1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دو مسائل

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارسلان, ‏جون 27، 2011۔

  1. ‏دسمبر 08، 2017 #11
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,198
    موصول شکریہ جات:
    1,060
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    اس تعلق سے کبار علماء کے فتاویٰ جات درکار ہیں. کسی کے علم میں ہوں تو براہ کرم یہاں پیش کریں
     
  2. ‏دسمبر 25، 2017 #12
    راشد محمود

    راشد محمود رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 24، 2016
    پیغامات:
    216
    موصول شکریہ جات:
    19
    تمغے کے پوائنٹ:
    35

    بسم الله الرحمن الرحیم
    سب تعریفیں الله رب العالمین کے لئے ہیں !
    اما بعد !
    غلط فہمی :
    ازالہ :
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    جس چیز کی کثیر مقدار نشہ لائے اس میں سے قلیل مقدار کا کھانا ، پینا بھی حرام ہے
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ


    ١۔ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    كل مسكر حرام ما اسكر الفرق منه فملء الكف منه حرام "، ‏‏‏‏‏‏قال ابو عيسى:‏‏‏‏ قال احدهما في حديثه الحسوة منه حرام
    ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے، جس چیز کا ایک فرق (سولہ رطل) کی مقدار بھر نشہ پیدا کر دے تو اس کی مٹھی بھر مقدار بھی حرام ہے ان میں (یعنی محمد بن بشار اور عبداللہ بن معاویہ جمحی) میں سے ایک نے اپنی روایت میں کہا: یعنی اس کا ایک گھونٹ بھی حرام ہے۔
    [(سنن ترمزی كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم 3- باب مَا جَاءَ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ)
    (تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الأشربة ۵ (۳۶۸۷)، (تحفة الأشراف: ۱۷۵۶۵)، و مسند احمد (۶/۷۲) (صحیح)
    قال الشيخ الألباني: صحيح، الإرواء (2376)]

    ٢۔عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    كل مسكر حرام وما اسكر كثيره، ‏‏‏‏‏‏فقليله حرام
    ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے اور جس کی زیادہ مقدار نشہ لانے والی ہو اس کا تھوڑا بھی حرام ہے۔
    (سنن ابن ماجہ كتاب الأشربة بَابُ: مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ)
    [تخریج دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۷۰۸۹، ومصباح الزجاجة: ۱۱۷۷) (صحیح) (سند میں زکریا بن منظور ضعیف ہیں، لیکن دوسرے شواہد سے یہ صحیح ہے)
    قال الشيخ الألباني: صحيح]

    ٣۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
    كل مسكر حرام، ‏‏‏‏‏‏وما اسكر منه الفرق فملء الكف منه حرام
    ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جو چیز فرق بھر نشہ لاتی ہے اس کا ایک چلو بھی حرام ہے۔
    (سنن ابی داود كتاب الأشربة باب النَّهْىِ عَنِ الْمُسْكِرِ)
    [تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الأشربة ۳ (۱۸۶۶)، (تحفة الأشراف: ۱۷۵۶۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۷۱، ۷۲،۱۳۱) (صحیح)
    قال الشيخ الألباني: صحيح]

    وضاحت:"فرق" ایک پیمانہ ہے جو (۱۶) رطل کے برابر ہے۔

    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    نشہ آور چیز کو دوا کے طور پر بھی استعمال نہ کرے ۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ


    ١۔ طارق بن سعید جعفی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا شراب کے بارے میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا یا ناپسند کیا اس کے بنانے کو۔ وہ بولا: میں دوا کے لیے بناتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    إنه ليس بدواء ولكنه داء
    وہ دوا نہیں ہے بلکہ بیماری ہے۔
    (صحیح مسلم كِتَاب الْأَشْرِبَةِ || باب تَحْرِيمِ التَّدَاوِي بِالْخَمْرِ وَبَيَانِ أَنَّهَا لَيْسَتْ بدوَاءٍ || باب: شراب سے علاج کرنا حرام ہے اور وہ دوا نہیں ہے۔)
    ٢۔رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :
    كل مسكر حرام
    ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔
    (صحیح مسلم كِتَاب الْأَشْرِبَةِ)
    الله تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حق بات کو پڑھنے ، سمجھنے ، اسے دل سے قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے اوراسے دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا ء فرمائیں !
    آمین یا رب العالمین
    والحمد لله رب العالمین
     
    Last edited: ‏دسمبر 25، 2017
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں