمسايہ ممالک پر حملوں کی تاريخ، کيميائ ہتھياروں کا بے دريخ استعمال اور دہشت گرد تنظيموں کی پشت پناہی امريکی تشويش ميں اضافے کا سبب بن رہی تھی۔

    اس کے علاوہ عراق کی حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ کو کيمياوی ہتھياروں کے ضمن ميں معلومات کی فراہمی سے انکار سال 1991 ميں جنگ بندی کے خاتمے کے معاہدے اور منظور شدہ مينڈيٹ کی واضح خلاف ورزی تھی۔ عراق کی حکومت نے وہ شرائط پوری نہيں کی تھيں جن کا مطالبہ اقوام متحدہ کی جانب سے کيا گيا تھا۔

    اس بات ميں کوئ شک نہيں کہ اس بات پر بحث کی جا سکتی ہے کہ آيا سال 2003 ميں عراق کے خلاف طاقت کا استعمال ہی بہترين آپشن تھا يا نہيں – ليکن صدام حسين کی تشدد سے پر تاريخ سے انکار نہيں کيا جا سکتا۔

    ميں يہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ عراق کے خلاف فوجی کاروائ کا فيصلہ کسی غير متعلقہ ملک کے خلاف کيا جانے والا جذباتی فيصلہ ہرگز نہيں تھا۔

    حکومت کی ہر سطح پر کئ ماہ تک اس مسلۓ پر بحث کی گئ تھی جس کے بعد اجتماعی سطح پر يہ فيصلہ کيا گيا تھا

    جہاں تک شام ميں جاری تنازعے کا تعلق ہے تو اس معاملے ميں بھی امريکہ نے شام ميں سياسی تبديلی کے ليے جاری عالمی کاوشوں کے ضمن ميں کليدی کردار ادا کيا ہے اور يہ واضح کر ديا ہے کہ شام ميں صورت حال کے حل ميں اسد کا کوئ کردار نہيں ہو سکتا۔

    علاوہ ازيں ہم نے ان لاکھوں بے گھر مہاجرين کی بحالی کے ليے بے شمار وسائل وقف کيے ہيں جو شامی حکومت کے جرائم کی وجہ سے اپنے گھر بار سے محروم ہو گۓ ہيں۔


    http://www.state.gov/r/pa/prs/ps/2016/07/259622.htm

    صدر اوبامہ نے کئ موقعوں پر امريکی حکومت کی اس پاليسی کا اعادہ کيا ہے کہ امريکی فوجيوں کو شام ميں نہيں بھيجا جاۓ گا۔ يہ اصولی موقف زمينی صورت حال اور خطے کے فريقين کی جانب سے دائمی امن کے ليے موثر کردار ادا کرنے کی ضرورت کی بنياد پر ہے۔

    صدر اوبامہ نے ہماری حکمت عملی کی وسعت اور ہمارے اہداف واضح طور پر بيان کر ديے ہيں۔

    "ميں چاہتا ہوں کہ امريکی عوام اس بات کو سمجھيں کہ ہماری کوشش عراق اور افغانستان ميں جنگوں سے مختلف ہو گی۔ بيرونی زمين پر امريکی افواج کی موجودگی اس کا حصہ نہيں ہو گی"

    علاوہ ازيں اہم بات يہ ہے کہ ہماری کاوشيں اس وسيع عمل کا حصہ ہوں گی جس ميں علاقائ شراکت دار اور اسٹريجک اتحادی بھی شامل ہوں گے جو آئ ايس آئ ايس کی خونی مہم سے اسی نوعيت کا خطرہ محسوس کر رہے ہيں۔
    جہاں تک اس تنازعے کے حوالے سے امريکی کردار کا سوال ہے تو ہماری جانب سے اس معاملے کے پرامن حل کے ليے تمام فريقين پر اشتراک عمل کے ليے زور ديا گيا ہے۔ علاوہ ازيں ہم اس حقيقت کو بھی اجاگر کر رہے ہيں کہ اس ضمن ميں پائيدار اقدامات نا اٹھانے کی صورت ميں جو ممکنہ صورت حال سامنے آ سکتی ہے اس ميں شام ميں پرتشدد واقعات ميں اضافہ خطے کے ديگر ممالک پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے جن میں ہمارے اہم ترين اتحادی اور شراکت دار بھی شامل ہيں۔

    اس حوالے سے کوئ ابہام يہ غلط فہمی نہيں ہونی چاہيے کہ زمين پر پيش آنے والے واقعات کے تسلسل نا تو امريکی اختيار ميں ہيں اور نا ہی يہ امريکہ کے زير نگرانی ہو رہے ہيں۔ بلکہ حقيقت تو يہ ہے کہ خطے اور ملک کے مستقبل کے ضمن ميں فيصلوں کے ليے فريقین پر کسی قسم کے مبينہ اثر اور اس ضمن ميں الزامات کے برعکس ہمارے تو فوجی بھی زمين پر موجود نہيں ہيں۔​


    [​IMG]
     
  9. ‏جولائی 23، 2016 #9
    فواد

    فواد رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 28، 2011
    پیغامات:
    434
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    74


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    آپ يہ کہنا چاہ رہے ہيں کہ امريکی حکومت نے آئ ايس آئ ايس کو تخليق کيا تا کہ خود ہمارے ہی شہريوں کو ہلاک کيا جا سکے اور خود ہمارے ہی اتحادی اور شراکت داروں کے خلاف خونی حملے کيے جا سکيں؟ آپ کو اس سے بہتر کہانی تخليق کرنے کی ضرورت ہے کيونکہ اس قسم کے مضحکہ خيز مفروضات ہم پہلے بھی پڑھ چکے ہيں اور ہم بارہا ايسی سوچ رکھنے والوں سے يہ دريافت کر چکے ہيں کہ وہ اپنی ان کہانيوں کے ضمن ميں کوئ قابل قبول ثبوت بھی تو پيش کريں مگر وہ جو کہتے ہيں نا کہ "جھوٹ کے پاؤں نہيں ہوتے"۔

    سادہ سا سوال ہے۔ آپ اپنے اہم ترين اثاثوں کے ساتھ کيا سلوک روا رکھتے ہيں؟ کيا ان کی مدد کی جاتی ہے يا ان پر بم برساۓ جاتے ہيں؟

    اگر آّپ کے پيش کردہ خيالات درست ہوتے اور ہم آئ ايس آئ ايس کے پس پردہ حامی ہیں تو پھر ہم خطے ميں اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر آئ ايس آئ ايس کے محفوظ ٹھکانوں پر حملے کيوں کر رہے ہيں۔ آپ کی اطلاع کے ليے عرض ہے کہ گزشتہ برس سے اب تک امريکی فوج کی بمباری کے نتيجے ميں 12 ہزار کے قريب آئ ايس آئ ايس کے جنگجو ہلاک ہو چکے ہيں۔


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/

    https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
    [​IMG]
     
  10. ‏جولائی 25، 2016 #10
    ابو حمزہ

    ابو حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 10، 2013
    پیغامات:
    381
    موصول شکریہ جات:
    139
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

    اس مین تو کئی شک کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے کہ امریکی حکومت خود تھانیدار سمجھتے ہیں بلکہ وہ خود کو دنیا کا بادشاھ سمجھتی ہے۔دنیا کے ملکوں کے اندر تبدیلی امریکی خواہش سے ہوتی ہے """جس کی طرف ٹرمپ نے کل اشارہ کیا تھا کہ امریکا کو ایسا نہیں کرنا چاہئے""""""۔ انہوں شام کے تنازعہ کو جان بوجھ کر خراب کیا ہے ان کی نظر کردستان پر ہے ۔۔۔ وہ اس وقت صرف کردوں کی مدد کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے علاوہ کسی کی نہیں اور امریکیوں کی اس دوغلی پالیسی کی وجہ سے یورپ کو مھاجرت کا سمنا کرنا پڑ رہا ہے۔۔۔۔ امریکیوں کو چاہئے کہ بشر اسد کے خلاف کاروائی کریں وہ بھت ظلم کر رہا ہے داعش سے بھی زیادہ۔۔ اس سےان کی ایران سے دوستی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں