1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دو مسائل

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارسلان, ‏جون 27، 2011۔

  1. ‏جون 27، 2011 #1
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ​

    بھائیو اور بہنوں آپ سے ایک بات شئیر کرنا چاہتا ہوں۔مجھے آج تک ان دو مسائل کا کوئی بھی شخص تسلی بخش جواب نہیں دے سکا۔
    پرفیوم لگا کر نماز پڑھنا
    اور
    رکوع کرنے کے بعد سینے پر ہاتھ باندھ لینا اور ہاتھ کھلے نہ چھوڑنا۔

    میں نے کئی مرتبہ یہ سوال علماء کرام سے کیا جواب بھی دیے گئے لیکن کسی کا بھی جواب سمجھ نہیں آیا۔پڑھنے والا یہ سمجھ سکتا ہے کہ جناب اگر آپ کو جواب سمجھ نہیں آیا تو اس میں علماء کا تو کوئی قصور نہیں آپ کا اپنا قصور ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جو جوابات دئے گئے ان میں موجود تاویلات کی سمجھ نہیں آئی اور وہ اتنے مشکل جواب تھے کہ سمجھ سے باہر تھے مثلا میں نے ایک صاحب سے سوال کیا کہ جو پرفیوم آج کل بازار میں فروخت ہوتے ہیں ان کو کپڑوں پر لگا کر نماز پڑھنے سے نماز ہو جائے گی۔تو انہوں نے جواب دیا کہ الکحل پینا حرام ہے نہ کہ لگانا۔اور انہوں نے یہ مثال دی کہ کیا خیال ہے آپ کا کہ کوئی شراب کے قطرے آپ کے کپڑوں پر گرا دے تو کیا آپ ان کپڑوں میں نماز نہیں پڑھیں گے یا آپ کو گناہ ملے گا۔لیکن شراب پینے سے تو ضرور گناہ ملے گا۔
    لیکن اب اس جواب سے کئی لوگ غیر متفق ہوں گے کہ جی یہ تاویل صحیح نہیں۔اب دوسرا جواب میں نے ایک جگہ پڑھا کہ الکحل کی تھوڑی مقدار تو جائز ہے جس سے نشہ نہ ہو لیکن زیادہ جائز نہیں تو سوال یہ بنتا ہے کہ ایک عام شخص کو کیسے پتہ چلے گا کہ اس پرفیوم میں الکحل کی تھوڑی مقدار ہے؟اسی طرح دوسرے مسئلہ کے بارے میں بھی مجھے کسی نے آج تک تسلی بخش جواب نہیں دیا۔کاش کہ کوئی تو اللہ کا بندہ اس بارے میں آسانی کے ساتھ رہنمائی کرے۔کیا کوئی بھائی اس بارے میں رہنمائی کر سکتا ہے؟
     
  2. ‏جون 27، 2011 #2
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,175
    موصول شکریہ جات:
    15,218
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    میرے خیال میں اس سوال کہ پرفیوم لگا کر نماز پڑھنا جائز ہے یا نا جائز؟! سے پہلے یہ واضح ہونا چاہئے کہ کیا پرفیوم لگانا جائز ہے یا نا جائز؟!! اور اگر یہ ثابت ہوجائے کہ ناجائز ہے تو پھر غور کیا جائے کہ کیا پرفیوم لگا کر نماز ہوجاتی ہے یا نہیں؟!! کیا خیال ہے؟!!
    تو محترم ارسلان بھائی! پرفیوم لگانے کے جواز یا عدمِ جواز کے متعلّق کیا آپ کی تشفّی ہو چکی ہے؟!!
     
  3. ‏جون 28، 2011 #3
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    نہیں
     
  4. ‏جون 28، 2011 #4
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,481
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    اہل علم کے ہاں ایک قاعدہ ہے کہ
    کل نجس حرام
    یعنی ہر نجس حرام ہے ۔
    وکل حرام لیس بنجس
    اور ہر حرام شیئ نجس نہیں ہوتی ہے۔
    جیسا کہ گدھا کھانا حرام ہے لیکن گدھا نجس نہیں ہے یعنی اگر آپ کا ہاتھ گدھے کو لگ جائے تو اس کو دھونا لازم نہیں ہے۔
    اسی طرح زہر کھانا یا چرس پینا حرام ہے لیکن زہر اور چرس نجس یا ناپاک نہیں ہے یعنی ان کو ہاتھ لگانے سے ہاتھ ناپاک نہیں ہوجاتا ہے۔ پس اگر ایک شیئ حرام ہے تو اس کی حرمت سے اس کا نجس ہونا لازم نہیں آتا ہے۔ پس اگر شراب حرام ہے تو یہ اس کے نجس ہونے کو لازم نہیں ہے۔ اور اس کو نجس قرار دینے کے لیے علیحدہ سے دلیل چاہیے اور یہ دلیل موجود نہیں ہے لہذا اشیاء میں اصل اباحت اور جواز ہے۔ اس قاعدہ کے تحت شراب حرام ہے لیکن نجس نہیں ہے یعنی ناپاک نہیں ہے۔
    شاید کسی قدر وضاحت ہو گئی ہو۔اصل نکتہ یہ ہے کہ حرمت اور نجاست میں فرق ہے۔
     
  5. ‏جون 30، 2011 #5
    راجا

    راجا سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 19، 2011
    پیغامات:
    734
    موصول شکریہ جات:
    2,555
    تمغے کے پوائنٹ:
    211

    جزاک اللہ علوی بھائی۔
     
  6. ‏جون 30، 2011 #6
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
    علوی بھائی جان پرفیوم لگانے والا مسئلہ تو سمجھ آ گیا اور تقریبا مطمئن جواب ہے۔اہل علم کے اس قاعدے سے بات سمجھ آ گئی ہے۔
    اب دوسرا مسئلہ "رکوع کے بعد ہاتھ باندھنا"؟
     
  7. ‏جولائی 01، 2011 #7
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,481
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    دوسرے مسئلہ کے بارے یہاں تفصیل موجود ہے۔
     
  8. ‏جولائی 01، 2011 #8
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
    بھائی جان یہ تو طویل بحث ہے جسے پڑھنے کے لیے وقت چاہیے۔آپ اس بحث کا خلاصہ بیان کر دیں یا آپ کی تحقیق اس بارے میں کیا ہے؟
     
  9. ‏ستمبر 28، 2011 #9
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,720
    موصول شکریہ جات:
    5,252
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    ویسے تو ماشا ء اللہ جو سوال پوچھا گیا تھا، اس کا جواب مکمل ہوگیا ہے اور سائل بھی مطمئن ہوگیا ہے۔ تاہم اس الکحل سے متعلق چند باتیں شیئر کرنا چاہتا ہوں۔
    1۔ غذائی اجناس کو گلا سڑا کر، اسے کشید کرکے حاصل ہونے والی الکحل اور کیمیکلز سے مصنوعی طور پر حاصل ہونے والی synthetic alcohol میں فرق ہوتا ہے۔ غذائی اجناس سے بننے والی الکحل (شراب) کا کیمیاوی نام ethanol or ethyle alcohol ہے۔ یہ صرف نشہ یا لطف و سرور کی غرض سے پینے کے لئے تیار کی جاتی ہے۔ اس کا کوئی اور مصرف نہیں۔ اسی قدرتی ایتھے نال کا مشروب کے طور پر استعمال حرام ہے، خواہ اس کے پینے سے کسی کو نشہ ہو یا نہیں ہو۔ اسی شراب کو انگریزی زبان میں "الکحل" بھی کہتے ہیں۔
    2۔ کیمیاوی طور پر "الکحل" ایک کیمیاوی سیریز کا نام ہے۔ جیسے ایتھے نال، بیوٹینال، می تھے نال، پروپینال وغیرہ۔ یہ سب "الکحل" ہیں، جو مختلف صنعتوں میں کثرت سے استعمال ہوتے ہیں۔ کیمیکل لیب میں بھی ان سب کا استعمال عام ہے۔ مختلف صنعتوں میں مختلف مقاصد کے لئے ان سب الکحلز کا استعمال بلا کراہت جائز اور حلال ہے۔پرفیومز اور مختلف پالش میں بھی اسے استعمال کیا جاتا ہے۔
    3۔ مصنوعی الکحل ز میں صرف "ایتھے نال" ہی "فوڈ آئٹم" ہے یا بطور "فوڈ آئٹم" استعمال ہوسکتا ہے۔ [اب تو اسے بطور ایندھن (پیٹرول کا متبادل) بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ ڈیزل انجن، پیٹرول انجن کی طرح اب ایتھے نال انجن بھی بن رہے ہیں۔ اور کئی ترقی یافتہ ممالک میں پیٹرول پمپ کی طرح ایتھے نال پمپ بھی بن چکے ہیں۔] باقی سارے الکحلز "نان فوڈ آئٹم" ہیں۔
    4۔ مصنوعی ایتھے نال (الکحل) کا "غذائی استعمال" سب سے زیادہ ہومیو پیتھک ادویات میں ہوتا ہے۔ تقریبا" سو فیصد ہومیو پیتھک ادویات synthetic alcohol میں تیار کی جاتی ہیں۔ بعض ایلو پیتھک ادویات میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے جیسے کف سیرپ (کھانسی کے شربت) وغیرہ۔ ایلو پیتھک ادویات میں تو "الکحل فری" متبادل ادویات بھی دستیاب ہیں لیکن ہومیو پیتھک ادویات سو فیصدی مصنوعی الکحلز میں تیار کی جاتی ہیں۔
    5۔ ہومیو پیتھک ادویات (الکحل کے ساتھ) کے بارے میں بہت سے مسلمانوں کے ذہن میں شکوک و شبہات ابھرت رہتے ہیں کہ یہ حلال ہیں یا حرام۔ مجھے نہیں معلوم کہ اکثر علماء کی رائے کیا ہے تاہم مفتی تقی عثمانی صاحب کا فتویٰ ہے کہ ہومیو پیتھک ادویات مصنوعی الکحل کے ساتھ حلال ہیں۔
    اس بارے میں مزید علماء اور ماہرین کی رائے اگر کسی کو معلوم ہو تو وہ یہاں ضرور شیئر کرے۔
     
  10. ‏ستمبر 28، 2011 #10
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    آپ کو طب کے بارے میں بہت معلومات ہے۔ماشاءاللہ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں