1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دوران حج وفات پانے والے حاجی کے احکام

'عمرہ اور حج' میں موضوعات آغاز کردہ از مقبول احمد سلفی, ‏اگست 17، 2017۔

  1. ‏اگست 17، 2017 #1
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,054
    موصول شکریہ جات:
    315
    تمغے کے پوائنٹ:
    177

    دوران حج وفات پانے والے حاجی کے احکام
    مقبول احمد سلفی

    بسااوقات دوران حج حادثہ ہونے یا یونہی فطری طور پر حج کرنے والا اچانک وفات پاجاتا ہے ۔ اس پر اس کے ورثاء بہت غمگین ہوتے ہیں اور اس کا حج ادھورا ہونے کی وجہ سے مزید بےچین ہوجاتے ہیں۔کسی کا دنیا سے جانا اس کے وارثین کے لئے واقعی باعث غم ہے مگر اس پہ رونا نہیں چاہئے اور جس کی موت اللہ کے راستے میں ہو ایسا شخص تو خوش نصیب ہے ۔ ہم سب اللہ تعالی سے دعا کریں کہ یارب ہمیں نیکی کی راہ میں موت دے ۔ یہ حسن خاتمہ کی علامت ہے ، اللہ کی رحمت سے امید کرتے ہوئے ایسی موت پر جنت کی راہ آسان ہوسکتی ہے ۔
    یہاں حج کے دوران وفات ہونے سے کئی مسائل ہیں جنہیں جاننا ضروری ہے ۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر کسی پر حج فرض تھا ، اللہ کی توفیق سے وہ حج کی ادائیگی کے لئے گھر سے نکل پڑا تھا اور مکہ پہنچ کر حج کی ادائیگی کررہاتھا کہ اسی دوران اس کی وفات ہوگئی تو کیا اس کے ورثاء پروفات پانے والے کے مال سے اس حج کی قضا واجب ہے ؟ اور اس کے غسل وکفن کا کیا طریقہ ہے ؟
    اس کا جواب یہ ہے کہ جو دوران حج وفات پاجائے اس کی بڑی فضیلت ہے ایسے شخص کی طرف سے قضا کا حکم شریعت میں نہیں ملتا۔ اللہ تعالی نے اس کی زندگی میں جتنا عمل کرنا مقدر کیا تھا اتنا کرلیا اور جتنے کی نیت کی تھی اس کا مکمل اجر ملے گا۔ اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے ۔ بخاری ومسلم میں
    حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا:
    بينَا رجلٌ واقفٌ مع النبيِّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ بعَرَفَةَ ، إذْ وَقَعَ عن راحلتِهِ فَوَقَصَتْهُ ، أو قال فأَقْعَصَتْهُ ، فقالَ النبيُّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ : اغْسِلوهُ بماءٍ وسِدْرٍ ، وكَفِّنُوهُ في ثَوْبَيْنِ ، أو قالَ : ثَوْبَيْهِ ، ولا تُحَنِّطُوهُ ، ولا تُخَمِّروا رأسَهُ ، فإنَّ اللهَ يبْعَثُهُ يومَ القيامةِ يُلَبِّي .( صحيح البخاري:1849)
    ترجمہ: میدان عرفات میں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ٹھہرا ہوا تھا کہ اپنی اونٹنی سے گرپڑا اور اس اونٹنی نے اس کی گردن توڑ ڈالی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانی اور بیری کے پتوں سے اسے غسل دو اوراحرام ہی کے دو کپڑوں کا کفن دو لیکن خوشبو نہ لگانا نہ اس کا سر چھپانا کیوں کہ اللہ تعالیٰ قیامت میں اسے لبیک کہتے ہوئے اٹھائے گا۔
    اس حدیث کی روشنی میں دوران حج وفات پانے والے کو بیری ، پانی اور غیرخوشبو والے صابون سے غسل دیا جائے گااور احرام کے کپڑے میں ہی کفن دیا جائے گا ۔ نہ اس کا بال کاٹاجائے گا، نہ اس کا ناخن کاٹا جائے گا اور نہ ہی اسے خوشبو لگائی جائے گی ۔ محرم کی طرح اس کا سر بھی کھلارہے گا اور کھلے سر، ایک چادر، ایک ازارمیں نماز جنازہ پڑھ کر دفن کردیا جائے گا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ حاجی ہے ، قیامت میں اسی حالت میں تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا۔ ہاں اگر مرنے والی عورت ہو تو اس کا سر وچہرہ سمیت مکمل بدن ڈھانپا جائے گا ۔اور چونکہ اس حدیث میں یا دیگر کسی حدیث میں دوران حج وفات پانے والے میت کی طرف سے قضا کا حکم نہیں ہے اس لئے اس کی طرف سے قضا کرنا ضروری نہیں ہے ، نہ اسے اتمام کی ضرورت ہے اور نہ کوئی فدیہ یا کفارہ ہے ۔ اگر اللہ نے میت کو مال کی فراوانی سے نوازا ہے اور اس کے ورثاءمیں سے کوئی قضا کے طور پر حج کرلے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ حج قضا کرنے والا پہلے اپنا حج کرچکا ہو۔

    مزید چند مسائل
    ٭ اگر میت نے وصیت کی تھی کہ اگر میں حج نہ کرسکا تو میری جانب سے میرے ورثاء حج کریں تو پھر میت کے وارث پراس کی طرف سے حج کرنا واجب ہے ۔
    ٭ جس نے حج کی نیت کی تھی مگر حج کا احرام باندھنے سے پہلے وفات پاگیا تو اس کا حج باقی ہے جسے اس کا وارث ادا کرے گا لیکن نیت کا ثواب اللہ کی طرف سے اسے ملے گا۔
    ٭ میت کے ذمہ قرض ہو اور وصیت بھی کی ہو تو پہلے قرض ادا کیا جائے گا پھر وصیت کا نفاذ عمل میں آئے گا۔
    ٭ اسی طرح وہ شخص جسے اللہ نے حج کرنے کی طاقت دی تھی مگرکسی وجہ سے وہ حج نہ کرسکا، نہ حج کی نیت کرسکااور بغیر حج کے وفات پاگیا تو میت کے ترکہ میں سے کسی دیندار شخص کو پیسہ دے کرحج کرایا جائے گاخواہ حج کی وصیت کی ہو یا نہ کی ہو۔
    ٭ اگر کوئی میت طاقت نہ ہونے کی وجہ سے زندگی میں حج نہ کرسکا تھا تو اس کی مالدار اولادفوت شدہ والدین کی طرف سےحج وعمرہ کرسکتے ہیں ۔
    ٭ دوران حج وفات پانے والے کو شہید کہنے کی صریح دلیل نہیں ملتی مگر یہ حسن خاتمہ کی علامت ہے اور افضل اعمال میں سے ہے اس لئے بڑے اجروثواب کی امید ہے جیساکہ نبی ﷺ کا فرمان اوپر گزرا ہے اور ایک یہ بھی فرمان ہے :
    من خرج حاجًّا فمات ؛ كتب اللهُ له أجرَ الحاجِّ إلى يومِ القيامةِ (صحيح الترغيب:1267)
    ترجمہ: جو حج کے لئے نکلتا ہے اور وفات پاجاتا ہے تو اللہ اسے قیامت کے دن حج کرنے والے کے بربر ثواب دے گا۔
    ٭ گوکہ میت کی لاش ایک ملک سے دوسرے میں منتقل کرکے دفن کی جاسکتی ہے مگر یہاں معاملہ عام میت کا نہیں ہے بلکہ محرم کا ہے جس کا سر کھلا ہوتا ہے ایسے میت کو دوسرے ملک میں منتقل نہ کرنا بہتر ہے ۔ نبی ﷺ نے شہداء کی لاشیں منتقل نہیں کی ۔
    ٭ حاجیوں میں ایک رواج عام ہے وہ اپنے گھروں سے کفن لیکر چلتے ہیں کہ کہیں موت آجائے تو اس میں کفن دے دیا جائے ، ایسا کرنے کی کوئی سنت رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب سے منقول نہیں ہے لہذا اس عمل کو چھوڑ دینا چاہئے اور حاجیوں کا کفن تو احرام کا کپڑا ہے ۔
    ٭ آخری بات حاج وہ ہے جس نے حج کا احرام باندھ لیا مگر جس نے ابھی احرام نہیں باندھا صرف حج کا ارادہ یا نیت کی ہے تو وہ حاج نہیں ہے مگر اللہ تعالی نیت کا بھی پورا ثواب دیتا ہے ۔

     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں