1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دعوتی میدان میں صبر کی اہمیت

'امر بالمعروف و نھی عن المنکر' میں موضوعات آغاز کردہ از علیم اللہ عنایت اللہ سلفی, ‏جنوری 18، 2017۔

  1. ‏جنوری 18، 2017 #1
    علیم اللہ عنایت اللہ سلفی

    علیم اللہ عنایت اللہ سلفی مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 13، 2016
    پیغامات:
    7
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    10

    اسلام میں اصلاح ودعوت کی بڑی اہمیت ہے دعوت الی اللہ اسلام کی تبلیغ واشاعت کی بنیاد اور قیام دین کا ایک اہم رکن ہے اگر دعوت الی اللہ کا وجود معاشرہ میں نہیں ہے تو پھردین کا قیام بھی ناممکن ہے ۔اور اس دعوتی فریضہ کو انجام دینے کا حکم امت کے تمام افراد کو دیا گیا ہے ،خصوصا اس امت کے علماء کو ۔لیکن شاید یہ میدان بڑا پرخار ہے لہذا اس میدان میں قدم رنجہ ہونے اور اسے سر کرنے کے لیے دو اہم ہتھیار سے لیس ہونے کی ضرورت ہے پہلا ہتھیار صبر اور دوسرا علم ہے ہماری گفتگو چونکہ صبر سے متعلق ہے اس لیے آئیے ہم سب سے پہلے صبر کا مفہوم سمجھتے ہیں ۔
    صبر باب ضرب سے مصدر ہے جس کے لغوی معنی ہیں روکنا ،برداشت کرنا اور نفس کو پریشانی وگھبراہٹ سے محفوظ رکھنا(لسان العرب لابن منظور: ۴/۴۳۷)اصطلاح میں اللہ کے لیے مصائب وآلام پر گلہ وشکوہ کرنے سے رک جانے کو صبر کہتے ہیں(التعریفات للجرجانی:۱۳۱)۔
    کسی بھی میدان میں خواہ وہ دعوت وتبلیغ کا میدان ہو یا تجارت کا کامیابی کے ذرائع تو بے شمار ہیں لیکن موجودہ دور اور حالات کو دیکھتے ہوئے جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ صبرہےصبر مومن کا وہ ہتھیار ہے جسے اخلاق فاضلہ میں شمار کیا جاتا ہے ۔
    صبرکی اہمیت کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ قرآن پاک میں اس کاذکر70بارآیا ہے۔ہم نے اپنی زندگیوں میں شایدصبرکااستعمال ترک کر دیا ہے ۔ اس لئے ہم فرسٹریشن،ڈیپریشن یا ٹینشن جیسی مہلک امراض میں مبتلاہورہے ہیں۔ حالاں کہ صبرکااوراس کائناتی اور دنیاوی نظام کاآپس میں بڑا گہراتعلق ہے۔کائنات کے ہر عمل میں صبرکی آمیزش ہے۔ مثلاًچاندستارے اپنے اپنے مدار میں رہتے ہوئے اپناسفرطے کر تے ہیں اوررات کو دن اوردن کورات میں بدلتے ہیں ۔ا یک پودامکمل درخت راتوں رات نہیں بن جاتا ۔آہستہ آہستہ پروان چڑھتا ہے۔ پہلے پھول اورپھرپھل آتے ہیں ۔ یہ کائناتی ربط ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں بھی اسے شامل کر کے زندگی میں ربط پیداکریں۔
    اگرہم دنیاوی تناظرمیں بھی دیکھیں توکسی بھی منزل کوپانے کے لئے ہرانسان کوبہرصورت صبرکی سیڑھی پر چڑھنا پڑتا ہے۔ا یک ڈاکٹرکو بھی اپنی ڈگری لینے کے لئے پانچ سال تک انتظارکرنا پڑتا ہے ۔گویا یہ صبرہی ہے کہ جو منزل بہ منزل اسے ایک بڑے رتبے سے نوازتا ہے ۔ کسی بھی شے یا شعبے میں لمحہ بہ لمحہ ترقی حاصل ہو تی ہے ۔ اگر انسان صبر نہیں کر تاتووہ مایوسی کا شکارہوجاتاہے۔اس حدیث مبارکہ سے یہ اخذ ہو تا ہے کہ جب کوئی شخص کسی کوبرا بھلاکہے یاگالیاں بکے تواس پرصبرکرتے ہو ئے خاموشی اختیارکی جائے تاکہ جہاں دوسرے کواپنی غلطی کااحساس ہووہاں درمیان میں شیطان کوداخل ہونے کا موقع نہ ملے اوربات آگے نہ بڑھ سکے ۔
    دوسری طرف صبرکرنے والے کواللہ کی طرف سے بے حساب اجر بھی عطا ہو تا ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔بلا شبہ صبرکرنے والوں کواُن کااجر بے حساب انداز سے پورا کیا جائے گا۔
    اللہ رب العالمین نے مؤمنوں کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا :
    ( يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ)
    ائے ایمان والو !صبر اور نماز کے ساتھ مددچاہو یقیناًاللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے(بقرہ:۱۵۳)

    معلوم ہوا کہ صبر کا دعوتی میدان میں ایک اہم مقام ہے یہ اگرچہ اپنی مختلف قسموں کے ساتھ تمام مسلمانوں پر واجب ہے لیکن دعاۃ کے لیے بہت ہی ضروری ہے کیونکہ اللہ رب العالمین نے داعیوں کے امام محمد ﷺکو بھی صبر کا حکم دیا ،فرمایا:
    (واصبر وما صبرک الا باللہ ولا تحزن علیھم ولا تک فی ضیق مما یمکرون )
    آپ صبر کریں بغیر توفیق الٰہی کے آپ صبر کر ہی نہں سکتے اور ان کے حال پر آپ رنجیدہ نہ ہوں اور جومکرو فریب کرتے ہیں ان سے تنگ دل نہ ہوں ۔
    اور فرمایا :
    (فاصبر کما صبر أولواالعزم من الرسل )
    تم ایسا صبر کرو جیسا کہ عالی ہمت پیغمبروں نے کیا (احقاف:۳۵)۔

    دعوتی میدان میں صبر کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ اللہ رب العالمین نے اس شخص کی مذمت کی ہے جو دعوتی میدان میں آنے والی تکالیف پر صبر کا دامن جھاڑ دیتا ہے اور تمام مصائب وآلام اور پریشانیوں سے اپنے آپ کو چھٹکارا دلانا چاہتا ہے ،ارشاد باری تعالیٰ ہے (ومن الناس من یقول آمنا باللہ فاذا أوذی فی اللہ جعل فتنۃ الناس کعذاب اللہ )(العنکبوت:۱۱)بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو زبانی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے لیکن جب اللہ کی راہ میں مشکل آن پڑتی ہے تو لوگوں کی ایذا رسانی کو اللہ کے عذاب کی طرح گرداننے لگ جاتے ہیں ۔
    دعوتی میدان میں صبر کی مثال ایسے ہی ہے جیسے بدن میں سر ہو،جس کا سر نہ ہو اس کا بدن نہیں ہوتا اور جسے صبرحاصل نہ ہو اس کے لیے دعوت نہیں ۔
    دعوتی میدان میں صبر کی اہمیت چند امور میں خاص طور پر نمایاں ہوتی ہے مثلاً۔
    دعوتی میدان میں دعاۃ کو آزمائش میں مبتلا ہونا مصائب وآلام سے دوچار ہونا ضروری ہے اور اگر مشکلات سے کوئی شخص محفوظ ہوتا تو اللہ کے برگزیدہ پیغمبر اور تمام نبیوں کے امام محمد ﷺبدرجہ اولیٰ محفوظ رہتے لیکن ایسا نہیں ہوا تمام انبیاء کو اذیت دی گئی ،انہوں نے صبر کے دامن کو تھامے رکھا یہان تک کہ اللہ نے دشمنوں کے خلاف ان سب کی مدد کی ،اور جب سب سے افضل اور سب سے بڑا داعی محفوظ نہیں رہا تو دوسرے دعاۃ بدرجۂ اولیٰ محفوظ نہیں رہ سکتے۔
    دعوتی میدان میں صبر سعادت وخوش بختی کے چار ارکان میں سے ایک عظیم رکن ہے اللہ نے فرمایا (والعصر ان الانسان لفی خسر الا الذین آمنوا وعملو االصالحات وتواصوابالحق وتواصوابالصبر )(عصر:۴۔۱)
    صبر آدھا ایمان ہے اور صبر دو نصفوں سے بنا ہے جس میں سے ایک صبر دوسرا شکرہے فرمان خداوندی ہے (ان فی ذلک لاٰیات لکل صبار شکور)(ابراہیم:۵)اس میں نشانیاں ہیں ہر صابر وشاکر کے لیے اور یہ دونوں ایسے خاص وصف ہیں جو مؤمن کا لازمہ ہیں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا عجبا لامر المؤمن ان أمرہ کلہ خیر ولیس ذلک لاحد الا المؤمن ان اصابتہ شراء شکر فکان خیرا لہ وان اصابتہ ضراء صبر فکان خیرا لہ،، مومن کا معاملہ بھی بڑا خوش کن ہے اس کے کام میں ہر قسم کی بھلائی ہے یہ بات مومن کے علاوہ کسی اور کے لیے نہیں اگر اسے کوئی خوشی نصیب ہوتی ہے اور اس پر شکر ادا کرتا ہے تو وہ اس کے لیے بہتر ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہونچتی ہے تو اس پر صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہے ۔
    صبر داعی کو چند ایسے امور سے بچاتا ہے جن سے بچنا ایک داعی کے لیے ازحد ضروری ہے ،مثلا جزع فزع ،اکتاہٹ وگھبراہٹ ،تکان وجلد بازی،غیض وغضب،خوف ولالچ اور اتباع نفس وغیرہ سے ۔
    دعوتی میدان میں صبر ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے اور انسان اسباب کو اپنا کر صبر کے ذریعہ دشمنوں پر غلبہ حاصل کر سکتا ہے جیسا کی اللہ نے فرمایا (وان تصبروا وتتقوا لا یضرکم کیدھم شیئا )تم اگر صبر کرو اور پرہیزگاری اختیار کروتو ان کا مکر تمہیں کچھ نقصان نہ
    دے گا ۔(آل عمران :۱۲۰)
    دعوتی میدان میں صبر انبیاء کی ایک خاص صفت رہی ہے اور صبر ہی میں ان کی دعوتی میدان میں کامیابی کا راز مضمر ہے اللہ نے اس کی بھی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا (کم من فءۃ قلیلۃ غلبت فءۃ کثیرۃ باذن اللہ واللہ مع الصابرین )بسا اوقات چھوٹی جماعتیں بڑی اور بہت سی جماعتوں پرغلبہ حاصل کر لیتی ہیں اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔(بقرہ:۲۴۹)
    یہی وجہ ہے کہ لقمان حکیم نے جس وقت اپنے بیٹے کو دعوت وتبلیغ کی نصیحت کی تو اسی کے ساتھ صبر کو بھی ذکر کر دیا تھا اور کہا تھا (واصبر علیٰ ما اصابک )ائے میرے بیٹے دعوت الی اللہ کا فریضہ انجام دینا تو ضروری ہے لیکن یاد رکھنا یہ کوئی آسان کام نہیں بلکہ بہت ہی مشکل امر ہے لہٰذااس راہ میں جو مصیبت آئے اس پر صبر کرنا (لقمٰن:۱۷)
    خلاصۂ کلام یہ ہے کہ دعوت کے میدان میں صبر سے بڑھ کر کو ئی زاد راہ نہیں ہے اس کے بغیر دعوت کی دنیا میں ایک قدم چلنا بھی ناممکن ہے قرآن میں نبی ﷺ کو بار بار یہی حکم دیا گیا (واصبر حتیٰ یحکم اللہ )(یونس:۱۰)لیکن حیف صد حیف ہمارے اس دور میں دعوت اسی صبر سے محروم ہو گئی چناچہ ہم اس بے صبری کے سبب سے جلد ہی فیصلہ کر گزرتے ہیں ادھر کسی کے منھ سے اجنبی بات سنی ادھر اسے کافر قرار دے دیا ،بے صبری دعوت کے میدان کی ایسی آفتوں میں سے ایک ہے جو کہ نہ صرف اس وقت دین کے پھیلنے میں رکاوٹ کا سبب ہے بلکہ فرقہ بندی کا سبب بھی ہے اسی لیے اللہ نے داعیان حق کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا (خذالعفووامر بالعرف وأعرض عن الجاھلین )آپ درگزر کو اختیار کریں نیک کام کی تعلیم دیں اور جاہلوں سے الگ رہیں ۔(اعراف:۱۹۹)
    صبرہزارعبادتوں کی ایک عبادت ہے۔ جس سے انسان روحانی اعتبارسے بلندمقام حاصل کر سکتا ہے ۔لہٰذاضرورت اس امرکی ہے کہ ہم صبرکے دامن کومضبوطی سے تھامیں ۔صبرہی ایک ایسا راستہ ہے جوسیدھامنزل سے روشناس کر دیتاہے۔اللہ تعالیٰ ہمارے قول وفعل میں اعتدال و توازن اور تناسب رکھتے ہوئے صبر کا دامن تھامنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اللہ ہمیں دعوت وتبلیغ کے ساتھ ساتھ صبر جمیل کی بھی توفیق بخشے آمین ۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جنوری 19، 2017
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں