1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دنیا کی حقیقت

'مٹیریل ازم' میں موضوعات آغاز کردہ از سدرہ منتہا, ‏ستمبر 18، 2012۔

  1. ‏ستمبر 18، 2012 #1
    سدرہ منتہا

    سدرہ منتہا رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 14، 2011
    پیغامات:
    114
    موصول شکریہ جات:
    576
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    ہارون الرشید پانی پی رہا تھا کہ اس کے پاس ایک محدث تشریف فرما تھے جنکا نام محمد بن سماک رحمہ اللہ علیہ تھا ۔ ہارون نے کہا کہ مجھے کچھ نصیحت کیجئے ۔
    فرمانے لگے کہ پانی تیرے ہاتھ میں ہے ۔ تُو صحرا میں بھٹک جائے اور پیاس سے مرنے لگے ، کوئی شخص تجھے کہے کہ میں تجھے پانی دیتا ہوں ۔ لیکن اس کے بدلے مجھے کیا دو گے تو اس شخص کو کیا دو گے؟ ہارون نے کہا کہ اپنی آدھی سلطنت ۔
    محمد بن سماک رحمہ اللہ علیہ کہنے لگے کہ اچھا پانی پی لو ۔ ہارون نے پانی پی لیا تو پھر کہا کہ یہ پانی تیرے پیٹ میں جاکر ٹھہر جائے اور نکلے نہیں تو تُو تڑپنے لگے اور ایک آدمی تجھے کہے کہ یہ پانی میں نکال سکتا ہوں تو اس شخص کو کیا دو گے ؟
    ہارون نے کہا کہ باقی کی آدھی سلطنت دے دوں گا ۔
    محمد بن سماک رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ وہ ملک جس کے آدھے کی قیمت چند گھونٹ پانی اور اور باقی آدھے کی قیمت چند قطرے پیشاب ہو ، اس قابل نہیں ہے کہ اس کیلئے اللہ کو ناراض کیا جائے ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏ستمبر 18، 2012 #2
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    جزاک الله خیر بہن
     
  3. ‏ستمبر 20، 2012 #3
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
     
  4. ‏اکتوبر 30، 2015 #4
    عبداللہ ابن آدم

    عبداللہ ابن آدم رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 05، 2014
    پیغامات:
    161
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    بات تو بالکل درست ہے لیکن یہ کہاں لکھی ہے؟ اس کا کوئی حوالہ مل سکتا ہے ۔
     
  5. ‏اکتوبر 30، 2015 #5
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,369
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    یہ واقعہ علامہ ابن کثیر نے ’’ البدایہ و النہایہ ‘‘ میں نقل کیا ہے ؛
    ودخل عليه ابن السماك يوما فاستسقى الرشيد فأتي بقلة فيها ماء مبرد فقال لابن السماك: عظني.
    فقال: يا أمير المؤمنين! بكم كنت مشتريا هذه الشربة لو منعتها؟ فقال: بنصف ملكي.
    فقال: اشرب هنيئا، فلما شرب قال: أرأيت لو منعت خروجها من بدنك بكم كنت تشتري ذلك؟ قال بنصف ملكي الآخر.
    فقال: إن ملكا قيمة نصفه شربه ماء، وقيمة نصفه الآخر بولة، لخليق أن لا يتنافس فيه.
    فبكى هارون.

    ابن سماک ایک مرتبہ خلیفہ ہارون الرشید سے ملاقات کیلئے گئے ، اس دوران خلیفہ ہارون الرشید نے پینے کیلئے پانی منگوایا ۔ایک مٹکے میں ٹھنڈا پانی انہیں پیش کیا گیا ،
    خلیفہ ہارون الرشید نے ابن سماک سے کہا کچھ نصیحت کیجئے ۔۔
    ابن سماک نے کہا : دیکھئے اگر یہ پانی اگر آپ کو نہ ملے تو آپ اسے کس قیمت پر خریدیں گے ؟
    خلیفہ ہارون الرشید نے کہا : اپنی آدھی سلطنت کے عوض خریدوں گا ،
    ابن سماک نے کہا : آپ آرام سے پانی پی لیں ، جب انہوں نے پی لیا تو ابن سماک نے پوچھا کہ جو پانی پیا ہے اگر وہ آپ کے بدن سے باہر نہ نکلے ،تو آپ اس کیلئے کیا خرچ کریں گے ؟
    خلیفہ ہارون الرشید نے اپنی باقی آدھی سلطنت اس کیلئے دے دوں گا ،
    ابن سماک نے کہا :آپ کی آدھی سلطنت کی قیمت چند گھونٹ پینے کا پانی ،اور دوسری آدھی سلطنت کی قیمت
    پیشاب ہے،
    یہ اس قابل نہیں کہ اس خواہش و طلب کی جائے۔
    (البدایہ و النہایہ جلد ۱۰ ۔۔ص۲۳۴ )
     
    Last edited: ‏اکتوبر 31، 2015
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں