1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دم درود

'علاج و دم' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد اسماعيل, ‏فروری 04، 2018۔

  1. ‏فروری 04، 2018 #1
    محمد اسماعيل

    محمد اسماعيل مبتدی
    جگہ:
    سكندرى ضلع مردان
    شمولیت:
    ‏فروری 04، 2018
    پیغامات:
    3
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    دم درود كرنا شرعا كيسا هے؟
     
  2. ‏فروری 04، 2018 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,685
    موصول شکریہ جات:
    2,244
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    ممنوع اور جائز دم جھاڑ
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ سے ر وایت ہے۔کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ؛
    ان الرقي والتمائم والتولة شرك( سنن ابی دائود کتاب الطب باب فی تعلیق التمائم ج ؛ 3883۔مسند احمد 1/381)

    ''جھاڑ پھونک تعویز اور حب کے اعمال شرک ہیں۔''
    اور حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ سےر وایت ہےکہ:
    كان لي خال يرقي من العقرب فنهي رسول الله صلي الله عليه وسلم عن الرقيٰ قال فاتاه فقال يا رسول الله انك نهيت عن الرقي وانا ارقي ن العقرب فقال من استطاع منكم ان ينفع اخاه فليفعل(صحيح مسلم کتاب السلام ۔باب استحباب الرقیۃ من العین والنملۃ۔ح:2199)

    ''میرا ای کاماموں بچھو کے کاٹے کےلئے دم کیا کرتا تھا۔جب نبی کریمﷺ نے جھاڑ پھونک سے منع فرمایا تو وہ آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا۔''یا رسول اللہﷺ!''آپ نے جھاڑ پھونک سے منع فرمایا ہے۔اور میں بچھو کے کاٹے کا دم کرتا ہوں۔''تو آ پ نے فرمایا''اگرتم میں سے کوئی اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے تو اسے فائدہ پہنچانا چاہیے۔''
    جھاڑ پھونک کے موضوع سےمتعلق ممانعت اور جواز کی ان حدیثوں میں تطبیق کی کیا صورت ہوگی؟اگر کوئی بیمار آدمی اپنے سینے پر قرآنی آیات والا تعویز لٹکائے تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟
    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال


    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

    جس جھاڑ پھونک سے منع کیا گیا ہے۔اس سے مراد وہ ہے۔جس میں شرک ہو یا غیر اللہ کے ساتھ توسل(وسیلہ پکڑنا) ہو یا ایسے مجہول الفاظ ہوں۔جن کے معنی معلوم نہ ہوں۔باقی رہے وہ دم جھاڑ جو ان سے پاک ہوں۔تو وہ شرعا جائز اور شفاء کا ایک بڑا سبب ہیں۔کیونکہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے:
    الا باس بالرقي ما لم يكن شركا

    (صحيح مسلم كتاب السلام باب لا باس بالرقي ح :2200)
    ''جس دم جھاڑ میں شرک نہ ہو اس میں کوئی حرج نہیں''
    نیز آپﷺ نے فرمایا ہے۔:
    من استطاع منكم ان ينفع اخاه فلينفعه

    (صحیح مسلم کتاب السلام باب استحباب الرقیۃ من العین والنعلۃ ۔۔۔ح:5729)
    ''جو شخص اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکتاہو اسے ضرور پہنچانا چاہیے۔''
    ان دونوں حدیثوں کو امام مسلم نے اپنی ''صحیح'' میں بیان فرمایا ہے۔نیز نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے کہ:
    لارقية الا من عين او حمة
    (صحيح بخار کتاب الطب باب من اکتوی او کری ح:5705 وصحیح مسلم کتاب الایمان باب لدلیل علی دخول طوائف ۔۔۔ح:220)

    ''دم جھاڑ نظر بد اور ڈسے جانے سے ہوتا ہے۔''
    اس کے معنی یہ ہیں کہ ان دونوں باتوں میں دم جھاڑ زیادہ بہتر اور زیادہ شفاء بخش ہوتا ہے۔اور نبی کریمﷺ نے خود دم کیا بھی ہے۔اور کرایا بھی باقی رہا مریضوں یا بچوں کے گلے میں تعویز لٹکانا تو یہ جائز نہیں جو تعویز لٹکائے جایئں انہیں تمائم حروز اور جوامع کے نام سے موسوم کیاجاتاہے۔اوران کے بارے میں صحیح بات یہ ہے کہ یہ حرام اور شرک کی انواع واقسام میں سے ایک ہیں۔ کیونکہ نبی کریمﷺ کا فرمان ہے:

    ((من لبس تميمة فلااتم الله له’ومن تعلق ودعة فلا ودع الله له))

    (مسند احمد 154/4 مجمع الزوائد /103 وابو یعلی فی المسند رقم 1759)
    ‘‘جو شخص تعویذ لٹکائے ،اللہ تعالیٰ اس کی خواہش کو پورا نہ فرمائے اورجو سیپی وغیرہ لٹکائے ،اللہ تعالیٰ اسے آرام نہ دے۔’’
    نیز آپﷺ نے ارشاد فرمایا:
    ((من تعلق تميمة فقد اشرك))

    ‘‘جس نے تعویذ لٹکایا اس نے شرک کیا۔’’
    نیز فرمایا:
    ان الرقي والتمائم والتولة شرك( سنن ابی دائود کتاب الطب باب فی تعلیق التمائم ج ؛ 3883۔مسند احمد 1/381)

    جو تعویز قرآنی آیات اور جائز دعائوں پر مشتمل ہوں۔ان کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔کہ یہ حرام ہے یا نہیں؟ صحیح بات یہ ہے کہ وہ بھی حرام ہیں۔ اور اس کے دو سبب ہیں:
    1۔مذکورہ احادیث کے عموم سے معلوم ہوتا ہے۔کہ ہر طرح کے تعویز حرام ہیں۔خواہ وہ قرآنی آیات پر مشتمل ہوں۔یا غیر قرآنی کلمات پر!
    2۔شرک کے سد باب کے لئے یہ بھی حرام ہیں۔ کیونکہ اگر قرآنی آیات پر مشتمل تعزیزوں کوجائز قرار دے دیاجائے تو ان میں دوسرے بھی شامل ہوکر معاملے کو مشتبہ بنادیں گے اور ان تعویزوں کے لٹکانے سے شرک کا دروازہ کھل جائےگا۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ جو زرائع شرک اور گناہوں تک پہنچانے والے ہوں۔ان کا بند کردینا قواعد شریعت میں سے ایک بہت بڑا قاعدہ ہے۔اور توفیق عطا فرمانے والا تو اللہ ہی ہے۔!

    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب


    جلددوم
     
  3. ‏فروری 04، 2018 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,685
    موصول شکریہ جات:
    2,244
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    جنتر ، منتر، تعویذ اور گنڈا شرک ہے
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    عبداللہ بن معسود رضى الله عنه فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ کہتے سناہے کہ:
    ((إِنَّ الرُّقی والتَّمَائِمَ والتَّولۃَ شِرکٌ))

    جنتر ، منتر، تعویذ اور گنڈا شرک ہے۔
    اورجابر رضى الله عنه فرماتے ہیں کہ میرا ایک ماموں تھا جو بچھو کے کاٹے کے لیے جھاڑ پھونک کیا کرتا تھا جب رسول اللہ ﷺ نے جھاڑ پھونک سے منع فرمایا تو وہ آپﷺ کے پاس آیا اورکہنے لگا: ’’ اے اللہ کے رسول ﷺ!آپ نے جھاڑ پھونک سے منع فرمایا ہے جبکہ میں بچھو کے کاٹے کا جھاڑ پھونک (دم) کرتا ہوں ‘‘ توآپ ﷺ نے فرمایا: ‘‘ اگر کوئی اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے، تواسے وہ کام کرنا چاہئے‘‘۔
    جھاڑ پھونک کے بارے میں ایک حدیث ممانعت کی ہے دوسری جواز کی ۔ ان دونوں میں تطبیق کی کیا صورت ہے؟ اگر کوئی بیمار شخص اپنے سینے پر قرآن کی آیات والا تعویذ لٹکائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
    عبدالرحمن۔ س ۔ ف۔ الریاض

    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال


    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
    جس جھاڑ پھونک سے منع کیا گیا ہے وہ وہ ہے جس میں شرک ہو یا غیر اللہ سے توسل ہو ، یا اس کے الفاظ مجہول ہوں جن کی سمجھ نہ آسکے۔
    رہا کسی ڈسے ہوئے آدمی کو دم جھاڑ کرنے کا مسئلہ تو یہ جائز ہیاور شفاء کا بڑا ذریعہ ہے کیونکہ نبیﷺ نے فرمایاہے:
    ((لا بأسَ بالرُّقی ماَلَم تکُنْ شرکاً))

    ’’جس دم جھاڑ میں شرک نہ ہو اس میں کوئی حرج نہیں ‘‘
    نیز آپ ﷺ نے فرمایا:
    ((منِ اسْتطاَعَ أَنْ یَنفعَ أخَاہ فَلَیَنْفَعَہُ))

    ’’ جو شخص اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو اسے وہ کام کرنا چاہئے‘‘
    ان دونوں احادیث کی مسلم نے اپنی صحیح میں تخریج کی ہے۔نیز آپﷺ نے فرمایا:
    ((لا رُقیۃَ إِلا مِن عین أَوحُمَۃٍ))

    ’’ دم جھاڑ نظر بد اور بخار کے لیے ہی ہوتا ہے‘‘
    جس کا معنی یہ ہے کہ ان دو باتوں میں ہی دم جھاڑ بہتر اور شفابخش ہوتا ہے اور نبیﷺ نے خود دم جھاڑ کیا بھی ہے اور کرایا بھی ہے
    رہادم جھاڑ یا تعویذ کو مریضوں اور بچوں کے گلے میں لٹکانا تو یہ جائز نہیں ۔ ایسے لٹکائے ہوئے تعویذ کو تمائم بھی کہتے ہیں اور حروز اور جو امع بھی ۔اورحق بات یہ ہے کہ یہ حرام اور شرک کی اقسام میں سے ایک قسم ہے کیونکہ نبیﷺ نے فرمایا ہے:
    ((مَنْ تعلَّق تمیمۃ فلاَ أَتمَّ اللَّہُ لَہ، ومَنْ تعلَّق وَدعۃً فَلَا وَدَع اللّٰہُ لہ۔))

    ’’ جس شخص نے تعویذ لٹکایا اللہ تعالی اس کا بچاؤ نہیں کر ے گا اور جس نے گھونگا باندھا وہ اللہ کی حفاظت میں نہ رہا‘‘
    نیز آپ ﷺ نے فرمایا:
    ((مَنْ تعلَّق تمیمۃً فقد أَشرْکَ))

    ’’ جس نے تعویذ لٹکایا اس نے شرک کیا‘‘
    نیز آپ ﷺ نے فرمایا:
    ((إِنَّ الرُّقی وَالتَّمائِمَ والتَّولۃَ شِرْکٌ))

    دم جھاڑ، تعویذ اور گنڈا شرک ہے‘‘
    ایسے تعویذ جن میں قرآنی آیات یا مباح دعائیں ہوں ان کے بارے علماء کا اختلاف ہے کہ آیا وہ حرام ہیں یانہیں ؟ اور راہ صواب یہی ہے کہ وہ دو وجوہ کی بنا پر حرام ہیں ۔
    ایک وجہ تو مذکورہ احادیث کی عمومت ہے کیوں کہ یہ احادیث قرآنی اور غیر قرآنی ہر طرح کے تعویذوں کے لیے عام ہیں ۔
    اور دوسری وجہ شرک کا سدباب ہے کیونکہ جب قرآنی تعویذوں کو مباح قرار دے جائے توان میں دوسرے بھی شامل ہو کر معاملہ کو مشتبہ بنادیں گے اور ان سے مشرک کا دروازہ کھل جائے گا۔ جبکہ یہ بات معلوم ہے کہ جو ذرائع شرک یا معاصی تک پہنچانے والے ہوں ان کا سدباب شریعت کے بڑے قواعد میں سے ایک قاعدہ ہے اور توفیق تو اللہ ہی سے ہے۔

    فتاوی بن باز رحمہ اللہ (
    جلداول -صفحہ 32)
    محدث فتویٰ
     
  4. ‏فروری 04، 2018 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,685
    موصول شکریہ جات:
    2,244
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    علیحدگی میں عورتوں پر دم جھاڑ کرنا
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    عام طورپر دیکھا جاتا ہے کہ روحانی دم جھاڑ کرنے والے عورتوں یا کسی ایک عورت کو تنہائی میں دم کرتےہیں ، کیا ایسا کرنا جائز ہے، اگرچہ دم کرنے والا بزرگ اور عمر رسیدہ ہو، قرآن و حدیث کےمطابق ہماری راہنمائی کریں؟
    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال


    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
    دین اسلام میں عورت کی عزت و ناموس کا بہت خیال رکھا گیا ہے۔ شریعت اسلامیہ میں کسی بھی اجنبی عورت سے خلوت اختیار کرنا حرام اور ناجائز ہے ، خواہ وہ روحانی دن کرنے کےلئے ہی کیوں نہ ہو۔ رسول اللہﷺ کے اس سلسلہ میں واضح ارشادات ہیں:
    ‘‘خبردار !جو آدمی بھی کسی عورت کے ساتھ تنہائی اختیار کرتا ہے دونوں میں تیسرا ساتھی شیطان ہوتا ہے۔’’(ترمذی ،الرضاع:۱۱۷۱)
    دم کرنے والا ، خواہ بزرگ اور عمر رسیدہ ہی کیوں نہ ہو، اس کے لئے عورتوں کے ساتھ تنہائی اختیار کرنا جائزنہیں ہے، شیطان بڑ اہوشیار اور چالاک ہے، اس سےبچاؤکی تدبیر یہی ہے کہ انسان دین اسلام کے ضابطوں پر عمل پیرا رہے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتارہے۔عربی کا ایک محاورہ ہے کہ ‘‘ہرگری پڑی ہوئی چیز کوئی نہ کوئی اٹھانے والا ضرور ہوتا ہے’’ا س لئے مرد یا عورت کی بزرگی اور عمررسیدگی کو اس سلسلہ میں بطور بہانہ استعما ل نہ کیا جائے، علمائے کرام کو چاہیئے کہ اس مسئلہ کی نزاکت کو مد نظر رکھیں اور دم جھاڑ کرنے کےلئے عورتوں سے خلوت اختیار نہ کریں ۔ (واللہ اعلم )

    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

    فتاویٰ اصحاب الحدیث (
    ج2ص432 )
    محدث فتویٰ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں