1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دعوت ولیمہ کے حوالے سے چند باتیں

'نکاح' میں موضوعات آغاز کردہ از ادب دوست, ‏اگست 27، 2016۔

  1. ‏اگست 27، 2016 #1
    ادب دوست

    ادب دوست مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 23، 2015
    پیغامات:
    30
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    22

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ ،
    دعوت ولیمہ کے حوالے سے معلوم یہ کرنا ہے کہ آیا اس دعوت کا اہتمام مسجد میں کیا جاسکتا ہے ؟ یعنی لوگوں کو مسجد میں طعام پیش کیا جائے جو وہ مسجد میں ہی تناول کریں؟
     
  2. ‏اگست 28، 2016 #2
    حافظ راشد

    حافظ راشد رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 20، 2016
    پیغامات:
    116
    موصول شکریہ جات:
    27
    تمغے کے پوائنٹ:
    56

    میرے خیال میں اسمیں کوئ قباحت نہیں ہے ۔مسجد میں دعوت ولیمہ کا انعقاد ہو سکتا ہے لیکن مسجد کے تقدس کا خیال رکھنا ضروری ہے۔واللہ اعلم بالصواب۔۔۔
     
    • متفق متفق x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏اگست 28، 2016 #3
    عبدالقیوم

    عبدالقیوم مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2013
    پیغامات:
    825
    موصول شکریہ جات:
    408
    تمغے کے پوائنٹ:
    128

    بھائی آپ ولیمہ جہاں بھی کرین شرعی احکام کو مد نظر رکھ کر کریں
     
  4. ‏اگست 29، 2016 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ
    مساجد کا مقصد اصل میں نماز ، ذکر اللہ ، تلاوت ، تعلیم و مذاکرہ ،دروس و خطبات ہیں
    صحیح مسلم کی حدیث مبارکہ ہے :
    « عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا نَشَدَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ: مَنْ دَعَا إِلَى الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَا وَجَدْتَ، إِنَّمَا بُنِيَتِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِيَتْ لَهُ»
    جناب سلیمان بن بریدہ (رضی اللہ عنہ) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آیک آدمی نے مسجد میں آواز لگائی اور اس نے کہا کہ میرا سرخ اونٹ کون لے گیا ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تجھے وہ نہ ملے کیونکہ مسجدیں انہی کاموں کے لئے ہوتی ہیں جن کے لئے بنائی گئی ہیں۔ (صحیح مسلم کتاب المساجد )
    اس حدیث کی شرح میں علامہ نووی لکھتے ہیں :
    " وقوله صلى الله عليه وسلم إنما بنيت المساجد لما بنيت له معناه لذكر الله تعالى والصلاة والعلم والمذاكرة في الخير ونحوها "
    یعنی نبی کریم ﷺ کے ارشاد :(مسجدیں انہی کاموں کے لئے ہوتی ہیں جن کے لئے بنائی گئی ہیں ) کا معنی یہ کہ مساجد
    اللہ کے ذکر ، نماز کی ادائیگی ،اور علم اور بھلائی کے مذاکرے کیلئے بنائی گئی ہیں "

    تو ان میں ایسا کوئی کام نہ کیا جائے جس ان مذکورہ کاموں میں حرج یا رکاوٹ آئے ،
    مساجد میں انفرادی یا اجتماعی کھانے کی ممانعت میں کوئی واضح نص تو موجود نہیں ،
    لیکن اجتماعی کھانا کھلانے والا مقام (جیسا کہ ہم جانتے ہیں ،) آلودہ ہوتا ہے ، اور شور و غوغا ، دنیاوی امور پر گفتگو
    ہوتی ہے ، جو مسجد کے احترام کے منافی ہے تو اس لئے سوائے اضطراری حالت کے مسجد میں اجتماعی کھانا نہ کھلایا جائے؛
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں