1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

::::: دو سال کے گناہ معاف کروایے ::: یوم ء عرفات نو ذی الحج کا روزہ :::::

'نفلی روزے' میں موضوعات آغاز کردہ از عادل سہیل, ‏نومبر 01، 2011۔

  1. ‏نومبر 01، 2011 #1
    عادل سہیل

    عادل سہیل مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 26، 2011
    پیغامات:
    366
    موصول شکریہ جات:
    941
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    [HR][/HR] ::: یوم عرفات ، نو ذی الحج کا روزہ :::
    ماہ ذی الحج کے پہلے دس دِن بہت ہی فضیلت والے ہیں ، اِس کا بیان ''' ماہ حج اور ہم::: ماہ حج کے پہلے دس دِن ::: فضیلت اور احکام ''' میں کر چکا ہوں ،
    اِن ہی دس بلند رتبہ دِنوں کا نواں دِن وہ ہے جِس دِن حاجی میدانِ عرفات میں قیام کرتے ہیں ، اِس دِن اور قیام کی فضیلت بھی ابھی اُوپر ذِکر کیے گئے مضمون میں مختصراً بیان کر چکاہوں۔
    اِس با برکت دِن میں عرفات میں قیام کرنے والوں کو اللہ کی طرف سے مغفرت کی خوشخبری دی گئی ، اور جو وہاں نہیں ہوتے لیکن اُس دِن اللہ کی رضا حاصل کرنے کی نیّت سے روزہ رکھیں تو اُنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زُبانِ مُبارک سے یہ خوشخبری سُنائی گئی:
    ((((( صِیَامُ یَومِ عَرَفَۃَ اَحتَسِبُ علی اللَّہِ اَن یُکَفِّرَ السَّنَۃَ التی قَبلَہُ وَالسَّنَۃَ التی بَعدَہُ ::: مجھے اللہ سے یقین ہے کہ (اللہ) عرفات کے دِن کے روزے کے ذریعے ایک پچھلے سال اور ایک اگلے سال کے گُناہ معاف کر دے گا )))))

    اور دوسری روایت کے الفاظ ہیں (((((یُکَفِّرُ السَّنَۃَ المَاضِیَۃَ وَالبَاقِیَۃَ::: پچھلے ایک سال اور اگلے ایک سال کے گُناہ معاف کرواتا ہے ))))) دونوں روایات صحیح مُسلم /حدیث ١١٦٢ /کتاب کتاب الصیام /باب ٣٦،

    ::::: ایک بہت ہی اہم بات :::::
    دو سال کے صغیرہ (چھوٹے) گُناہ معاف ہونا ، عرفات کے دِن کے روزے کے نتیجے میں ہے ، یعنی وہ دِن جِس دِن حاجی میدانِ عرفات میں قیام کرتے ہیں ، نہ کہ اپنے اپنے مُلکوں ، عِلاقوں میں اپنے اپنے مذاہب و مسالک کی پابند تاریخوں کے مُطابق آنے والے نو ذی الحج کے دِن کے روزے کے نتیجے میں، پس اِس بات کا خیال رکھا جانا چاہیئے کہ روزہ عرفات والے دِن کا رکھنا ہے ۔

    ::::: ذرا غور تو فرمائیے ::::: اگر اِس چھوٹے سے مضمون کو نشر کریں اور آپ کو سبب بنا کر اللہ تعالیٰ کچھ مُسلمانوں کو یوم عرفات کا روزہ رکھنے کو توفیق عطاء فرما دے ، تو اُن سب کے روزے کے ثواب کے برابر آپ کو بھی ثواب ملے گا ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے (مَن دَلَّ عَلَی خَیرٍ فَلَہُ مِثلُ اَجرِ فَاعِلِہِ ) ( جِس نے خیر کی طرف راہنمائی کی اُس کو اُس خیر پر عمل کرنے والے کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا ) صحیح مُسلم /حدیث ١٨٩٣ /کتاب الامارۃ /باب٣٨،

    فورمز کی انتظامیہ سے بھی گذارش ہے کہ اِس مراسلے کی تشہیر کریں ، اللہ تعالیٰ اِس کو سبب بنا کر زیادہ سے زیادہ مُسلمانوں کو یوم عرفات کا روزہ رکھنے کی توفیق عطاء فرمائے اور اُن کے روزے قُبُول فرمائے اور ہمیں اُن کے برابر ثواب عطاء فرمائے۔
    :::::: ایک اور اہم بات ::::::
    اس دفعہ یعنی ذی الحج 1432 ہجری میں بھی عرفات کا دِن ہفتے کو آ رہا ہے ، اس لیے سب ہی قارٕئین کی خصوصی توجہ اس طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں کہ اس دفعہ یومءعرفات کا روزہ نہ رکھا جإئے ، کیونکہ ہفتے کے دِن نفلی روزہ رکھنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے بہت سختی سے منع فرمایا ہے ،
    ارشاد فرمایا ہے کہ ((((( لاتصوموا یومَ السبت اِلَّا فیمَا افتُرض َ علیکُم ، فاِن لم یَجِدَ أحدکُم اِلَّا عُودَ عِنَبٍ أو لَحَائَ شجرۃٍ ، فَلیَمُصّہُ ::: ہفتے کے دِن کا روزہ مت رکھو ، سوائے فرض روزے کے اگر تُم سے کِسی کو انگور کی لکڑی یا درخت کی جڑ کے عِلاوہ اور کُچھ نہ ملے تو اِسی کو چُوس لو )))))
    نہ ہی اس حکم سے کسی استثناء کی گنجإئش ہے کہ ہفتے کے ساتھ کسی اور دِن کا روزہ ملا لیا جإئے تو پھر ہفتے کا نفلی روزہ رکھا جا سکتا ہے ،
    اس موضوع پر جنوری 2004 میں‌ میں نے ایک تحقیقی کتاب لکھی تھی ، ان شاء اللہ جلد ہی اسے ری فارمیٹ کر کے قارٕئین کے لیے پیش کروں گا ، ان شاء اللہ اُس کا مطالعہ تمام اشکال رفع کرنے کا سبب ہو گا ، فی الحال یہ سمجھ لیجیے کہ ہفتے کا نفلی روزہ نہیں رکھا جانا چاہیے خواہ اس کی کتنی ہی فضیلت بیان ہوٕئی ہو ، والسلام علیکم۔
     
  2. ‏نومبر 02، 2011 #2
    باذوق

    باذوق رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏فروری 16، 2011
    پیغامات:
    888
    موصول شکریہ جات:
    3,984
    تمغے کے پوائنٹ:
    289

    عادل بھائی کی یہ تحقیق یہاں ملاحظہ کی جا سکتی ہے :
    نفلی روزوں کا حُکم اور ہفتہ کا روزہ

    یعنی کیا ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ۔۔۔ امسال یوم عرفہ کے روزہ کی فضیلت سے امت محروم رہے گی ؟
     
  3. ‏نومبر 02، 2011 #3
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    علمائے کرام نے ہفتہ کے روزہ کی ممانعت کو کراہت پر محمول کیا ہے اور اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ چونکہ یہود اس دن کی تعظیم کرتے تھے، اور کسی دن کا مخصوص روزہ رکھنا اس کی تعظیم ہے، لہٰذا یہود کی مخالفت کی جائے۔
    امام ترمذی﷫ یہ حدیث مبارکہ ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
    ومعنى كراهته في هذا أن يخص الرجل يوم السبت بصيام لأن اليهود تعظم يوم السبت ... جامع الترمذي: 744

    واضح رہے کہ امام ابو داؤد﷫ صاحب السنن نے ہفتہ کے روزہ کی ممانعت والی حدیث کو منسوخ جبکہ بعض علماء مثلاً شیخ ابن باز﷫ وغیرہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔

    تو جب ہفتہ کے دن کا انفرادی روزہ نہ رکھا جائے تو بلکہ دوسرے دنوں کے ساتھ ملا کر یا عادتاً یا کسی اور وجہ سے (مثلاً یوم عرفہ، شوال، عاشوراء یا ایام بیض وغیرہ کے روزے) ہفتے کا روزہ رکھا جائے تو ہفتے کی تعظیم والی علّت ختم ہوجاتی ہے لہٰذا روزہ انفرادی روزے کے علاوہ روزہ رکھنا جائز ہوا۔

    ہفتہ کے ساتھ دوسرا دن ملانے کے جواز کی دلیل تو صحیح بخاری کی سیدنا ابو ہریرہ﷜ اور سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا والی درج ذیل احادیث مبارکہ ہیں۔
    1. عن أبي هريرة قال: سمعت النبيﷺ يقول: « لا يصومن أحدكم يوم الجمعة إلا يوما قبله أو بعده » ... صحيح البخاري: 1985
    کہ ’’تم میں سے کوئی جمعہ کا روزہ نہ رکھے اِلا یہ کہ ایک دن اس پہلے (ساتھ ملائے) یا ایک دن بعد۔‘‘
    اور ظاہر ہے کہ جمعہ سے اگلا دن ہفتہ ہے۔

    2. عن أم المؤمنين جويرية رضي الله تعالىٰ عنها أن النبيﷺ دخل عليها يوم الجمعة ، وهي صائمة ، فقال : «أصمت أمس ». قالت : لا ، قال : « أتريدين أن تصومي غدا ». قالت : لا ، قال : « فأفطري » ... صحيح البخاري: 1986
    کہ ’’نبی کریمﷺ جمعہ کے دن سیدہ جویریہ کے گھر آئے تو انہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا، آپ نے دریافت فرمایا کہ کیا تم نے کل (جمعرات) کا روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں، پوچھا کہ کیا تمہارا کل (ہفتہ کو) روزہ رکھنے کا پروگرام ہے؟ عرض کیا کہ نہیں! فرمایا کہ پھر یہ روزہ توڑ دو۔‘‘

    جبکہ ہفتہ کے دن کا روزہ عادتاً رکھنے کے جواز کی دلیل سیدنا داؤد﷤ کے روزوں کے متعلق صحیحین کی یہ روایت بھی ہے:
    أحب الصيام إلى الله صيام داؤد﷤ كان يصوم يوما ويفطر يوما
    کہ ’’اللہ تعالى كے ہاں محبوب ترين روزے داود﷤ كے روزے ہيں، اور وہ ايك دن روزہ ركھتے،اور ايك دن روزہ نہ ركھتے تھے۔‘‘

    ظاہر ہے کہ اس کے مطابق ایک اسبوع میں ہفتہ کا روزہ رکھا جائے گا اور دوسرے اسبوع میں نہیں۔

    واللہ تعالیٰ اعلم!

    مزید تفصیل کیلئے شیخ محمد صالح منجد کا یہ فتویٰ ملاحظہ فرمائیں!

    یہ لنک بھی ملاحظہ فرمائیں:
    إذا وافق صيام يوم عرفة يوم السبت ،فهل يصام السبت مفرداً ؟ - ملتقى أهل الحديث
     
  4. ‏نومبر 02، 2011 #4
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    ہفتہ كے دن روزہ ركھنے كا حكم

    رمضان المبارك كے علاوہ باقى مہينوں ميں ہفتہ كے دن كا روزہ ركھنے كا حكم كيا ہے، اور اگر يوم عرفہ كا روزہ ہفتہ كے دن موافق ہو تو كيا ہو گا ؟


    الحمد للہ:

    صرف اكيلا ہفتہ كے دن كا روزہ ركھنا مكروہ ہے، اس كى دليل درج ذيل حديث ہے:

    عبد اللہ بن بسر اپنى بہن سے بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    " تم ہفتہ كے دن كا روزہ نہ ركھو، مگر اس ميں جو اللہ نے تم پر فرض كيا ہے، اور اگر تم ميں سے كسى كو انگور كى چھال يا درخت كى لكڑى كے علاوہ اور كچھ نہ ملے تو اسے ہى چبا لے "

    سنن ترمذى حديث نمبر ( 744 ) سنن ابو داود حديث نمبر ( 2421 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 1726 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے ارواء الغليل ( 960 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے، اور ابو عيسى ترمذى نے كہا ہے كہ يہ حديث حسن ہے.

    اس ميں كراہيت كا معنى يہ ہے كہ آدمى ہفتہ كے دن كو روزے كے ليے خاص كر لے، كيونكہ يہودى اس دن كى تعظيم كرتے ہيں " انتہى.

    لحاء عنبۃ انگور كے دانے كے چھلكے كو كہتے ہيں.

    فليمضغہ: يہ روزہ كھولنے كى تاكيد ہے كہ وہ روزہ نہ ركھے.

    ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

    ہمارے اصحاب كا كہنا ہے: صرف ہفتہ كے دن كا روزہ ركھنا مكروہ ہے.... اور صرف اس دن كا اكيلا روزہ ركھنا مكروہ ہے، ليكن اگر كوئى شخص اس كے ساتھ دوسرے دن كا بھى روزہ ركھتا ہے تو پھر ابو ہريرہ اور جويريۃ رضى اللہ تعالى عنہما كى حديث كى بنا پر مكروہ نہيں، اور اسى طرح اگر انسان كے روزے كے موافق ہفتہ كا دن آجائے تو بھى مكروہ نہيں ہے " انتہى.

    ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 3 / 52 ).

    ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى كى حديث سے مراد بخارى اور مسلم شريف كى درج ذيل حديث ہے:

    ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ فرماتے ہوئے سنا:

    " تم ميں سے كوئى شخص بھى جمعہ كے دن كا روزہ نہ ركھے، مگر ايك دن اس سے قبل يا ايك دن اس كے بعد "

    صحيح بخارى حديث نمبر ( 1985 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1144)

    اور جويريہ رضى اللہ تعالى عنہا كى حديث سے مردا بخارى شريف كى درج ذيل حديث ہے:

    جويريۃ بنت حارث رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ ايك بار جمعہ كے دن رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ان كے پاس آئے تو ميں نے روزہ ركھا ہوا تھا، چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم فرمانے لگے:

    كيا تم نے كل روزہ ركھا تھا ؟

    ميں نے جواب ديا: نہيں.

    تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم فرمانےلگے: كيا كل روزہ ركھنے كا ارادہ ہے ؟

    تو ميں نے عرض كيا: نہيں.

    چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: تو پھر روزہ كھول دو "

    صحيح بخارى حديث نمبر ( 1986 ).

    چنانچہ يہ دونوں حديثيں اس بات كى صريح دليل ہيں كہ رمضان المبارك كے علاوہ باقى ايام ميں جو شخص بھى جمعہ كے دن كا روزہ ركھے تو وہ ہفتہ كے دن كا روزہ بھى ركھ سكتا ہے.

    اور صحيحين ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ فرمان ثابت ہے كہ:

    " اللہ تعالى كے ہاں محبوب ترين روزے داود عليہ السلام كے روزے ہيں، اور وہ ايك دن روزہ ركھتے،اور ايك دن روزہ نہ ركھتے تھے "

    چنانچہ ايسا كرنے ميں بعض اوقات لازمى اس كا روزہ ہفتہ كے دن موافق ہو گا، اس ليے اس سے يہ اخذ كيا جاسكتا ہے كہ اگر عادتا ركھا جانے والا روزہ ہفتہ كے دن آجائے، مثلا يوم عرفہ، يا عاشوراء كا روزہ تو اس دن روزہ ركھنے ميں كوئى حرج نہيں، چاہے وہ اكيلا ہى كيوں نہ ہو.

    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالى نے فتح البارى ميں ذكر كيا ہے كہ:

    جمعہ كے دن روزہ كى ممانعت سے كسى معين دن كا روزہ ركھنے والا شخص مستثنى ہوگا، مثلا يوم عرفہ كا روزہ اگر جمعہ كے دن آجائے تو اس ميں كوئى حرج نہيں، اور اسى طرح اگر ہفتہ كے دن تو بھى كوئى حرج نہيں، اس كے متعلق ابن قدامہ كى كلام بيان ہو چكى ہے.

    اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

    " يہ معلوم ہونا چاہيے كہ ہفتہ كے دن روزہ ركھنے كى كئى ايك حالتيں ہيں:

    پہلى حالت:

    يہ كہ وہ فرضى روزے ميں ہو، مثلا رمضان المبارك كے روزوں كى ادائيگى ميں، يا پھر بطور قضاء، مثلا كفارہ كے روزے، اور حج تمتع كى قربانى نہ ملنے كى صورت ميں ركھے جانے والے روزے وغيرہ تو اس ميں كوئى حرج نہيں جب تك وہ اسے يہ اعتقاد ركھتے ہوئے مخصوص نہ كرے كہ اسے كوئى امتياز حاصل ہے.

    دوسرى حالت:

    اگر اس سے قبل جمعہ كے دن كا روزہ ركھ لے تو بھى كوئى حرج نہيں؛ كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے امہات المؤمنين ميں سے ايك نے جمعہ كے دن روزہ ركھنے كى بنا پر فرمايا:

    " كيا تم نے كل روزہ ركھا تھا ؟

    انہوں نے جواب نفى ميں ديا.

    تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    كيا تم كل روزہ ركھنا چاہتى ہو ؟

    تو انہوں نے پھر نفى ميں جواب ديا.

    چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    " تو پھر روزہ كھول دو "

    رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ فرمان: كيا تم كل روزہ ركھنا چاہتى ہو ؟ "

    ہفتہ كے دن كے ساتھ اگر جمعہ كا روزہ ركھا جائے تو اس كے جواز پر دلالت كرتا ہے.

    تيسرى حالت:

    مشروع ايام كے روزے مثلا ايام بيض، يوم عرفہ، يوم عاشوراء، اور رمضان كے روزے ركھنے والے كے ليے شوال كے چھ روزے، اور نو ذوالحجہ كا روزہ اگر ہفتہ كے دن كے موافق آ جائيں تو اس ميں كوئى حرج نہيں، كيونكہ وہ روزہ اس ليے نہيں ركھ رہا كہ ہفتہ كا دن ہے، بلكہ اس نے تو روزہ اس ليے ركھا ہے كہ يہ مشروع ايام كا روزہ ہے.

    چوتھى حالت:

    عادت والے روزہ كے موافق آ جائے، مثلا جو شخص ايك دن روزہ ركھتا ہو اور ايك دن نہ ركھے تو ہفتہ كے دن روزہ موافق ہو تو اس ميں كوئى حرج نہيں، جس طرح نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے رمضان المبارك سے ايك يا دو دن قبل روزہ ركھنے سے منع فرمايا ليكن اگر كوئى شخص روزہ ركھتا ہو تو اس كے ليے فرمايا:

    " مگر يہ كہ جو شخص روزے ركھ رہا ہو وہ روزہ ركھے "

    تو يہ بھى اسى طرح ہے.

    پانچويں حالت:

    ہفتہ كے دن كو نفلى روزے كے ليے مخصوص كر كے صرف ہفتہ كا روزہ ركھنا، يہ نہى ميں آتا ہے، اگر اس كى نہى ميں وارد شدہ حديث صحيح ہو. انتہى.

    ماخوذ از: مجموع فتاوى و رسائل الشيخ ابن عثيمين ( 20 / 57 ).

    واللہ اعلم .

    الاسلام سوال و جواب
     
  5. ‏نومبر 02، 2011 #5
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    کیا علامہ البانی رحمہ اللہ سے قبل کسی عالم دین نے ایسا فتوی دیا ہے ؟ اگر کسی کے علم میں ہو کہ علامہ البانی رحمہ اللہ سےقبل بھی کسی نے یہ بات کہی ہے تو ضرور آگاہ فرمائیں۔

    إذا وافق صيام يوم عرفة يوم السبت ،فهل يصام السبت مفرداً ؟ - ملتقى أهل الحديث
     
  6. ‏نومبر 02، 2011 #6
    عادل سہیل

    عادل سہیل مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 26، 2011
    پیغامات:
    366
    موصول شکریہ جات:
    941
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
    جزاک اللہ خیرا ، بھائی با ذوق صاحب ،
    آپ نے جو لنک یہاں دیا ہے اُس میں بھائی رفیق طاہر صاحب کے ساتھ کچھ بات چیت کرتے ہوئے میں نے اپنی اسی مذکورہ کتاب میں سے چند اقتباسات پیش کیے ہیں ، جن اقتباسات میں یہاں اس تھریڈ میں
    بھائیوں کی طرف سے پیش کردہ معلومات کے بارے میں بھی جوابات ہیں ،
    ان شاء اللہ جلد ہی پوری کتاب پیش کر دوں گا ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس راہ پر چلنے کی توفیق دے جو اس کی رضا والی ہے اور ہمیں اس عمل سے بچائے جسے ہم دوسروں میں پاتے ہیں اور معیوب کہتے ہیں ،
    باذوق بھائی آپ کے سوال کا جواب نبی اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا یہ فرمان مبارک ہے :::
    ((((( مَن تَرَکَ شیاء ً لِلَّہِ عَوضَہ ُ اللَّہ ُ خیرٌ مِنہ ُ::: جِس نے اللہ کے لیے کوئی چیز چھوڑی تو اللہ تعالیٰ اُسے چھوڑی جانے والی چیز سے خیر والا بدلہ عطاء فرمائے گا )))))قال الالبانی فی حجاب المرأۃ ص ۴۷ راوہ أحمد بسند صحیح،
    و السلام علیکم۔
     
  7. ‏نومبر 03، 2011 #7
    باذوق

    باذوق رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏فروری 16، 2011
    پیغامات:
    888
    موصول شکریہ جات:
    3,984
    تمغے کے پوائنٹ:
    289

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
    معذرت کے ساتھ :)
    مگر ایک عام مسلمان کو مذکورہ بالا جملہ ذرا مغالطہ انگیز ہی محسوس ہوگا۔
    ہر مسلمان کی خواہش ہے کہ اللہ کی رضا والی راہ پر چلے ۔۔۔ مگر یہ ظاہر ہے کہ قرآن و حدیث کی دلیل کے ساتھ ساتھ متقدمین و متاخرین علماء حق کی مجموعی تشریح کے سہارے ہی ممکن ہے۔
    قرآن و حدیث سے ٹھوس دلائل تو شیخ علی بن حسن حفظہ اللہ بھی دے رہے ہیں اور شيخ ابن عثيمين رحمۃ اللہ بھی۔ مگر استنباط اور نتیجہ دونوں کا ایک دوسرے کے مخالف ہے۔
    شیخ علی بن حسن کہتے ہیں کہ یوم عرفہ کا روزہ اگر ہفتہ کو آ جائے تو نہیں رکھنا چاہیے جبکہ شیخ ابن عثیمین اسی روزہ کے جواز کا فتویٰ دے رہے ہیں۔
    اب ایک عام مسلمان کس کی بات مانے یا خود سے کوئی "اجتہاد" کرے؟
     
  8. ‏نومبر 03، 2011 #8
    عادل سہیل

    عادل سہیل مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 26، 2011
    پیغامات:
    366
    موصول شکریہ جات:
    941
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
    معذرت والی کوئی بات نہیں پیارے بھائی ، اگر ہم بھائی بھائی ہی ایک دوسرے کی بات سمجھنے کی کوشش نہ کریں گے ، ایک دوسرے سے سیکھنے کی کوشش نہ کریں گے تو کوئی دوسرا ہم لوگوں سے کیا سمجھے یا سیکھے گا ،
    میرے جس جملے کو بیناد بنا کر آپ نے مذکورہ بالا باتیں لکھی ہیں ، اور ایک سوال کیا ہے ،
    وہ جملہ یہاں زیر مطالعہ موضوع کے بارے میں گفتگو کرنے والے بھائیوں کے لیے ہے عام مسلمانوں سے متعلق نہیں ، اور وہ جملہ میں نے اس لیے لکھا کہ یہاں زیر مطالعہ موضوع میں حصہ لینے والے بھائیوں کے بارے میں میرا حسن ظن یہی ہے کہ اُن میں سے کوئی بھی عام مسلمانوں کی گنتی میں آنے والا نہیں ، سب ہی مجھ سے زیادہ محنتی اور جستجو کرنے والے طالب علم ہیں ، اور ہم میں سے کوئی بھی اجتہاد کر سکنے والا علم نہیں رکھتا ،
    لیکن ہم سب ہی ان شاء اللہ اس قابل ضرور ہیں کہ اپنے ان علماء کرام کے دلائل اور ان دلائل سے استنباط کو شخصیات کی نسبت کے بغیر ، علمی قواعد کے مطابق سمجھنے کی کوشش کریں اور جو نتیجہ علمی قواعد کے مطابق درست نظر آئے اسے اپنا لیں ، اور دوسرے نتیجے یا تنائج کو محض کسی شخصیت کی نسبت کی وجہ سے تھامے نہ رکھیں ،
    بلکہ اس نتیجے یا نتائج کو چھوڑ دینے میں کسی قسم کا کوئی تردد نہ کریں ،
    یہ معاملہ ہے تو کچھ کڑوا کسیلا سا لیکن سلف الصالحین رضی اللہ عنہم و رحمہم اللہ جمعیا کا یہی مسلک ہے ، اور اسی مسلک سے دوری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے میں نے وہ جملہ لکھا تھا،
    رہا معاملہ عام مسلمان کو تو بھائی با ذوق اگر وہ اتنا ہی عام ہے کہ علماء کرام کے پیش کردہ دلائل و استنباط میں غور کر کے کچھ سمجھ نہیں سکتا تو اس کے لیے اتنا ہی ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق دلائل پر نظر کر لے اور اللہ تبارک و تعالیٰ سے ہدایت اور راہ راست پر چلنے کی دعا کرنے کے بعد جو بات اسے قابل اطمینان لگے اس پر عمل کر لے ، لیکن کسی شخصیت یا مسلک کی نسبت سے نہیں کہ بس فلاں ہی کی بات ماننا ہے یا بس فلاں طرف سے آنے والی بات ہی ماننا ہے ، بلکہ دلائل کی اتباع کرے تا کہ اس کے عمل کی نیت اللہ یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم یا دونوں کے کسی فرمان مبارک پر عمل ہو ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے کسی فعل مبارک کے مطابق عمل کرنا ہو ، اللہ کے حکم کے مطابق اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اطاعت ہو ، غالبا اسے ہی اخلاص کہا جاتا ہے ، جس کی عدم موجودگی کسی بھی نیکی کو قبولیت کے درجے تک نہیں پہنچنے دیتی ۔
    اللہ سبحانہ ُ و تعالیٰ ہم سب کو ، سب ہی کلمہ گو مسلمانوں کو اس راہ پر چلنے کی ہمت دے جو راہ اللہ کی رضا والی ہے ، اور ہمیں ہر امتحان اور ہر شر سے محفوظ رکھے ۔
     
  9. ‏نومبر 03، 2011 #9
    باذوق

    باذوق رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏فروری 16، 2011
    پیغامات:
    888
    موصول شکریہ جات:
    3,984
    تمغے کے پوائنٹ:
    289

    سبحان اللہ۔ یہ جملے تحریر فرما کر آپ نے قلم کا اور سلف الصالحین کی تعلیمات کا حق ادا کر دیا ! جزاک اللہ خیرا
     
  10. ‏نومبر 05، 2011 #10
    عادل سہیل

    عادل سہیل مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 26، 2011
    پیغامات:
    366
    موصول شکریہ جات:
    941
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
    جزاک اللہ خیرا ، با ذوق بھائی ، مجھ سے جو اچھائی ظاہر ہوتی ہے وہ فقط اللہ کی رحمت سے ہے اور اس کی عطاء کردہ توفیق سے ہے ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی رضا والی راہ پر قائم رہنے کی توفیق دے ، و السلام علیکم۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں