1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

"دتے میں سے دینا"

'ہبہ اور عطیہ' میں موضوعات آغاز کردہ از حسن شبیر, ‏ستمبر 18، 2013۔

  1. ‏ستمبر 18، 2013 #1
    حسن شبیر

    حسن شبیر مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 18، 2013
    پیغامات:
    802
    موصول شکریہ جات:
    1,817
    تمغے کے پوائنٹ:
    196

    کوئی دو مہینے بعد میں کراچی گیا تو انشاء جی کے دفتر ملنے پہنچا ۔انشا بیٹھا کام کر رہا ہے - ہم گپ لگا رہے ہیں ۔ ادھر کی باتیں ، ادھر کی باتیں بہت خوش ۔ایک لڑکی آئی۔ اس کی صحت بہت خراب تھی ، اس کی آنکھوں میں یرقان اتنا نمایاں تھا کہ جیسے رنگ بھرا ہو پیلا ۔اس نے چھپانے کے لیےاپنی آنکھوں میں سرمے کی بہت موٹی تہہ لگا رکھی تھی تو کالا برقع اس نے پہنا ہوا ، آ کھڑی ہو گئی انشاء جی کے سامنے۔اس نے ایک خط ان کو دیا وہ خط لے کر رونے لگا ۔ پڑھ کر اس لڑکی کی طرف دیکھا ، پھر میز پر رکھا ، پھر دراز کھولا۔
    کہنے لگا بی بی ! میرے پاس یہ تین سو روپے ہی ہیں ۔ یہ تم لے لو ، پھر بعد میں بات کریں گے ۔
    کہنے لگی ! بڑی مہربانی ۔وہ بچکی سی ہو گئی بیچاری ، اور ڈر سے گئی ، گھبرا سی گئی ۔اس نے کہا ، بڑی مہربانی دے دیں ۔ وہ لے کر چلی گئی ۔ جب چلی گئی تو میں نے انشاء سے کہا ، انشاء یہ کون تھی ؟کہنے لگا پتا نہیں ۔ میں نے کہا ، اور تجھ سے پیسے لینے آئی تھی۔ تو تو نے تین سو روپے دے دیے تو اسے جانتا تک نہیں ۔ کہنے لگا ، نہیں میں اتنا ہی جانتا ہوں ۔یہ خط ہے ۔ اس میں لکھا تھا۔
    محترم انشا صاحب! میں آپ کے کالم بڑے شوق سے پڑھتی ہوں ، اور ان سے بہت خوش ہوتی ہوں ، اور میں یہاں پر لیاری میں ایک پرائمری اسکول ٹیچر ہوں ۔اور میری ١٣٠ روپے تنخواہ ہے۔ میں اور میرے بابا ایک کھولی میں رہتے ہیں ۔جس کا کرایا ١٦٠ روپے ہوگیا ہے ، اور ہم وہ ادا نہیں کر سکتے ، اور آج وہ بندہ سامان اٹھا کر باہر پهینک رہا ہے ۔اگر آپ مجھے ١٦٠ روپے دے دیں تو میں آہستہ آہستہ کر کے ١٠-١٠ کر کے اتار دونگی ۔میں کراچی میں کسی اور کو نہیں جانتی سوائے آپ کے ، وہ بھی کالم کی وجہ سے ۔میں نے کہا ، اوئے بے وقوف آدمی اس نے تجھ سے ١٦٠ روپے مانگے تھے تو تو نے ٣٠٠ سو دے دیے ۔
    کہنے لگا ، میں نے بھی تو " دتوں میں سے دیا ہے ، میں نے کونسا پلے سے دیا ہے ۔"
    اس کو بات سمجھ آ گئی تھی ۔ یہ نصیبوں کی بات ہے ، یعنی میری سمجھ میں نہیں آئی میں جو بڑے دھیان سے جاتا تھا ، ڈکٹیشن لیتا تھا ، کوششیں کرتا تھا جاننے کی ۔کہنے لگا ، میں نے کچھ کالم لکھے تھے یہ ان کا معاوضہ تھا۔یہ تین سو روپے میرے پاس ایسے ہی پڑے تھے ۔ میں نے دے دیے ۔
    (اشفاق احمد زاویہ ١ دیے سے دیا صفحہ ٥٠)
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏ستمبر 18، 2013 #2
    حسن شبیر

    حسن شبیر مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 18، 2013
    پیغامات:
    802
    موصول شکریہ جات:
    1,817
    تمغے کے پوائنٹ:
    196

    فلاح اور علم میں یہی فرق ہوتا ہے جو کہ جناب اشفاق صاحب اور ابنِ انشاء کے درمیان اس واقعے میں پیش آیا۔
    علم تو جناب اشفاق صاحب کے پاس بہت تھا مگر یہ بات ان کے دل میں اتری نہیں تھی کہ دتے میں سے دینا کیا ہوتا ہے۔جب کہ ابن انشاء نے کے دم میں اتر گئی تھی اور عمل بھی کر دیا تھا اور فلاح یافتہ بن گئے ۔
    عالم اور فلاح یافتہ میں یہی فرق ہے کہ عالم کو اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ نیکیاں کیا ہوتی ہیں اور ان کتنا بڑا صلہ ہوتا ہے مگر عالم صرف بات کرتا ہے عمل کم ہی کر پاتا ہے جب کہ فلاح یافتہ کو کوئی نیکی کی بات کی جائے تو وہ فوراً دل پہ اثر کرتی ہے اور وہ عمل کرنا شروع کر دیتا ہے ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو آسانی عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف بخشے۔ آمین یا رب العالمین
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں