1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دور حاضر میں اتحاد امت وقت کی اہم ضرورت (کالم: ظفر اقبال ظفر))

'تازہ مضامین' میں موضوعات آغاز کردہ از ظفر اقبال, ‏مارچ 08، 2020۔

  1. ‏مارچ 08، 2020 #1
    ظفر اقبال

    ظفر اقبال رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 22، 2015
    پیغامات:
    248
    موصول شکریہ جات:
    18
    تمغے کے پوائنٹ:
    85

    ((ظفر اقبال ظفر))
    دور حاضر میں اتحاد امت وقت کی اہم ضرورت
    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور ضابطہ اخلاق ہے جو زندگی کے ہر پہلو کے متعلق مکمل رہنمائی کرتا ہے۔ یہ بات بد قسمتی سے اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب سے یکسر ختم ہو چکی ہےجس کی بنیادی وجہ تعلیمات الہیہ سے انحراف یا پھر تحریفات و تاویلات کا طرز فکر ہے جس نے اسلامی تعلیمات کو مسخ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ۔ اسی طرح کی کچھ صورت حال امت مسلمہ کی بھی ہے جس کی وجہ سے آج امت مسلمہ مختلف جماعتوں، گروہوں، اور ٹولیوں میں بٹی ہوئی ہے، اس ختلاف کے اسباب کیا ہیں؟ اور ان کے ازالے کی کیا صورت ہو سکتی ہے، انہیں ہم چار بنیادی باتوں میں محصور کر سکتے ہیں، تعلق باللہ کی کمی، مقام نبوت سے نا آشنائی، مقصدیت کا فقدان اور مسلکی و علاقائی اور لسانی وقومیت پر مبنی اختلافات کی حقیقت کو نہ جاننا، آج ہمارا تعلق اپنے خالق و مالک سے کمزور ہی نہیں ہوا بلکہ رسمی بن کر رہ گیا ہے۔اللہ تعالی سے تعلق کی بنیاد پر ہی دل باہم جڑتے ہیں، کتنے لوگ ہیں جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن ان کا عمل آپ کی سنت کے خلاف ہوتا ہے۔
    یاد رکھیں ! صحابہ کرام میں جو اتحاد پیدا ہوا تھا اس میں حب رسول کا بھی دخل تھا لیکن یہ خالی جذباتی محبت نہ تھی بلکہ انہوں نے آپ کو اپنی زندگی کا آئیڈیل اور نمونہ بنا لیا تھا۔ دوسری جانب کتنے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے آپ کی محبت میں ایسا غلو کیا کہ خالق و مخلوق کا فرق بھی ختم ہونے لگا۔اسی خدشہ کا اظہار اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اخیر ی وقت میں کیا تھا اور فرمایا:میری شان میں غلو مت کرنا جیسا کہ عیسائیوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کی شان میں غلو کیا میں محض ایک بندہ ہوں لہذا مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو۔ (صحيح البخاري)
    اگر ہمیں اتحاد امت مطلوب ہے مگر میں تو کہنا چاہوں گا ضرور ہونا چاہئے اس کے بغیر انسانیت کی تکمیل اور اشرف مخلوقات ہونے کا مقام شرمندہ تعبیر ہو جاتاہے۔ ہمیں اتحاد و اتفاق کے لیے اللہ تعالی سے تعلق کو مضبوط کرنا ہوگا، پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو اپنی اصلی شکل میں ماننا ہوگا، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بیچ فرق کو سمجھنا ہوگا اور کتاب و سنت کو اپنی زندگی کا لائحہ عمل بنانا ہوگا ۔ کیونکہ اس کی بنیاد پر امت متحد ہوئی تھی اور آج بھی اسی کی بنیاد پر متحد ہو سکتی ہے۔خود صحابہ کرام کے بیچ اختلافات پائے جاتے تھے لیکن ان کے اختلافات نے کبھی عداوت کی شکل اختیار نہ کی ‘کبھی انتشار و افتراق کا سبب نہ بنے، وجہ صرف یہ تھی کہ سب حق کے متلاشی تھے۔ قرآن و حدیث ان کا مطمع نظر تھا‘ ائمہ اربعہ کے بیچ اختلافات پائے جاتے تھےلیکن ان کا دل ایک دوسرے کے تئیں بالکل صاف تھا۔ ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف کبھی رنجش و عداوت پیدا نہ ہوئی۔آج امت مسلمہ کو باہمی محبت کی ضرورت ہے، ظاہر ہے اس کے لیے وسعت نظری اوروسعت قلبی پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ تنگ دلی اور تنگ نظری سے ہمیں نقصان ہی ہوا ہے اور ہو رہا ہے‘ بلکہ مجھےکہنے دیا جائے کہ ہمارے اختلاف کی وجہ سے غیر قومیں اسلام سے بدظن ہو رہی ہیں، اسلام پر سوالیہ نشان اٹھ رہا ہے۔
    خدا راہ ! ذرا ہوش میں آئیے اور وقت کی نزاکت کے پیش نظر اختلافات سے نکل کر اتحاد و اتفاق کی طرف توجہ مبذول کریں۔اختلافات بہت ہو گئے، بیان بازیاں بہت ہو چکیں، اب متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے ہم اپنی نیتوں میں اخلاص پیدا کریں، ہمارا کام محض اللہ کے لیے ہو، ہمارے ہر عمل میں اللہ کی خوشنودی مطلوب ہو، اچھائیوں کو سراہیں اور کوئی غلطی ہے تو نیک نیتی کے ساتھ اور خیر خواہانہ انداز میں اسے ایک دوسرے سے دور کرنے کی کوشش کریں جب تک ایک دوسرے کےقریب نہ ہوں گے تلخیاں دور نہیں ہو سکتیں۔
     
  2. ‏مارچ 09، 2020 #2
    بھائی جان

    بھائی جان رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    618
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    اتحاد امت میں نام نہاد اہلحدیث نا صرف سب سے بڑی رکاوٹ بلکہ رکاوٹیں پیدا کرنے والی فیکٹری ہے۔
     
  3. ‏مارچ 10، 2020 #3
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,620
    موصول شکریہ جات:
    415
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    بریلوی دیوبندی :)
     
  4. ‏مارچ 11، 2020 #4
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,540
    موصول شکریہ جات:
    731
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    اتحاد امت پر بات ھو رہی ھے ، کسی قریہ کی نہیں ، جہاں صرف 2 "نام نہاد" اہلحدیثوں نے آپکا یہ حال کر رکھا ھے ۔ جب معاملہ عالمی بیان کیا جا رھا ھو تو ایک چھوٹے سے قریہ کے تجربات کو اپنے پاس رکھیں ۔
     
  5. ‏مارچ 12، 2020 #5
    ابن الياس آسي الكلائي

    ابن الياس آسي الكلائي مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 14، 2018
    پیغامات:
    6
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    9

    ایک طرف اتحاد امت کے لئے اس قدر فکر مندی ، دوسری طرف یہ نام نہادی کے الزامات اورطعن وتشنیع ،کیا یہی انداز اتحاد ہوا کرتا ہے،یاللعجب
     
  6. ‏مارچ 12، 2020 #6
    ابن الياس آسي الكلائي

    ابن الياس آسي الكلائي مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 14، 2018
    پیغامات:
    6
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    9

    اتحاد امت میں نام نہاد اہلحدیث نا صرف سب سے بڑی رکاوٹ بلکہ رکاوٹیں پیدا کرنے والی فیکٹری ہے۔
    یہ الزام تراشی اور طعن وتشنیع ،یہ کیسا انداز اتحاد ہے،یاللعجب
     
  7. ‏مارچ 12، 2020 #7
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,540
    موصول شکریہ جات:
    731
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    سب سے زیادہ ضروری علم ھے ، علم کی کمی کسی بھی مسئلہ کو سمجھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ھوتی ھے ۔ ھٹ دھرمی ، ضد اور انا یہ وہ امراض ہیں جنکا علاج اب تک ھو نا سکا ۔
    اب آئیں اختلافات پر ، یہ ہیں ۔ اتحاد انتہائی وسیع معانی والا لفظ ھے ، اسکو سمجھنا ھو تو اسی امت کو بطور مثال ہی پیش کیا جا سکتا ھے جب جب اور جہاں جہاں یہ لڑ پڑی مخالف اسلام کے سامنے ایک متحد قوم ھو کر بغیر وسائل کے ، اپنے تمام تر اختلافات کے باوجود ۔ غیر قوموں کے درمیان بھی داخلی اختلافات ہیں ۔
    بر صغیر کو پورا عالم اسلام نہیں سمجھنا چاہیے ، ہم تو اتنی صدیوں بعد بھی دعاء مانگنے کا طریقہ نہ سیکھ سکے ہاں رفع الیدین اور آمین پر جھگڑنے اور چیخنے چلانے کو اسلام سمجھ بیٹھے ہیں ، اسی اسلام میں خوش ہیں کیونکہ یہی ورثہ میں پایا اور بیشمار کتب بھی ملی ہیں جنکی کسی بات کو سند کے حوالے سے مانا ہی نہیں جا سکتا ۔ ان کتب کے نئے اور دیدہ زیب ایڈیشن شائع ھوے جاتے ہیں اور مزید ایک نسل کی گمراہی کا امکان قوی ھو جاتا ھے ۔
    جو پڑھینگے وہی سیکھیں گے وہی مانیں گے تو آئیے اتحاد کی طرف پہلا قدم اٹھائیں ہر بلا سند بات کو کتابوں سے ھٹا دیں ، جب صحیح پڑھیں گے تب ہی تو صحیح سمجھیں گے ؟

    علم کی کمی اتحاد میں پہلی رکاوٹ ھے ۔
     
  8. ‏مارچ 12، 2020 #8
    بھائی جان

    بھائی جان رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    618
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    پہلے پہل منصفانہ کوشش کی گئی۔
    کچھ ناعاقبت اندیش اور اپنے جدید مسلک کو بچانے کے لئے اس کوشش کو سبوتاژ کردیا اپنی چودراہٹ کے بلبوتہ پر۔
     
  9. ‏مارچ 12، 2020 #9
    بھائی جان

    بھائی جان رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    618
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    علم کا غلط استعمال ہی ہمیشہ افتراق کا سبب بنا ہے۔لا علم بے چارہ تو شکار بنتا ہے فریب کاروں کا۔
     
  10. ‏مارچ 12، 2020 #10
    بھائی جان

    بھائی جان رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    618
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    54


    جب تک قرآن و حدیث کے نام پر فریب دینے والوں کو بے نقاب نا کیا جائے اس وقت تک مسلم میں صحیح اتحاد پیدا نہیں ہوسکتا۔
    یاد رہے فقہی اختلاف افتراق کا سبب نہیں بنا کرتا۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں