1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دور جدید میں مصلحتِ خاموشی!

'جدید فقہی مسائل' میں موضوعات آغاز کردہ از Dua, ‏فروری 18، 2014۔

  1. ‏مارچ 06، 2015 #11
    سجاد

    سجاد رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 04، 2014
    پیغامات:
    160
    موصول شکریہ جات:
    69
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    خیر و بھلائی اور امر بالمعروف کی باتوں میں تو خاموش نہیں رہنا چاہیے، عام حالات میں ایسی باتوں پر خاموشی اختیار کرنا یقیناََ جرم ھے،
    "من کان یومن بالله والیوم الآخر فلیقل خیراً "

    جبکہ فتنہ والی بات کرنے سے بہتر ھے کہ کی ھی نہ جائے

    " او ليصمت "

    اس کا مطلب یہی ھے کہ فتنہ پردازی کرنا، گناہ و معصیت کی بات کرنا بد اخلاقی والی بات کرنا،،،،،،ان سب سے بہتر ھے کہ خاموشی ھی اختیار کرلی جائے،،،،،،،،


    ایمانیات| عقیدہ | نواقض اسلام | کے معاملہ علماء حق مصلحتاً خاموشی اختیار نہیں کرتے،
    البتہ کچھ فروعی معاملات میں مصلحت اختیار کی جاتی ھے،،، جسکا اب تک فائدہ ھی دیکھنے کو ملا ھے

    باقی فی زمانہ مختلف حالات و واقعات کے مطابق ھی فیصلہ|اجتہاد کیا جا سکتا ھوتا ھے کہ اب کیا حکمت عملی اپنانی ھے،،،،
     
  2. ‏مارچ 17، 2015 #12
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    تمام آراء مفید ہیں۔اللہ تعالی آپ سب کو جزائے خیر عطا کرے۔آمین
    میرے سوال کا مقصد دعوۃ و تبلیغ میں خاموشی سے متعلق نہیں تھا ، بلکہ معاملات زندگی میں اور موجودہ دور کی کشمکش کے متعلق تھا۔جیسے کلمہ حق کہنے کے متعلق ایک حدیث کا مفہوم یاد آ رہا ہے کہ صحابہ کرام نے فرمایاکہ واللہ ہمیں بعض چیزیں بری لگتیں مگر "خوف یا ڈر" کی وجہ سے بیان نہ کرتے تھے ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تھا کہ تمہیں کوئی بات کلمہ حق سے نہ روکے، مگر آج بہت سی ایسی باتیں ہیں ، یا برے کام ہیں جو ریاست میں سر انجام دئیے جاتے ہیں ، بعض اوقات ایسی فتنہ کی باتیں کسی انتہائی معزز شخصیت میں بھی ہو سکتی ہیں۔ لیکن خیر کی طرف راہنمائی کے لیے ان سے خاموشی اختیار کر تی ہوں۔ایسے امور پر اللہ تعالی سے مدد کی دعا کرنا اور بر سر اقتدار یا علماء کرام تک ان فتائن پر گزارشات پہنچانا بھی اس مسئلے کے حل میں شامل ہے۔تاہم عام عوام میں خاموشی اختیار کی جائے یا نہیں ، یہ مجھے سمجھ نہیں آتا ! ۔۔۔کیونکہ عام عوام حد ثوا الناس بما یعرفون جیسی ہے۔
    اور اگر اس مسئلے کا مثبت حل مل جائے تو بہت سے مسائل سمجھنے میں آسانی ہو جائے ۔
     
    • زبردست زبردست x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں