1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

دبئی حکومت کے کارنامے!!

'نفاق' میں موضوعات آغاز کردہ از اویس تبسم, ‏اگست 20، 2015۔

  1. ‏اگست 31، 2015 #11
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,878
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    رسول اللہ ﷺ کے فرمان ذیشان کے مطابق
    قیامت اس وقت تک نہیں آئی گی جب تک اُمت محمدیہ میں شامل لوگوں میں بت پرستی نہ پھیل جائے۔

    اگر عرب بت پرستی میں ملوث ہو تو وہ بھی اتنا ہی بڑا مجرم ہے جتنا بڑا عجمی ہے۔ اور سب سے بڑا کافر و مشرک وہ ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کی شرمگاہ کو جہنم جانے کی آرزو کی اور اپنی کتاب میں لکھا اور اس کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی دنیا کے غلیظ ترین کافر و مشرک ہیں جو ایسی کتابیں چھپوا چھپوا کر عامۃ المسلمین میں تقسیم و سیل کرتے ہیں اور اپنے ذہنوں میں رسول اللہ ﷺ کے اہل بیت سے نسبت کا خیال لاتے ہیں۔
    http://forum.mohaddis.com/threads/شیعہ-دنیا-کا-بدترین-کافر-و-مشرک-کیوں؟؟-للہ-ثم-للتاریخ۔-سابق-شیعہ-مجتہد-کے-قلم-سے.20973/
     
    Last edited: ‏ستمبر 02، 2015
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏اگست 31، 2015 #12
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,647
    موصول شکریہ جات:
    6,458
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    شیعہ دنیا کا بدترین کافر ہے اور اس کا ثبوت یہ ویڈیو ہے....
    شیعہ دنیا کا بدترین کافر ہے اور اس کا ثبوت یہ ویڈیو ہے....


    اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد کسی مسلمان کو شیعہ کے کفر میں شک نہیں ہونا چاہئے کہ انہوں نے اصحاب محمد صل اللہ علیہ وسلم پر زبانیں تو دراز کی لیکن رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی شان میں بھی بے پناہ گستاخی کی..

    وہ میں بیان نہیں کر سکتا آپ کو ویڈیو دیکھ کر پتا چلے گا..


     
  3. ‏اگست 31، 2015 #13
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,647
    موصول شکریہ جات:
    6,458
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    [​IMG]


    مال و دولت فراوانی :

    عن عمرو بن عوف أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال: "والله ما الفقر أخشى عليكم ولكن أخشى عليكم أن تبسط عليكم الدنيا كما بسطت على من كان قبلكم فتنافسوها كما تنافسوها وتلهيكم كما ألهتهم"

    (صحیح بخاری: 6061باب ما یحذر من زہرۃ الدنیا)
     
  4. ‏ستمبر 15، 2015 #14
    فواد

    فواد رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 28، 2011
    پیغامات:
    306
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    74


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    کچھ تجزيہ نگار يہ دعوی يقينی طور پر کرتے رہے ہيں کہ اسامہ بن لادن نے سعودی عرب سے امريکی افواج کے انخلاء کے لیے امريکہ کے خلاف اعلان جنگ کيا تھا۔

    يہ دليل ناقص اور عالمی سطح پر ممالک کے مابين تعلقات کے تناظر ميں غير منطقی ہے۔ اگر آپ کی دليل درست تسليم کر لی جاۓ تو پھر اس صورت ميں امريکہ کے اندر کسی بھی نجی گروہ يا تنظيم کے لیے يہ جائز ہو گا کہ وہ امريکہ سے تمام پاکستانيوں اور مسلمانوں کے نکالنے کا مطالبہ کر دے۔ صرف يہی نہيں بلکہ آپ کی دليل کی روشنی ميں امريکی حکومت کی جانب سے اس مضحکہ خيز مطالبہ کو رد کرنے کی صورت ميں اس گروہ کے ليے يہ جائز ہو گا کہ وہ اپنے مطالبے کو منوانے کے لیے دنيا بھر ميں مسلمانوں اور پاکستانيوں کو قتل کرنا شروع کر دے۔ يہی کچھ اسامہ بن لادن نے کيا تھا جب ان کی تنظيم کی جانب سے امريکہ کے خلاف اعلان جنگ کر کے دنيا بھر ميں امريکی شہريوں کے ساتھ ساتھ ہر اس مسلمان کو قتل کرنے کا سلسلہ شروع کر ديا گيا جو ان کے اقدامات سے اختلاف رکھتا تھا۔

    آج کی حقیقی دنيا ميں ممالک کے مابين تعلقات دہشت گرد تنظيموں، غير رياستی عناصر اور باغی تنظيموں کے سياسی اور مذہبی ايجنڈوں کے نتيجے ميں نہ ہی اثر انداز ہوتے ہيں اور نہ ہی ان ميں ردوبدل کيا جاتا ہے۔ قومی سلامتی کے معاملات، دو طرفہ تجارت اور خطے کے حوالے سے پاليسياں ممالک کے مابين طويل المدت تعلقات اور باہمی مفادات کی بنياد پر طے کيے جاتے ہيں۔

    ريکارڈ کی درستگی کے ليے يہ بھی واضح کر دوں کہ سال 2003 ميں امريکی حکام نے سعودی عرب ميں مقیم قريب 5000 امريکی فوجيوں کو واپس بلوا ليا تھا جس کے بعد ايک بہت ہی قليل تعداد سعودی عرب ميں تربيتی معاملات کی ديکھ بھال اور اس ضمن میں جاری پروگرامز کو پايہ تکميل تک پہنچانے کے ليے رہ گئ ہے۔

    سال 2003 اگست 27 کو امريکی فضائيہ کے جرنل رابرٹ ايلڈر نے اس تقريب کی صدارت کی تھی جو امريکی فضائيہ کے 363 ويں ائر ايکسپی ڈیشينری ونگ کی سعودی عرب سے واپسی کے لیے پرنس سلطان ائر بيس پر منعقد کی گئ تھی جہاں پر 5000 امريکی فوجی سعودی عرب ميں مقیم رہے تھے۔

    اگر آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ اسامہ بن لادن کی جانب سے امريکہ کے خلاف اعلان جنگ کی وجہ سعودی عرب ميں امريکی افواج کی موجودگی تھی تو پھر وہاں سے امريکی افواج کی واپسی کے بعد ان کی جانب سے پاليسی میں تبديلی کا عنديہ کيوں نہيں ديا گيا؟

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  5. ‏ستمبر 18، 2015 #15
    قاھر الارجاء و الخوارج

    قاھر الارجاء و الخوارج رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2014
    پیغامات:
    393
    موصول شکریہ جات:
    235
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    یہ جناب کے ہاں غیر منطبقی اور ناقص ہو گی اھل ایمان کے ہاں خلاف شرع تمام تعلقات مردود اور غیر منطقی ہیں شیخ رحمہ اللہ کا دعوی شریعت کے مطابق تھا اور شرع تم سب لوگوں کائنات کی سب اشیاء سے زیادہ مقدس محترم اور وزنی ہے
    و عند اللہ تجتمع الخصوم
     
  6. ‏اکتوبر 09، 2015 #16
    فواد

    فواد رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 28، 2011
    پیغامات:
    306
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    74


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    اگر مذہب کی بنياد پر خارجہ پاليسي کا مفروضہ درست ہوتا تو پاکستان کے صرف مسلم ممالک کے ساتھ اچھے سفارتی تعلقات ہونے چاہيے۔ اسی طرح امريکہ کے بھی تمام غير مسلم ممالک کے ساتھ بہترين سفارتی تعلقات ہونے چاہيے۔ ليکن ہم جانتے ہيں کہ ايسا نہيں ہے۔ حقيقت يہ ہے کہ مسلم ممالک کے مابين بھی سفارتی تعلقات کی نوعيت دو انتہائ حدوں کے درميان مسلسل تبديل ہوتی رہتی ہے۔ امريکہ کے کئ مسلم ممالک کے ساتھ باہمی تعلقات استوار ہيں۔ يہ بھی ايک حق‍یقت ہے کہ دو ممالک کے درميان تعلقات کی نوعيت زمينی حقائق کی روشنی ميں کبھی يکساں نہيں رہتی۔

    امريکی حکومت دنيا بھر کے ممالک ميں اسلامی قوانين کے خاتمے کے مشن پر نہيں ہے۔ اس ضمن میں آپ کو سعودی عرب کی مثال دوں گا جہاں قانونی سازی کے عمل ميں وسيع بنيادوں پر اسلامی قوانين کا اطلاق کيا جاتا ہے۔ يہ درست ہے کہ امريکہ بہت سے قوانين اور روايات سے متفق نہيں ليکن اس کے باوجود سعودی عرب کے عوام اور ان کی حکومت سے امريکہ کے ديرينيہ تعلقات ہيں جو کئ دہائيوں پر محيط ہيں۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [​IMG]
     
  7. ‏اکتوبر 10، 2015 #17
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    1,869
    موصول شکریہ جات:
    599
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    بات بناء منادر تک هی رهے اور اسپر هی بحث هو تو عمدہ هے ۔ ایک غلط عمل کو هونے سے روکنا اس غلط عمل کو هوتے دیکهنے سے افضل هے ۔ مثبت کوششیں درکار هیں ۔ یہ جغرافیائی نهیں اسلامی معاملہ هے ۔ اللہ هم سب کو فتنوں سے محفوظ رکهے ۔ آمین
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں