1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دجال کے پاس مارنے کے بعد زندہ کرنے کی قوت ہوگی؟

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از نسیم احمد, ‏فروری 24، 2017۔

  1. ‏مارچ 09، 2017 #21
    muhammad faizan akbar

    muhammad faizan akbar رکن
    شمولیت:
    ‏جون 11، 2015
    پیغامات:
    401
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    1)آپ کہہ رہے ہیں جو میں سمجھا ہوں اگر غلط سوچ رہا تو درستگی فرما دیں آپ کے جواب حیران کرنے والے ہیں۔
    ہر ہر فعل کی صلاحیت اللہ ہی کی پیدا کردہ ہے۔۔۔۔۔۔شیطان کی تبلیغ۔۔۔۔جھوٹ بولنا،کفر کی طرف تبلیغ کرنا ،اللہ کے ساتھ شرک کرنا،تہمت لگانا،زنا کرنا،آدم اور اس کی اولاد کے کپڑے اتروانا،گالی دینا،غرور کرنا،پیغمبروں کو جھوٹا کہنا،جادو کی تعلیم میں اثر ماننا،چوری کرنا،اور تمام معاشرے میں جتنی برائیاں ہیں ۔۔۔۔یہ وضاحت کر دیں کس کی پیدا کردہ ہیں اور یہ بھی بتا دیں اس کو کرنے کی صلاحیت کس کی پیدا کردہ ہیں۔ شکریہ۔

    عیسیٰ علیہ السلام میں کیا یہ صلاحیت تھی کہ وہ کسی مردہ کو زندہ کرتے،ایک پیغمبر ہو کر۔
    موسیٰ علیہ السلام میں کیا یہ صلاحیت تھی کہ وہ ہاتھ بغل میں لے کر اسے باہر نکالیں تو وہ روشن ہو جائے یا لکڑی سانپ بن جائے جبکہ پیغمبر بھی ہیں۔

    اللہ تعالیٰ حق سچ دیکھا کر لوگوں کو ہدایت کی طرف بلاتا ہے آزمائش لیتا ہے۔
    یہ کہاں سے آپ عقیدہ لے آئیں ہیں کہ اللہ لوگوں کی آزمائش کے لئے دجال کو صلاحیت اور طاقت دے گا۔استغفراللہ۔۔۔دلیل دے کر واضح کریں۔قیاس سے کام نہ لیں۔ اللہ نے باطل کو ہمیشہ نکام کیا ،باطل کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا،باطل کہیں سے بھی آئے اللہ حق ،سچ سے اس کا خاتمہ کرئے گا۔
    جیسا کہ ابراھیم علیہ السلام کا قصہ ہے کہ۔
    سورۃ البقرہ2۔
    کیا تم نے اُس شخص کے حال پر غور نہیں کیا جس نے ابراہیم ؑ سے جھگڑا کیا تھا؟ جھگڑا اِس بات پر کہ ابراہیم ؑ کا ربّ کون ہے ، اور اِس بنا پر کہ اُس شخص کو اللہ نے حکومت دے رکھی تھی ۔ جب ابراہیم ؑ نے کہا کہ ’’ میرا رب وہ ہے جس کے اختیار میں زندگی اور موت ہے ‘‘ تو اُس نے جواب دیا: ’’ زندگی اور موت میرے اختیار میں ہے ۔ ‘‘ ابراہیم ؑ نے کہا : ’’ اچھا ، اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے ، تو ذرا اُسے مغرب سے نکال لا ۔ ‘‘ یہ سن کر وہ منکرِ حق ششدر رہ گیا ، مگر اللہ ظالموں کو راہِ راست نہیں دکھایا کرتا ۔ (258)

    غور کریں ۔ اگر یہاں بادشاہ کہتا یہ کون سی بڑی بات ہے یہ لو مغرب سے نکال دیتا ہوں اور اپنے قول میں پورا ہو جاتا تو ۔۔۔حق اور سچ کہاں گیا؟؟؟؟؟؟؟؟
    ایک دجال اور دعویٰ کرے کہہ میں تمہارا رب ہوں اور کہے میں بارش برسا سکتا ہوں ، یا سچ مچ قتل کر کے سچ مچ انسان کو زندہ کر سکتا ہوں۔۔۔۔اور اللہ بھی اسے یہ صلاحیت دے (استغفراللہ)حق اور باطل کی لڑائی کہاں گئی۔۔۔اللہ تو صرف حق اور سچ سے لوگوں کی آزمائش لیتا ہے۔

     
  2. ‏مارچ 09، 2017 #22
    muhammad faizan akbar

    muhammad faizan akbar رکن
    شمولیت:
    ‏جون 11، 2015
    پیغامات:
    401
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    اس حدیث میں صاف الفاظ ہیں :
    (فيقتله ثم يحييه ) دجال اس مومن کو قتل کردے گا اور پھر زندہ کرےگا ،

    السلام علیکم! اسحاق صاحب۔
    1۔صاف بات اور صاف جواب۔۔۔کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ دجال سچ مچ اسے دو حصوں میں تقسیم کرے گا مسلم کی روایت کے مطابق اور پھر سچ مچ اسے زندہ بھی کرے گا۔۔۔چاہے صرف ایک بار ہی ۔۔
    2۔پھر آپ یہ کہہ رہے ہیں جو میرا خیال ہو سکتا ہے۔میں غلط مفہوم بھی لے سکتا ہوں اس لئے وضاحت سے جواب آپ کی طرف سے لینا چہتا ہوں تاکہ بات بلکل صاف ہو جائے۔
    پھر آپ کہہ رہے ہیں وہ اپنی طاقت سے نہیں بلکہ اسے اللہ تعالیٰ زندہ کر دے گا (لوگوں کی آزمائش کے لئے)اور لوگ سمجھیں گے کہ یہ اس دجال نے زندہ کیا؟
    اگر میں درست خیال کر رہا تو جواب ضرور دیں۔۔۔اللہ تعالیٰ ہر اس انسان کو ہدایت دے جو غوروفکر کرتا ہو۔شکریہ۔
     
  3. ‏مارچ 09، 2017 #23
    وجاہت

    وجاہت رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مئی 03، 2016
    پیغامات:
    421
    موصول شکریہ جات:
    41
    تمغے کے پوائنٹ:
    45

    خضر علیہ اسلام بھی ایک انسان تھے - اور وہ اس وقت زندہ نہیں -

    دلائل یہ ہیں

    صحیح بخاری میں ایک حدیث کے الفاظ ہیں کہ

    سعید بن عفیر نے ہم سے بیان کیا، ان سے لیث نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمن بن خالد بن مسافر نے ابن شہاب کے واسطے سے بیان کیا، انھوں نے سالم اور ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے روایت کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ آخر عمر میں ( ایک دفعہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو کھڑے ہو گئے اور فرمایا کہ تمہاری آج کی رات وہ ہے کہ اس رات سے سو برس کے آخر تک کوئی شخص جو زمین پر ہے وہ باقی نہیں رہے گا۔

    یہی بات صحیح بخاری حدیث نمبر ١١٦ اور ١٠٦ میں بیان ہوئی ہے - صحیح مسلم میں حدیث نمبر ٦٤٧٩
    اور سنن ابو داوود حدیث نمبر ٤٣٤٨ اور ترمزی میں حدیث نمبر ٢٢٥١ میں بیان ہوئی ہے-

    اب ان احادیث کی روشنی میں کوئی بھی انسان جو اس وقت زندہ تھا جب حضور صلی الله علیہ وسلم نے یہ حدیث بیان کی وہ سو سال بعد باقی نہیں رہا -

    لیکن

    اب اسی بنیاد پر صحیح مسلم کی ایک حدیث جس کو حدیث جساسہ بھی کہا جاتا ہے -

    اس میں جو ذکر ہے کہ

    وہاں ایک بڑے قد کا آدمی ہے کہ ہم نے اتنا بڑا آدمی اور ویسا سخت جکڑا ہوا کبھی نہیں دیکھا


    اور پھر بیان ہوا کہ


    میں مسیح (دجال) ہوں۔ اور البتہ وہ زمانہ قریب ہے کہ جب مجھے نکلنے کی اجازت ہو گی۔ پس میں نکلوں گا اور سیر کروں گا


    ایک دجال جو ایک انسان ہے - کیسے زمانہ قریب تک جو اوپر بیان ہوا ہے - زندہ رہ سکتا ہے -


    اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ آپ کا کیا عقیدہ ہے کہ خضر علیہ اسلام زندہ ہیں یا فوت ہو چکے ہیں -

    اور صحیح مسلم کی حدیث جساسہ کے بارے میں آپ کیا کہیں گے -



     
  4. ‏مارچ 09، 2017 #24
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,364
    موصول شکریہ جات:
    2,655
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    ان تمام کی وضاحت بیان کی جا چکی ہے!
    بغور مطالعہ فرمائیں!
     
  5. ‏مارچ 09، 2017 #25
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,364
    موصول شکریہ جات:
    2,655
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    دیکھیں بھائی جان! اگر بندہ ضد پکڑ لے تو اس کا تو کوئی علاج نہیں!
    باقی اس بات کا جواب آپ کو دیا جا چکا ہے!
     
  6. ‏مارچ 09، 2017 #26
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,104
    موصول شکریہ جات:
    320
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبر کاتہ !
    میں جانتا ہوں کہ مفتی ابو لُبانہ شاہ منصور صاحب نے بہت سی ایسی باتیں کہیں ہیں جن سے اتفاق کرنا بہت مشکل ہے ۔مگر ان کی کتاب سے ظاہر ہوتاہے کہ انہوں نے ان روایات کی عصری تطبیق پیش کی ہے جو مسیح الدجال کے متعلق ہیں۔میرے خیال میں شاہ صاحب نے جس طرح ان روایات کی جو عصری تطبیق پیش کی ہے وہ بعید از امکان معلوم نہیں ہوتی ۔ کیونکہ زمانہ جس طرح دن بدن سائنسی ترقی کی منازل طے کرتا چلا جا رہا ہے عین ممکن ہے کہ مسیح الدجال سائنسی ٹیکنالوجی کو ہی بطور ہتھیار استعمال کرے ۔
    شاہ صاحب نے تو فقط یہی خیال ظاہر کیا ہے کہ برمودا ٹرائی اینگل میں مسیح الدجال مقید ہے مگر ایک مضمون نگار نے تو وہاں ”سجین “ واقع ہونے کا خیال ظاہر فرمایا ہے ۔ و اللہ اعلم !
     
  7. ‏مارچ 09، 2017 #27
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,104
    موصول شکریہ جات:
    320
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    میری نظر میں مولانا مودودی ؒ نے ”رسائل و مسائل، جلد 01، صفحہ 39-37“ میں جو فرمایا ہے ، وہ زیادہ معقول لگتا ہے ۔
     
  8. ‏مارچ 10، 2017 #28
    muhammad faizan akbar

    muhammad faizan akbar رکن
    شمولیت:
    ‏جون 11، 2015
    پیغامات:
    401
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    السلام علیکم ! ایک طرف ہے قرآن مجید ایک طرف ہیں یہ روایات۔۔ضد کون کررہا ہے ۔۔۔۔۔آپ کو معلوم ہونا چاہئے شکریہ۔
    کیا ثقہ راویوں کو غلط فہمی،سننے میں غلطی ،لکھنے میں،غلطی نہیں وہ سکتی؟
    قرآن مجید اور روایات میں فرق بیان کریں گے؟مختصر۔۔۔۔شکریہ
     
    • پسند پسند x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  9. ‏مارچ 10، 2017 #29
    وجاہت

    وجاہت رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مئی 03، 2016
    پیغامات:
    421
    موصول شکریہ جات:
    41
    تمغے کے پوائنٹ:
    45

    کیا آپ مولانا مودودی رحمہ الله کی اس بات کا حوالہ دے رہے ہیں
    اگر یہی حوالہ ہے تو کیا آپ متفق ہیں جو انہوں نے کہا ہے کہ
     
  10. ‏مارچ 10، 2017 #30
    وجاہت

    وجاہت رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مئی 03، 2016
    پیغامات:
    421
    موصول شکریہ جات:
    41
    تمغے کے پوائنٹ:
    45


    أَئِمَّةً مُضِلِّينَ یعنی گمراہ کرنے والے ائمہ یا حکمران مراد ہیں کیونکہ دور نبوی میں ائمہ کا لفظ امراء کے لئے استمعال ہوتا تھا نہ کہ علماء کے لئے

    ایک دوسری حدیث میں ہے

    انظر صَحِيح الْجَامِع: 1553 , والصحيحة: 1127

    إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي فِي آخِرِ زَمَانِهَا: إيمَانًا بِالنُجُومِ , وَحَيْفَ السُّلْطَانِ , وَتَكْذِيبًا بِالْقَدَرِ


    آخری زمانے میں مجھے خوف ہے ظالم سلطان سے


    اور ایک حدیث میں ہے

    وَعَنْ عمرو بن سفيان السلمي – رضي الله عنه – قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ – صلى الله عليه وسلم -: ” مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي إِلَّا ثَلَاثا: شُحٌّ مُطَاعٌ (1) وَهَوًى مُتَّبَعٌ، وَإِمَامٌ ضَالٌّ


    خوف ہے لالچی کا ، بہکے ہوئے کا، اور امام گمراہ کا


    امام یعنی حاکم

    ‌صحيح البخاري: کِتَابُ مَنَاقِبِ الأَنْصَارِ (بَابُ أَيَّامِ الجَاهِلِيَّةِ)

    صحیح بخاری: کتاب: انصار کے مناقب

    (باب: جاہلیت کے زمانے کا بیان)

    3834 . حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ بَيَانٍ أَبِي بِشْرٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ أَحْمَسَ يُقَالُ لَهَا زَيْنَبُ فَرَآهَا لَا تَكَلَّمُ فَقَالَ مَا لَهَا لَا تَكَلَّمُ قَالُوا حَجَّتْ مُصْمِتَةً قَالَ لَهَا تَكَلَّمِي فَإِنَّ هَذَا لَا يَحِلُّ هَذَا مِنْ عَمَلِ الْجَاهِلِيَّةِ فَتَكَلَّمَتْ فَقَالَتْ مَنْ أَنْتَ قَالَ امْرُؤٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ قَالَتْ أَيُّ الْمُهَاجِرِينَ قَالَ مِنْ قُرَيْشٍ قَالَتْ مِنْ أَيِّ قُرَيْشٍ أَنْتَ قَالَ إِنَّكِ لَسَئُولٌ أَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَتْ مَا بَقَاؤُنَا عَلَى هَذَا الْأَمْرِ الصَّالِحِ الَّذِي جَاءَ اللَّهُ بِهِ بَعْدَ الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ بَقَاؤُكُمْ عَلَيْهِ مَا اسْتَقَامَتْ بِكُمْ أَئِمَّتُكُمْ قَالَتْ وَمَا الْأَئِمَّةُ قَالَ أَمَا كَانَ لِقَوْمِكِ رُءُوسٌ وَأَشْرَافٌ يَأْمُرُونَهُمْ فَيُطِيعُونَهُمْ قَالَتْ بَلَى قَالَ فَهُمْ أُولَئِكِ عَلَى النَّاسِ

    حکم : صحیح

    ہم سے ابو النعمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا ، ان سے بیان نے ، ان سے ابو بشر نے اور ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ قبیلہ احمس کی ایک عورت سے ملے ان کا نام زینب بنت مہاجر تھا ، آپ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ وہ بات ہی نہیں کر تیں دریافت فرمایا کیا بات ہے یہ بات کیوں نہیں کرتیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ مکمل خاموشی کے ساتھ حج کر نے کی منت مانی ہے ۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا اجی بات کر و اس طرح حج کر نا تو جاہلیت کی رسم ہے ، چنانچہ اس نے بات کی اور پوچھا آپ کون ہیں ؟ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں مہاجرین کا ایک آدمی ہوں ۔ انہوں نے پوچھا کہ مہاجرین کے کس قبیلہ سے ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ قریش سے ، انہوں نے پوچھا قریش کے کس خاندان سے ؟ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس پر فرمایا تم بہت پوچھنے والی عورت ہو ، میں ابو بکر ہوں ۔ اس کے بعد انہوں نے پوچھا جاہلیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو ہمیں یہ دین حق عطافرمایا ہے اس پر ہم ( مسلمان ) کب تک قائم رہ سکیں گے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس پر تمہار ا قیام اس وقت تک رہے گا جب تک تمہار ے
    امام حاکم سید ھے رہیں گے ۔ اس خاتون نے پوچھا امام سے کیا مراد ہے آپ نے فرمایا کیا تمہاری قوم میں سردار اور اشراف لوگ نہیں ہیں جو اگر لوگوں کو کوئی حکم دیں تو وہ اس کی اطاعت کریں ؟ اس نے کہا کہ کیوں نہیں ہیں ۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ امام سے یہی مراد ہیں ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں