1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دوران عدت بيوہ سے شادى كر لى ------------

'عدت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏ستمبر 16، 2013۔

  1. ‏ستمبر 16، 2013 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,869
    موصول شکریہ جات:
    6,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    دوران عدت بيوہ سے شادى كر لى ------------
    ايك شخص نے بيوہ عورت سے دوران عدت ہى شادى كر لى ابھى اس كے خاوند كے فوت ہونے كى عدت مكمل نہيں ہوئى تھى، اور يہ واقعہ آج سے تقريبا تيس برس قبل شريعت سے لاعلمى كى بنا پر پيش آيا تھا، ا ب ان دونوں كى اولاد بھى ہے، اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے، برائے مہربانى يہ بتائيں كہ اب كيا كيا جائے ؟

    الحمد للہ:
    • اول:
    جس عورت كا خاوند ہو جائے اور وہ حاملہ نہ ہو تو اسے چارہ ماہ دس دن عدت گزارنى ضرورى ہے كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
    { اور تم ميں سے وہ لوگ جو فوت ہو جائيں اور اپنى بيوياں چھوڑ جائيں تو وہ عورتيں چار ماہ دس دن انتظار كريں }البقرۃ ( 234 ).
    اور اگر بيوى حاملہ ہو تو اس كى عدت وضع حمل سے ختم ہوگى؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:


    اس ليے اگر عورت نے دوران عدت نكاح كر ليا تو علماء كرام كے متفقہ فيصلہ كے مطابق اس كا نكاح باطل ہوگا، اور ان دونوں كے مابين عليحدگى كرانا ضرورى ہے.

    • ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    " عدت والى عورت كے ليے بالاجماع دوران عدت نكاح كرنا جائز نہيں، وہ عدت كوئى بھى ہو كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:



    اور ا گر وہ دوران عدت شادى كر لے تو اس كا نكاح باطل ہے " انتہى
    ديكھيں: المغنى ( 8 / 100 ).

    اس ليے اس عورت اور اس كے دوسرے خاوند كے مابين عليحدگى كرانا ضرورى ہے، پھر وہ اپنى پہلے خاوند سے عدت مكمل كريگى، اور جب پہلے كى عدت سے فارغ ہو جائے تو دوسرے شخص كے ليے نيا عقد كرنا جائز ہوگا.

    • ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    " جب يہ ثابت ہو جائے تو اسے اس عورت سے عليحدہ ہونا لازم ہے، اور اگر وہ ايسا نہ كرے تو دونوں كے مابين عليحدگى كرانا واجب ہوگى، اگر وہ اسے چھوڑ دے يا ان كے مابين عليحدگى كرا دى جائے تو اس عورت پر پہلے سے عدت پورى كرنا ہوگى؛ كيونكہ اس كا پہلے حق ہے، اور صحيح نكاح ميں وطئ سے اس كى عدت واجب ہوئى ہے.

    لہذا جب وہ پہلے كى عدت پورى كر لے تو اس پر واجب ہے كہ وہ دوسرے كى عدت بھى پورى كرے، دونوں عدتيں آپس ميں ايك دوسرے ميں داخل نہيں ہونگى؛ كيونكہ يہ دو مردوں سے ہيں، امام شافعى رحمہ اللہ كا يہى مسلك ہے.

    پھر انہوں نے يہى قول عمر بن خطاب اور على بن ابى طالب رضى اللہ تعالى عنہما سے نقل كرتے ہوئے كہا ہے:

    پھر پہلے كى عدت ختم ہونے پر دوسرے شخص كے ليے نكاح كرنا جائز ہے، عدت ختم ہوتے ہى وہ نكاح كر سكتا ہے.

    • ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    " امام شافعى رحمہ اللہ كا نيا قول يہ ہے كہ: پہلے كى عدت ختم ہونے پر اسے نكاح كا حق حاصل ہے، اس كى اپنى عدت ميں اس عورت سے نكاح كرنے سے اسے منع نہيں كيا جا سكتا كيونكہ عدت تو نسب كو محفوظ اور نطفہ كو پاكيزہ كرنے كے ليے مشروع كى گئى ہے، اور يہاں نسب مرد كى طرف منسوب كيا جائيگا، تو يہ اس كے مشابہ ہوا كہ اگر وہ اس سے خلع كر كے پھر دوران عدت نكاح كر لے، يہ قول بہتر اور نظر كے بھى موافق ہے... " انتہى
    ديكھيں: المغنى ( 8 / 100 ).

    • اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    " قواعد كے اعتبار سے راجح يہ ہے كہ وہ اس كے ليے پہلے كى عدت ختم ہونے پر حلال ہو جائيگى، خاص كر جب وہ توبہ كر كے اللہ كى طرف رجوع كرتا ہے؛ كيونكہ يہ عدت تو اس كى اپنى ہى تھى " انتہى
    ديكھيں: الشرح الممتع ( 13 / 383 ).

    دوم:

    اگرچہ يہ نكاح باطل ہے مگر يہ ہے كہ نكاح شبہ ہونے كى بنا پر اس كى اولاد اسى كى طرف منسوب ہوگى، يہاں شبہ نكاح حكم شرعى سے جہالت ہے.

    • ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    " جب كوئى شخص كسى عدت والى عورت سے شادى كرے، اور دونوں يعنى عورت و مرد كو عدت كا علم بھى ہو، اور دوران عدت نكاح حرام ہونے كا علم ركھتے ہوں، اور وطئ كى حرمت بھى جانتے ہوں تو يہ دونوں زانى، دونوں كو زنا كى حد لگائى جائيگى، اور عورت كو مہر نہيں ملےگا، اور نہ ہى مرد كى طرف نسب كى نسبت كى جائيگى.
    ليكن اگر وہ عدت سے جاہل ہوں يا اس كى حرمت كا علم نہ ركھتے ہوں، تو نسب ثابت ہوگا، اور حد نہيں لگائى جائيگى، اور مہر دينا واجب ہوگا " انتہى
    ديكھيں: المغنى ( 8 / 103 ).

    واللہ اعلم .
    الاسلام سوال وجواب
     
    • زبردست زبردست x 3
    • پسند پسند x 2
    • علمی علمی x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏ستمبر 16، 2013 #2
    حسن شبیر

    حسن شبیر مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 18، 2013
    پیغامات:
    802
    موصول شکریہ جات:
    1,817
    تمغے کے پوائنٹ:
    196

    جزاک اللہ خیرا
     
  3. ‏ستمبر 16، 2013 #3
    قاری مصطفی راسخ

    قاری مصطفی راسخ علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    lahore
    شمولیت:
    ‏مارچ 07، 2012
    پیغامات:
    658
    موصول شکریہ جات:
    713
    تمغے کے پوائنٹ:
    301

    جزاکم اللہ خیرا
     
  4. ‏ستمبر 16، 2013 #4
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,036
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    296

    جزاک اللہ خیر۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  5. ‏ستمبر 18، 2013 #5
    حق کی طرف رجوع

    حق کی طرف رجوع رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2013
    پیغامات:
    143
    موصول شکریہ جات:
    218
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    جزاک اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں