1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دجال کے پاس مارنے کے بعد زندہ کرنے کی قوت ہوگی؟

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از نسیم احمد, ‏فروری 24، 2017۔

  1. ‏فروری 24، 2017 #1
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    742
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    السلام علیکم
    ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی، ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے دجال کے متعلق ایک طویل حدیث بیان کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں یہ بھی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال آئے گا اور اس کے لیے ناممکن ہو گا کہ مدینہ کی گھاٹیوں میں داخل ہو۔ چنانچہ وہ مدینہ منورہ کے قریب کسی شور والی زمین پر قیام کرے گا۔ پھر اس دن اس کے پاس ایک مرد مومن جائے گا اور وہ افضل ترین لوگوں میں سے ہو گا۔ اور اس سے کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں اس بات کی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیان فرمایا تھا۔ اس پر دجال کہے گا کیا تم دیکھتے ہو اگر میں اسے قتل کر دوں اور پھر زندہ کروں تو کیا تمہیں میرے معاملہ میں شک و شبہ باقی رہے گا؟ اس کے پاس والے لوگ کہیں گے کہ نہیں، چنانچہ وہ اس صاحب کو قتل کر دے گا اور پھر اسے زندہ کر دے گا۔ اب وہ صاحب کہیں گے کہ واللہ! آج سے زیادہ مجھے تیرے معاملے میں پہلے اتنی بصیرت حاصل نہ تھی۔ اس پر دجال پھر انہیں قتل کرنا چاہے گا لیکن اس مرتبہ اسے مار نہ سکے گا۔

    میرا سوال یہ ہے کہ کیا دجال کے پاس یہ قوت ہوگی کہ وہ ایک مردہ شخص میں اس کی روح لوٹا سکے ۔
    @اسحاق سلفی
    @خضرحیات
     
  2. ‏فروری 24، 2017 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    هو لا يحيي من ذات فعله, ولكن الله هو الذي يعطيه هذا الأمر فتنة للناس, ولا تنسى أنه يأتي مدعياً أنه هو المسيح ابن مريم , ولكنه دجال كاذب في دعواه, فالله تعالى قال في حق المسيح
    دجال مردوں کو اپنی ذاتی قدرت سے تو زندہ نہیں کرے گا ، اسے شعبدہ کا فن اللہ نے لوگوں کی آزمائش و امتحان کیلئے دیا ہوگا ، اور یاد رہے کہ دجال کا دعوی اصلی یہ ہوگا کہ وہ مسیح ابن مریم ہے ، لیکن اس دعوی میں وہ سراسر جھوٹا ہوگا
    کیونکہ مسیح ابن مریم کے متعلق اللہ کا فرمانا ہے کہ :
    ( وَرَسُولا إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنِّي قَدْ جِئْتُكُمْ بِآَيَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ أَنِّي أَخْلُقُ لَكُمْ مِنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَأَنْفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللَّهِ وَأُبْرِئُ الأَكْمَهَ وَالأَبْرَصَ وَأُحْيِي الْمَوْتَى بِإِذْنِ اللَّهِ وَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لآَيَةً لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (سورۃ آل عمران49)
    اور وه بنی اسرائیل کی طرف رسول ہوگا، کہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی نشانی لایا ہوں، میں تمہارے لئے پرندے کی شکل کی طرح مٹی کا پرنده بناتا ہوں، پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وه اللہ تعالیٰ کے حکم سے پرنده بن جاتاہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے میں مادرزاد اندھے کو اور کوڑھی کو اچھا کر دیتا ہوں اور مردوں کو زندہ کرتا ہوں اور جو کچھ تم کھاؤ اور جو اپنے گھروں میں ذخیره کرو میں تمہیں بتا دیتا ہوں، اس میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے، اگر تم ایمان ﻻنے والے ہو۔ (49)

    اور جس حدیث کا ترجمہ آپ نے لکھا ہے ، اس کی شرح میں علامہ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں :
    قال الخطابي فإن قيل كيف يجوز أن يجري الله الآية على يد الكافر فإن إحياء الموتى آية عظيمة من آيات الأنبياء فكيف ينالها الدجال وهو كذاب مفتر يدعي الربوبية فالجواب أنه على سبيل الفتنة للعباد إذ كان عندهم ما يدل على أنه مبطل غير محق في دعواه وهو أنه أعور مكتوب على جبهته كافر يقرؤه كل مسلم فدعواه داحضة مع وسم الكفر ونقص الذات والقدر إذ لو كان إلها لأزال ذلك عن وجهه وآيات الأنبياء سالمة من المعارضة فلا يشتبهان (فتح الباري )
    یعنی امام خطابی ؒ فرماتے ہیں :
    اگر یہ سوال کیا جائے کہ ایک کافر کے ہاتھ سے معجزہ کیسے صادر ہوگا جبکہ مردوں کو زندہ کرنا ایک عظیم معجزہ ہے جو انبیاء کو دیا گیا ،تو یہ معجزہ دجال اکبر کو کیسے ملے گا جبکہ وہ مفتری کذاب ربوبیت کا دعویدار ہوگا ،

    تو اس کا جواب یہ ہے کہ : وقتی طور پر بظاہر دجال کا مردوں کو زندہ کرنا بندوں کی آزمائش و امتحان کیلئے ہوگا ، کیونکہ ان کے پاس دجال دعوی کے جھوٹا ہونے کے کئی ثبوت و علامات ہونگی ، وہ ایک آنکھ سے کانا ہوگا ، اس کی پیشانی پر ’’ کافر ‘‘ لکھا ہوگا جسے ہر مسلم پڑھ سکے گا،
    تو ان ذاتی نقائص و عیوب کی موجودگی میں اس کا دعوی باطل ثابت ہورہا ہوگا ،کیونکہ اگر وہ اپنے دعوے کے مطابق رب ہوتا تو اپنے جھوٹا ہونے کی یہ نشانیاں مٹا لیتا ،اور دوسری طرف انبیاء علیہم السلام کے معجزات ہر قسم کے معارضہ سے پاک ہوتے ہیں ، اسلئے دجال اور معجزات کا معاملہ مشتبہ نہیں ہوسکتا ::
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • علمی علمی x 6
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏فروری 24، 2017 #3
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    742
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏فروری 24، 2017 #4
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,103
    موصول شکریہ جات:
    320
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ وبرکاتہ !
    روایات میں
    ” مسیح الدجال“ کا ذکر فتنوں کےساتھ آیا ہے اور وہ حقیقتاً انہی فتنوں کو استعمال کر کے لوگوں کو گمراہ کریگا ان میں سے ”مردہ “کو زندہ کرنا بھی شامل ہے اس کے علاوہ بھی وہ کچھ غیر معمولی افعال کا مظاہرہ کریگا۔ مگر ان سب کی حقیقت محض شعبدہ بازیوں کی ہو گی ان چیزوں کو ”معجزات“ سے ہرگز تعبیر نہیں کیا جاسکتا ۔
    میرے خیال میں ان فتنوں کو عصری تطبیق دی جا سکتی ہے کیونکہ آج کے دور میں سائنسی ٹیکنا لوجی کی بدولت بہت سی محیر العقول چیزوں نے جنم لیا ہے اور عجب نہیں کہ
    ”مسیح الدجال “اسی سائنسی ٹیکنا لوجی کو استعمال میں لا کر لوگوں میں ربوبیت کا دعویٰ کرے۔بہت سے لوگ انہی فتنوں سے متاثر ہوکر اسکے دعویٰ کی تصدیق بھی کرینگے۔
    اسی لیے روایات میں بھی
    ”فتنہ المسیح الدجال“ میں لفظ ”فتنہ“ قابلِ غور ہے جس کو ”معجزات“ سے کوئی نسبت نہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ فتنوں سے صرف خالص ایمان والے ہی بچ سکے ہیں۔ لہذا میری نظر میں ”مسیح الدجال “کے ان تمام افعال کو ”معجزہ“ نہیں بلکہ ”فتنہ“ہی سمجھنا چاہیے۔
     
  5. ‏فروری 24، 2017 #5
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    جی آپ نے بالکل درست کہا ، عربی شرح جس کو میں اپنی پوسٹ نقل کیا ہے ،اس میں دجال کی اس شعبدہ بازی کو ’’ فتنہ ‘‘ ہی کہا گیا ہے؛
    کہ یہ کام محض بندوں کیلئے فتنہ ہوگا ،
     
    • متفق متفق x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  6. ‏فروری 24، 2017 #6
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    گذشتہ پوسٹ کے ساتھ ہی یہ پیغام موصول ہوا کہ :
    آپ کو تمغہ 4000 پیغامات دیا گیا ،
    اب میں منتظر ہوں کہ کب تقسیم ایوارڈ کی صدارتی تقریب منعقد ہونے کا اعلان ہو اور مجھے اس میں شمولیت کا دعوت نامہ معہ دیگر لوازمات موصول ہو ؛
     
    • پسند پسند x 4
    • زبردست زبردست x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  7. ‏مارچ 06، 2017 #7
    muhammad faizan akbar

    muhammad faizan akbar رکن
    شمولیت:
    ‏جون 11، 2015
    پیغامات:
    401
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    السلام علیکم! اسحاق سلفی صاحب۔ میرے کچھ سوالات ہیں۔!دجال؟عیسیٰ علیہ السلام؟امام مہدی؟۔۔۔
     
  8. ‏مارچ 06، 2017 #8
    muhammad faizan akbar

    muhammad faizan akbar رکن
    شمولیت:
    ‏جون 11، 2015
    پیغامات:
    401
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    اسحاق سلفی صاحب۔
    آپ نے جواب دیا۔
    دجال مردوں کو اپنی ذاتی قدرت سے تو زندہ نہیں کرے گا ، اسے شعبدہ کا فن اللہ نے لوگوں کی آزمائش و امتحان کیلئے دیا ہوگا (استغفراللہ) ۔
    -------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
    (سورۃ البقرہ2آیت80۔
    تم اللہ کے ذمے ڈال کر ایسی باتیں کہہ دیتے ہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ اس نے ان کا ذمہ لیا ہے؟۔۔۔۔)
    سورۃ البقرہ 2آیت 169۔"شیطان تمہیں بدی اور فحش کا حکم دیتا ہے اور یہ سکھاتا ہے کہ تم اللہ کے نام پر وہ باتیں کہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ وہ اللہ نے فرمائی ہیں۔"
     
  9. ‏مارچ 07، 2017 #9
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    جی سمجھ نہیں آیا ،آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں !
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  10. ‏مارچ 07، 2017 #10
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,366
    موصول شکریہ جات:
    1,080
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    پہلے اپنی بات کو کہیں. سمجھائیں اور جب سامنے والا نہ سمجھیں تو فتوے بازی کریں.
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں