1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

داعش کی حقیقت ؟

'جنگ وجدال' میں موضوعات آغاز کردہ از Salafi Shabir, ‏اگست 02، 2015۔

  1. ‏اگست 01، 2016 #11
    فواد

    فواد رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 28، 2011
    پیغامات:
    434
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    74



    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    حاليہ تجزيے کے مطابق جولائ 9 تک شام سے ہمسايہ ممالک تک سفر کرنے والے پناہ گزينوں کی تعداد 4 ملين سے تجاوز کر گئ ہے جس کے بعد يو اين ہائ کمشنر فار ريفيوجز کے ادارے کے مطابق گزشتہ 25 برسوں کے دوران دنيا بھر ميں يہ پناہ گزينوں کے حوالے سے سب سے بڑا بحران بن چکا ہے۔

    جو راۓ دہندگان شام کے معاملے ميں امريکی حکومت پر انگلياں اٹھا رہے ہيں انھيں چاہيے کہ اس ضمن ميں حقائق اور اعداد وشمار کا بغور جائزہ ليں۔

    امريکہ کے سخت ترين ناقد کو بھی اس حقيقت کو سمجھ لينا چاہيے کہ امريکی حکومت کی جانب سے جو امداد مہيا کی جا رہی ہے اس کا محور اور مقصد يہ ہے کہ شام کے ان لوگوں تک زندگی کی بنیادی ضروريات پہنچائ جائيں جو ايک آمر کی حکومت ميں اس کے ظلم کا شکار ہيں۔

    اس ضمن ميں کچھ اعداد وشمار

    https://www.usaid.gov/crisis/syria

    پناہ گزينوں کو خوش آمديد کہنے کے ضمن ميں امريکہ کی ايک طويل تاريخ اور روايت رہی ہے اور سال 2016 ميں بھی ہم ہزاروں کی تعداد ميں شامی پناہ گزينوں کو ہر ممکن مدد فراہم کريں گے۔

    سال 2011 سے اب تک 524 شامی پناہ گزين امريکہ ميں ايک نئ زندگی کا آغاز کر چکے ہيں۔ اور اسی طرح سال 2016 کے ليے بھی يہ تعداد ہزاروں ميں ہو گی۔

    وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس امر کی تصديق کی جا چکی ہے کہ اگلے برس دنيا بھر سے ستر ہزار کے قريب پناہ گزينوں کو امريکہ ميں مستقل رہائش فراہم کی جاۓ گی۔ اس ميں سے 33000 کا تعلق مشرق وسطی اور شام سے ہو گا۔ اگرچہ شام سے آنے والے پناہ گزينوں کی حتمی تعداد کا تعين اس وقت نہيں کيا جا سکا ہے، تاہم قياس يہی ہے کہ مستقبل قريب ميں امريکہ ميں پناہ حاصل کرنے والے مہاجرين ميں سب سے زيادہ تناسب شام سے آنے والے شہريوں کا ہی ہو گا۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/

    https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
    [​IMG]
     
  2. ‏اگست 01، 2016 #12
    فواد

    فواد رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 28، 2011
    پیغامات:
    434
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    74



    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    ستم ظريفی ديکھيں کہ ايک جانب تو کچھ راۓ دہندگان اس بنياد پر امريکہ کے خلاف نفرت کو درست قرار ديتے ہیں کہ امريکہ ايک طاغوتی قوت ہے جو دنيا بھر ميں اپنے سياسی حل مسلط کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ دوسری جانب وہی راۓ دہندگان ديگر جاری عالمی تنازعات کے حوالے دے کر امريکہ پر يہ الزام لگاتے ہيں ہے کہ ہم کوئ کاروائ نا کر کے براہ راست ان انسانی زيادتيوں کے ذمہ دار ہیں۔

    امريکی حکومت کو "عالمی تھانيدار" کا رول ادا کرنے کی خواہش ہے اور نہ ہی اس کی کبھی کوشش کی گئ ہے۔ ايسی بہت سی مثاليں موجود ہيں جہاں يا تو ديگر ممالک نے معاملات کے حل کے ليے راہنمائ کی ہے يا امريکہ نے دوست اور اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر اہم عالمی مسائل کے حل کے ليے اپنا کردار ادا کيا ہے۔

    اس ميں کوئ شک نہيں ہے کہ افغانستان ميں طالبان حکومت کی حفاظت ميں القائدہ اور اس کے حواريوں کے محفوظ ٹھکانوں کو نيست ونابود کرنے کے ليے ہونے والی فوجی کاروائ ميں امريکہ نے براہراست راہنمائ فراہم کی تھی۔ تاہم يہ نہيں بھولنا چاہيے کہ ہماری جانب سے افغانستان ميں فوجی کاروائ کا فيصلہ بادل نخواستہ اس وقت کرنا پڑا جب تاریخ کے سب سے بڑے دہشت گردی کے واقعے ميں ہزاروں امريکی شہری اپنی جان سے ہاتھ دھو بيٹھے اور اس تناظر ميں ہم ايک ايسے براہراست فريق تھے جسے نشانہ بنايا گيا تھا اور دنيا بھر ميں اپنے شہريوں کو القائدہ کے عفريت سے محفوظ رکھنے کے ليے ہميں ہر ممکن اقدامات اٹھانا تھے۔

    جہاں تک شام کا تعلق ہے تو امريکی حکومت اور صدر اوبامہ نے واضح کر ديا ہے کہ اس تنازعے کا ديرپا اور مستقل حل صرف مقامی فريقين کی جانب سے ہی آ سکتا ہے جنھيں ايک ايسی حکومت کے خلاف کھڑا ہونے کی ضرورت ہے جو دانستہ اور جانتے بوجھتے ہوۓ اپنی ہی شہريوں کو ہلاک کرنے کے درپے ہے۔

    اس ميں کوئ شک نہيں کہ شام کے سرحدوں سے دور عالمی برادری کو بے انتہا تشويش اور تحفظات ہيں اور امريکہ بھی اس ميں شامل ہے۔ تاہم مشرق وسطی کے بے شمار ممالک کے اسٹريجک اتحادی اور شراکت دار کی حيثيت سے مقامی حکومتوں اور متعلقہ حکام کی مرضی و منشاء، مساوی سياسی ذمہ داری کے ادراک اور کاوشوں کے بغير امريکہ فيصلے اور حل زبردستی مسلط کرنے کی پوزيشن ميں نہيں ہے۔

    شام کے معاملے کے حوالے سے يہ نقطہ بھی اہم ہے کہ ہمارے اقدامات ايک ايسی وسيع اجتماعی کوشش کا حصہ رہيں گے جس ميں وہ مقامی اسٹريجک اتحادی بھی شامل رہيں گے جو شام کی سرحدوں سے ابلنے والے تشدد اور اس ضمن ميں موجود خطرات کی زد ميں ہيں۔

    شام ميں خانہ جنگی کئ برسوں سے جاری ہے اور اسد حکومت کی جانب سے غير انسانی جرائم کے خلاف ہمارے مستقل موقف کے باوجود ہم نے کبھی بھی ايک ايسے تنازعے ميں براہراست کردار ادا کرنے کی سعی نہيں کی جس ميں ہم براہراست فريق نہيں ہيں۔ اس وقت بھی صدر اوبامہ نے واضح کر ديا ہے کہ شام ميں امريکی فوجيں بيجھنا قابل قبول حکمت عملی نہيں ہے۔ ​

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu
    [​IMG]
     
  3. ‏اگست 02، 2016 #13
    ابو حمزہ

    ابو حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 10، 2013
    پیغامات:
    381
    موصول شکریہ جات:
    139
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

    ویسے پھر عراق و لیبیا کو تباھ کیوں کیا وہاں کی حکومت نے تو آپ کے شہریوں کا کچھ نہین بگاڑا ۔۔نہ ہی آپ وہاں فریق تھے۔۔۔۔ ویسے بگاڑا تو افغانوں نے بھی کچھ نہیں تھا ۔۔
     
  4. ‏اگست 04، 2016 #14
    فواد

    فواد رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 28، 2011
    پیغامات:
    434
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    74


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    اگر امريکی حکومت اتنی بااثر اور وسائل سے مالا مال ہے کہ تن تنہا ہزاروں ميل دور بيرون ممالک کی حکومتيں اپنی مرضی سے تبديل کر سکتی ہے تو پھر آپ اس حقيقت کو کيسے رد کريں گے کہ خود امريکہ کے اندر امريکی صدور اپنے ہی اليکشنز ميں شکست کھا جاتے ہيں؟

    طاقت اور اثر ورسوخ کا آغاز تو اپنے گھر سے ہی ہوتا ہے۔

    اگر امريکی حکومتوں، صدور اور انتظاميہ کو خود اپنی ہی سرحدوں کے اندر اپنے فيصلوں اور پاليسيوں پر عمل درآمد کے ليے قانون دانوں اور عام ووٹروں کو قائل اور مطمن کرنا پڑتا ہے تو پھر يقین رکھيں کہ بيرونی حکومتوں اور سربراہان مملکت کو اپنے حکومتی معاملات کی انجام دہی کے ليے ہمارے "حکم" اور خواہش کی کو‏ئ ضرورت نہيں ہے۔

    کيا يہ درست نہيں ہے کہ اکثر فورم پر انتہائ شدومد اور يقين کے ساتھ ان بھونڈی سازشی کہانيوں کی ترويج کی جاتی رہی ہے کہ کس طرح امريکہ نے پوری اسلامی دنيا ميں حکومتی سطح پر اپنی کٹھ پتلياں مسلط کر رکھی ہيں اور خطے ميں اپنے مفادات کی تکميل کے ليے امريکہ ان "اثاثوں" کو استعمال کرتا رہتا ہے۔

    اب اگر بحث کی حد تک يہ فرض کر ليا جاۓ کہ آپ جو کہہ رہے ہيں وہ درست ہے تو پھر سوال يہ پيدا ہوتا ہے کہ امريکہ کيونکر اپنے ہی اثاثوں کے ساتھ مل کر خفيہ طور پر کام کر کے ايسی صورت حال پيدا کرے گا جس کے بعد امريکہ کے يہ "قيمتی اثاثے" نا ہی حکومت ميں رہيں گے اور نا ہی فعال رہ سکيں گے؟

    سازشی کہانيوں کی دنيا کے مروجہ اصولوں کو بھی اگر مد نظر رکھا جاۓ تو يہ دونوں متضاد دلائل ايک ہی وقت ميں درست نہيں ہو سکتے۔ ليکن جو پرجوش راۓ دہندگان تخلياتی دنيا ميں رہنا پسند کرتے ہيں وہ ايسی منطق اور شعور کو اپنی تخليقی صلاحيتوں کی راہ ميں رکاوٹ نہیں بننے ديتے۔

    علاوہ ازيں، اسلامی دنيا ميں واقعات کے تسلسل کو کنٹرول کرنے اور ان پر اثرانداز ہونے کے ليے امريکہ پر الزام دھرنے کا مطلب يہ ہے کہ مختلف اسلامی ممالک ميں ہزاروں کی تعدار ميں عام شہريوں کا سڑکوں پر نکلنا اور مختلف معاملات کے ضمن ميں اپنی حکومت کے خلاف احتجاج کرنا اور اسلامی ممالک ميں بھی جاری کسی بھی قسم کی عوامی تحريکوں کی آپ کے نزديک کوئ وقعت نہيں کيونکہ آپ کے نزديک تو يہ امريکی حکومت ہی ہے جو اپنے ان ديکھے ايجنڈوں کے ذريعے مسلم ممالک ميں حکومتوں اور آمروں کو تبديل کر ہی ہے۔ وہی آمر جنھيں ماضی ميں امريکی کٹھ پتلياں قرار ديا جاتا رہا ہے۔ گويا امريکی اپنے ہی وسائل کے ذريعے اپنے ہی قيمتی اثاثوں کو ملياميٹ کرتا چلا جا رہا ہے​

    [​IMG]
     
  5. ‏اگست 05، 2016 #15
    ابو حمزہ

    ابو حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 10، 2013
    پیغامات:
    381
    موصول شکریہ جات:
    139
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

    اس سے زیادہ بھونڈہ اور بد صورت جواب میں نے کبھی نہیں پڑھا اور آپ کی باقی کی تحریر جو میں نے مٹادی ہے اس میں اس کی تشریح ہے جومیں چھوڑی ہے۔۔۔

    مجھے پوسٹ نمبر 13 کا جواب چاہئے
     
  6. ‏اگست 05، 2016 #16
    فواد

    فواد رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 28، 2011
    پیغامات:
    434
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    74

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    امريکی حکومت کا مقصد کسی بھی موقع پرافغانستان کو فتح کرنا ہرگز نہيں رہا۔ اس ناقابل ترديد حقيقت کی بنياد صدر اوبامہ سميت امريکہ کی تمام سول اور فوجی قيادت کی جانب سے واضح اور آن ريکارڈ پاليسی ہے۔ ميں اس نقطے کو بھی واضح کرنا چاہوں گا کہ افغانستان ميں ہماری موجودگی اقوام متحدہ کی جانب سے منظور شدہ وسيع پيمانے پر عالمی کوششوں کا حصہ ہے۔

    اس وقت افغانستان ميں مقامی حکومت کے تعاون اور اشتراک عمل سے جاری صحت، تعليم اور روزگار سے متعلق بے شمار امريکی ترقياتی منصوبے واضح ثبوت ہيں کہ امريکہ افغانستان کو فتح کرنے کی کوشش نہيں کر رہا۔ بلکہ حقيقت اس کے برعکس ہے۔

    افغانستان ميں ہمارا اصل فوکس افغان اداروں کی صلاحيت اور افاديت ميں بہتری لانا ہے تا کہ وہ دہشت گردی سے درپيش خطرات کا سامنا کر سکيں اور عوام تک معاشی امداد کی ترسيل فعال طریقے سے کر سکيں۔ اس ضمن میں ہماری خصوصی توجہ اور اعانت زرعی شعبے ميں ذريعہ معاش کے مواقع پيدا کرنے سے متعلق ہے جس کا مقصد طالبان کے زير اثر پوست کی کاشت کی روک تھام کو يقينی بنانا ہے۔

    مارچ 2009 ميں اپنی پاليسی کے اعلان کے بعد سے امريکہ نے افغانستان ميں سول امداد کے نظام ميں بنيادی تبديلياں وضح کی ہيں جس کے نتيجے ميں اب امداد کی فعال تقسيم تمام سول ايجينسيوں اور مقامی افغان قائدين کے ذريعے کی جا رہی ہے جس کے نتيجے ميں نہ صرف يہ کہ امداد کی ترسيل افغان عوام تک ممکن ہوئ ہے بلکہ اس کے مثبت اثرات کے نتيجے ميں دہشت گردی کو شکست دينے کے بنيادی مقصد ميں بھی پيش رفت ہوئ ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/

    https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/

    [​IMG]
     
  7. ‏اگست 05، 2016 #17
    فواد

    فواد رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 28، 2011
    پیغامات:
    434
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    74


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    يہ بات خاصی دلچسپ ہے کہ اردو کے قريب تمام فورمز پر ليبيا ميں بحران کے حوالے سے جو بھی بحث ہو رہی ہے اس کا مرکزی محور اس سارے تنازعے میں امريکہ کی شموليت ہے باوجود اس کے کہ حقيقت يہ ہے کہ امريکہ محض ايک وسيع عالمی کوشش کا حصہ رہا ہے جس ميں بے شمار اسلامی ممالک بھی شامل ہيں۔ فورمز پر ايسے بے شمار راۓ دہندگان ہيں جو اکثر امريکہ پر کشمير سميت ايسے کسی بھی عالمی معاملے ميں مداخلت نہ کرنے کی وجہ سے شديد تنقید کرتے ہیں جس کے بارے ميں وہ شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ ليکن اسی سانس ميں وہ امريکہ پر اس وقت تابڑ توڑ لفظی حملے بھی شروع کر ديتے ہیں جب فريقين کے مابين فاصلے کم کرنے يا کسی عالمی مسلۓ کے حل کے ليے امريکی حکومت کسی کاوش کا آغاز کرتی ہے۔ ميں آپ کو يقين دلاتا ہوں کہ اگر قذافی کی جانب سے بن غازی پر حملے کيے جانے کے دعوے کو عملی جامہ پہنايا جاتا اور ہم اس معاملے ميں مداخلت نہ کرتے تو يہی ناقدين ہميں اپنا نشانہ بناتے۔

    ميڈيا کے کئ کہنہ مشق تجزيہ نگار جو اکثر اوقات عراق ميں امريکہ کی فوجی کاروائ کے حوالے سے تنقيد کرتے ہيں وہی 90 کی دہائ میں امريکی حکومت پر اس بنياد پر تنقيد کرتے تھے کہ امريکی حکومت عراق ميں اپنی کٹھ پتلی حکومت کو بچانے کے ليے ايک ظالم آمر کے خلاف کاروائ کرنے سے گريزاں ہے باوجود اس کے کہ اس نے اپنی عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑ ڈالے ہیں۔

    ہر تنازعہ اپنی پيچيدگی کے حوالے سے مختلف اور ايک جامع تجزيے اور مخصوص اقدامات کا متقاضی ہوتا ہے۔ امريکہ اپنے عالمی اتحاديوں بشمول علاقائ تنظيموں، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں سے مشاورت کرنے کے بعد کسی بھی تنازعے کے حوالے سے ردعمل کا فيصلہ کرتا ہے۔ اس تناظر ميں يہ کوئ انہونی بات نہيں ہے مختلف عالمی تنازعات کے حوالے سے امريکہ کا کردار متنوع ہو سکتا ہے۔

    بدقسمتی سے جو افراد امريکہ کی جانب سے کی گئ ہر عالمی کوشش کو مسلمانوں کے وسائل کے قبضے کی سازش سے تعبير کرتے ہيں اور اس ضمن ميں جذباتی نعروں اور دلائل کا سہارہ ليتے ہيں وہ حقائق اور سچ کو نظرانداز کرتے ہیں۔ ميں چاہوں گا کہ آپ ان امريکی وسائل پر بھی نظر ڈاليں جو ايک ايسے عالمی مسلۓ ميں انسانی جانوں کو محفوظ کرنے کے ليے خرچ کيے جا رہے ہيں جسے نہ تو امريکی حکومت نے شروع کيا تھا اور نہ ہی اس کی حوصلہ افزائ کی تھی۔

    يو ايس کے آئ ڈی کے توسط سے ابھی سے 10 ملين ڈالرز کی رقم ہنگامی بنيادوں پر امداد کی مد ميں عالمی تنظيموں، غیر سرکاری اداروں اور ليبيا کی ريڈ کراس سوسائٹی کے حوالے کی جا چکی ہے تا کہ فوری ضروريات کو پورا کيا جا سکے۔

    تشدد کے بڑھتے ہوۓ واقعات کے پيش نظر ليبيا ميں انسانی حقوق کی صورت حال خاصی ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ معلومات تک رسائ بھی ايک رکاوٹ ہے ليکن اس کے باوجود امريکہ فعال طريقے سے اپنی کوششيں جاری رکھے ہوۓ ہے اور اس مشکل گھڑی ميں ليبيا کے عوام کی ہر ممکن مدد کے ليے تيار ہے۔

    يو ايس اے آئ ڈی نے خطے ميں تمام امريکی خوراک کے مراکز، ان کی سپلائ اور ذخيروں کے حوالے سے معلومات حاصل کر لی ہيں اور ضرورت پڑنے پر خوراک کے مزيد ذخائر کی بھی ليبيا ميں سپلائ کو يقينی بنايا جا رہا ہے۔

    اس معاملے ميں ہماری مداخلت سے انسانی جانوں کو بچانا ممکن ہوا ہے اور اس عالمی مسلۓ میں ہماری شموليت کا يہی بنيادی مقصد ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/

    https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
    [​IMG]
     
  8. ‏اگست 06، 2016 #18
    فواد

    فواد رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 28، 2011
    پیغامات:
    434
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    74


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    عراق ميں فوجی کاروائ اور ڈبليو – ايم – ڈی ايشو کے حوالے سے امريکی حکومت کا موقف پہلے بھی اس فورم پر پيش کيا جا چکا ہے۔

    اس حوالے سے يہ اضافہ بھی ضروری ہے کہ اگر سال 2003 ميں امريکی حملے سے پہلے عراق کی صورت حال اور اس پر عالمی راۓ عامہ کا جائزہ ليں تو يہ واضح ہے کہ عالمی برداری اور بالخصوص امريکہ پر صدام حسين کی جانب سے عراقی عوام پر ڈھاۓ جانے والے مظالم پر خاموشی اور مناسب کاروائ نہ کرنے پر مسلسل شديد تنقيد کی جاتی رہی ہے۔ کئ غير جانب دار تنظيموں کی جانب سے ايسی بے شمار رپورٹس ريکارڈ پر موجود ہيں جن ميں عراقی عوام پر ڈھاۓ جانے والے مظالم کی داستانيں رقم ہیں۔

    جب ڈبليو – ايم – ڈی کا معاملہ دنيا کے سامنے آيا تو صدام حسين نے اس ضمن ميں تعاون اور عالمی برداری کی جانب سے اٹھاۓ جانے والے سوالات کا جواب دينے سے صاف انکار کر ديا۔ يہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ 911 کے واقعات کے بعد کسی بڑی دہشت گردی کی کاروائ کوئ غير حقيقی يا ناقابل يقين بات نہيں تھی۔

    يہ درست ہے کہ امريکہ کی جانب سے عراق ميں کاروائ کی بڑی وجہ ڈبليو – ايم – ڈی ايشو کے حوالے سے امريکہ کے تحفظات تھے۔ يہ بھی درست ہے کہ ڈبليو – ايم – ڈی کے حوالے سے انٹيلی جينس غلط ثابت ہوئ۔ ليکن انٹيلی جينس رپورٹس کی ناکامی کسی بھی صورت ميں صدام حسين کو "معصوم" ثابت نہيں کرتيں۔ صدام حسين ايک ظالم حکمران تھا جس کی حکومت عراق کے ہمسايہ ممالک سميت خود عراق کے اندر بے شمار انسانوں کی موت کا سبب بنی۔

    امريکہ کی خارجہ پاليسی کے حوالے سے کيے جانے والے سارے فيصلے مکمل اور غلطيوں سے پاک نہيں ہيں اور نہ ہی امريکی حکومت نے يہ دعوی کيا ہے کہ امريکہ کی خارجہ پاليسی 100 فيصد درست ہے۔ اس ميں کوئ شک نہيں کہ عراق ميں مہلک ہتھياروں کے ذخيرے کی موجودگی کے حوالے سے ماہرين کے تجزيات غلط ثابت ہوۓ۔ اور اس حوالے سے امريکی حکومت نے حقيقت کو چھپانے کی کوئ کوشش نہيں کی۔ بلکل اسی طرح اور بھی کئ مثاليں دی جا سکتی ہيں جب امريکی حکومت نے پبلک فورمز پر اپنی پاليسيوں کا ازسرنو جائزہ لينے ميں کبھی قباحت کا مظاہرہ نہيں کيا۔

    اس ايشو کے حوالے سے امريکی حکومت کے علاوہ ديگر ممالک کو جو مسلسل رپورٹس ملی تھيں اس ميں اس بات کے واضح اشارے تھے کہ صدام حسين مہلک ہتھياروں کی تياری کے پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس حوالے سے صدام حسين کا ماضی کا ريکارڈ بھی امريکی حکام کے خدشات ميں اضافہ کر رہا تھا۔ نجف، ہلہ،ہلاجہ اور سليمانيہ ميں صدام کے ہاتھوں کيميائ ہتھیاروں کے ذريعے ہزاروں عراقيوں کا قتل اور 1991 ميں کويت پر عراقی قبضے سے يہ بات ثابت تھی کہ اگر صدام حسين کی دسترس ميں مہلک ہتھياروں کا ذخيرہ آگيا تواس کے ظلم کی داستان مزيد طويل ہو جاۓ گی۔ خود صدام حسين کی جانب سے مہلک ہتھياروں کو استعمال کرنے کی دھمکی ريکارڈ پر موجود ہے۔ 11 ستمبر 2001 کے حادثے کے بعد امريکہ اور ديگر ممالک کے خدشات ميں مزيد اضافہ ہو گيا۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/

    https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/

    [​IMG]
     
  9. ‏اگست 08، 2016 #19
    ابو حمزہ

    ابو حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 10، 2013
    پیغامات:
    381
    موصول شکریہ جات:
    139
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

    اقوام متحدہ کا زکر کرکہ آپ افغانستان ، عراق وغیرہ میں لاکھوں معصوم لوگوں کے خون سے خود کو صاف نہیں کر سکتے ۔۔ اقوام متحدہ کی مثال ایک فاحشہ کی ہے جسے ویسٹ والے ریپ کرتے رہتے ہیں۔۔۔(فورم کے منتظمین سے معزرت )۔۔۔۔۔۔ اگر سچ میں یہ ادارہ کچھ کر سکتا تو فلسطینیوں و کشمیروں کی حالت ایسی نہ ہوتی۔۔۔۔۔۔ جو اب ہے۔
     
  10. ‏اگست 08، 2016 #20
    ابو حمزہ

    ابو حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 10، 2013
    پیغامات:
    381
    موصول شکریہ جات:
    139
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

    لیبیا ؟؟؟؟؟؟؟
    امریکیوں کے پاس محلک بلکہ دنیا کو تباھ کردیتے والے ہتھیار ہیں پھر کیااقوام متحدہ امریکیوں کے خلاف ایسی کاروائی کرے گی ۔۔جن کو بنیاد بنا کر عراق میں کی گئی ااور امریکیوں نے صدام سے 80 فیصد زیادہ معصوموں کا خون کیا جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے ۔۔۔۔۔ تو پھر اقوام متحدہ کاروائی کیوں نہین کرتی۔۔۔۔ کم سے کم اسرائیل کے خلاف ہی کردے جو کھلیتے کودتے معصوم بچے مارنے میں خاصی مہارت رکھتا ہے۔ وہاں امریکیوں کی انسانیت کیوں مر جاتی ہے۔۔ لعنت ہو خدا امریکیوں کی منافقت پر۔۔۔ آپ کو مشورہ ہے یہ جاب چھوڑ دیں۔۔۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں